• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • ججز عدلیہ کا وقاربچانے کیلئے خاموشی توڑیں،جسٹس شوکت عزیز صدیقی

ججز عدلیہ کا وقاربچانے کیلئے خاموشی توڑیں،جسٹس شوکت عزیز صدیقی

اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے لاپتہ افراد کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ ججز عدلیہ کا وقاربچانے کیلئے خاموشی توڑیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں ایجنسی کا نمائندہ پیش ہوا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے تحریری حکم نامے میں ملک بھر کے ججز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وقت عدلیہ کے وقار کو بچانے کا ہے، آج اگر ہم چپ رہے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جواب نہیں دے سکیں گے،اس وقت خاموش تماشائی کا کردار ہمارے آئینی حلف کی خلاف ورزی ہے، اگر ریاست کو نقصان ہواتو تاریخ ججز کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ عدلیہ میں ججز کو اپروچ کیاجارہا ہے،انکے فون ٹیپ کیے جاتے ہیں، ان کی زندگیاں محفوظ نہیں، خفیہ اداروں کے لوگ اپنی مرضی کے بینچ بنوانے کی کوشش کرتے ہیں۔

عدالت نے تحریری حکم میں کہا کہ حساس ادارے ملک کے دفاع اور سیکیورٹی پر توجہ دیں،ان کے کردار کی وجہ سے پولیس بھی بےیارومددگار نظر آ رہی ہے،وفاقی دارالحکومت سے شہریوں، تاجروں اوردیگر افراد کو لاپتہ کرنا ایک معمول کی کارروائی بن چکا ہے ۔

عدالت نے مزیدکہا کہ ہرکوئی جانتا ہے عدالتوں میں سماعتوں کو کس طرح سبوتاژ کیا جارہا ہےکہاں سے ڈوریں ہلائی جارہی ہیں، اختیارات کا غلط استعمال کیا جارہا ہے، من پسند فیصلے حاصل کرنے کیلیے چالیں کھیلی جارہی ہیں، ان لوگوں کی جانب سے بنچ بنوائے جارہے ہیں اورانہی کی ہدایات پر مقدمات مختلف بنچز میں لگوائے جاتے ہیں۔

دوران سماعت عدالت میں پیش کیے گئے ایک بازیاب شخص رب نواز نے بتایا کہ نامعلوم افراد آنکھوں پر پٹی باندھ کرلے گئے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

جسٹس صدیقی نے کہا خدا کیلئے ملک پر رحم کریں خودکو عقل کل مت سمجھیں،عقل کل بننے والوں سے قبرستان بھرے پڑے ہیں، پولیس والے ایجنسیوں کے آگے بے بس ہیں۔

  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply