• صفحہ اول
  • /
  • مشق سخن
  • /
  • پچیس جولائی کو ایک سیاسی لیڈر کی فاتحانہ تقریر ۔۔۔ معاذ بن محمود

پچیس جولائی کو ایک سیاسی لیڈر کی فاتحانہ تقریر ۔۔۔ معاذ بن محمود

(بیک گراؤنڈ میں گانا “میں نی بولدی او لوگوں میں نی بولدی میرے وچ میرا یار بول دا”)۔ 

میرے عزیز ہم وطنوں!

او میرے عزیز ہم وطنوں!

او بیٹھ جاؤ۔ میں کہتا ہوں بیٹھ جاؤ۔ آپ۔۔ جی جی آپ۔۔ محترمہ آپ یہاں بیٹھیں، میرے پاس۔ مجھے  پائے بہت پسند ہیں۔ 

ہاں تو میرے عزیز ہم وطنوں!

کیوں؟ کیسا دیا؟ مزا آیا؟ کہا تھا انہیں رلاؤں گا۔ کیسا دیا پھر؟ ہیں؟ پر میں نے تو انہیں رلایا تھا، او تم لوگوں کے آنسو کیوں نکل رہے ہیں؟ اؤئے گدھوں، تم دیکھتے نہیں آج انصاف کا بول بالا ہے؟ کل چھبیس جولائی کا سورج نئی کرنیں لے کر طلوع ہوگا جو تمہاری پرانی بوتھیوں پر برسے گا۔ دیکھو کہ ملک آزاد ہے۔ میں آزاد ہوں۔ پا غفورا آزاد ہے۔ بابا رحمتاں آزاد ہے۔ محکمہ زراعت آزاد ہے۔ راؤ انوار آزاد ہے۔ شیخ رشید آزاد ہے۔ دیکھو۔ یہ ہوتی ہے آزادی۔ مکمل آزادی۔ بھلا دلا سکتا تھا کوئی اور تمہیں تمہاری سوچ اور شعور سے آزادی؟ او تم سمجھتے کیوں نہیں۔ 

میرے عزیز ہم وطنوں!

میں نے شیروانی تیار رکھی تھی۔ میری شیروانی میں سابقہ بیوی نے دور سے بیٹھے کتاب کے ذریعے سوراخ کر ڈالے۔ پتہ نہیں کہاں سے اس کے ہاتھ سگار کیس لگ گئے۔ اوپر سے میری بچپن کی خواہشات بھی پتہ چل گئیں۔ لیکن آپ نے پریشان نہیں ہونا۔ آپ کا کپتان کبھی جھوٹ نہیں بولے گا۔ او یو ٹرن کی بات نہ کرو۔ وہ میرا حق ہے۔ ایک آدھ ہزار جھوٹ بول بھی لئے تو کیا ہے۔ باقی سب تو لٹیرے ہیں۔ میں نے نئی شیروانی سلنے کے لیے دے دی ہے۔ شیروانی میں بارہ جیبیں اضافی سلوائی ہیں۔ کوئی پتہ نہیں کل ایک اور کتاب لکھ ڈالی جائے۔ درازوں سے نکلی اشیاء کا ذکر تو نہیں ہوگا ناں۔ جو رہے گا شیروانی میں رہے گا۔ 

میرے عزیز ہم وطنوں!

میری جیت میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ سالوں پہلے میرے آبادی و اجداد بشمول جنگ ہارے چچا نے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف جو پودا لگایا تھا الحمد للہ آج وہ ایک ایسا تناور درخت بن چکا ہے جس کے تنے آج تمام سیاستدان محسوس کرتے ہیں اور عبرت پکڑتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے اس تناور تنے کا احساس مجھے بھی ہوکر رہے گا لیکن تب تک موجیں مارنے کا حکم ہے۔ بڑے لڑکوں نے اس قدر مدد فرمائی کہ نصر من اللہ و فتح قریب۔ وہ کہتے تھے پورا پنڈ بھی مر جائے تو میراثی چوہدری نہیں بن سکتا۔ میں کہتا ہوں یہ مثال غلط ہے۔ اؤئے میں پنڈ کا گلا گھونٹ دوں گا۔ وہ بھی اپنے ہاتھوں سے۔ 

میرے عزیز ہم وطنوں!

یاد رکھو۔۔ تم لوگوں نے مجھے ووٹ دے کر مجھ پہ احسان نہیں کیا۔ یہ تو میرا وہ حق تھا جو بڑے لڑکوں نے مجھے دلایا تاکہ میں ان کے کام آ سکوں۔ او میرے ہم وطنوں، تمہیں کیا معلوم بڑے لڑکے اپنا کام پورا کرنے کے بعد جو ٹافیاں دیتے ہیں وہ کتنے مزے کی ہوتی ہیں۔ پوچھو کبھی نواز شریف سے۔ نواز شریف جب سے اپنی پکوائی سری پائے اور نہاریاں کھانا شروع ہوا اسے یہ ٹافیاں بری لگنے لگی ہیں۔ اس نے بڑے لڑکوں کی ٹافیاں لوٹی ہیں۔ چور ہے چور۔ سارا ٹبر چور ہے۔ میرے عزیز ہم وطنوں، ان کی آفشور کمپنیاں تھیں۔ پورے خاندان کی آفشور کمپنیاں۔ او میری بھی تھیں پر مجھ پہ جچتی ہیں۔ ان پہ نہیں۔ لٹیرے ہیں یہ۔ سارا ملک کھا گئے ہیں۔ سارا پیسہ جنگلا بس میں لگا ڈالا۔ کوئی دانش سکول نہیں بنایا۔ جھوٹ بولتے ہیں۔ سنا ہے آج دانش سکول کا کوئی بچہ بورڈ میں پوزیشن لے گیا ہے۔ بکواس ہے میرے ہم وطنوں۔ نظروں کا دھوکہ ہاتھ کی صفائی ہے۔ 

اصل انقلاب تو اب آیا میرے عزیز ہم وطنوں۔ اب میں ہر شہر میں بی آر ٹی بنواؤں گا اور شہر کے شہر اکھڑواؤں گا۔ بڑے لڑکے میرے ساتھ ہیں میں دیکھتا ہوں بیانیہ کیا اکھاڑ سکتا ہے۔ میرے عزیز ہم وطنوں، تیار ہوجاؤ۔ میں پندرہ عرب درخت بھی لگواؤں گا۔ باآسانی مل جائیں گی کسی بھی خلیجی ریاست سے۔ میں سترہ سو پچیس ڈیم (damn fool) بھی چلاؤں گا کیونکہ پارٹی میں بہت پڑے ہیں کہیں تو لگانے ہیں۔ 

میرے عزیز ہم وطنوں!

ایسا ہے کہ اب ہمیں نیند آرہی ہے۔ دوا دارو کا بندوبست بھی کرنا ہے ورنہ سوتے میں دانت بھینچنے سے منہ میں زخم ہوجاتے ہیں اور پھر کوئی منہ نہیں لگاتا۔ بندہ سو رہا ہوتا ہے بعد میں بیوی کتاب لکھ ڈالتی ہے۔

خیر میرے عزیز ہم وطنوں! اگلے چند سال میں آپ کو بال سمجھ کر کرکٹ کھیلوں گا۔ میرا ساتھ دو گے ناں میرے عزیز ہم وطنوں؟ 

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *