جنس، جرائم اور تکرار: ڈاکٹر اختر علی سید

عمران خان نے جنسی جرائم میں اضافے کے رجحان پر تبصرہ فرماتے ہوئے خواتین کے لباس (یا بے لباسی) کو اس میں اضافے کا ایک اہم سبب قرار دیا۔ اس کے بعد ملک کے مناظرہ باز ماحول کو گفتگو کا ایک نیا موضوع مل گیا۔ عمران خان نے یہ بیان کسی ملکی ٹی وی چینل، اپنی کابینہ یا ان واقعات کا سدباب کرنے والی کسی کمیٹی کو نہیں دیا بلکہ ایک بین الاقوامی ویب سائٹ کو دیا جس کی منطق اس طالب علم پر تاحال آشکار نہیں ہوئی۔ اس بیان پر خواتین و حضرات کی برہمی سمجھ میں آتی ہے کیونکہ ان کے خیال میں اس استدلال سے مجرم اپنے جرم سے بری الذمہ ہو جاتا ہے اور ملبہ جرم کا شکار ہونے والی خاتون پر ڈال دیا جاتا ہے۔ عمران خان کا یہ استدلال نیا نہیں ہے۔ مذہبی اخلاقیات سے روگردانی کو ہماری مشکلات کا سبب سمجھنے والے لوگ برسوں سے اس طرح کا استدلال کرتے چلے آرہے ہیں۔ ذرا کوشش کی جائے تو عمران خان کے بیان کی ایک ممکنہ توجیہ بہرحال ممکن ہے۔ ان کی بات سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر معاشرے میں فحاشی (یہ وہ لفظ ہے جو عمران خان نے استعمال نہیں کیا مگر ان کی بات سے متفق دیگر حضرات نے استعمال کیا ہے) کا چلن عام ہو تو جنسی جذبات کا مشتعل ہو جانا یا رہنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہوگی۔ جذبات میں اشتعال ایسے معاشرے میں جہاں جنسی تسکین کے مواقع محدود ہوں یا بالکل میسر نہ ہوں جرائم کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ کوئی بہت بعید از قیاس اور ناقابل فہم توجیہ نہیں ہے اور یہ توجیہ عمران خان اور ان کے حامیوں کی جانب سے نہیں دی گئی یا کم از کم مجھ تک نہیں پہنچی۔۔۔ مگر  اس پر بھی کئی سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ جب ہم پاکستان میں رپورٹ ہونے والے جنسی نوعیت کے واقعات کی وجوہات پر گفتگو کرتے ہیں تو ہم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہم جنسی جرائم کی بات کر رہے ہیں یا جنسی انحرافات   deviations کی۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ ان دونوں میں ایک بنیادی مگر بہت بڑا فرق ہے۔ جنسی جرائم میں جنسی عمل ایک فریق کی مرضی کے بغیر (بالجبر) اس پر مسلط کیا جاتا ہے۔ انگریزی زبان میں کانسینٹ consent کا لفظ اس فرق کو بیان کرتا ہے۔ نفسیات کے ایک طالب علم کے طور پر میں یہ جانتا ہوں کہ سوفیصد کانسینٹ کا تعین ایک اہم مسئلہ ہے۔ تاہم قانون یہ کہتا ہے کہ اگر ایک فریق یہ کہے کہ اس کی مرضی جنسی عمل میں شامل نہیں تھی تو اس فرد کی بات کو سننا چاہیے۔ جنسی انحرافات سے مراد جنسی عمل کی انجام دہی کے ایسے طریقے ہیں جو مستعمل طریقوں سے مختلف ہوں۔ ہمارے معاشرے میں ہم جنس پرستی کی خواہ فریقین کی باہمی رضامندی سے ہو یا اس کے بغیر دونوں ہی قسموں کو جنسی انحرافات کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے اور یکساں طور پر غلط اور لائق سزا سمجھا جاتا ہے۔
اگر عمران خان کے بیان کی وہ ممکنہ توجیہ جو ہم نے آپ کے سامنے رکھی ہے مان لی جائے تو اس دور میں مردوں کے جنسی جذبات کی برانگیختگی کے عورت کی بے لباسی کے علاوہ اور بھی کئی ذرائع موجود ہیں۔ آج ہر ہاتھ میں سمارٹ فون موجود ہے جس پر دنیا کی ہر پورن سائٹ دیکھی جا سکتی ہے۔ ان سائٹس پر پابندی کی ہر حکومتی کوشش کو سکول جانے والا بچہ بھی پھلانگ سکتا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا ہو جس نے یہ ویب سائٹ نہ دیکھی ہوں۔
ایک اور بات جو اس ذیل میں اہم ہے اور جس کے بارے میں پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے کہ استدلال اور تفہیم کا ہر وہ طریقہ جو صنفی امتیاز پر کھڑا ہو وہ بالآخر مسائل کا شکار ہوکر رہتا ہے۔ گو یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جرائم چونکہ مردوں کی جانب سے کئے جا رہے ہیں اس لیے اس بات کو بھی مردوں کے حوالے سے ہی دیکھا جانا چاہیے۔ اور یہ بات درست بھی ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ بےلباسی والے معاملے اور اس سے پیدا ہونے والے جنسی اشتعال کو بھی پاکستان کے مخصوص سماجی حالات کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے اور ان واقعات کا موازنہ مغربی معاشروں سے اس لئے نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ وہ معاشرے اور ان کی اخلاقی اقدار ہم سے مختلف ہیں۔ان سب باتوں کی وقعت اپنی جگہ پر۔۔۔۔ واپس چلئے صنفی امتیازات Gender differences کی بنیاد پر دیے گئے استدلال کی جانب۔ اگر مرد کے جنسی جرائم کی بنیاد عورت کی بے لباسی (یافحاشی) ہے تو پھر آپ پر لازم ہوگا کہ آپ عورت کی بے لباسی کی وجوہات بھی جاننے کی کوشش کریں۔ اگر مرد روبوٹ نہیں ہے تو عورت بھی انسان ہے۔ اس کے بھی جنسی جذبات اور خواہشات ہیں جو مشتعل ہونے کی اتنی ہی صلاحیت رکھتے ہیں جتنی کہ مرد کے۔۔۔ آخر (عمران خان کے بیان کے مطابق) عورت بے لباس ہونے پر اتنی مصر کیوں ہے۔ عورت کی بے لباسی کیا بے سبب ہے؟ اس بے لباسی کا کوئی الزام مردوں کے اس معاشرے پر لگتا ہے جس طرح مردوں کے جرائم کا الزام عورت پر لگایا جا رہا ہے؟ ہو سکتا ہے عورتوں کی بے لباسی ان کی ان مشتعل جنسی خواہشات کا اظہار ہو جن کو مردوں کا یہ معاشرہ برانگیختہ کرتا ہے. عمران خان اور ان کے حامی کیا بتانا پسند کریں گے کہ پاکستانی معاشرے میں اس دور میں عورتوں کی خواہشات میں آنے والے اس ابال کا سبب کیا ہے جو اس کی بے لباسی پر منتج ہوا ہے۔
اس مباحثے کا سب سے اہم پہلو وہ خلط مبحث اور کنفیوژن ہے جس پر توجہ نہیں دی گئی۔ اگر ہم صرف جنسی جرائم پر بات کریں تو اس کے لئے مختلف جنسی جرائم (یعنی ریپ کی مختلف اقسام) کو الگ الگ کر کے دیکھنا اور سمجھنا ہو گا۔ ماہرین نے ریپ کی مختلف اقسام بیان کی ہیں۔ ان میں سے ہر قسم کے اسباب اور محرکات مختلف ہوتے ہیں۔ اگر ان کو الگ الگ کر نہ دیکھا جائے تو وہ خلط مبحث اور مغالطہ پیدا ہوتا ہے جو ہمارے ہاں جاری اس مباحثے میں موجود ہے۔ اصرار اور شدت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ یقینی طور پر پاکستان میں ہونے والا ریپ مغربی دنیا میں ہونے والے ریپ سے بہت مختلف ہے۔ اگر صرف ریپ کے واقعات کی صرف تعداد کا موازنہ کیا جائے گا تو تفہیم میں لازماً غلطی ہوگی۔ تعداد نہیں آپ کو واقعات کی نوعیت دیکھنا ہوگی۔ مغرب میں ریپ کے واقعات کی ایک بڑی تعداد کا سبب مردوں کا عورت کی کانسینٹ کو نہ سمجھ سکنا ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان واقعات میں ملوث مرد متاثرہ خواتین کے دوست، بوائے فرینڈز یا شوہر ہوتے ہیں۔ خواتین کا اپنی کانسینٹ  کے بارے میں موقف سنا اور مانا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ہر ایسے جنسی عمل کو ریپ قرار دیا جاتا ہے جس میں خاتون کی کانسینٹ شامل نہ ہو۔ ریپ کے واقعات عموماً ان جگہوں پر ہوتے ہیں جہاں ان خواتین کی آمد و رفت ان کے معمول کا حصہ ہوتی ہے۔ اور ان واقعات کی ایک بڑی تعداد نشے کی حالت میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔ اب آپ خود بتائیے کہ کیا اس طرح کے واقعات کا موازنہ ہمارے ملک میں ہونے والے ریپ کے ان واقعات سے کیا جاسکتا ہے جن میں ریپ کے بعد معصوم بچے یا بچی کو قتل کر دیا جاتا ہے؟ عرض یہ کر رہا ہوں کہ یہاں تعداد کا موازنہ نہیں چلے گا آپ کو واقعات کی نوعیت دیکھنا پڑے گی۔ اپنے ایسے طالب علموں کے لئے کہتا ہوں کہ یہاں  Quantitative analysis نہیں چلے گا بلکہ Qualitative analysis کرنا پڑے گا۔
یہاں مثال کے طور پر صرف ریپ کے واقعات کا ایک مختصر سا تجزیہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ اس کا مقصد صرف اس بات پر اصرار کرنا ہے کہ ریپ کے مختلف واقعات مختلف اسباب اور محرکات کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ گینگ ریپ کی اصطلاح ہمارے اخبارات میں عمومی طور پر استعمال ہوتی ہے جب دو یا دو سے زائد افراد کسی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنائیں تو اسے گینگ ریپ کہا جاتا ہے۔ذرا اس کی دو مختلف صورتیں دیکھیے۔۔ ایک وہ گینگ ریپ ہے جو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں اس کی مثال مختاراں مائی کے ساتھ ہونے والا واقعہ ہے۔ دوسری طرح کا گینگ ریپ وہ ہے جو بغیر کسی منصوبہ بندی کے حادثاتی طور پر وقوع پذیر ہو جاتا ہے۔ نئی دلی کی جیوتی سنگھ اور پاکستان میں موٹروے پر ہونے والے واقعے گینگ ریپ کی دوسری قسم کی مثالیں ہیں۔ ان دو مثالوں کے دینے کا سبب یہ تھا کہ ہم ان واقعات میں موجود فرق کو بآسانی جان سکیں۔ مختاراں مائی کے ساتھ ہونے والے واقعے کے محرکات میں انتقام اور طاقت کا مظاہرہ شامل تھے۔ جب کہ دوسری طرح کے واقعات میں معاشرے کے کمزور ترین طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد ملوث تھے۔شاید اسی لئے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اندرونی نظام کو زیادہ مشکلات کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا۔ گینگ ریپ کے واقعات میں فرق کرنے سے ہی ان کے محرکات میں موجود فرق کا پتہ چلے گا۔ منصوبہ بندی کے ساتھ گینگ ریپ کرنے والوں کے جذبات بھی کیا اسی طرح عورت کی بے لباسی کے سبب بے قابو ہو ئے ہوں گے جس طرح بغیر منصوبہ بندی کے گینگ ریپ کرنے والوں کے بارے میں گمان کیا جا رہا ہے؟ میں نئی دہلی میں ہونے والے واقعے پر ایک مفصل گزارش پیش کر چکا ہوں اس کو یہاں دوہرانا نہیں ہے مگر بے لباسی کی یہ دلیل نئی دہلی گینگ ریپ کے ملزمان میں سے ایک نے اپنے انٹرویو میں بھی دی تھی۔ ملزمان میں سے ایک مکیش سنگھ جیوتی کے لباس کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیتا رہا تھا۔ تاہم ہندوستان کسی بھی عدالت نے اس کی یہ دلیل نہیں سنی۔ مغرب کے نظامِ انصاف میں بھی ریپ کرنے والوں کے جذبات کو مشتعل کرنے والے عوامل کو جواز جرم نہیں سمجھا جاتا۔
جنسی جرائم کی بہیمانہ ترین شکل جو پاکستان ایسے معاشروں میں ظاہر ہوچکی ہے وہ بچے اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دینے جیسے واقعات کا تسلسل ہے۔ دنیا میں بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں۔ اکتوبر 2020 میں ایک امریکی باپ نے اپنی دس ماہ کی بیٹی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جو اس بچی کی موت کا سبب بن گیا۔ پاکستان میں بچے اور بچیوں کو ریپ کے بعد گلا دبا کر مار ڈالا جاتا ہے۔ یہ فقط اگر ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے تو موازنہ صرف تعداد کی بنیاد پر ہوگا جو محرکات تک پہنچنے میں مدد نہیں کر پائے گا۔
پروفیسر ہاورڈ باربری Howard Barbaree کینیڈا کے ایک ماہر نفسیات ہیں۔ ان کا ایک اہم کام ریپ کے محرکات کے بیان پر مشتمل ہے۔ پروفیسر باربری نے ریپ کے واقعات میں میں مجرموں کے قابو سے باہر جذبات impulsivity اور کسی خاتون کے غلط وقت پر غلط جگہ پر موجود ہونے جیسے عوامل کو اہمیت دی ہے۔ خاتون کو پہنچنے والے نقصان کا انحصار خاتون کی مزاحمت کے مطابق ہوتا ہے۔۔ زیادہ مزاحمت زیادہ نقصان کا سبب بنتی ہے۔ نئی دلی اور موٹروے والے واقعات میں اس فرق کو دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک اور درجہ بندی classification میں مجرموں کے تین بنیادی محرکات بیان کئے گئے ہیں غصہ، طاقت کا اظہار اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کی شدید اور مریضانہ خواہش۔ یہ درجہ بندی امریکی ماہر نفسیات نکولس گروتھ نے اپنی تین کتابوں میں تواتر اور تفصیل کے ساتھ بیان کی ہے۔ اسی سے ملتی جلتی ہے وجوہات کو سوسن براؤن ملر نے 1975 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں بیان کیا تھا۔ اس کتاب کا ایک خلاصہ اپنی ایک گزشتہ تحریر میں عرض کر چکا ہوں۔ اب ذرا ان تین وجوہات غصہ، طاقت کے اظہار کی بے پایاں خواہش، اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کی شدید اور مریضانہ آرزو کو سامنے رکھئے۔ ذرا دیر کے لیے اس بات کو بھی نظر انداز کیجئے کہ یہ باتیں مغرب میں بیٹھے ماہرین نفسیات نے کی ہیں۔ ان تین وجوہات کو اپنے سامنے رکھئے اور ملک میں ہونے والے جنسی جرائم (ریپ) کا جائزہ لیجئے۔ کون سا ایسا واقعہ ہے جس میں آپ ان تینوں یا ان تین میں سے کسی ایک وجہ کو موجود نہیں پاتے۔ اگر کوئی واقعہ ایسا ہے تو اس پر بات ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر ان تین میں سے کوئی ایک وجہ ہر واقعے میں بہر طور موجود ہے تو اس کا تعلق عورت کی بے لباسی سے جوڑ کر دکھانا پڑے گا۔
پاکستان میں کسی بھی موضوع پر ہونے والی بحث و تکرار کی نوعیت کا اندازہ ہم سب کو ہے۔ ان میں شرکت کرنے والے خواتین و حضرات کی پوزیشن بھی ہم سب جانتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہے کہ کوئی بھی اپنی پوزیشن تبدیل کرنے پر آمادہ اور تیار نہیں ہے۔ نفسیات کے ایک طالب علم کی حیثیت ریپ سے متاثر ہونے والے افراد کو میں نے دیکھا ہے۔۔ ان کی مدد کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔ اب بھی کرتا ہوں۔ داعش کی حیوانیت کا نشانہ بننے والی خواتین بھی دیکھی ہیں۔ ان کی مدد کرنے کی اپنی سی کوشش بھی کی ہے۔ اس لئے مجھے اندازہ ہے کہ جنسی تشدد کے شکار افراد کس ذہنی حالت اور کرب میں اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ یہ معاملہ انسان، اس کی زندگی، ذہنی صحت، اور توقیر سے جڑا ہوا ہے۔ بے لباسی جیسے فلسفوں کی وجہ سے یہ خواتین ساری زندگی مجرم کی بجائے اپنے ہی کو موردِ الزام ٹھہراتی رہتی ہیں۔ صرف اتنی سی درخواست ہے کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اس کو اپنے عقائد اور نظریاتی وابستگی سے ہٹ کر دیکھئے۔ واقعات کی تعداد کی بجائے ان کی نوعیت پر غور کیجئے۔ جس طرح کرونا وائرس کا علاج دم اور وظائف سے نہیں ہوا تھا اسی طرح ریپ کے واقعات کا تدارک بھی معتقدات کی بنیاد پر قائم کئے گئے قوانین سے نہیں ہو پائے گا۔
  • merkit.pk
  • merkit.pk

اختر علی سید
اپ معروف سائکالوجسٹ اور دانشور ہیں۔ آج کل آئر لینڈ میں مقیم اور معروف ماہرِ نفسیات ہیں ۔آپ ذہنو ں کی مسیحائی مسکان، کلام اور قلم سے کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply