چارو مجمدار __جو مر کر بھی نہ مرا !!

”نکسل باڑی نہ مرا ہے اور نہ ہی کوئی اسے مار سکے گا“
اپنی شہادت سے کچھ دیر پہلے نکلے کامریڈ چارو مجمدار کے یہ وہ الفاظ تھے جو تاریخ میں امر ہوگئے۔24 نومبر2011میں کامریڈ کشن جی کی شہادت ہو یا 16جولائی1972 میں بوڑھے نحیف کامریڈ چارو مجمدار کی تاریخ نے ثابت کیا کہ ترمیم پسندوں نے ہمیشہ انقلابی جدوجہد میں سرمایہ داروں کی حمایت کی اور غداری دکھائی۔ انقلاب کے لیے مسلح جدوجہد ایک کٹھن مرحلہ ہے مگر جب ظلم بے تحاشا ہوجائے تو مزدوروں اور کسانوں کو مجبوراً یہ ہتھیار، یہ بھالے نیزے، درانتیاں، ہتھوڑے، بیلچے، تیر کمان اٹھانے پڑتے ہیں۔میں کامریڈ چارو مجمدار پہ کچھ لکھنا چاہتا تھا مگر اس قدر عظیم انسان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اس خاکسار کے پاس الفاظ نہیں تھے، آج ہمت باندھ کے کچھ لکھنے کے لیے بیٹھا ہوں مگر شاید یہ الفاظ کامریڈ کی عظمت اور بڑائی کی درست انداز میں ترجمانی نہ کرسکیں۔لیکن خیر، چارو مجمدار یا چارو موزمدار ایک عظیم انقلابی مارکسسٹ لینن اسٹ لیڈر تھے، ماو ازم کے فلسفہِ گوریلا جنگ پہ پختہ یقین تھا۔ 1918 کو مغربی بنگال کے ایک پسماندہ ضلع سلیگری میں ولادت ہوئی، والد صاحب ردِ سامراج تحریک کے پرزورحامی تھے اور انہوں نے عملی جدوجہد بھی کی۔ کامریڈ چارو مجمدار نے سیاسی جدوجہد کا آغاز کانگریس میں شمولیت سے کیا، اوربیڑی بنانے والے مزدوروں کو آرگنائز کرنے اور ان کو ایک ٹریڈ یونین کی شکل میں متحد کرنے کی سعی کی جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے اور ایک ٹریڈ یونین کو تشکیل دیا جس نے مزدوروں کے حقوق کے حصول کے لیے ہڑتال کی اور سرمایہ داروں اور سرکار کو اپنی اجرت بڑھانے پہ مجبور کردیا مگر پھر کانگریس چھوڑدی اور سلیگری کے چائے کے کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے ساتھ مل کر آزادانہ طور پر کسی بھی پارٹی کا رکن ہوئے بغیر جاگیرداروں اور سامراجی کمپینوں کے خلاف جدوجہد شروع کردی۔ اس دران کمیونسٹ پارٹی بھی مزدوروں کسانوں کے حقوق کی آواز اٹھانے میں صف اول کی جماعت بن چکی تھی. ان کی زرعی مزدوروں میں بے پناہ مقبولیت اور زبردست کام کو پارٹی نے خوب گہرائی سے جانچا اور پھر انکی کاوشوں کو دیکھتے ہوئے ۱۹۴۲ میں ان کو کیمونسٹ پارٹی کی ضلعی کیمٹی کا رکن بنا دیا گیا, عدم تشدد کے فضول نظریے اور سامراج نوازی کی پالیسی کی وجہ سے کانگریس کو چھوڑا تھا اور پھر ساری عمر کانگریس کے اسی رویہ کو جو کہ اس کے منشور کا حصہ تھا تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ ان کا عمل اور قول اس بات کا مکمل امین تھا کہ سامراج کا بنا تشدد کے نوآبادیات سے نکلنا ناممکن ہے، سامراج کو زبردستی لاتیں مار کر اپنے وطن سے نکالا جاتا ہے، ورنہ وہ اپنے گماشتوں کو تیسری دنیا پر بیٹھا دے گا۔
اور پھر وہی ہوا جس کا ان کو خطرہ تھا، سامراج نے اپنے جانے کے بعد اپنے گماشتے برصغیر پہ مسلط کردیے۔۱۹۴۲ ہی میں کیمونسٹ پارٹی پہ جنگ عظیم دوم کی وجہ سے پابندی لگ گئی اور کامریڈ چارو کے گرفتاری کے احکامات جاری ہوگئے، ۱۹۴۳ میں عظیم قحط پڑا تو کامریڈ نے برٹش سرکار کی غلہ پر غاصبانہ قبضے کے خلاف تحریک چلائی اور دارجلنگ میں کھیت مزدوروں کو متحد کیا، جاگیرداروں اور پٹے داروں کے خلاف تبھیگا تحریک چلائی اور یہ ان کی زندگی کا پہلا مسلح انقلابی طریقہ کار سے واسطہ تھا, انہوں نے اپنے دوسرے تاریخی دستاویز میں لکھا کہ ایک نوبیاہتا مسلمان جوڑا جو سلیگری میں ہی رہتا تھا، اس مسلمان خاتون کے ساتھ جاگیردار نے زیادتی کی اور اس کا غیر مسلح شوہر جاگیردار کے گرگوں کے ہاتھوں ظلم سہتا سب دیکھتا رہا، یہاں تک کہ اس دوران خاتون کی موت واقع ہوگئی، یہ واقعہ جنگل کی آگ کی طرح پوری ریاست میں پھیل گیا اور چاقو اور زرعی آلات سے مسلح مزدورں نے جاگیرداروں کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا اور نظام شاہی حکومت درہم برہم ہوگئی۔
۱۹۴۸ میں کیمونسٹ پارٹی پہ پابندی لگ گئی اور تین سال کے لیے سامراجی ایجنٹوں نے کامریڈ چارو کو جیل میں بند کردیا، مگر کامریڈ نے وہاں بھی انقلابی کام جاری رکھا۔ کیمونسٹ پارٹی کے ترمیم پسندی پہ مبنی رجحان کو دیکھتے ہوئے کامریڈ چارو نے کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ میں بائیں بازو کا ایک گروہ تشکیل دیا، اور ۱۹۶۷ میں نکسل باڑی کی مسلح تحریک کا آغآز ہوا، جس کی قیادت کامریڈ جنگل سنتھل اور کانو سانیال کر رہے تھے اور اس کی نظریاتی بنیادیں کامریڈ چارو مجمدار کے آٹھ تاریخی دستاویزات نے مہیا کی۔وہ چینی طریقِ انقلاب کے پرزور حامی تھے اور مسلح جدوجہد کو انقلاب کا سب سے موثر اور جلدی برپا کیا جانے والا راستہ سمجھتے تھے، سی پی آئی ایم کی غداری اور زبردست ریاستی قتل عام کی وجہ سے نکسل باڑی کو کچل دیا گیا، مگر چارو کی جدوجہد جاری تھی۔چارو مجمدار ایک سچا، پرجوش انقلابی تھا۔جس کی زندگی کا مقصد فقط انقلاب تھا۔۱۹۶۹ میں کل ہند کمیٹی برائے کمیونسٹ انقلابیان تشکیل دی گئی، جس کا انجام کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ لینن اسٹ کی شکل میں نظر آیا۔ کامریڈ چارو کو اس کا پہلا جنرل سکریٹری تعینات کیا گیا۔۱۶ جولائی ۱۹۷۲ کو ہندوستان کا سب سے مطلوب آدمی کلکتہ میں کچی آبادی کے جھونپڑے سے جو پولیس کے بقول ان کا خفیہ ٹھکانے تھا، سے گرفتار کیا گیا اور ۲۸ جولائی ۱۹۷۲ کو عظیم انقلابی کی شہادت ہوئی، پولیس نے طبعی موت ظاہر کی اور چند گنے چنے لوگوں کو تدفین میں شامل ہونے دیا گیا، مگر زیادہ مستند ذرائع یہ آشکار کرتے ہیں کہ شہادت بے پناہ تشدد سہنے کی وجہ سے ہوئی۔۵۴ سال کا بوڑھا مزدور دوست شخص اور اتنا تشدد،۔۔۔۔آگے قلم کچھ لکھنے سے قاصر ہے, پھر کبھی….

ہمایوں احتشام
ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *