رُوسی شادی بیاہ کی رسوم۔۔۔۔سلمٰی اعوان

البم کیا کھُلا۔ کلچر اور ثقافت کا ایک پٹارہ کھُل گیا تھا۔ انستاسیا پاکستانی نوجوان شاہد کی بیگم تو کِسی مقامی ڈریس کمپنی کی ماڈل لگتی تھی جو لتویاکی نمائندگی کرتی ہو۔
میں نے بھرپور ستائشی نظروں سے البم کے پورے صفحے پر چسپاں اُس کی قد آدم تصویر کو دیکھا تھا۔ اُس کے سنہری بالوں پر تکونی صورت کی خوبصورت کشید ہ کاری سے سجی چھوٹی سی درمیان سے اُبھری ہوئی ٹوپی دھری تھی۔ گھٹنوں سے نیچے بل کھاتا پوری آستین کافراک اپنے کالروں، کندھوں اور گلے کے اگلے حصّے کی کڑھائی اور گول بڑے سے پیتل کے بٹن سے سجا بہار دکھا رہا تھا۔کمر کی بیلٹ کا تانبے والا بُکل اپنی ساخت، ڈیزائن اور سائز کے اعتبار سے نہ صرف بہت بڑا تھا بلکہ خوبصورت بھی تھا۔مُسکراتا چہرہ اور اس کی جوانی کا رنگ سب نمایا ں تھے۔
”مجھے تصویر کشی کا جنون ہے۔ یہ میرے کالج کے ایک فنکشن کی تصویر ہے۔ یہ میرا قومی لباس ہے۔“

لتویاLatviaپہاڑوں سے گھری، جنگلوں سے ڈھنپی،دلکش جھیلوں سے سجی اور خوبصورت وادیوں کے گل وگلزار میں بسی بالٹک سمند رکے گہرے کٹاؤ میں ایک چھوٹی سی ریپبلک ہے۔
تصویریں بولتی تھیں۔ انستاسیا بولتی تھی۔ مرکزی شہر ریگا (Riga)میں بہنے والے دریا داؤ گاوا کے ساحل پر چڈی اور برا ہ پہنے اُس کا توبہ شکن حُسن بولتا تھا۔ اتنا خوبصورت جسم جس کا ایک ایک عضو گویا سانچے میں ڈھلا ہو۔ تصویروں کی وہ واقعی دیوانی تھی۔ کہیں جھیل ”کیش“ کے رتیلے کناروں پر اُس کا دھُوپ میں لیٹے ہونا۔ صنوبر کے جھنڈوں کے پس منظر میں سُرخ اور بسنتی پھُولوں کی گود میں بیٹھے ہونا، کہیں کشتی رانی کرتے ہوئے، منفرد سی ساخت والے چوبی گرجا گھر کے سامنے والدین کے ساتھ،اُس کے کتنے روپ سامنے آئے تھے۔شہر کی قدامت، زمانوں پر انی اُس کی چھوٹی چھوٹی گلیوں،سڑکوں، شہ نشینوں اور ٹائل کی چھتوں والے گھروں، جنگلوں، پھُولوں، شہر کے تھیٹر، سکول، اُس کے والدین، بھائی، بہن، رشتہ دار، سکھی سہیلیوں، سب سے ملاقات ہو گئی تھی۔وہ البم کب تھا۔ ریگا Riga جیسے قدیم تہذیبی شہر کا بھرپور تعارف تھا۔

”شاہد کہاں ملے تھے؟“
میں نے اُ س کی شاد ی کا البم اُٹھا لیا۔
وہ ہنسی۔ میں پیٹرز برگ یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ تھی۔ بُک شاپ پر پہلی ملاقات ہوئی۔اب ظاہر ہے کہ اِس وقت دو بچوں کے والدین ہیں اورخُوش وخرّم زندگی گزار رہے ہیں تو ملاقاتیں بڑھی ہوں گی اور اکٹھے رہنا بھی شروع ہو گئے تھے اور ہر قسم کے تعلقات بھی قائم ہو گئے تو بس پھر شاد ی کا سوچ لیا۔
شادی بڑی رنگ رنگیلی سی تھی۔کہیں ساڑھی پہنے کھڑی ہے اور اُونچے لمبے لڑکے ہاتھ پھیلائے کچھ مانگتے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ ماسکو اورپیٹرز برگ کے ہندوستانی اور پاکستانی طلبہ ہی نہیں دوسری جگہوں سے بھی بُہت ساروں نے شرکت کی اور پورے چار دن شادی منائی۔
شادی تو گڈ مڈہوئی پڑی تھی۔ ایشیائی کمیونٹی نے اپنا رنگ بیچ میں گھسیڑا ہوا تھاکہ کہیں چُست پاجامے کرُتے ڈوپٹے میں بیٹھی تھی اور کہیں غرارہ بہاریں دکھا رہا تھا۔ میرے کہنے پر کہ خالص رُوسی شادی سے روشناس کروائیں۔ انستاسیا نے کہا۔
ہمارا کلچر بھی اپنی قومیتوں اور علاقوں کے حوالے سے تھوڑا بُہت مختلف ہے۔ شہروں پر اب یورپی رنگ کے عکس نظر آتے ہیں۔ تاہم کچھ خاص رُوسی رسمیں سبھی بڑے ٓجوش وخروش سے مناتے ہیں۔

ہم دونوں یوں بھی بڑے سوشل اور مہمان نواز ٹائپ کے لوگ تھے اس لئے ہمارے سب دوستوں نے دل کھول کر رنگ رلیاں منائیں اور موج میلے کئے۔
رُوسی شادی کے دو اہم اور خاص آئٹم ہیں۔ وافر مقدار میں شراب ہونا اور اچھے کھانے کی فراہمی۔
”کیف“ سے ہمارے گہرے دوست نکولائی میخائلوف کا فون تھا۔ جو ہنستے ہوئے کہتا تھا۔
”اب اگر تمہارا خیال ہو کہ ہمیں واڈ کا اور بیئر پر ٹرخانا ہے تو سُن لو، شمپیئن (Champagne)کے بغیر بات نہیں بنے گی۔اپنی فریج میں ڈھیرساری caviareبھی سٹور کر لینا۔“
اب اتنے محبت بھرے اصرار ہوں تو پھر سوچنا پڑا۔ ابتر ملکی حالات کے باوجود خاص الخاص دوستوں کے لئے نہ صرف شمپیئن کا بندوبست کیا بلکہ شمپیئن فلوٹ بھی خریدا۔
البم کے کچھ صفحے پلٹتے ہوئے اُ س نے اپنی بات کو آگے بڑھایا۔

”پہلا مرحلہ رجسٹریشن کا ہوتا ہے۔ چرچ میں بھی شادی ہو تب بھی اگر زیگز Zags (شادی، موت، پیدائش کا حساب کتاب رکھنے والا ادارہ) میں اندارج نہیں ہوا تو شادی تسلیم نہیں کی جائیگی۔ زیگز اندراج کے بعد کوئی سی تاریخ دیتا ہے۔ پہلا مرحلہ اہم نہیں ہوتا۔ لڑکا لڑکی جا کر بھی تاریخ لے لیتے ہیں۔ پر ہمارے دوستوں نے اِسے بھی خاص بنا دیا۔“
اُ س نے ایک تصویر پر اُنگلی رکھی اور میں نے دیکھا تھا۔ ڈھیر سارے لوگ ایک عمارت کے سامنے دولہا دُلہن کو اپنے نرغے میں لئے کھڑے ہیں۔
دو ما ہ بعد کی تاریخ ملی۔

یہ سال 1992ء کا تھا۔ ملک کرائسس کی لپیٹ میں تھا۔افراط زر اور قحط کے سے حالات تھے۔ پر ہمارے دوستوں نے کِسی بات کا اثر نہیں لیا تھا۔ وہ نہ صرف ماسکو سے ہی بلکہ کوئبیشیف، دون، اومسک اور کیف سے ماردھاڑ کرتے آئے۔ جیسے انہیں مل بیٹھنے اور پریشانیوں سے چھُٹکار ے کے لئے کِسی ہلّے گُلّے کی ضرورت تھی۔ اُس وقت گھر بھی چھوٹا تھا۔ تنخواہوں کی بھی بے قاعدگی تھی۔ میں فطرتاً سلیقہ مند عورت ہوں۔ پیسہ ہمیشہ سنبھال کر رکھتی ہوں۔ کچھ میرے پاس تھا اور کچھ ہمارے دوستوں نے بھی تحائف کی صورت میں دیا۔
اب وہ ہمیں ایک ایسی تصویر دکھا رہی تھی جو بُہت بڑی تھی۔ یہ زیگز شادی کے لئے جانے کا دن تھا۔ بڑی بڑی گاڑیوں کی ایک قطار تھی۔ رنگا رنگ ربنوں Ribbons سے سجی ہوئیں۔
سوؤیت کے زمانوں میں انگوٹھیوں کی فراہمی سٹیٹ کی ذمہ داری تھی۔ اب ایسا نہیں تھا۔ ہم نے اپنی خرید ی ہوئی انگوٹھیاں ایک دوسرے کو پہنائیں۔
تصویر میں دونوں ہنستے ہوئے ایک دوسرے کو انگوٹھیاں پہناتے اور کِس کرتے تھے۔باہر نکل کر شہر کے گرد چکر لگا۔ہماری ایک بڑی دلچسپ رسم دُلہن کو گود میں اُٹھا کر کوئی پُل پارکرناہوتا ہے۔
پیٹرزبرگ کے خوبصورت ترین پُل اوکتنسکایا Okhtinskyکا انتخاب ہوا۔شاہد نے مجھے گود میں اُٹھا کر پُل پار کیا۔
کنارے پر کھڑے مردوزن کی تالیاں اور قہقہے تھے۔ تصویروں نے یادگار لمحوں کو زندہ کر رکھا تھا۔ اتنی خوبصورت تصویر کشی تھی کہ ایک ایک چہرہ نمایاں تھا۔اِس سارے وقت میں دولہاکو ایک بات کا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ دُلہن اُس کی نظروں کی ز د میں رہے۔ اِس سلسلے میں ذرا سی چُوک ہو جانے پر دُلہن کو اغوا کر لیا جاتا ہے اور پھر بھاری تاوان دولہا کے گلے پڑجاتا ہے۔ اسے ہم کرازہ نویسٹیKrazha Nevestyکہتے ہیں۔ یوں دُلہن کو گود میں بھر کر پُل پار کروانا ہمارے ساحلی علاقوں کا رواج ہے۔ میری خواہش پر یہ رسم شامل ہوئی تھی۔
ویڈنگ ریسپشن جو ہماری رُوسی زبان میں گُللیانکا (Gulyanka)ہے۔ شام کو گھر اگر بڑا ہے تو وہاں۔ وگرنہ ہوٹل میں۔

ہمارے پاکستانی اور ہندوستانی دوستوں کا اصرار تھا کہ میں اُن کی بُہو بنی ہوں تو مجھے لباس بھی اُن کا پہننا ہے۔ بس تو ساڑھی پہنی۔ نقلی جواہرات پہنے۔
اچھاتو یہ خوبصورت ساڑھی والی تصویر ریسپشن کی ہے کم ازکم دو بالشت چوڑا بنارسی باؤڈرتھا۔ اب یہ تو اللہ جانتا ہے سچا تھا یا جھوٹا۔ لمبے لمبے بالے تھے۔ ٹیکا اور ماتھا پٹی تھی۔ گلے میں بڑے اور چھوٹے ہا رتھے۔
یہ زیور مسزورما کاتھا جو انہوں نے عارضی طور پر مجھے پہنایا۔ یو ں تھا یہ بھی آرٹیفیشل۔
میں نے ایک تصویر پر اُنگلی رکھی۔ تصویر میں چند لڑکیاں ایک بند نما بڑی سی بریڈ پردرمیان میں رکھی شیشے کی مُنی سی کٹوری میں کچھ سفید سی چیز لئے کھڑی تھیں سفید نمک تھا۔یہ بڑی اہم رسم ہے جو نئے جوڑے کی خوشحالی، سلامتی اور درازی عمر کے لئے ادا کی جاتی ہے۔ دولہا دُلہن روٹی کا ٹکڑا نمک میں ڈبو کر کھاتے ہیں۔ دونوں کی کوشش بڑا ٹکڑا کاٹنے کی ہوتی ہے۔ جو اس میں کامیاب ہو وہ فیملی کا سربراہ۔
واقعی تصویر میں شاہد اور انستا سیا دونوں اس میں ہلکان ہو رہے تھے۔
یہ رسم بالعمو م لڑکی یا لڑکے کے والدین ادا کرتے ہیں۔ پر چونکہ ہماری شادی میں دونوں کے والدین نہیں تھے اس لئے ہمارے دوستوں نے یہ رسم نبھائی۔
”آپ کے والدین کیوں نہیں آئے تھے؟“
میں نے تصویروں پر سے آنکھیں اُٹھائیں۔
”میں نے بُلایا نہیں تھا۔“ اُس نے سادگی سے کہا۔ مزید کھوج کی بجائے میں تصویروں پر جھُک گئی تھی اور جب ہماری خوشحال زندگی کے لئے جام نوشی شروع ہوئی۔ فضا ء میں آوازیں گونجیں۔
” بئیر کھٹی ہے۔ بد مزہ ہے۔ اس کی مٹھاس کا بندوبست ہو۔“
ہنستے ہوئے ہم نے ایک دوسر ے کوطویل بوسہ دیا۔ یوں بیئر میٹھی ہوئی۔ ساری رات ہمارے چھوٹے سے گھر میں ہلڑ بازی اور شراب نوشی ہوئی۔ صُبح کا منظر کچھ یوں تھا کہ ہر بندہ ادھ موا ہواکمروں میں صوفوں پر فرش پر برآمدے میں جگہ جگہ بکھرا پڑاتھا۔
اور یہ تماشا پورے چار دن چلا۔

اِس پیارے سے گھراور گھرانے کے ساتھ ہماری یہ شام یادگار شاموں میں سے ایک تھی۔کھانے کے اعتبار سے انتہائی بے سوادی۔ پر معلوماتی اور تصویری لحاظ سے لاجواب۔
پیٹر اینڈ پال فوٹریس کی سیر سے فارغ ہو کرجب ہم سستاتے اور پیروشکی کھاتے تھے۔ میں نے شاہد لوگوں کی طرف جانے کا کہا کہ اب فاصلے کے لحاظ سے عین درمیان میں بیٹھے ہیں۔ کہ چلو ایک تو شام اچھی گذر جائے گی۔ دوسرے شاید رات کا کھانا بھی مل جائے۔
مہر النساء نے کہا۔”پہلے فون کرو۔ کام والے لوگ ہیں۔ گھر پر ہیں۔ہمیں قبول کرنے کے لئے تیار بھی ہیں یا نہیں۔“
دانشمندانہ بات تھی۔ سوفون کیا۔ اثبات میں جواب ملنے پر گھر جا پہنچے۔
شاہد نے کہا تھا۔ آپ کو آج خاص الخاص رُوسی کھانا کھلاتے ہیں۔
تو جب باورچی خانے میں گئے اور میز کو دیکھاتو وہ بھری ہوئی تھی۔ کُرسیوں پر بیٹھے۔اور ساتھ شاہد کی کمنٹری شروع ہو گئی۔یہ سُوپ ہے.سلیان کا۔اور اب پیش کرتے چورنایااقرا۔
پتہ چلا تھا کہ یہ کھانا مچھلی کے کالے انڈوں سے بنتا ہے۔
یااللہ مچھلی کے انڈے۔میں نے اپنے دل میں کہا۔
انستاسیا نے براؤن بریڈ کے سلائس پر مکھن کی تہہ لگائی۔ شاہد نے پنیر کی ایک لیئر اس پر جمائی اور ان پر چھوٹے چھوٹے سیاہ انڈوں کا جا ل سا بچھا دیا۔
”ہائے وے ربّا پتہ نہیں کیسا ذائقہ ہو گا۔ آنکھیں دیکھتی تھیں اور دل ڈوبتا تھا۔ اور شاہد انڈوں کے بارے میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا تھا۔مہنگا ترین کھانے کا آئٹم، پسندیدہ ترین کھانے کا آئٹم۔
اب کہیں تو کیسے؟ سلائس پر اس کھیت کو سجانے کی بجائے ویسے ہی ہمیں دے دیتے۔پر وہ تو ہمیں یہ انمول سوغات کھلانے پر تُلے بیٹھے تھے۔پس تو بائٹ لی۔ یوں محسوس ہوا جیسے انتڑیاں نکل کر باہر آ جائیں گی۔ فوراً پلیٹ میں سجی چیری اُٹھائی اور منہ میں ڈالی۔ اب سوپ میں ڈبکی لگائی۔ شکر ہے کچھ دال دلیا تھا۔عزت رہ گئی تھی۔ کہیں اُبکائی آجا تی تو کیا بنتا۔ نظر بچا کر سلائس بائیں ہاتھ کی مُٹھی میں دبا لیا۔ خاک کچھ کھانا تھا۔
اُوپر سے شاہد کامعذرت خواہانہ انداز۔ جلد ی میں کچھ نہیں کر سکے۔
”شاہد اور کیا کرنا تھا۔ میز تو بھر دی ہے۔ دراصل مقامی کھانوں کے لئے ہما را ٹیسٹ بھی تو نہیں ہے۔“ میں نے دلداری کی۔

دراصل مجھُے تو انستاسیا کی قُربت اور اُس کے ذخیرے سے اتنا کچھ حاصل ہوا تھا کہ لذیذ ترین کھانے اس پر قربان کئے جا سکتے تھے۔
شام کے اِس سیشن کا سب سے زیادہ دلچسپ وہ اپیسوڈEpisode تھا جو ا نستاسیاکی ملٹری ٹریننگ سے متعلقہ تھا۔ دو سالہ لازمی فوجی تربیت سوویت کے مختلف حصّوں، کہیں یوکرائن، کہیں بیلا رس، کہیں سائبیریا کے برف زاروں میں نوجوان لڑکیوں کی تربیت کے جان لیوا مراحل۔ میں گُنگ بیٹھی ورق پلٹتے ہوئے سوچے چلی جاتی تھی۔

یہ لوگ اپنی نسلوں کو فولاد ی انسان بنانے کے متمّنی تھے اور بناتے تھے ،اب؟ اِس نئے نظام میں؟ انستاسیا نے لمبی سانس لیتے ہوئے تصویریں سمیٹ دی تھیں اور دُکھ سے بولی تھی۔
اب تم ہماری نئی نسل کو دیکھ تو رہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *