تہذیب کا برزخ۔۔۔۔فوزیہ قریشی

“ارے۔۔۔ بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے؟۔ جب دیکھو اور جسے دیکھو بس نصیحت پہ نصیحیت کرنے پر تلا ہے۔۔۔ سب کا بس مجھ ہی پر کیوں چلتا ہے؟”
جینا ، ان وقت ناوقت ملی نصیحتوں کی بھرمار سے بری طرح اکتا چکی تھی۔
امی، دادی اماں اور ابا جان ۔۔۔۔ ارے سب کے سب۔۔۔
بھیا کو بھلا کیوں کچھ نہیں کہتے؟۔۔۔
کیا تمام کی تمام نصیحتیں صرف بیٹیوں ہی کے لیے ہوتی ہیں؟۔
دادی اماں تو کبھی کبھار حد ہی کر دیتی ہیں۔۔۔ یہ نہ کرو، وہ نہ کرو، یوں مت بیٹھو، ادھر نہیں جھانکو، زیادہ باتیں نہ بناؤ ۔۔۔ اور تو اور کسی کے گھر جانا بھی انھیں ذرا اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔ فرماتی ہیں ” بٹیا۔۔۔ دوستیاں تو صرف کالج تک ہی اچھی لگتی ھیں، انہیں گھر تک لانا بھلا کہاں کی عقلمندی ہے؟”
جینا اپنا سر کھجا کر بڑبڑاتی ہوئی جیسے خود سے ہمکلام تھی۔۔۔

چائے کا کپ اور وہ۔۔۔۔قراۃ العین حیدر

وہ اک روشن روشن سا خوبصورت دن تھا۔۔۔ بارش کچھ دیر پہلے ہی تھمی تھی اور ہر شے اک عجیب سی خوشگوار مہک لئے تازگی سے بھرپور تھی۔ جب من کی نگری اندھیروں میں ڈُوبی ہو تو دُھلی دُھلائی روشن کرنیں بھی جیسے مکھ موڑ کر کہیں دُور چھپ جاتی ہیں۔۔۔ سچ ہے، جب تک اندر کا موسم حسین نہ ہو باہر کی بہار بھی مزاج کو خوشگوار نہیں بنا سکتی۔
” عجیب منطق ہے نا اس معاشرے کی ”
وہ خود ہی سے گویا تھی۔۔۔
“ارے انسان تو ایک ہی جیسے ہیں پھر زندگی گزارنے کے قاعدے قرینے دونوں اصناف کے لئے الگ کیوں؟ ہم اگر لڑکیاں ہیں تو کیا، ہماری کوئی خواہشات ہی نہیں ؟۔
ایک تو مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ لڑکیوں کو اڑنا سکھا کر ان کے پر بھلا کیوں کتر دیئے جاتے ہیں؟
ان کی خاموش حسرتیں منوں مٹی تلےکب دفن ہو جاتی ہیں کسی کو احساس بھی نہیں ہوتا۔ ایسے میں ٹوٹے وجود کی کرچیاں روح تک کو گھائل کر دیتی ہیں۔”
کبھی کبھی وہ خود کو ایک قیدی کی طرح سمجھتی۔۔۔ جس سے سانس لینے کا حق چھین کر اسے زندہ درگور کر دیا گیا ہو ۔
ہر بات پر پابندی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” شاید میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔۔۔ اپنی سوچوں پر بے جا پابندیاں کیونکربرداشت کروں ۔ یہ معمولی سی بات بھی آخر ان کو سمجھ کیوں نہیں آتی؟۔
میرے اس معصوم دل کے بھی کچھ ارمان ہیں۔ میں بھی اک سوچنے سمجھنے والا دماغ رکھتی ہوں۔۔۔جو بلا وجہ کی روک ٹوک پر تو اور بھی زیادہ تیزی سے چلتا ہے.
کاش کوئی مجھے بھی سمجھ سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاش میں اک آزاد پنچھی کی طرح ہوتی جو جب چاہے، جہاں چاہے، اڑان بھر سکتا ہے۔۔۔۔ جسے نہ کسی ٹھور ٹھکانے کا غم ہوتا ہے نہ اپنے پرائے مہربانوں کی طرح طرح کی باتیں سننے کا جھنجھٹ۔”
یہ بھی کیا زندگی ہے؟، صبح سویرے اٹھتے ہی پہلے دادی محترمہ اپنے بستر سے آواز لگاتی ہیں۔۔۔۔ “جینا ۔۔۔ اری او جینا ”
جینا غریب کا تو جینا ہی محال کر رکھا ہے انھوں نے ۔

انہی سوچوں میں غلطاں جب جینا کمرے سے باہر نکلی تو تازہ ہوا کے معطر جھونکوں نے جیسے اس کے کانوں میں ملہار گنگنا کر اس کا استقبال کیا۔۔۔ درختوں پر وقت سے بے نیاز، دنیا کے ہنگاموں سے لاپروا چڑیوں نے دلکش چہچہاتی آوازوں کے شور سے جیسے کوئی مینا بازار آباد کر رکھا تھا۔۔۔۔
اب اس کے قدم ان آوازوں سے دور لان کی طرف رواں تھے، جہاں نصیحتوں فصیحتوں کی بھرمار سے تنگ آ کر وہ کبھی کبھار چلی جاتی تھی۔ وہاں پھولوں سے لدے درختوں کی گھنیری چھاؤں تلے اسے سکون ملتا ۔ ایک تنہا گوشے میں بینچ پر گھنٹوں بیٹھ کر وہ کبھی کوئی دلچسب کتاب پڑھا کرتی تو کبھی خاموشی سے اپنی ڈائری پر اپنے بیتے دن کی روداد کے رنگ بکھیرتی ۔
سوچ کے تانے بانے بنتے اکثر وقت گزرنےکا احساس ہی نہ ہوتا۔۔
آج بھی خیالوں کے سلسلے اچانک ٹوٹے تو اسے باہر کا شور سنائی دیا۔
“کدھر مر گئی ہو؟۔۔۔ کب سے آوازیں دے رہی ہوں” ۔۔۔

چالاک۔۔۔۔مظہر حسین سید
“کیا ہوا دادی اماں!
اتنا شور کیوں مچارہی ہیں؟۔”
وہ جھنجلا کر بولی۔
“لو نواب  زادی یہاں چھپی ہیں۔۔۔۔ کب سے تلاش کر رہی ہوں۔؟ کان میں کسی نے سیسہ ڈال دیا تھا کیا کہ یوں بہری بھنڈار ہوگئی ہو؟۔”
وہ آہستہ سے بڑبڑائی “مگر میری ہی تلاش کیوں؟۔۔۔ دادی اماں۔۔۔کیا کوئی قیدی بھاگ گیا ہے سچ مچ۔۔۔ جو آپ نے اتنی ہلچل مچا رکھی ہے؟۔۔۔۔ آخر کہاں جاؤں گی؟۔ کتنی بڑی حویلی ہے یہ۔۔۔ بلا اجازت میں تو دروازے سے باہر قدم تک نہیں رکھ سکتی۔”
” کیا تجھے سنائی نہیں دیتا ؟ نیک بخت۔۔۔ کب سے آوازیں دے رہی ہوں۔”
دادی غصے کے عالم میں چیخیں۔
“سب کے سب مردار ہیں اس گھر میں۔۔۔ اور وہ تیری اماں۔۔۔ اس کو تو ہم ویسے ہی ایک آنکھ نہیں بھاتے۔۔۔۔ چائے کا وقت ہوگیا ہے۔ مگر غضب خدا کا۔۔۔ اس گھر میں تو جب تک دہائی نہ دو، کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ارے ہمیں تو حسرت ہی رہی کہ کبھی کوئی یاددہانی کروائے بنا بھی اس کم بخت بڑھیا کو پوچھ لے۔”
“ارے محبت کا جذبہ ہی نہیں رہا کسی میں۔۔۔ کوئی احساس ہی نہیں ہے بس۔۔۔۔”
دادی اماں پٹر پٹر بولے چلے جا رہی تھیں اور وہ بے جان مورتی کی طرح بس سنے جارہی تھی۔ بھولے سے اگرکوئی لفظ بول بھی دیتی تو اسے ایک کی دس سننے کو ملتیں۔
“کیا زمانہ آگیا ہے؟۔۔۔ بڑے چھوٹے کا لحاظ ہی اٹھ چکا ہے”۔ ایسی ایسی جلی کٹی، بھیانک صلواتیں دادی اماں کے پوپلے منہ سے پھولوں کی طرح جھڑتی تھیں ۔۔
پل بھر کے لئے بھی دادی اماں کو احساس نہ ہوتا کہ ان کی یہ دلفگار باتیں کیسے سینہ چھلنی کرتی ہیں ۔
“وہ روز کی بک بک جھک جھک سے بے حد تنگ آچکی تھی۔ اب تو دعائیں مناجاتیں بھی پڑھنا شروع کر دیں اس نے۔۔۔ جائے نماز پر بیٹھ کر کبھی ڈھیروں دعائیں مانگتی تو کبھی لمبے لمبے سجدے کیے جاتے۔۔۔۔
“اے میرے پروردگار! مجھے یہاں سے کہیں بہت دور لے جا۔ اس جگہ۔۔ جہاں صرف آزادی ہو۔۔۔ کوئی بلا وجہ روکنے ٹوکنے والا نہ ہو۔۔۔ دور بہت دور کسی دوسرے جہان میں۔۔۔ جہاں اڑتی تتلیوں کے پر نہ نوچے جاتے ہوں ۔۔۔ چہچہاتی چڑیوں کی میٹھی آوازوں پر قدغن نہ لگائی جاتی ہو ۔۔۔۔ جہاں کانوں کے پردے پھاڑنے والی کرخت آوازوں کا شور و غل نہ ہو۔۔۔۔ بس دور بہت دور۔۔۔ان آوازوں سے بہت پرے۔۔۔۔”خامشی کی حسین وادی میں جہاں تتلیوں کا بسیرا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔کوئل کی راگنی کانوں میں میٹھے رس گھولے۔۔

اگلے دن جب وہ کالج سے آئی توگھر میں اتنی خاموشی دیکھ کر پل بھر کو یقین نہ آیا کہ اپنے ہی گھر آ گئی ہے۔
“سب کہاں ہیں؟ بھیا بڑی خاموشی ہے۔۔”
“سب لڑکا دیکھنے گئے ہیں۔”
بھائی نے، ٹی وی پر نظر جمائے ہوئے جواب دیا۔
“کیوں؟ کس کے لئے؟”
“ظاہر ہے تمہارے لئے، میرے لئے تو دیکھنے سے رہے۔”
“دادی اماں کی کوئی دور پار کی رشتہ دار ہیں۔انہی کا  بیٹا باہر سے آیا ہوا ہے ان دنوں۔۔۔ بس دادی جان کو پسند آ گیا تو پھر بات پکی کر کے ہی آئیں گے آج ۔”
اس پر تو جیسے آسمانی بجلی گر گئی ہو۔۔۔
اس کی شادی ہونے جارہی تھی لیکن پسند دادی اماں کی۔۔۔ اس کے من کی ساری امنگیں پل بھر میں ٹوٹ  کر بکھر سی گئیں۔۔۔۔
اوہ میرے خدا! یہ کیسا انصاف ہے؟۔ مجھے اس قابل بھی نہیں سمجھا گیا کہ کم از کم مجھ سے رائے ہی لے لی جاتی۔ آج اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ ہو  جائے گا اور وہ کچھ بھی نہیں کر پائے گی۔ اسے توابھی آگے پڑھنا تھا۔ اپنے سارے ادھورے خواب مکمل کرنا تھے۔ اونچا۔۔۔بےحد اونچا اڑنا تھا۔

وہ اکثر سوچتی۔۔” میں کون ہوں؟۔ کیا میں کوئی بھیڑ بکری ہوں یا کوئی گائےبھینس۔۔۔ جسے جب چاہا، جہاں چاہا کسی کی بھی مرضی کے کھونٹے سے باندھ دیا جاتا۔۔۔۔۔۔
اس شب اس سے کھانا بھی نہیں کھایا گیا۔ وہ جب سے گھر واپس آئی تھی، اپنی کلازٹ میں بند تھی۔ وہی کلازٹ جس کی بے جان دیواریں اپنے ساتھ اس کا دکھ سکھ بانٹتی تھیں ۔۔۔۔
آج وہ زندگی کا سب سے بڑا غم بھی ان ہی سے کہہ رہی تھی ۔ اکثرجب وہ روتی تو اس کی سہیلیاں ہمدردی کے دو بول کہہ کر اس کے سارے آنسوؤں کو پونچھ لیتیں۔ اب تو وہ اپنا سب کچھ کھونے جا رہی تھی۔ آج اسکی سکھی سہیلیوں نے بھی جیسے اس کے غم کو سننے سےانکار کر دیا تھا۔ شاید وہ بھی اس کی طرح تنگ آچکی تھیں۔ تنہائی کے اس لق و دق     صحرا میں اس کا ایک ایک آنسو عدم کے گہرے اندھے کنوئیں میں معدوم ہورہا تھا۔۔۔۔ جس کے کونے کونے میں اس کی سرگوشیاں دفن تھیں ۔ اس کے ہر راز کی پاسدار محض یہی کتابیں اور یہی خاموش دیواریں تھیں۔ یہی تو تھیں اس کی سہیلیاں، جن سے وہ گھنٹوں بیٹھی باتیں کیا کرتی تھی۔ کبھی کبھی ان کے ساتھ غیر مانوس اجنبی سی ۔۔۔ نئی سرزمین کی لمبی سیر پر نکل جاتی تھی جس کا آسمان ہمیشہ روشن ستاروں سے منور رہتا۔۔۔ غم کے بادل اس افق سے نا آشنا تھے۔۔۔ جہاں وقت تھم جاتا تو خود اپنی خبر تو کیا کسی شے کا پتا ہی نہ چلتا۔۔ اب یہ بھی اس کا ساتھ چھوڑنے والی تھیں ۔ اک نا معلوم سی گہری اداسی اس کے بدن پر چونٹیوں کی طرح رینگ رہی تھی۔۔ عجیب سی چبھن کا احساس اس کےوجود کو زخمی کر رہا تھا۔۔۔

شادی میں چند دن باقی تھے۔ ساری تیاریاں اپنے عروج پر تھیں۔اسکی ماں کو ایک پل کی بھی فرصت نہیں تھی۔۔۔۔ گھر میں ہر طرف گہما گہمی شروع ہوچکی تھی۔ مہمانوں کی آمد سے گھر میں رونق سی تھی۔ اب اسکے پاس اپنے آپ کے لیے بھی اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ گھڑی دو گھڑی اپنی پیاری سہیلیوں کے ساتھ گزار سکتی۔ جوں جوں دن قریب آرہے تھے، اس کی بے چینی بڑھ رہی تھی۔ نئے گھر کے نئے ماحول کا خوف اسے اندر ہی اندر کھائے جا رھا تھا۔۔۔۔ اگلی رات جب وہ اپنے بستر پر کروٹیں بدل رہی تھی کہ اچانک امی کی آواز نے اسے چونکا دیا۔۔
“جینا۔۔۔ بیٹی دروازہ کھولو۔۔۔ تم سے بہت سی باتیں کرنی ہیں۔۔ میری جان۔”
جینا نے جھٹ سے دروازہ کھول دیا ۔ “ابھی تک جاگ رہی ہو؟”
ماں نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“نیند کہیں کھو گئی ہے امی۔”
امی اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔
“کیوں میری جان۔۔۔ ؟۔ یہ وقت تو ہر کسی کی بیٹی پر آتا ہے۔ آج تمہیں کچھ باتیں سمجھاؤں گی، انہیں بس اپنے پلو سے باندھ کر رکھ لو۔۔۔ یہی سمجھو کہ یہ وہ وراثت ہے جو ایک ماں اپنی بیٹی کو شادی والی رات تحفے کے طور پر دیتی ہے۔۔۔۔ میری جان۔۔۔ اپنی ساس کو ماں سمجھ کر اس کی ہر بات کو برداشت کرنا، یہی سمجھنا کہ وہ بھی تمھاری اپنی سگی ماں ہے۔۔۔ اسے شوہر کی ماں ہرگز مت سمجھنا۔۔۔ وگرنہ پھر زندگی بڑی مشکل ہو جائے گی۔ بیٹا اگر کوئی زیادتی کرے تو اسے اپنا سمجھ کر معاف کر دینا۔ کبھی کسی سے حسد مت کرنا۔ اگلے کا تو کچھ نہیں جائے گا لیکن تمہیں یہ حسد دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا ضرور کر دے گا۔
جینا نے سر جھکا کر جواب دیا۔
” امی لیکن معافی تو غلطیوں کی ہوتی ہے، زیادتیوں کی نہیں۔۔۔۔پھر میں کیسے معاف کرسکتی ہوں کسی کو؟۔”
امی گویا ہوئیں۔
” بیٹی۔۔۔ میری نظر میں تو ہر انسان کا اپنا ظرف ہوتا ہے۔ چندا۔۔۔ کچھ لوگ ساری زیادتیاں معاف کر دیتے ہیں اور کچھ لوگ ایک غلطی بھی معاف نہیں کرتے ……ساری بات ظرف کی ہے میری جان۔۔۔ اور پھر اعلی ظرفی تو صرف الله کی دین ہے۔ وہ جسے چاہےعطا کرے۔۔۔۔
“افف امی، آپ بھی کیسا الٹا فلسفہ جھاڑنے بیٹھ گئی ہیں؟۔”

اپنی اپنی اگ ،اپنا اپنا سیک۔۔۔کنول مشتاق

“یہ فلسفہ نہیں ہے  میری جان۔۔۔۔ساری بات ظرف کی ہے۔ پر آج کل کی نسل شاید یہ نہیں سمجھ سکتی کہ یہ ہمارے بزرگوں کی دی ہوئی تعلیم و تربیت ہی ہماری اعلی اقدار ہیں۔۔جو میں تمھیں سمجھا رہی ہوں۔۔۔ اک ماں کی حیثیت سے یہی میرا فرض ہے۔ یہی ایک دن تمھارے کام آئے گا، جب میں نہیں رہوں گی۔ پھر یہی باتیں تمھیں میری یاد دلائیں گی۔ جیسے مجھے میرے اپنوں کی قدر۔۔۔تب ھوئی تھی جب و ہ مجھ سے دور چلے گئے تھے۔ میں نہیں چاہتی کہ تمھارے ساتھ بھی ایسا ہی ہو۔۔۔ کیونکہ اپنوں سے جدائی کی تکلیف بہت بری ہوتی ہے.”
دن اتنی تیزی سے گزرے جیسے وقت کو پر لگ گئے ہوں اور وہ قدموں کا سفر اڑان بھر گیا ہو۔
بالاخر جینا کی زندگی میں وہ دن بھی آن پہنچا جو جینا کی رُخصتی  کے لیے  مقرر تھا ۔
جینا اپنی حسرتیں کلازٹ میں دفن کر کے پیا دیس سدھار گئی.

جینا کے لیے یہ سب بالکُل نیا تھا….
نئے لوگ، نیا ماحول نیا گھر نئے رشتے۔۔۔
سب کُچھ نیا
مگر اُس کا پیچھا کرتی آوازیں وہی پرانی.
جینا۔۔۔ او جینا !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تہذیب کا برزخ۔۔۔۔فوزیہ قریشی

  1. فوزیہ قریشی اردو ادب میں افسانہ نویسی کا ایک ایسا خوبصورت نام ہے جو کہ افسانہ نہیں بلکہ زندگی لکھتی ہیں کیا خوبصورتی سے پورا ماحول بنا کر ایسی تصویر بنا کر پیش کرتی ہیں کہ کچھ لمحوں کو قاری خود کو وہیں محسوس کرتا ہے اور پھر اس ماحول میں کرداروں کے تانے بانو ں کو بننا یہ کمال تو بس آپ کے قلم کو ہی حاصل ہے، فوزیہ کے یہاں ایک بے چینی ایک شوریدہ سری نظر آتی ہے وہ ایک عورت کے لیے ہمیشہ ایک سائبان تو چاہتی ہیں مگر ساتھ میں عورت کی مکمل زہنی آزادی بھی چاہتی ہیں، اب جیسے کہ انکا ایک جملہ
    “کاش مجھے بھی کوئی سمجھ سکتا،،،،،، کاش میں ایک آزاد پنچھی کی طرح ہوتی، جو جب چاہے جہاں چاہے اڑان بھر سکتا ہے….. جسے نا کوئی ٹھوکر ٹھکانے کا غم ہوتا ہے، نا اپنے پراے کے مہربانوں کی طرح طرح کی باتیں سننے کا جھنجھٹ…
    اس جملے سے دراصل وہ عورت کی زہنی آزادی کی بات کرتی نظر آتی ہیں، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ عورت کا حق ہے کہ اسکو مکمل زہنی آزادی دی جانا چاہیے ہے،
    فوزیہ قریشی آپ کے لفظوں میں زندگی ہے اگر آپ زندگی کی کڑوی سچائیوں پر آواز اٹھائیں تو بہت کچھ بدل سکتی ہیں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *