صحافت اہم ہے،صحافی اہم تر۔۔۔۔سید عدیل رضا عابدی

ایک بندہ نافرماں ہے حمد سرا تیرا۔۔۔۔۔
شنید ہے کہ ڈان میڈیا گروپ کے روح و رواں جناب حمید ہارون صاحب نے بی بی سی لندن میں پروگرام ’’ہارڈ ٹاک‘‘ میں گرما گرم انٹرویو دیا جو ناقدین کو ہضم نہ ہوا اور اسے مملکتِ خداداد کے خلاف سازش سے تعبیر کیا جارہا ہے، اس انٹرویو کا مکمل خلاصہ مع ضروری حواشی پیش خدمت ہے!!

سوال:جب پاکستان میں انتخابات قریب ہی ہیں تو حمید صاحب اور ان کے رفقاء کے خیال میں جمہور کو کس سے سنگین خطرہ ہے؟

جواب: جمہوریت میں بغیر نمائندگی و زمہ داری کوئی بھی حکومت قابل ذکر نہیں کہلائے گی اور جمہوریت کے تسلسل میں رخنہ اندازی ملک کو بدترین نقصان سے دوچار کرے گی۔

سوال:کیاان قوتوں سے مراد فوجی قوتیں ہیں؟ اور جبکہ ببانگ دہل جوش و خروش کے ساتھ انتخابات کا دور دوراں ہے، کیا میڈیا اور صحافت پر گہرا وار ہورہا ہے؟

جواب : ایسا گزشتہ 2 سال سے ہورہا ہے لیکن واردات میں شدت پچھلے 3 ماہ سے آئی ہے، جس میں آزاد صحافت پر حملے ہوئے جس میں سب سے نمایاں جنگ، نوائے وقت اور ڈان شامل ہیں۔

سوال:کیا آج کا زمانہ پچھلے سے بہتر نہیں ہے؟
جواب:میرا نہیں خیال۔۔! اور جتنی زحمت آزادی اظہار کے لئے یہاں صحافت نے اٹھائی ہے، میرا خیال ہے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ صحافت کا پرچم بلند رکھیں نا صرف پاکستان کے لئے بلکہ جنوبی ایشیاء کے لئے بھی۔

سوال : آزادی اظہار اور صحافت میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟
جواب:یہ جواب ان تمام اخبارات اور جرائد کی جانب سے ہے جنکا میں نمائندہ ہوں،
مثال کے طور پرجبری طور پر چینل کی بندش اور اخبارات تک جبری عدم رسائی، لاڑکانہ میں ہنوز ڈان اخبار نہیں پہنچ رہا۔

سوال: اس رکاوٹ میں کس کا ہاتھ ہے؟
جواب:سی پی جے، رپورٹرزسان فرنٹئیرز، انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ کے مطابق صریحی طور پر اس مدعے میں فوج ملوث ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ریاستی ادارے نواز شریف کی حکومت میں تو دھڑلے سے احکامات کی تعمیل کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس میں میاں صاحب کا بظاہر کوئی ہاتھ نہیں تھا،شاہد خاقان عباسی کی وزارت میں بھی ان کی اجازت نہیں تھی بلکہ ادارے از خود ایسا کر رہے تھے۔
ایسا فوج کی ناقص اور غلط حکمت عملی کی وجہ سے ہوا ہے ۔

سوال:میجر جنرل آصف غفور جو فوج کے ترجمان ہیں ان کی نگاہ میں فوج نے کسی بھی ادارے اور صحافی پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہیں کی ہے اور فوج سیاست سے کنارہ کش رہنے کے عزم پر قائم ہے۔

جواب:میجر جنرل صاحب باوجود اپنی قابلیت کے اپنے اس کردار کی وضاحت کیسے فرمائیں گے جب وہ پریس کانفرنس کے دوران سارے صحافیوں کے سامنے سوشل ایکٹوسٹس اور دیگر ٹی وی میزبانوں کی تصویریں دکھا کر عوام کو ان کے خلاف اکسا رہے تھے اور انہیں ریاست کے دشمنوں کا خطاب دے رہے تھے؟

سوال:کچھ صحافی اور بلاگرز کو اغواء کیا گیا، گل بخاری کا کیس سب سے تازہ ہے، کیا آپ کے خیال میں یہ بھی فوج کے اشارے پر ہوتا ہے؟

جواب:عوام اور عالمی انسانی و صحافتی اداروں کی نگاہ میں اغواء کا جو آزادنہ طریقہ کار اپنایا جاتاہے اور جس کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی(فوج کی جانب اشارہ کرتاہے)، یہ مسئلہ عالمی اداروں، سپریم کورٹ اور آرمی چیف کے سامنے اٹھایا گیا ہے کہ اس پر بھی توجہ فرمائیں۔

سوال:کیا آپ کے اپنے ادارے ڈان کے صحافی بھی ایسا رد عمل محسوس کرتے ہیں؟کیا وہ خوف میں زندگی بسر کر رہے ہیں؟

جواب: صرف میرے ہی ادارے کے نہیں،متعدرد صحافیوں کو ایسی شکایت ہے بلکہ ادارے سیلف سینسر شپ پر مجبور ہیں۔

سوال:پشتون تحفظ موومنٹ پر صحافیوں کی خامشی کے پیچھے بھی آپ کی نظر میں عسکری ادارے ہیں؟

جواب:جی ہاں، ایسی ہدایات ہم تک موصول ہوئی تھیں اور بہت سی شکایات بھی آئی ہیں، ہمارا ادارتی صفحہ گو کہ آزاد ہے لیکن دباؤ بہرحال ریاست کی طرف سےموجود ہے کہ ان کی کوریج نہ کی جائے۔

سوال:صحافی ہونے کی وجہ سے مجھے اپنی برادری کی فکر ہے، پاکستان میں جو دھماکے سیاسی جلسوں میں ہورے ہیں(پشاور دھماکہ)،کہیں ایسا تو نہیں کہ فوج عوام کی حفاظت کی جانب اپنی زمہ داری آپ کی اشتعال انگیزالزام تراشی کی بنیاد پر بحسن و خوبی نہیں نبھا پارہی؟مزید یہ کہ پولنگ اسٹیشن کے قریب ان کی موجودگی پر آپ کا اعتراض کیا معنی رکھتا ہے؟

جواب:صاف کہوں تو میڈیا اتنا طاقتور نہیں جتنا آپ کہہ رہے ہیں، فوج نے اپنی پالیسی کے بارے میں شکوک و شبہات کو خود جنم دیا ہے۔

سوال: آپ کو فوج کے پولنگ اسٹیشنز پر ہونے پر اعتراض ہے؟آپ کا گروپ نواز شریف کے ساتھ ہمدردی کیوں کرتا ہے؟
جواب:کرپشن کے خلاف کاروائی پر کوئی اعتراض نہیں ہے،میں توقبل از انتخابات دھاندلی کی بات کر رہاہوں بشمول مخصوص سیاسی کارکنوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز اور رہنماؤں کے خلاف کیسز کھولنا، (میں بلا تخصیص انصاف کا قائل ہوں)۔

سوال:2016میں آپ کے زیر تصرف ایک اہم رپورٹ تھی جس میں نواز شریف نے بطور وزیر اعظم فوج سے ملک میں موجود دہشتگرد عناصرکے خلاف موثر کاروائی کا مطالبہ کیا تھا جس سے فوج کو کافی پشیمانی اٹھانی پڑی،اور تب سے آپ اور فوج کے درمیان رنجشیں بڑھ گئی ہیں؟

جواب:اس معاملے میں یہ کہوں گا کہ یہ رپورٹ ڈان کے پاس بالخصوص موجود نہ تھی،”ڈان لیکس” ہمارے مخالفین کی استعمال کردہ اصطلاح ہے۔

سوال: آپ نے اسے چھاپا تو تھا ناں؟نکتہ یہ ہے کہ آپ صحافتی آزادی، اقدار اور غیر جانبداری کا دم بھرتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کی نگاہ میں ایسا نہیں ہے!!

جواب:عرض یہ ہے کہ” ڈان لیکس” جو دو ملاقاتوں کا احوال ہے، پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر یکساں میسر تھی حتیٰ کہ اس کی تو بین الاقوامی سطح پر تصدیق بھی ہوئی۔

سوال: آپ نواز شریف اور ان کے خانوادے کی جو اب سزایافتہ ہے، حمایت پر کمربستہ کیوں ہیں؟

جواب:اس میں مہم یہ ہے کہ یہ کھیل باقاعدہ کھیلا گیا ہے، اور اگر آپ سوشل میڈیا پر جائیں، ڈان پر حملہ ہوا، وہ ملاحظہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ آئ ایس پی آر بہت گہرائی میں وہاں موجود ہےجو ہر اس شخص/ادارے کے پیچھے پڑ جاتاہے جو ان کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
ہم تو خیر کیا جاہ طلب ہوں گے،لیکن میرا خیال ہے کہ سول و ملٹری پیغام غلط طریقے سے پہنچا ہے جس کا نامہ بر ڈان رہا ہے اور اب سارہ ملبہ ڈان پر گر رہا ہے۔

سوال:شروع میں آپ نے فرمایا کہ پاکستان میں جمہوریت کو خطرہ ہے لیکن ایک طرف تو آپ خود سے ہی ان خطرات کا باعث ہیں، ابھی جو آپ نے کہا کہ پاکستانی خفیہ ادارے سیاسی عمل مین رخنہ انداز ہیں، اور یہ کہ ایک سیاسی رہمنا کا گلا گھونٹا جارہا ہے جس سے وہ کسی دوسرے اپنی مرضی کے آدمی کو کامیاب کاروائیں، کیا آپ ایسا سمجھتے ہیں؟

جواب:یہاں امتیازی سلوک روا ہے اور جہاں تک مجھے لگتا ہے کہ دوسرے درجے کے رہنماؤں کو مخلوط حکومت کا تحفہ دیا جائے گا جو ریاستی ادارے کے اشاروں پر چلے گی۔

سوال: آپ نے نام کسی کا نہیں لیا، لیکن کیا آپ کی مراد عمران خان اور ان کی جماعت پی ٹی آئی ہے؟

جواب:جی، ایسا ہی ہے۔

سوال: آپ کی بات کا کیا ثبوت ہے؟ناقابل تردید ثبوت کے بنا یہ کیسے کہ سکتے ہیں؟

جواب:ثبوت۔۔۔کچھ حد تک پاکستان میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی مبصرین کے کام سے ظاہر ہوتا ہے۔ میں ریاست کے خلاف محاذ نہیں بنارہا بلکہ میں تو چاہتا ہوں کہ ریاست میڈیا کے ساتھ مفاہمت سے رہے تاکہ جمہوری عمل و ادارے باقی رہیں۔

سوال:لیکن آپ تو شروع سے ہی ریاست کے خلاف محاذ بناتے آرہے ہیں کہ فوج آزادی اظہار رائے کے عمل کو مجروح کر رہی ہے جو کہ پاکستان کے تمام جمہوری نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

جواب: دیکھیے اسٹیو،اے پی این ایس کا صدر ہونے کے ناطے میرایہ فرض ہے کہ میں میڈیا کے جائز حقوق کادفاع کروں۔

مزید برآں انہوں نے کہا کہ وہ آئین کےآرٹیکل نمبر 19 آزادی صحافت اور 19اے آزادی اظہار رائے کی عملداری پر تحفظات رکھتے ہیں ،وہ یہ سمجھتے ہیں کہ تبدیلی بتدریج آرہی ہے اور پاکستان بھی ضرور دنیا کے دیگر ممالک کی طرح آزادی (اظہار) کا حقیقی علمبردار ہوگا اور میری کاوش چاہے کتنی ہی سبک کیوں نہ ہو، اس ضمن میں ضرور برقرار رہے گی

انٹرویو کے دوران حمید ہارون تھوڑے سے نروس اور لکنت زدہ نظر آئے،لیکن مرد حر نے سچائی کے ساتھ نپی تلی بات کہی اور تعمیری تنقید کر کے پاکستان کے مخلص صحافی ہونے کا ثبوت دیا؛ یہ اس بات کا غماز ہے کہ دباؤ واقعی بہت زیادہ ہے اور دور افتادہ اور سرد ملک میں بھی ایک محکم ادارے پر لب کشائی کرناہی ایک جرات مند اقدام ہے۔اور یہ کہ حق گوئی پر ہر گز کوئی سمجھوتانہ ہوگا کیونکہ صحافت اہم ہے،صحافی اہم تر!!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”صحافت اہم ہے،صحافی اہم تر۔۔۔۔سید عدیل رضا عابدی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *