• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پچاس لاکھ مکانات کا منصوبہ یا گہری کھائی ۔۔۔۔سلیم فاروقی

پچاس لاکھ مکانات کا منصوبہ یا گہری کھائی ۔۔۔۔سلیم فاروقی

SHOPPING
SHOPPING

ملک شدید ترین معاشی بحران کا شکار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، ڈالر اور غربت ہے کہ بڑھتی ہی جارہی ہے، اگر کوئی چیز کمی کی جانب مسلسل گامزن ہے تو وہ روپے کی قیمت ہی ہے۔ اور یہ کوئی آج کا مسئلہ نہیں گذشتہ پانچ چھے عشروں سے یہی صورت حال جاری ہے لیکن گذشتہ کم از کم تین عشروں سے تو یہ صورت حال انتہائی خراب ہوچکی ہے۔

ان تین چار عشروں میں آنے والی تمام حکومتوں کے معاشی بزرجمہروں نے بظاہر اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے لیکن یہ تمام اقدامات ناکام رہے بلکہ ان کا معکوسی اثر ہی ہوا اور ملک مزید معاشی بدحالی کا شکار رہا۔ بدقسمتی سے موجودہ، بظاہر انقلابی، حکومت بھی انہی گھسی پٹی راہوں پر چلتی نظر آرہی ہے جن پر گذشتہ حکومتیں چلتی رہی ہیں، اور ظاہر ہے ان کا اثر بھی کوئی مختلف ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

ہم کوئی معاشی ماہر تو نہیں ہیں لیکن ان معاشی اقدامات کے متاثرین میں ضرور ہیں۔ چونکہ ہم اس مسئلے کو اپنا مسئلہ ہی سمجھتے ہیں اور اس پر اسی انداز میں غور و فکر کرتے ہیں جس انداز میں اپنے ذاتی مسائل پر غور و فکر کرتے ہوئے ان کی وجوہات اور تدارک پر غور کرتے رہتے ہیں۔

ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے ملک کے معاشی ارسطوؤں کو ملکی معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے جن اقدامات کو چنا ان میں سے چند اہم ترین اقدامات درج ذیل ہیں:
1- غیر پیداواری نجی کاروبار کا فروغ
2- تعمیراتی صنعت پر بھروسہ
3- صارف بینکاری (کنزیومر بینکنگ) کی ترویج
4- غیر ملکی سرمایہ کاری (ہر صورت میں)
5- ڈیفالٹرز کی فہرست کا اجراء
6- ڈبلیو ٹی او (ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن) کے پھندے میں پھنسنا

اگرچہ یہ تمام اقدامات ایسے ہیں جن پر علیحدہ علیحدہ تفصیلی مضمون درکار ہوگا لیکن ہم مختصراً ہی ان کے اثرات کو جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔

ان تین چار عشروں میں جن نجی کاروباروں کو سب سے زیادہ فروغ ملا ہے وہ کھانے پینے سے متعلق ہے۔ اگر ایک اوسط یا بڑے سائز کا کوئی ریسٹورنٹ یا آئسکریم پارلر کھول ہی دیا جائے تو اس سے یقیناً ایک معاشی تحریک تو پیدا ہوتی ہے لیکن ہزاروں یا لاکھوں روپے روانہ کمانے والی یہ صنعت ملکی ترقی میں کوئی خاطرخواہ اضافہ کرنے کی بجائے کمی ہی کررہا ہے۔ کیونکہ ایک آؤٹ لیٹ جہاں ہزاروں لاکھوں روپے کی سیل ہوتی ہے وہاں بمشکل دس پندرہ افراد ہی کام کرتے ہیں۔ اور یہاں استعمال ہونے والے گوشت اور سبزیاں تو ممکن ہے مقامی ہی استعمال ہوتے ہوں لیکن مسالحہ جات اور رنگ، کیمیکل ایسنس سمیت تقریباً تمام ہی لوازمات درامد شدہ استعمال ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس پورے کاروبار سے ملک کو کیا حاصل ہوا سوائے اس کے کہ ہم نے اپنے مقامی ذائقوں کو پس پشت ڈالا اور محض زبان کے چٹخاروں کے لیے قیمتی زرمبادلہ ضائع کرنا شروع کردیا۔ بین الاقوامی فوڈ چین میں کھانے کے ذریعے ہم کتنا ہی زرمبادلہ محض رائلٹی کی مد میں ملک سے باہر بھیج دینے میں معاون ثابت ہورہے ہیں، اس طرف شائد ہم نے کبھی توجہ نہیں دی۔

ایک سب سے بڑا معاشی کھلواڑ صارف بینکنگ (کنزیومر بینکنگ) کے نام پر ہوا۔ جس میں کریڈٹ کارڈ تو کتنے ہی گھروں کو اجاڑ گیا۔ اس میں بینکوں کے معلوم اور نامعلوم چارجز کو ایک طرف رکھتے ہوئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوا کہ ضرورت سے زائد اخراجات نے لوگوں کو سود کے چکر میں ایسا گھیرا کہ محض چند سو یا چند ہزار کے خرچ نے ان کو ہزاروں اور لاکھوں کا ایسا مقروض بنایا کہ گھروں کا سکون بھی تباہ ہوا اور گھروں میں جو تھوڑی بہت معاشی آسودگی تھی وہ بھی ختم ہوئی۔

ایک بزرجمہر معاشی چیمپئین کے نام پر وزیراعظم بن بیٹھے اور انہوں نے سارے مسئلے کا حل یہ نکالا کہ ڈیفالٹرز کی ڈائریکٹری شائع کرکے عوام پر یہ احسان جتلایا کہ یہ جاننا عوام کا حق ہے۔ چلیں مان لیا یہ عوام کا حق تھا، لیکن اس سے حاصل کیا ہوا، کیا یہ رقم واپس مل گئی؟ جی نہیں بلکہ اس کا الٹا ہی اثر ہوا۔ یہ ڈیفالٹرز یہ سوچ کر ڈھیٹ ہوگئے بدنامی کا ڈر تھا، سو وہ تو ہوگئی، اب پیسے کیوں واپس کیے جائیں؟ اور پھر انہوں نے دیکھا کہ ان کی برادری کر تو تقریباً تمام ہی لوگ ڈیفالٹر ہیں، تو بدنامی کیسی اور کس کے سامنے؟ اور پھر عام افراد میں بھی یہ سوچ پیدا ہوگئی کہ لاکھوں اور کروڑوں قرض لینے والے واپس نہیں کرتے ہیں تو ہم کیوں بلوں کی ادائیگی کریں۔

ایک نے یلو کیب کے نام پر بنا سوچے سمجھے اور بغیر کسی حفاظتی اقدام کے بینکوں کے اربوں روپے داؤ پر لگوا دیے۔ اس مد میں دو چیزوں نے معیشت کو دو بڑی مد میں جھٹکے دیے۔ اول تو بینکوں کے بدعنوان افسران کی ملی بھگت سے اس میں کرپشن اور دوسرے اتنی بڑی تعداد میں گاڑیاں سڑکوں پر آجانے کی وجہ سے سڑکوں کا بیڑا غرق تو ہوا ہی لیکن کچھ ہی عرصے بعد جب گاڑیوں میں دیکھ بھال کے اخراجات شروع ہوئے تو یہ اخراجات گاڑی مالکان کے بس سے ایسا باہر ہوئے کہ وہ نہ تو گاڑی روک سکتے تھے، نہ ہی گاڑی کی دیکھ بھال پر بھرپور اخراجات کرسکتے تھے اور نہ ہی بینکوں کی قسط ادا کرنے کے قابل رہ گئے۔ اور اس کا نتیجہ قرض خواہوں کے ساتھ ہی ملکی معیشت نے بھگتا۔

ہم نے ڈبلیو ٹی او کے معاہدات پر اس لالچ میں دستخط کردیئے کہ اس طرح ہمیں بین الاقوامی منڈی میں بھرپور رسائی مل جائے گی۔ لیکن اس کا اثر الٹا ہی ہوا۔ ہم تو خود ہی بین الاقوامی منڈی بن کر رہ گئے۔ مقامی صنعت کو جو چیز فیکٹری میں پڑتی تھی اس سے سستی تو ملک میں خوردہ قیمت پر عام افراد کو دستیاب تھیں۔ یوں جو تھوڑی بہت صنعتیں چل رہی تھیں وہ بھی بند ہوگئیں۔

ایک اور آزمودہ مگر ناکام ترین قدیم تعمیراتی صنعت پر بھروسہ ہے۔ بدقسمتی سے بغیر سوچے سمجھے موجودہ انقلابی حکومت بھی اس کو اپنا چکی ہے۔ حالانکہ یہ بازو ہمارے آزمائے ہوئے ہیں۔ نوازشریف اور مشرف کی اس سلسلے کی اسکیمیں تو واضح طور پر ناکام ہوچکی ہیں۔ اور ان کی ناکامی کی دو بڑی وجوہ رہیں۔ ایک کرپشن اور دوسرے ضرورت سے زیادہ معاشی تحریک کی توقعات نے ناکامی کا منہ دکھایا۔

کرپشن کے جتنے امکانات گذشتہ ادوار میں تھے اتنے ہی موجودہ دور میں بھی ہیں۔ لیکن چلیں تھوڑی دیر کے لیے یہ ناممکن بات مان بھی مان لی جائے کہ اس دفعہ یہ اسکیم انسان نہیں فرشتے ہینڈل کریں گے اور کوئی کرپشن نہیں ہوگی۔ تب بھی یہ ملکی معیشت کے لیے ایک سم قاتل ہی ثابت ہوگا۔

میں اس کو سم قاتل کیوں کہہ رہا ہوں اس کے لیے پہلی چیز یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ہماری معیشت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ادائیگیوں کا عدم توازن ہے۔ یعنی ہماری درامدات ہماری برامدات سے کہیں زیادہ ہیں اور ہمارے پاس درامدات کے لیے ڈالر ہی نہیں ہوتے ہیں، اگر درامدات میں ڈالر دے دیں تو قرض کی ادائیگی کے لیے ڈالر نہیں ہوتے ہیں۔ اب ذرا ایک نظر تعمیراتی اسکیم پر ایک نظر ڈال لیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ کیونکر ایک اور ناکامی کا منہ دکھائے گی۔

آپ پانچ سال میں پچاس لاکھ مکانات بنانا چاہ رہے ہیں۔ اور کہہ رہے ہیں اس میں ملکی خزانے کی بجائے نجی دولت استعمال ہوگی۔ چلیں مان لیا۔ چلیں یہ بھی مان لیا کہ اس کے لیے بیرون ملک پاکستانی سرمایہ کاری کریں گے یوں زرمبادلہ آئے گا۔

اب ذرا دیکھیں دعویٰ کیا ہے، حقیقت کیا ہے، اور ہونے کیا جارہا ہے۔ دلیل یہ دی جارہی ہے کہ اس اقدام سے بڑی تعداد میں افرادی قوت کی ضرورت پیش آئے گی یوں بے روزگای کنٹرول ہوگی۔ لیکن جناب یہ صرف خواہش تو ہوسکتی ہے اس سے بے روزگاری ہرگز کم نہ ہوگی۔ یہ تو ممکن ہے کچھ عرصے کے لیے کچھ مہینوں کے لیے روزگار مل تو جائے لیکن اس کو بے روزگاری کا خاتمہ ہر گز نہیں کہا جاسکتا ہے۔ ذرا سا غیر جذباتی ہو کر سوچیں ایک مکان کی تعمیر کے لیے راج مستری، مزدور کتنے عرصے کے لیے درکار ہوتے ہیں، شائد زیادہ سے زیادہ دس افراد۔ ماسوائے ایک آدھ دن کے جب چھت کی بھرائی ہورہی ہو اس وقت اضافی بیس پچیس افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ راج مستری اور مزدور بھی بمشکل چند ماہ کے لیے ہی درکار ہوتے پھر چند ماہ بعد وہ دوبارہ تھڑے پر روزگار کی تلاش میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ پھر منصوبے کے یہ پچاس لاکھ مکانات کسی ایک جگہ تو نہیں بنیں گے، یہ تقریباً تمام ہی بڑے اور اوسط شہروں میں بنیں گے، گویا افرادی قوت کی یہ ضرورت پورے ملک میں چند ماہ کے درکار ہوگی۔ گویا تمام مزدوروں کو برسوں کے لیے نہیں بلکہ چند مہینوں کے لیے درکار ہوں گے اس کے بعد پھر وہ تھڑے پر بیٹھے ہوں گے۔ اس کے بعد رنگ کرنے والوں، الیکٹریشن، پلمبر، بڑھئی اور اسی قسم کے دوسری افرادی قوت کی ضرورت ہوگی۔ وہ بھی چند ماہ کے لیے، اس کے بعد وہ پھر واپس اسی جگہ کھڑے ہوں گے۔ جہاں سے اس اسکیم پر شامل ہوئے تھے۔ گویا اس اسکیم کو کسی طور بے روزگاری کا حل نہیں کہہ سکتے ہیں کیونکہ بے روزگاری کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی فرد کو ایک طویل عرصے کے لیے روزگار کی فراہمی ضروری ہے۔ یہ جو کہا جارہا ہے کہ اس کے ساتھ ہی چالیس سے زائد انڈسٹریز چلیں گی وہاں بھی معاشی تحریک اور افرادی قوت کی کھپت بھی ہوگی۔ اس کو سوائے خوش فہمی کے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے، وہ کیوں یہ میں آگے چل کر بتاؤں گا۔

یہ تو رہا معاملہ افرادی قوت کا اب ذرا معاشی تحریک پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کسی بھی مکان کی تعمیر کے ہونے والے اخراجات میں تقیریباً ساٹھ فیصد اخراجات مکان کا ڈھانچہ بننے تک سیمنٹ، ریتی، بجری اور اینٹوں وغیرہ کی مد میں ہوتے ہیں۔ چلیں مان لیا یہ تمام اشیاء اندرون ملک ہی دستیاب ہونگی، اگرچہ ہم اکثر سیمنٹ تک درامد کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد ہی اصل مسئلہ کھڑا ہوگا جو ملکی معیشت کی رہی سہی روح بھی نکال لے گا۔

اس سے تو آپ اتفاق ہی کریں گے کہ ڈھانچہ کھڑے ہونے کے بعد مکان کی تعمیر میں بجلی، سینیٹری، لکڑی، لوہے اور ایلومینیم کی مختلف اشیاء کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اور یہی ہو سیکٹر ہے جس پر یہ امید کی جارہی ہے جس میں چالیس سے زیادہ صنعتیں کام کریں گی اور ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کریں گی۔ لیکن اس خوش فہمی سے پہلے ذرا اپنے اپنے شہر کی ہارڈ وئیر، الیکٹریکل، سینیٹری اور دیگر اسی قسم کی اشیاء کی مارکیٹ پر ایک نظر ڈال لیں۔ کیل سے تار تک، پائپ سے ٹونٹی تک، فیوز سے سوئچ تک، ساکٹ سے ڈی بی تک، ہولڈر سے بلب تک، پردے سے کھونٹی تک، شیشے سے آئینے تک، ٹائل سے سینیٹری فٹنگ تک، ہتھوڑی سے آری تک غرض ہر چیز کسی حد تک مقامی صنعت سے حاصل ہوتی ہیں اور کتنی بیرون ملک خصوصاً چین سے اتنی سستی مل جاتی ہیں کہ جتنے کو مقامی صنعت کو کارخانے میں نہیں پڑتی ہے اس سے کم قیمت میں خوردہ قیمت پر بازار میں دستیاب ہے۔ اور اگر کوئی چیز ملکی صنعت میں دستیاب بھی ہو تو اس کا خام مال یعنی پلاسٹک وغیرہ بیرون ملک سے ہی درامد ہوتے ہیں۔ اب ان پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے لیے یہ تمام اشیاء کتنی بڑی تعداد میں درامد ہونگی خود ہی اندازہ لگا لیں کہ اس سے ہمارے ادائیگیوں کے توازن پر کتنا دباؤ پڑے گا۔

اس کو سمجھنے کے لیے فرض کیجیے ایک مکان کے تعمیراتی اخراجات پندرہ لاکھ ہوں تو ان کا چالیس فیصد ڈھانچے کے بعد کے اخراجات ہیں۔ ان میں بھی آدھے مزدوری میں اور آدھے سامان کی خریداری پر خرچ ہوئے۔ گویا فی مکان تین لاکھ روپے کی درامدات ضروری ہونگی۔ پچاس لاکھ مکانات کے لیے پانچ سال میں پندرہ کھرب روپے کی درامدات کا مطلب سالانہ تین کھرب روپے کی درامدات اور آج کے 135 روپے کے ریٹ سے سوا دو ارب ڈالر سالانہ کی درامدات کے لیے اضافی ضرورت یا ماہانہ اٹھارہ کروڑ ڈالر کی اضافی ضرورت۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سالانہ سوا دو ارب ڈالر کہاں سے آئیں گے؟ اس کے لیے ہمارے پاس برامدات میں اضافے کا کیا پلان ہے؟ کیا ان سوا دو ارب ڈالر سالانہ کے لیے ہمیں پھر آئی ایم ایف یا اسی قسم کے دیگر اداروں سے قرض لیں گے۔ اور پھر ہماری معیشت کس کھائی میں جاکرے گرے گی۔ اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔

گویا اصل سوال منصوبے کے لیے رقم کی فراہمی نہیں، ممکن ہے ہمیں زمین سے دبی ہوئی کوئی ایسی دیگ مل جائے جس سے اس منصوبے کی مطلوبہ رقم مل جائے، اصل سوال تو یہ ہے کہ اس سے پڑنے والے ادائیگیوں کے بوجھ سے کس طرح نمٹا جائے گا؟ یہاں یہ منصوبہ بالکل لاچار نظر آرہا ہے۔

SHOPPING

جناب اگرآپ واقعی اس ملک کے معاشی مسائل کا سلجھانا چاہتے ہیں تو اس ملک کی چھوٹی اور بڑی صنعتوں کا بحال کیجیے۔ اشیائے تعیش ہی نہیں بلکہ ضرورت کی ان چیزوں کی درامد بھی روکیں جو ہمارے ملک میں ہی تیار ہوتی رہی ہیں اور درامدات کی باعث اب یہ صنعتیں بند ہوچکی ہیں۔ خاص طور پر چین سے اپنے تجارتی تعلقات پر دوبارہ غور کیجیے اور تمام ممالک کو پابند کیجیے کہ وہ اگر ہمارے ملک میں اپنی اشیاء فروخت کرنا چاہتے ہیں تو ان کو ہمارے ملک سے بھی درامدات کرنی ہوں گی یا کم از کم ہمارے ملک میں صنعتیں قائم کرنی ہوں گی۔ اور ان صنعتوں سے برامدات بھی کرنی ہوں گی۔ ایسی ہی شرائط بین الاقوامی فوڈ چین، سپر اسٹور چین اور ایسے ہی دیگر کاروباری اداروں سے منوانی ہونگی ورنہ ہم پیزا، برگر اور پاستہ کھائے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں

SHOPPING

سلیم فاروقی
سلیم فاروقی
کالم نگار، کہانی نگار، بچوں کی کہانی نگار، صد لفظی کہانی نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *