متحدہ ہندوستان کی آخری امید ۔۔۔ بوس (تیسرا حصہ)

سبھاش چندر بوس کی "رئیل پولیٹیکس" نے انہیں بلاشبہ ہندوستان کے صف اول کے رہنماؤں میں لا کھڑا کیا تھا اور کانگریس کے اندر دائیں بازو کے حلقوں میں تشویش بڑھتی جا رہی تھی۔ کانگریس کے ارکان خصوصاً نوجوان کارکنوں میں بوس کی مقبولیت بڑھنے لگی اور گاندھی جی کے انگریزوں کے خلاف منافقانہ اقدامات کا پول کھلنے لگا۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ تحریک خلافت سے اس وقت تک گاندھی جی نے انگریزوں کے خلاف کوئی کامیاب تحریک نہیں چلائی تھی۔ ہر تحریک جب اپنی منزل کے قریب پہنچتی تو نامعلوم وجوہات کی بنا پر گاندھی جی اسے روک لیتے تھے۔ کانگریس کے اندر گاندھی جی سے اختلاف رکھنے والے گروپ نے 1938 کے اتنخابات میں سبھاش چند بوس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا اور مہاتما گاندھی کی بھرپور مخالفت کے باوجود وہ کانگریس کے صدر منتخب ہوگئے۔

صدر منتخب ہونے کے بعد بوس نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئےہندوستانی معیشت کو سوشلسٹ بنیادوں پر مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے زراعت اور صنعت میں بہتری کے لیے سوویت یونین سے بھی رابطہ استوار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان جلد آزاد کرا لیا جائے گا اور ایک آزاد ملک کی معیشت مضبوط رکھنے کے لیے ابھی سے زراعت اور صنعت کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کیا جانا ضروری ہے۔دوسری جانب بوس کے ان اقدامات کو ملک کا جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔ یہی طبقہ کانگریس کے دائیں بازو کے رہنماؤں کی پشت پر موجود تھا اور اسی طبقے کے انگریز سرکار سے اچھے تعلقات تھے۔سوویت یونین سے رابطے پر انگریز سامراج بھی بوس کو مشکوک سمجھ رہا تھا۔ اسی دوران سبھاش جی نے جرمنی سے بھی رابطہ کر لیا۔ جرمن آمر اڈولف ہٹلرنے اپنی کتاب میں ہندوستانیوں کی تضحیک کی تھی۔ دسمبر 1938 میں بوس نے جرمن نازی پارٹی کے دو نمائندوں سے ملاقات میں یہ مسئلہ اٹھایا اور ان سے کہا کہ اگر جرمن ہندوستانیوں کی تضحیک کرنے کی بجائے ان کی مدد کریں تو ہندوستان آزاد ہو سکتا ہے اور ایک آزاد ہندوستان جرمنی کا دوست ثابت ہوگا۔ تاہم یہ ملاقات زیادہ سودمند ثابت نہ ہوئی کیونکہ جرمنوں کو بوس کے سوشلسٹ نظریات پسند نہ تھے۔

گاندھی کے ساتھ بوس کے اختلافات کئی برس سے چلے آرہے تھے۔ گاندھی بظاہر تمام مذاہب کے لیے یکساں رویہ رکھنے کے دعویدار تھے لیکن نہایت خاموشی کے ساتھ وہ کانگریس کو ایک ہندو جماعت بنانے کی راہ پر چل رہے تھے۔ یہ رویہ بوس اور دیگر کئی لوگوں کے لیے تکلیف دہ تھا جو کانگریس ہی نہیں، پورے ہندوستان کی حقیقی سیکولر شناخت قائم رکھنا چاہتے تھے۔ 1934 میں گاندھی جی نے کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کے سامنے دو تجاویز پیش کیں۔ ایک یہ کہ اس کے نمائندوں کی تعداد کم کر دی جائے (شاید اس لیے کہ کم نمائندوں کو گاندھی بہتر طریقے سے کنٹرول کر سکتے تھے) اور دوسری یہ کہ ہر وہ شخص جو کانگریس کے پلیٹ فارم سے سیاست میں حصہ لینا چاہتا ہو، اس کے لیے شمولیت کے ابتدائی چھ ماہ کھدر کے کپڑے پہننا لازم ہوگا (یعنی ہر کانگریسی پہلے گاندھی جی کا پیروکار بنے اور بعد میں سیاست کرے)۔ حسب توقع کانگریس کمیٹی نے ان تجاویز کی مخالفت کی تو گاندھی نے بھی حسب معمول کانگریس سے مستعفی ہونے اور "مرن برت" رکھ لینے کی دھمکی دے ڈالی۔ سبھاش چندر بوس نے جو اس وقت یورپ میں تھے، گاندھی کی ان تجاویز کی بھرپور مخالفت کی اور کہا کہ عوامی جمہوری نظریات کانگریس کے ہر رکن کے دل پر تحریر ہیں، بلکہ ہر ہندوستانی کے دل پر رقم ہیں۔ اس طرح کے نمائشی اقدامات سے آزادی کی کوئی خدمت نہیں ہو سکتی۔

کانگریس کا صدر منتخب ہونے کے بعد بوس نے آزادی کے لیے حقیقی اور عملی اقدامات کا آغاز کیا تو گاندھی کے لیے صورتحال مشکل سے مشکل تر ہونے لگی۔ جب بوس اور نازی پارٹی کے نمائندوں کے درمیان ملاقات کی خبر گاندھی کو ملی تو انہیں پرانا قرض چکانے کا موقع ہاتھ آگیا۔ انہوں نے اس ملاقات کی شدید مخالفت اور مذمت کی اور بوس کے نظریات کو پرتشدد قرار دیا۔ دنیا کے ہر زیرک شخص کے مانند بوس کو اندازہ تھا کہ جرمنی بہت جلد جنگ کا آغاز کرے گااور اس جنگ کے دوران ہندوستان کو آزاد کرانے کا سنہری موقع ملے گا لیکن گاندھی ایسے کسی نازک موقعے پر انگریزوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے پر راضی نہیں تھے۔ بوس کا دور صدارت پارٹی کی اندرونی مخالفت کے خلاف لڑنے ہی میں گزرا۔ گاندھی نے کانگریس کے اندر بوس کے خلاف محاذ گرم کیے رکھا یہاں تک کہ 1939 کے سالانہ اجلاس میں جو تریپورہ میں ہوا، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے زیادہ تر ارکان نے (جن کی تعداد کم کرواکر گاندھی ان پر اپنا اثرورسوخ قائم کرچکے تھے) بوس کی مخالفت کردی۔ گاندھی جی نے کانگریس کی صدارت کے لیے جواہر لال نہرو کو راضی کرنا چاہا لیکن نہرو نے انکار کر دیا اور کہا کہ ابوالکلام آزاد کو صدارتی امیدوار بنا دیا جائے۔ آزاد کی نامزدگی کا اعلان ہوگیا لیکن پارٹی کے اندر بوس کے انقلابی کارکنوں کا جذبہ دیکھ کر آزاد نے اپنا نام واپس لے لیا۔ چنانچہ گاندھی نے آندھرا سے تعلق رکھنے والے اپنے باوفا ساتھی ڈاکٹر پتابھی سترامیا کو صدارتی امیدوار نامزد کردیا اور بوس کو تجویز دی کہ وہ انتخاب سے دستبردار ہوکر سترامیا کو بلامقابہ منتخب کرائیں۔ بوس نے اس تجویز کو رد کردیا تو پورے ہندوستان کی رہنمائی کے دعویدار گاندھی جی نے اس صدارتی انتخاب کے لیے پارٹی کے اندر بنگالی امیدوار بمقابلہ ساؤتھ انڈین امیدوار کا ڈراما بھی رچایا اور کانگریس کے جنوبی ہند سے تعلق رکھنے والے ارکان کی ہمدردیاں حاصل کیں۔ البتہ بعض جگہوں پر اس کا نتیجہ خود گاندھی کے خلاف سامنے آیا اور باشعور لوگوں نے علاقائی سیاست کے نعرے کو مسترد کردیا۔ ان دنوں سبھاش چندر بوس شدید علیل تھے، اس لیے انہیں سٹریچر پر ڈال کر ووٹ ڈالنے کے لیے لایا گیا۔ 29 جنوری 1939 کو انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا گیا تو سبھاش چندر بوس 1580 ووٹ لے کر صدر منتخب ہوگئے۔ ان کے مقابلے میں گاندھی کے امیدوار سترامیا کو 1377 ووٹ ملے۔

اس شکست کو گاندھی جی نے ٹھنڈے پیٹوں قبول نہ کیا اور بوس کی مخالفت کرتے ہوئے ایک بار پھر مستعفی ہونے کی دھمکی دے ڈالی۔ انہوں نے سترامیا کی شکست کو اپنی شکست قرار دیا اور کانگریس کے ارکان سے جذباتی خطاب بھی کیے۔ دوسری جانب کانگریس کمیٹی کے ارکان بھی گاندھی کے اشارے پر بوس کی ہر تجویز اور ہر اقدام کو رد کرتے چلے آرہے تھے۔ عملی طور پر بوس کے لیے کانگریس کو چلانا ناممکن بنا دیا گیا تو بوس نے گاندھی جی سے ملاقات کی اور ان کی ناراضی کی وجہ دریافت کی۔ اس موقع پر گاندھی جی نےناراض ساس کا رویہ اپناتے ہوئے بوس سے سیدھے منہ بات بھی نہ کی اور صرف یہ کہا کہ بوس کانگریس چلائیں، میں سیاست سے الگ ہو رہا ہوں۔ اس ملاقات میں جواہر لال نہرو بھی موجود تھے، تاہم انہوں نے گاندھی جی کی وجہ سے بوس کا ساتھ نہ دیا اور بوس ناکام واپس چلے آئے۔

نہرو کی جانب سے اپنا وزن گاندھی کے پلڑے میں ڈالنے کے بعد بوس کانگریس میں اکیلے رہ گئے۔ اگرچہ وہ کانگریس کے منتخب صدر تھے تاہم عملی طور پر ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں تھی۔ اس پر دلبرداشتہ ہوکر بوس نے پارٹی کی صدارت سے استعفیٰ دیتے ہوئے کانگریس سے علیحدگی اختیار کر لی اور 22 جون 1939 کو"آل انڈیا فارورڈ بلاک" کے نام سے ایک نئی جماعت قائم کی۔ اس فارورڈ بلاک کے قیام کا مقصد ہندوستان میں بائیں بازو کے نظریات اور سیاست کا فروغ تھا۔ انہوں نے اس نئے پلیٹ فارم سے عوامی اجتماعات سے خطاب بھی کیا اور "فارورڈ بلاک" کے نام سے اپنا اخبار بھی شروع کیا۔ اس دوران دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوچکا تھا اور حسب سابق انگریزوں کو ہندوستانی فوجیوں کی ضرورت تھی۔ بوس نے کوشش کی کہ اس موقعے پر ترکی کے کمال اتا ترک کی مانند ہندوستان کی آزادی کے لیے عملی کاوش کی جائے لیکن گاندھی ، نہرو اور کانگریس نے اس پر بھی ان کا ساتھ نہ دیا۔ گاندھی کی رائے تھی کہ جنگ کا نتیجہ کسی بھی فریق کی جیت یا ہار کی صورت میں نکلے، یورپ کمزور ہوگا تو آزادی خود بخود مل جائے گی، لہٰذا کسی قسم کے خون خرابے کی ضرورت نہیں۔ بوس کا کہنا تھا کہ ہمارے جتنے فوجی جوان انگریزوں کی جنگ کا ایندھن بنائے جائیں گے، آزادی کی جدوجہد میں اس سے کہیں کم خون خرابہ ہوگا۔ تاہم کانگریس نے انگریزوں کے ساتھ تعاون کی پرانی روش قائم رکھنے کا فیصلہ ہی کیا۔ بوس کا مطالبہ تھا کہ ہندوستانی فوجیوں کی بھرتی اور جنگ میں شرکت کا اختیار ہندوستانیوں کو دیا جائے۔ ان کی سرگرمیوں سے خائف ہو کر انگریز سرکار نے بوس کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا۔ جیل میں بوس نے جدوجہد آزادی کے لیے ایک نیا منصوبہ تشکیل دیا اور انگریزوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے بھوک ہڑتال شروع کردی جس پر انگریز سرکار نے انہیں جیل سے رہا کر کے ان کے گھر میں نظربند کردیا ۔
(جاری ہے)

ژاں سارتر
ژاں سارتر
کسی بھی شخص کے کہے یا لکھے گئے الفاظ ہی اس کا اصل تعارف ہوتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *