انتخابات میں مذہبی جماعتوں کا ہجوم۔۔۔۔ ناصر علی

اگرچہ 2018ء کے انتخابات میں بہت سی چیزیں خاص ہیں، تاہم ان انتخابات کی ایک خاص بات مذہبی جماعتوں اور امیدواروں کی ایک کثیر تعداد کا انتخابی عمل کا حصہ بننا ہے۔ مذہبی شخصیات کا سیاسی دھارے میں آنا جہاں فائدہ مند ہے، وہاں اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ مذہبی تنظیمیں اور افراد جو پہلے انتخابی عمل سے عموماً دور رہتے تھے یا کسی بڑی جماعت کے ساتھ مل کر انتخاب لڑتے تھے، اب تنظیمی بنیادوں پر اس جمہوری عمل کا حصہ بن رہے ہیں۔ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں ان تنظیموں اور افراد کو اپنی بات منوانے کے لئے مظاہروں کی سیاست کے ساتھ ساتھ ایوان ہائے بالا تک بھی رسائی حاصل ہوگی اور وہ وہاں پر بھی اپنے ووٹر کے حقوق نیز اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے آواز بلند کرسکیں گے۔ مذہبی جماعتوں کے نمائندے اکثر متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جو ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس عوام سے بہت قریب ہوتے ہیں۔ امکان ہے کہ اپنے دینی پس منظر اور متوسط طبقے سے ہونے کے سبب یہ لوگ عوام کے مسائل کو حل کروانے پر زیادہ توجہ مبذول رکھیں گے۔ مذہبی امیدوار پاکستان کی نظریاتی بنیادوں سے بھی نسبتاً زیادہ وابستہ ہوتے ہیں، جس کے سبب یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ یہ قانون ساز اداروں میں جا کر ان بنیادوں کی حفاظت کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی مذہبی تنظیمیں عرصہ دراز سے کوشاں تھیں کہ وہ ملکی سیاست میں فعال کردار ادا کریں، تاہم وہ ایسے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کر پاتی تھیں، جن سے وہ ایک فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں۔ ان کا کردار ہمیشہ اتحادی کا رہا۔ پرویز مشرف کے دور اقتدار میں متحدہ مجلس عمل جو کہ مذہبی تنظیموں کا ایک اتحاد ہے، کو پارلیمان میں ایک بڑی اکثریت ملی، حتی کہ خیبر پختونخوا میں مذہبی جماعتوں نے حکومت بھی قائم کی۔ 2013ء کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کا اتحاد قائم نہ رہ سکا اور اس میں شامل جماعتوں نے گذشتہ کی مانند انفرادی سطح پر انتخاب لڑا، جس میں وہ خاطر خواہ نتائج نہ حاصل کرسکیں۔ اس مرتبہ پھر متحدہ مجلس عمل ایک پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ متحدہ مجلس عمل کے علاوہ پاکستانی سیاست میں متعدد مذہبی گروہ پہلی مرتبہ قسمت آزمائی کر رہے ہیں، جن میں بعض کالعدم مذہبی جماعتوں کے سیاسی ونگ بھی شامل ہیں۔ یہ انتخابی گروہ اپنی مرکزی سیاسی جماعت سے مختلف، نئے نام کے ساتھ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ بعض فرقہ پرست امیدوار جو کئی ایک مقدمات میں مطلوب بھی ہیں، کو بھی انتخابات لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔
ان نئی اور پرانی مذہبی جماعتوں میں متحدہ مجلس عمل کے علاوہ پاکستان راہ حق پارٹی، اللہ اکبر تحریک، تحریک لبیک پاکستان، سنی اتحاد کونسل، جمعیت علمائے پاکستان نورانی، جمعیت علمائے اسلام نظریاتی، پاکستان سنی تحریک اور دیگر قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح کچھ مذہبی شخصیات آزاد امیدوار کی حیثیت سے بھی انتخابات میں شریک ہیں اور ان میں سے بعض کے جیتنے کے امکانات بھی ہیں۔ مذکورہ بالا جماعتوں نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے لئے امیدواروں کی ایک بڑی تعداد کو میدان میں اتارا ہے۔ ان میں سے کتنے امیدوار ایوان ہائے اقتدار تک پہنچ پاتے ہیں، اس بارے میں کچھ حتمی رائے دینا تو قبل از وقت ہے، تاہم ان جماعتوں کے انتخابی عمل میں شرکت سے دیگر سیاسی جماعتوں اور ملکی سیاست پر بہت سے اثرات مرتب ہوں گے۔ درج بالا میں سے بعض تنظیمیں پنجاب میں موثر ہیں تو بعض سندھ میں ووٹر بینک رکھتی ہیں، بعض کا بلوچستان میں ووٹر ہے تو کچھ خیبر پختونخوا میں تاثیرگزار ہیں۔
کچھ نئی مذہبی جماعتوں کے اس بڑے پیمانے پر انتخابی عمل میں شریک ہونے نے کئی ایک سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ پانامہ کے مقدمے کے بعد مسلم لیگ نون کی پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں میں ساکھ کو پہنچنے والے نقصان، پی پی پی کی پنجاب میں بگڑی ہوئی صورتحال، تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں طاقت پر اثر انداز ہونے کے تناظر میں کیا ان مذہبی جماعتوں کا انتخابی عمل میں شریک ہونا محض اتفاقی ہے؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے امیدوار کی انتخابی کمپین کو چلانے کے لئے درکار سرمایہ کہاں سے آرہا ہے؟ اگر مذہبی تنظیموں کے امیدواروں کی ایک بڑی تعداد قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پہنچ جاتی ہے تو یہ ان ایوانوں میں کیا کردار ادا کرے گی۔؟ کیا کالعدم اور تکفیر کی قائل تنظیموں کے امیدواروں کا قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ورود پاکستان میں فرقہ وارانہ مسائل کو مزید پیچیدہ تر نہیں کر دے گا۔؟ یہ وہ سوالات ہیں، جن کا جواب ہر پاکستانی مانگ رہا ہے، امید یہی کی جاتی ہے کہ جس نے بھی اس سارے منظر نامے کو تشکیل دیا ہے، وہ بعد میں اسے سنبھالنے کی بھی اہلیت رکھتا ہو۔

بعض افراد کا کہنا ہے کہ شاید یہ تنظیمیں مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے ووٹ بینک پر اثر انداز ہوں گی، میری نظر میں یہ آدھا سچ ہے۔ میرے خیال میں یہ مذہبی اور آزاد امیدوار پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف نیز متحدہ مجلس عمل کے ووٹ بینک پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ مسلم لیگ، پیپلزپارٹی کا وہ ووٹر جو اپنی جماعتوں کی گذشتہ حکومتوں کی کارکردگی سے مایوس ہوچکا تھا، کے سامنے اب تحریک انصاف اور ایم ایم اے کے علاوہ دیگر جماعتوں کا آپشن بھی موجود ہے۔ لہذا کسی ایک پارٹی کا ملک کے کسی بھی صوبے میں اکثریت حاصل کرنا ممکن نہیں لگتا۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں کوئی بھی جماعت اس قابل نہیں ہوگی کہ بڑی اکثریت حاصل کرسکے۔ پس حکومت سازی کے لئے اتحادوں کی تشکیل ایک لازمی امر ہے۔ اس دھنا دھن کے اندر فرقہ وارانہ مسلکی امیدواروں کا قومی و صوبائی اسمبلی میں آجانا ملک میں عجیب و غریب بے چینیوں کو جنم دے گا۔ مذہبی جماعتوں کے انتخابی عمل میں اس پیمانے پر شرکت کے پیچھے بیرونی ہاتھ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

بشکریہ اسلام ٹائمز
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply