چلے تھے دیوسائی۔۔۔۔۔۔ محمد جاوید خان/قسط 29

اُجلی وادیوں میں آلُودہ لوگ!
ایک بات حیران کرنے والی ہے کہ گلگت بَلتستان و کشمیر کے ہر سیاحتی مقام پر ناقص دُودھ کی چائے بِکتی ہے۔قراقرم،ہندوکُش اَور ہمالیہ کی اِن وادیوں میں،جہاں محنت ہی سب کا دین ہے،ہر گھر میں مویشی ہیں،وہاں ہر چائے خانے پر بازاری دُودھ بِکتاہے۔مِنی مَرگ تک آنے کے لیے بدنا م و دُشوار درّہ بُرزَل پارکرنا پڑتا ہے، جو آج کی مشینوں کے لیے بھی اِتنا آسان نہیں،مگر یہاں بڑی دلیری کے ساتھ گندی چائے  پِلائی جاتی ہے۔محمد عالم صاحب اِسی چائے کی بار بار دعوت دے چُکے تھے۔مِنی مَرگ، جہاں ہر گھر میں پچاس سے سو بکریاں ہیں۔درّہ بُرزَل سے اُتر کرکِسی نے دُودھ کا زہریلہ ڈِبہ تو پہنچادِیا،مگردوکمروں کے اِس ہوٹل کے نیچے بَسے لوگوں میں سے کوئی ایک بالٹی خالص دُودھ لینے اَوردینے کی زحمت نہ کرسکا۔اَگر یہاں گاؤں سے حاصل کردہ دُودھ کی چائے نہیں صرف دُودھ پَلایاجائے، تو تَب بھی یہ ختم نہ ہو۔اِن وادیوں میں دُودھ کی فراوانی ہے۔

چلے تھے دیوسائی۔۔۔۔۔۔ محمد جاوید خان/قسط 28
پاکِستان دُنیا میں دُودھ پیدا کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہے۔ پاکستان کی سرمایہ دار کمپنیاں   دُنیا میں دُودھ پیدا کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہیں ۔سرمایہ دار کمپنیاں یہ دُودھ گوالوں سے خرید کر،خُوبصُورَت ڈبوں میں ڈال کر گھر گھر پہنچانے میں کامیاب ہیں۔یہ کیمیکل مِلا سفید مائع زہر کی صورت جِسموں میں اُترکرمدافعتی نظام کو ختم کررہا ہے۔بلڈ پریشر، شوگر اَور جِسمانی کمزوریوں جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔معدے کے مسائل اِسی سے جنم لے رہے ہیں۔مَیں نے محمد عالم صاحب سے پُوچھا، یہاں دَوران ِ خون (بلڈ پریشر) کے مسائل کِتنے فیصد ہوں گے۔؟بولے تقریباً تیس فیصد۔اِس خُوبصُورَت نخلستان پر پھیلی ہوئی وَادی کی آبادی کے تیس فیصد لوگ بیمارہیں؟کرب کی اِک لَہر میرے جِسم میں اُتر گئی۔مَیں نے پُوچھا اِس کی وجہ؟ بولے بَس ناقص خوراک۔
چلاس کے محمد عادِل صاحب،جو تقریباً پینسٹھ برس کی عمر میں تھے،کی کہانی اِن سب کے برعکس تھی۔اُنہوں نے کہا،”ہم چلاس والوں کاہر مرد و زَن کام کرتا ہے اَور خالص خوراک کھاتا ہے“۔سفید لِباس میں ملبوس اَور سر پر ٹوپی رکھے محمد عادل صاحب نے گھاس پر پہلو بدلا اَور کہا کُچھ عرصہ قبل ہمارے چلاس میں ایک سو پانچ سال کے ہنستے پھرتے بُزرگ موجود تھے۔مگراَب یہ رواج کم ہو رہا ہے۔عمر کا یہ پیمانہ گِر کر اَب 100،90اور85پر اَٹکا ہُو اہے۔نوجوان نسل، جو تیزی سے مصنوعی آلُودہ خوراک پر لگی ہے،یہی رفتار رہی تو لازماً اِس سے بھی گِرتا چلاجائے گا۔

تہذیبی زِندگی کاایک ورق!
عادل صاحب نے چلاس کی زندگی سے تاریخ کا ایک اَور ورَق پَلٹ کر میرے سامنے رکھ دِیا۔”جب انگریزوں نے ہمارے مُلک پر قبضہ کیا، تو ہم نے اُن سے دو باتوں پر معاہدہ کیا،ایک ہم باغیرت لوگ ہیں اَپنی عورتوں کو غیرمردوں کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے۔اَگرایسا ہوجائے،تو ہم اَپنی عورتوں کو گولی مار دیتے ہیں۔دُوسرا جنگل ہمارے اَپنے ہیں،وہاں سے ہمیں لکڑ یاں کاٹنے سے کوئی نہیں روکے گا۔آج حکومتیں اَور نظام بد ل گیا ہے،مگر ہم چلاس والوں کا نئی حکومتوں سے وہی معاہدہ چلا آرہا ہے“۔

محمد عادل صاحب کی تاریخ کا یہ وَرق مُشکل ورق تھا۔یہ وَرق قبائلی روایات کی اَمین سُرخیوں سے لِکھا گیا وَرق ہے۔قبائلی نظام صدیوں سے رائج ہے۔ہر جگہ کے اَپنے اُصول و ضوابط ہیں۔تہذیب و رواج ایک دَم آسمان سے نہیں ٹپکتے،بلکہ زمانے کے نشیب و فراز مِل کر اُنہیں بناتے ہیں۔پھر صدیوں تک نسلیں اِن کاپالن کرتی ہیں اَور اِن کاتحفظ بھی۔چلاس والوں نے بھی اَیسے ہی کیا ”حکومت کرو ٹھیک ہے،مگر ہمارے تہذیبی رَنگ میں بھنگ نہیں مِلانا۔“چاہے لوگ اِسے جہالت اَور گنوار پَن کے طعنے دیتے رہیں۔ مگر ہر زمین کا اَپنا رنگ ہے۔مشرقی تہذیب کی خُوبصُورَتی اِسی رنگ سے ہے۔بند کلیوں کو جبراً کھولا جائے،تو پھُول کھِل نہیں پاتے۔

مِنی مَرگ میں دو ہائی سکو ل ہیں۔ایک لڑکوں کے لیے اَور دوسرا لڑکیوں کے لیے۔دونوں میں تعداد لگ بھگ 400 ہے۔آبادی کے تناسب سے یہ تعداد کم ہے۔یہاں کوئی غیرسرکاری ادارہ نہیں۔اِی ایف نائٹ 1891 مَیں یہاں مِنی مَرگ سے بھی گُزرا تھا۔اُس نے اُس وقت بھی اِس خُوب صُورَت وادی،جواُ س وقت بھی پھُولوں سے ڈَھکی تھی، کانام ”مِنی مَرگ“ ہی لکھا ہے۔نائٹ کے نزدیک اِس نام کی وجہ اِس کے مرغزار ہیں۔

محمد عادل صاحب نے کہا آؤ تمھیں  سیر کراتا   ہوں۔اُس طرف عورتیں گھاس کاٹ رہی ہیں،مگر میں تُمھارے ساتھ ہوں تُم مہمان ہو۔سب تُم سے مِل کر خُوش ہوں گے۔اِتنے میں عاصم صاحب نے آواز دی، آئیے آگے چلتے ہیں۔اَب مجبوری تھی،محمد عادل صاحب سے اِجازَت لینی پڑی۔وہ محبت سے بغل گیر ہوئے،شفقت سے میرے شانوں کو دبایا اَور نصیحت کی۔دیکھو نماز پڑھنا،تبلیغی جماعت کے ساتھ سہ روزہ لگانا۔اِس میں دین کی محنت ہے اَور اللہ کو اِس محنت سے خُوشی ہوتی ہے۔سادگی اَور خلوص کے پیکر محمد عادل صاحب کو سلام کِیا اَور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
قافلہ آگے چلا، تو جہاں نُکڑ پر مِنی مَرگ کی دُوسری آبادی تھی، وہاں رُک گیا۔ایک لُڑ ھکتے نالے  کے کنارے ڈَھلوان پر گھر سے گھر جُڑا ہے۔آبادی کارقبہ بَہُت زیادہ نہ تھا۔اِردگِردگھاس دارپہاڑیاں تھیں،جو سُنسان تھیں۔گھاس کو چھوڑ کر کِسی درخت نے کبھی اِدھر اُگنے کی کوشش نہیں کی۔

گاڑیاں سڑک سے اُتار کر ایک میدان میں کھڑی کیں۔میدان سے نیچے شفاف پانی کی ندی بہہ رہی تھی۔یہ وہی ندی تھی، جو مِنی مَرگ کو تقسیم کرتی ہے۔نخلستانی حصہ اَور پار کا پہاڑی حصہ، جِس پر کُچھ جنگل اَب بھی کھڑا ہے۔ سارے دوست نالے کی طرف اُترگئے۔مَیں میدان کے کنارے بیٹھ گیا۔پار جنگل میں ایک شخص درانتی لے کر سفیدتنے والے درختوں کی شاخیں کاٹ کر،اکٹھی کر رہا تھا۔یہ اُس کی بکریوں کا کھاجا بھی ہو سکتا ہے اَوراُس کے لیے کوئی دُوسرا اِستعمال بھی۔اَیسی لچکیلی ٹہنیوں سے دِیہاتوں میں خُوبصُورَت ٹوکریاں بُننے کارواج ہے۔سُگھڑ خواتین اِن ٹوکریوں کو فنکارانہ اَنداز سے بُنتی  ہیں اَور اِن میں سبزی،پھل،اَناج اَور جنگل سے سُوکھی ٹہنیاں چُن کر رکھتی ہیں۔

اِن ٹوکریوں میں بچے برسات میں کھمبیاں (مشروم) چُن چُن کر گھر لاتے ہُوں گے۔کھمبیوں میں کئی ایک زہریلی ہیں، لیکن مقامی لوگ اُنہیں خُوب پہچانتے ہیں۔وٹامن سے بھر پور یہ سبزی گوشت کا مُتبادل ہے۔ہم نے اَپنے بچپن اَور لڑکپَن میں اِسے خُوب کھایا ہے۔اَبر برستے توہم اِن کی تلاش میں جنگلوں میں مارے مارے پھِرتے۔چیت میں بادل کڑکتے،تو ہم کھمبیوں کی تلاش میں بھیگتے رہتے۔بُزرگوں سے سُن رکھا تھا کہ جب بادل کڑکتے ہیں تو زمین سے کھمبیاں نِکلتی ہیں۔ٹولیوں میں بَٹ کر اُنہیں تلاش کرتے،کچا کھاتے یاکبھی کبھار تیل میں بھُون کر چپاتیوں کے ساتھ کھاتے۔مِنی مَرگ میں کھمبیاں ضرور اُگتی ہُوں گی۔اُنہیں ٹولیوں میں کوئی تلاش کرتا ہے یا نہیں،اِس کی خبر نہیں مِلی۔

طاہر یوسف نے آواز لگائی۔ پانی کے شور میں،الفاظ سُنائی نہیں دے رہے تھے۔طاہر،عاصم،وقاص،شفقت،راحیل اَور اَصغر صاحب ایک نالے کے دَرمیان کھڑی ایک بُلند چٹان پر چڑھ کر بیٹھ گئے تھے۔عِمران رزاق اَبھی گاڑیوں کے پاس کھڑے تھے۔مَیں نالے کے قریب پہنچا۔تیز دھاروں میں میرے دوستوں کی آوازیں تھیں،ہاتھوں کے اِشارے بھی،مگر میں سمجھ نہیں پا رہا تھا۔چٹان پر ایک دُوسرے کے ساتھ لگ کر بیٹھے،ہاتھوں کو بیک وقت بُلند کر رہے تھے۔مَیں نے جوتے اُتارکر ہاتھ میں پکڑے اَور پانی میں اُتر گیا۔ٹھنڈا ٹھار پانی،جہاں گہرا تھا وہاں پاؤں جم نہیں پاتے تھے۔ دُوسرا اِتنے سرد پانی میں لمحہ بھر پاؤں رکھنا بھی مُشکل تھا۔لہٰذ ا مَیں نے پتھروں پر چلنا شروع کردیا،پھِسلن والے  پتھر،اِن سے پھسل کر گِرنے کا بھی خطرہ تھا۔میری تمام توجہ راستے پر تھی۔ذرا سی غفلت بھی مُجھے کِسی پتھر سے پھسل کر گہرے گڑھے میں دھکیل دیتی، جہاں پانی ناف تک تھا۔پتھروں پر کُود نے،چلنے کے بعد،مَیں چٹان تک پہنچا،شفقت نے ہاتھ پکڑ کر چٹان پر چڑھایا۔عمران رزاق میرے پیچھے آرہے تھے۔اُن کا بھی وہی طریقہ عمل تھا،جو میں اَپنا چُکا تھا۔

جاری ہے

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *