عزت ماب عوام کے نام!—- حسنات شیخ

ملک ۵ سال کے بعد اپنے ریگولر نازک موڑ پر آ پہنچا ہے۔ ماحول کچھ ایسا ہے کہ ایک طرف آ رہی ہے اور دوسری طرف آ رھا ہے، تبدیلی اور شیر بھئ۔ آپ کیا سمجھے؟ اور وہ بھی سنا ہے چل رہی ہے یا چل رہا ہے، وہ۔۔جی درست سمجھے آپ، تیر یا تلوار۔

بحرحال اس سب آنے جانے چلنے چلانے میں جو آخری سٹاپ ہے وہاں بریک لگانی ہے جناب فل وقت عالی وقار عزت ماب آپ نے۔ آپ سے مراد صرف آپ نہیں جیسے کہ آپ سمجھے ہونگے، آپ کے علاوہ بھی عوام شاید اس تحریر پر اپنا وقت ضایع تو کر ہی رہی ھوگی۔ خیر! وقت تو آپ نے ۲۵ کو بھی ضایع کرنا ہی ہے یا شاید آپ وقت کا بہتر استعمال ڈھونڈ کر یہ چھوٹی موٹی قومی ذمہ داری نبھانے کے بجائے گھر والی کے ساتھ پکنک پر جا کر دو تین ہفتوں کے لیے گھر میں سکون کی گارنٹی بھی لے سکتے ہیں۔ آخر ملک کے پانچ سال اور پکنک کے کچھ گھنٹے اور چھٹی کی وہ نیند، ان کا مقابلہ ہی کیا ہے۔ کیا سمجھے؟

یقینا آپ ابھی بھی نہیں سمجھے اور اگر نہیں سمجھے تو سمجھنا کیا ہے بھئ، کونسا ملک بدل جانا ہے، یہ سب چور ہیں۔ چوری میں میرے اور آپ جیسے پارسا حصہ ڈالیں۔ توبہ کریں صاحب۔ بہتر ہے کہ ہم ۲۵ کو ذمہ داری   میں چھوٹی سی چوری کریں اور پانچ سال بیلٹ کی چوری کا رونا رو لیں!

بہر حال بھائ عزیز جناب فل وقت عزت ماب، پانچ سالوں میں یہی وقت میرے اور آپ کے عزت ماب ھونے کا ہوتا ہے، چھوڑیں ووٹ کو، یہ سب تو چور ہیں، اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ ۲۵ کو دو تین پولنگ سٹیشنز پر بریانی کھانے نا چلیں؟ 

حسنات شیخ
حسنات شیخ
لکھاری، بلاگر، سماجی کارکن.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *