انتخابات میں دھاندلی کی حقیقت۔۔۔سیدعارف مصطفی

نالائقی ہے اوریقینناً شدید نالائقی ۔۔۔ الیکشن کمیشن نے اپنے طور پہ ان الیکشنوں کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیئے کچھ بھی نہیں کیا ۔ تاہم اسے جو تجاویز اور مشورے ملتے رہے وہ اسے ہوا میں اڑاتا چلا گیا ۔۔ اور پھر وہی ہوا جو   ہونا تھا یعنی بدعنوانی یا دھاندلی کے الزامات سے یہ الیکشن بھی نہ بچ سکا اور اب سیاسی مچانوں اور ڈیروں سے جتنے منہ اتنی باتیں سننے میں آرہی ہیں لیکن جہاں تک عوام کا تعلق ہے ، عمومی تاثر شفافیت کا ہی ہے اور فوج نے بلاشبہ اس الیکشن کو ووٹنگ کے دن شفاف اور غیرجانبدارانہ بنانے میں بہت مستحسن کردار ادا کیا ہے باقی اس سے ذرا پہلے تک اور کافی عرصے سے تو  یقیناً اس کی  جانب سے ملکی سیاسی صورتحال میں من پسند لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی مد میں کئی ایسے معاملات سامنے آئے ہیں کہ جن پہ بجا طور پہ اعتراض اٹھائے جاسکتے ہیں اور اٹھائے بھی گئے ہیں- لیکن یہاں عمران خان کا ناقد ہونے کے باوجود میرا دوٹوک خیال یہی ہےکہ  1970 کے بعد 2018 کا یہ حالیہ الیکشن ایسا ہوا ہے کہ  جو اگر مکمل شفاف نہ بھی سہی لیکن اس عرصے کے دوران منعقدہ دیگر تمام الیکشنوں سے بدرجہا بہتر رہا ہے کیونکہ 1970 کے الیکشن کو چھوڑ کے بعد کے ہر دور میں وطن عزیز میں کوئی بھی الیکشن ایسا نہیں ہوا کہ  جو دھاندلی کے الزام سے پاک رہا ہو ۔مناسب یہ ہے کہ یہاں اس حالیہ الیکشن کے شفاف ہونے حوالے سے کئے جانے والے اعتراضات کا ذرا غیر جذباتی اور معروضی تجزیہ کرلیا جائے

الیکشن 2018 کا سرسری سا جائزہ لینے والے بھی یہ جانتے ہیں کہ اس میں ناکام رہنے والوں نے اس حوالے سے وہی دو کام کئے ہیں جو   سب سے آسان ہیں یعنی پہلے پر کا کؤا بنانا   اورپھر اس پہ سیاپا کرنا اور یہاں تو اس الیکشن پہ بڑے اعتراضات بھی دو ہی کئے گئے ہیں یعنی پہلا تو یہ کہ  پولنگ ایجنٹوں کو فارم 45 نہیں دیئے گئے کہ جن پہ اس پولنگ اسٹیشن کے نتائج باضابطہ طور پہ درج کرکے جاری کئے جاتے ہیں دوسرے یہ کہ  ووٹ ڈالنے کا عمل مکمل ہونے کے بعد پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ اسٹیشنوں سے باہر نکال دیا گیا ۔

تو چلیے  پہلے فارم 45 والے اعتراض کا تجزیہ کرتے ہیں ۔اس معاملے میں جو تحقیق میں نے کی ہےاس کا حاصل یہ ہے کہ یہ معاملہ سراسر الیکشن کمیشن کی غفلت اور کوتاہی سے پیدا ہوا ناکہ دھاندلی کی کسی کوشش کو یقینی بنانے کا جذبہ اس میں کارفرما تھا۔۔۔ اور اس ضمن میں عملی صورتحال یہ تھی کہ چونکہ آر ٹی ایس سسٹم کام نہیں کررہا تھا چنانچہ شام پڑتے ہی پولنگ اسٹیشنوں پہ کہرام مچا ہوا تھا کیونکہ وہاں سسٹم میں نتائج فیڈ نہ ہوسکنے کے باعث فارم 45 یعنی الیکشن کمیشن کی جاری کردہ رزلٹ شیٹ خود بخود نکلنےکا معاملہ ہی ٹھپ ہوچکا تھا جسکی بڑی وجہ اس سسٹم کو پہلے سے چیک نہ کرنے کی ‘مجرمانہ غفلت ‘ تھی جسکے سبب اس پہ غیر ضروری بھروسہ لادیا گیا تھا

چنانچہ ایسی افراتفری تو ہونی ہی تھی کیونکہ توقع تو یہ تھی کہ گنتی کے اعداد و شمار اس سسٹم میں ڈالتے ہی رزلٹ شیٹ یا دوسرے لفظوں میں فارم 45 کا پرنٹ برآمد ہوجائےگا لہٰذاسادہ فارم 45 برائے نام تعداد میں اسٹیشنوں پہ پہنچائے گئے تھے اور اب اس کا حل صرف یہی رہ گیا تھا کہ سادہ فارموں کی مطلوبہ تعداد میں فوٹو کاپی کروالی جائے لیکن پھر یہ مشکل درپیش ہوئی کہ  پولنگ اسٹیشنوں پہ مامور فوجی عملے نے اسکی جازت نہیں دی کیونکہ انہیں الیکشن کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے یہ ہدایات ملی ہوئی تھیں کہ کوئی بھی کاغذ پولنگ اسٹیشن سے باہر لے جانے نہ  دیا جائے اور بالآخر انہی گنتی کے چند سادہ فارموں پہ دستی طریقے سے نتائج کی بھرائی کی گئی۔۔۔ جو کہ بہت زیادہ وقت اور دقت طلب بات تھی اور یوں صورتحال گھمبیر تر ہوتی جارہی تھی اور یہ صورتحال رات 12 بجے تک ایک بحران کو جنم دے چکی تھی کیونکہ فارم 45 کی مناسب دستیابی نہ ہونے کے باعث نتیجوں کی باضابطہ شیٹ پولنگ ایجنٹوں کو نہ مل سکی تھی اور پولنگ اسٹیشنوں کے باہر موجود جم غفیر نے شدید احتجاج کرنا شروع کردیا تھا جسکی وجہ سے جب انتظامیہ بری طرح زچ ہوچکی تھی پھر کہیں جاکے اسکی بار بار بیحد درخواستوں کے بعد فوجی عملے کو انکےافسران نےسادہ فارم 45 کو باہر لے جاکے فوٹو کاپی کرانے کی اجازت دینے کی عنایت خسرو کر ڈالی تھی لیکن تب تک منہ سے نکلی باتیں کوٹھوں چڑھ چکی تھیں۔۔

یہاں فارم 45 کے ضمن میں ایک خاص بات یہ بتانا بھی ضروری  ہے  کہ ایک فارم پہ صرف 8 امیدواروں کےنام لکھنے کی جگہ ہوتی ہے اور چونکہ اکثر حلقوں میں اس سے کہیں زیادہ امیدواران الیکشن میں حصہ لے رہے ہوتے ہیں یوں فی پولنگ ایجنٹ 2 -2 فارم درکار ہوتے ہیں اور واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے صرف ایک ہی حلقے میں 300 کے لگ بھگ پولنگ اسٹیشنز ہوتے ہیں تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر بڑی تعداد میں یہ فارم مطلوب تھے اور پھر انکی ہاتھوں سے بھرائی کا معاملہ کس قدر مشکل اور پریشان کن بات تھی اور چونکہ آرٹی ایس سسٹم کی ناکامی سرشام ہی واضح ہوچکی تھی تو اگر اسی وقت پرانے نظام یعنی رزلٹ مینجمنٹ سسٹم کو استعمال میں لانے کا فیصلہ کرلیا جاتا اور فارم 45 کی مطلوبہ مقدار فراہم کردی جاتی تو اس بحران کو شدید ہونے سے بچایا جاسکتا تھا ۔۔ لیکن اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کے آر ٹی ایس سسٹم کی ناکامی سے پیدا شدہ اس بحران کی آڑ میں کوئی بددیانتی کی گئی کیونکہ مشینی نتیجہ نکلنے کا انتظار کرنے سے پہلے ہی ہر پولنگ ایجنٹ کو گنتی کے فوری بعد اس کا نتیجہ ایک سادہ کاغذ پہ لیکن باقاعدہ مہر لگاکے متعلقہ پریزائیڈنگ افسر( پی او) کےدستخط ثبت کرکے دیدیا گیا تھا جو کہ بجائے خود نتیجے کا ایک قانونی ثبوت ہونے کے مترادف تھا اور یہ شکایت کہیں بھی سننے میں نہیں آئی کہ کسی پی او نے پولنگ اسٹیشنوں پہ یہ مہرشدہ تصدیقی کاغذ پولنگ ایجنٹوں کو نہیں دیا۔۔۔اعتراض تو جب بنتا ہے کہ جب ان تصدیقی کاغذوں کا مجموعی نتیجہ ، سامنے آنے والے باضابطہ نتیجے سے مختلف ہو ۔۔ اور یہ صورتحال کہیں بھی رپورٹ نہیں ہوئی ۔

اب یہاں دوسرے اعتراض کا بھی تجزیہ کرلیتے ہیں اور وہ ہے پولنگ ایجنٹوں کو اسٹیشنز سے نکالنے کا معاملہ ۔۔ تو اس سلسلے میں، میں نے جو تحقیق کی تو یہ صورتحال سامنے آئی کہ یہ سراسر جگہ کی قلت کا معاملہ تھا کیونکہ ووٹنگ ٹائم ختم ہونے کے بعد ضابطے کے مطابق گنتی کے لیئے تمام پولنگ بوتھ  سے تمام بیلیٹ باکسیز ایک ہی کمرے میں لے آئے جاتے ہیں اور   وہاں انہیں کھول کر اور الٹ کر گنا جاتا ہے اور چونکہ 6 تا 8 پولنگ بوتھوں سے آنے والے  ان بکسوں کی تعداد دو درجن سے تین درجن تک ہوتی ہے اور ان سب کو رکھنے اور الٹ کر گننے کے لیئے بہت وسیع جگہ درکار ہوتی ہے تو ایسے میں مقابلے کے چار پانچ اہم امیدواروں کے پولنگ ایجنٹوں کو وہاں موجود رہنے دیا جاتا ہے اور باقی کو باہر بیٹھ کے انتظار کی ہدایت کی جاتی ہے کیونکہ اگر امیدوار دو درجن کے لگ بھگ ہوں تو انکے پولنگ ایجنٹ بھی اتنے ہی ہونگے اور ان سب کو ایک ہی جگہ بٹھانے اور تمام بیلیٹ بکسوں کو بھی وہاں رکھنے کے لیئے کوئی ایک کمرہ ناکافی ہی رہتا ہے خواہ وہ کتنا ہی کشادہ کیوں نہ ہو خصوصاً اتنی بڑی تعداد میں افراد کی موجودگی سے افراتفری کا سماں ہی بنا رہتا ہے اور پرسکون گنتی کا عمل مشکلات کا شکار رہتا ہے ۔

ویسے بھی چونکہ سارا دن ایک ہی جگہ کام کرتے رہنے کی وجہ سے ان پولنگ ایجنٹوں میں آپس میں ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ خیرسگالی اور ربط بن ہی جاتا ہے چنانچہ ہلکے امیدواروں کے ایجنٹ تو یہ موقع ملتے ہی خوشی خوشی رسی تڑا کے بھاگ نکلتے ہیں اور ان میں سے اکثر تو چونکہ ووٹنگ ٹرینڈ سے واقف ہوجانے کے باعث اپنے امیدوار کے برے نتیجے سے کافی حد تک آگاہ اور مایوس ہوتے ہیں لہٰذا ان میں سے اکثر تو باہر بیٹھ کے نتیجے کا انتظار بھی نہیں کرتے اور فٹافٹ اپنے گھروں اور دوستوں میں جابیٹھتے ہیں ۔۔۔ واضح رہے کہ ایسا اب کے پہلی بار نہیں ہوا بلکہ ہر الیکشن میں ایسا ہی ہوتا ہے لیکن اس بار اسے بڑی چابکدستی سے بدنیتی اور سازش کا جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی –

یہاں پہ میں اپنے تجزیے  کے آخری نکتے کی طرف آتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ عین الیکشن کے دن آر ٹی ایس سسٹم کی ناکامی پہ سوال اٹھا رہے ہیں وہ حقائق سے محض جزوی طور پہ ہی آگاہ ہیں کیونکہ اس سسٹم کی ناکامی تو پہلے دن ہی سے عیاں ہوچکی تھی اور اسکی بابت حیرانگی بھی بڑی حیران کردینے والی بات ہے کیونکہ انتخابی عمل کے آغاز ہی میں جب اس سسٹم سے منسلک کرنے کے لیئے تمام پریزائیڈنگ اور اسسٹنٹ پریزائڈنگ افسران کو اپنے اپنے شناختی کارڈ پیمرا کے پاس اسکین کرنے کے لیئے بھیجا گیا تھا تو وہاں پہ چند منٹ کا یہ کام تین روز میں بڑی دقت سے مکمل ہوپایا تھا اور ان افسران کو پیمرا کےدر پہ بار بار چکر لگوائے گئے تھے اور ہربار گھنٹوں انتظار کے بعد کبھی یہ کہہ کے واپس لوٹادیا جاتا تھا کہ ابھی سسٹم بیٹھا ہوا ہے تو کبھی انکا آدھا پونا ڈیٹا آنے کے بعد سسٹم کے ہینگ ہوجانے کا بتاکے کئی گھنٹے بعد واپس آنے کو کہا جاتا تھا ۔۔۔

اور اس ابتدائی و سہل ترین مرحلے پہ ہی یہ نہایت ابتر صورتحال دیکھ کے اسی وقت سب متعلقہ انتخابی افسران ( بشمول رٹرننگ آفیسرز) کو یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ سسٹم ناکارہ ہے کیونکہ جب ابھی سے ناکام ہے تو بعد میں تو بہت بڑے پیمانے پہ رزلٹ آنے پہ بالکل ہی نہیں چل پائے گا ۔۔۔ اور پھر ہوا بھی یہی کہ جب 25 جولائی کی شام ووٹنگ ختم ہونے کے بعد پہلے ہی مرحلے میں ملک بھر سے پچیس ہزار کے لگ بھگ نتائج اس پہ ڈالے گئے تو یہ سسٹم اسکی تاب نہ لاسکا اور دم توڑ گیا –

یہاں میرا سوال الیکشن کمیشن  سے یہ ہے کہ الیکشن سے بہت پہلے جب وہ اس آرٹی ایس سسٹم کے توصیفی قصیدے پڑھنے میں مشغول تھا تو اس نے پہلے ہی اسکی درستی کی آزمائشی جانچ کرنے کی زحمت کیوں نہیں کی تھی یعنی اسکا کئی بار ٹیسٹ رن کیوں نہیں کرلیا تھا ۔ اس معاملے کی یقیناً تحقیق کرائی جانی چاہیے  اور اس ضمن میں فرانزک آڈٹ عین مناسب رہے گا کہ یہ سب ناکامی کیونکر ہوئی اور جب پہلے سے ہی اس سسٹم کی خرابی کی بابت متعدد جانب سے نشاندہی کر دی گئی تھی تو پھر اس کی بہتری و اصلاح کے لئے خاطر خواہ اقدامات آخر کیوں روبہ عمل نہیں لائے گئے ۔۔؟؟

میری اسی تحقیق کے  ضمن میں مجھے انتخابی عملے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ  الیکشن کمیشن کی جانب سے بہت ہی کم عملے کو انتخابی عمل کی ٹریننگ دی گئی تھی اور جو دی بھی گئی تھی وہ بڑی حد تک نامکمل تھی اور یہ عنصر بھی الیکشن کے نتائج مرتب کرنے میں بہت تاخیر اور بدحواسی کی وجوہات میں سے ایک تھا ۔۔۔ آخر میں عرض ہے کہ اس تجزیئے سے کم ازکم یہ حقیقت تو بالکل عیاں ہوجاتی ہے کہ  ووٹنگ کے دن یہ الیکشن غیرشفاف نہیں تھا اور قطعی غیرجانبدارانہ طور پہ منعقد ہوا لیکن اس دن کی حد تک الیکشن کی شفافیت کو یقینی بنانے میں صرف فوج ہی نے مثبت کردار ادا کیا تھا اورالیکشن کمیشن مکمل فلاپ ثابت ہوا ۔

اب اس ضمن میں ہونا تو یہ چاہیے  کہ سڑکوں پہ آکے شور مچانے کے بجائے ملک میں سیاسی عمل کو جاری رہنے دیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ اس ضمن میں ایک بااختیار جوڈیشل تحقیقاتی کمیشن بنانے کی طرف آیا جائے اور اسکے نتائج کا انتظار کیا جائے کیونکہ عوام اب اس طرح کے تماشوں سے بہت عاجز آچکے ہیں اور یہ صورتحال یونہی چلنے دی گئی تو خلائی مخلوق کو برسر زمین آنے اور سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لینے سے کوئی نہیں روک سکے گا اور یوں اپوزیشن کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا بس وطن عزیز ایک بار پھر ماضی کے گرداب میں پھنس جائے گا۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *