الیکشن 2018۔۔۔۔ نجم الثاقب

سیاست اب موروثیت اور نظریہ ضرورت کی مرہون منت ہے۔

جمہوریت کی اصل روُح اور مقصد ” عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لئے ”ہے۔ یہ ایک ایسا حقیقی و شفاف پروسس ہوتا ہے جس میں عوام بالواستہ یا بلا واستہ حق رائے دہی کے ذریعے سے سیاسی معاملات میں شرکت کر تے ہیں اس طرح ملکی نظم و نسق رائے عامہ کی خواہشات کے مطابق چلا یاجا تا ہے۔ اس نظام میں ہر حکومتی نمائندہ عوامی مفادات کے لئے ہمیشہ سر گرم عمل رہتا ہے۔ شہریوں کو بلاتفریق یکسا ں حقوق حاصل ہو تے ہیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔ ماضی کے ادُوار سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے یہاں جمہوریت کا مفہوم”طاقتور افراد کی حکومت، طاقت کے ذریعے اور طاقتور افراد کے لیے”۔ ظاہر ہے جب نمائندے کرپٹ اصولوں و ضوابط (موروثیت، قوم و برادی، پیسے، دھونس اور طاقت) پر پانچ سال سیاہ و سفید کی چابی لے کر جمہوریت کی باغ دوڑ سنبھالے گئے تو وہ ہر طرح کی کرپشن (مالی بدعنوانی، دھوکہ دہی، فراڈ) کو اپنا حق سمجھیں گئے۔

70 سال گزر جانے کے بعد بھی عوام جمہوریت کے ثمر حاصل نہیں کر سکے آج بلوچستان میں 52.23 فیصد افراد غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، خیبرپختونخوا میں غربت کی شرح 34.66، سندھ میں 33.16 اور پنجاب میں 21.66 فیصد ہے۔

امیدواران الیکشن ۔۔۔سخاوت حسین

پاکستانی سیاست کی سب سے بڑی خرابی سیاسی جماعتوں میں” حق موروثیت ” ہے ہر پارٹی میں جمہوری روئیوں اور قدروں کی کوئی اہمیت نہیں اس لئے اقتدار میں آنے کے بعد جمہوریت کو اپنے گھر کی لونڈی بنا کر رکھا جاتا ہے۔ تمام بڑی سیاسی پارٹیوں میں نسل در نسل موروثیت کا سلسلہ جاری و ساری ہے، یہ اس طرح کی تلخ حقیقت ہے کہ راجوں اور مہاراجوں کے ادوار میں سلطنت کا اقتدار و اختیار تاج پوشی کے ذریعے بڑے سے چھوٹے کو پہنایا جاتا۔ عام فہیم میں گویا موروثیت کا حق بھی ایک ریاست کی طرح کا ہے اور اس کا سربراہ اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو نصحیت و اختیار سونپ جاتا ہے۔ سادہ لوح عوام بے چاری ساری زندگی سہانے سپنے و خواب کی تعبیر میں حکمرانوں کے کئے ہوئے وعدوں کے انتظار میں رہتے ہیں۔

موجودہ نظام حکومت میں موروثیت کے بت چہرے بدل بدل کر کبھی حکومت اور کبھی اپوزیشن کا حصہ رہے ہیں۔ سینٹ اور قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنا اپنا حق سمجھنے کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلیوں اور ضلعی سطح پر براہ راست اپنے خاندان کے دیگرافراداور منظور نظرلوگوں کو سیاسی جماعتوں سے ٹکٹ دلواتے ہیں اور بعد ازاں منتخب ہو جانے پر انہیں مہروں کے طور پر استعمال کرتے رہتے ہیں۔ موروثی قیادت صرف بڑے خاندانوں و قبیلوں تک محدود نہیں ہے یہ طرز عمل سیاست اور معاشرے کے نچلے طبقوں میں عام طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں میں موروثیت سیاست کے بڑے مضبوط اور طاقتور بت آج بھی نمایاں ہیں۔

جس ملک میں جمہوریت کے بنیادی اور ابتدائی تقاضے پورے نہیں ہوتے تو پھر وہاں جمہوریت کی گردان صرف جھوٹ، فراڈ اور دھوکہ دہی ہے۔ ہمارے یہ منتخب نمائندے مفاد پرستی، پیسہ و طاقت کی حس و لالچ اور ذاتی مفادات کی نیت سے جمہوریت کا جھوٹا راگ الاپتے رہتے ہیں تاکہ عوام کو بے وقوف بنا کر پانچ سال اپنا اُلّو سیدھا کریں۔ تاریخ کے ابواب میں ہر صوبوں کے اندر بڑے سیاسی خاندانو ں کے برجوں کا کنٹرول رہا ہے جنہوں نے اقتدار میں آکر اپنے مفادات پر زیادہ اور ملکی ترقی و خوشحالی پر کم توجہ دی ہے۔

صوبہ پنجاب: پنجاب کے اندر پچھلی تین دہائیوں سے 400 کے لگ بھگ سیاسی خاندان اور ان کے رشتہ دار و عزیز اقارب سرکاری ملازمت میں رہیں ہیں، انہی سیاسی خاندانوں کے کئی افراد کئی اہم پوسٹ پر براجمان بھی رہیں جنہوں نے قانون سازی کے ذریعے ایسی پالیسیاں و قواعد مرتب کئے جن سے ملکی و قومی وسائل کے ساتھ نجی شعبوں میں اختیار کے ساتھ ساتھ سرکاری اتھارٹی اور طاقت کو حکمرانوں کے ذاتی مفاد کے لئے استعمال میں لایا جا سکے جس سے حکمرانوں کے ساتھ بڑے سرکاری ملازمین اور بیوروکریٹ مافیا نے بھی خوب فوائد حاصل کیں ہیں۔

الیکشن 2018 اور نیشنل پارٹی کا کوما۔۔۔ عابدمیر

1985 سے 2013 کے انتخابات تک ہر انتخابی حلقے میں پہلے تین امیدواروں کی مجموعی دو تہائی تعداد کا موروثی یا خاندانی سیاست سے تعلق رہا ہے۔ آج بھی سیاست کے میدان میں خاندان و برادری کا بڑا روز دیکھنے میں ملتا ہے، باپ سے بیٹوں اور پھر قریبی رشتہ داروں جن میں بھتیجوں، دامادوں، بھتیجوں اور کئی جگہوں پر بیٹوں کو بھی اپنا سیاسی جانشین نامزد کیا جاتا رہا ہے۔ 2013 کے انتخابات میں پنجاب کے اندرسیاسی جماعتوں میں 40 فیصد اثرورسوخ موروثی یا خاندانی سیاستدان کا رہا ہے۔ ماضی کے اندر پنجاب کے بڑے سیاسی خاندان میں لاہور سے شریف فیملی، گجرات سے چوہدری برادران، فیصل آباد سے سیاہی برادری، سیالکوٹ سے خواجہ فیملی، فیصل آباد سے رانا اورشیرعلی کے خاندان، جہلم سے لدھڑ خاندان، گھرمالہ خاندان اور نوابزادہ خاندان، گوجر خان سے راجہ برادران، راولپنڈی سے چوہدری خاندان اور ملک برادران سیاست کو اپنا حق سمجھتے ہوئے بارہا بار منتخب ہوتے آئے ہیں۔ ماضی کی حکومت کے توڑ اور جوڑنے میں دیگر خاندانوں کے ساتھ چٹھے، وٹو، مخدوم، گیلانی، ٹوانے، قریشی اور کئی عسکری فیملز کے چشمہ چراغ پیش پیش رہیں ہیں۔ آج بھی پنجاب کے اندر دیہی و مضافتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سیاسی خاندانوں ہی کا راج باسانی دیکھا جا سکتا ہے، جن کے کچھ افراد کسی ایک اور کچھ کسی دوسری یا تیسری سیاسی جماعت میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ ہر علاقے میں برادری، خاندان، قبیلہ، کلچر اور روایات کے اثر و رسوخ کی فضا نے سیاست میں جمہوریت اقدار کو تبدیل کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔

جنوبی پنجاب کے خاندان و برادریوں میں بھی موروثیت کے بڑے بتوں نے ملکی و علاقی فیصلوں پر اپنا اثر و روسوخ قائم رکھا ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں لغاری، کھوسہ، دریشک اور قیصرانی خاندان سیاسی طاقت کا منبہ سمجھا جاتا ہے، اولیاء کی سرزمین ملتان میں گیلانی، مخدوم اور بوسن کا راج آج بھی قائم و دائم ہے، راجن پور کے ایریا میں گورچانی اور مزاریوں کی سیاسی رائے کو خاص اہمیت ہے، مظفر گڑھ کاعلاقہ کھر، جتوئی، قریشی اور دستی خاندان کے زیراثر دیکھائی دیتا ہے، رحیم یار خان میں کوریجہ، مخدوم اور وڑائچ فیملز کا اس علاقہ کی سیاست میں اہم رول ہے۔ بہاولپور میں عباسی، واران اور چیمہ خاندان و برادریوں کا بہاولپور میں لمبے عرصہ تک سیاسی رنگ رہا ہے۔ لودھراں کے نامور خاندانوں میں کانجو، ترین اور بلوچ خاندان کے افراد عرصہ دراز سے عوام میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ خانیوال کے سید اور ہراج فیملیز پر عوام نے ماضی کئی بار اعتماد کا اظہار کیا۔ جھنگ میں مخدوم، سید اور بھروانہ کو عوام منتخب کرکے اسمبلی کی زینت بناتے رہیں ہیں، بھکر کے اندر بڑی فیملی شاہانی، نوانی، ڈھانڈلا جیسے بڑے خاندانوں کو سیاسی فیصلوں کا اختیارحاصل رہا ہے، میانوالی میں نیازی فیملی کا ہولڈ ہے، جب کہ سرگودھا میں پیر سیالوی کے خاندان کے افراد اور پیرحسنات کو عوام منتخب کر کے اسمبلی میں بھیجتے رہے ہیں۔

صوبہ سندھ: صوبہ سندھ کی تاریخ میں سیاست کی ڈور زیادہ تر جاگیرداروں، وڈیروں اور نوابوں کے ہاتھ میں رہی ہے اس لئے موروثی سیاست کا منفی اثرمعاشرتی اقدار بہت زیادہ نظر آتا ہے۔ متحدہ قومی موومینٹ کے وجود سے جہاں سند ھ اور پورے ملک کو کئی خطرہ لاحق ہوئے جانی، مالی اور معاشی نقصانات اٹھانا پڑا وہاں صرف ایک فائدہ یہ ہواکہ سندھ کے اندر موروثی سیاست کا خاتمہ دیکھنے میں آیا۔ ایم کیو ایم کے زیرعتاب آنے کے بعد موروثی سیاست نے اپنی جڑیں پھر مضبوط کر لیں۔ موروثی سیاست کے ابواب میں دیگر خاندانوں کی طرح بھٹو خاندان کا نام بھی درج ہے۔ ، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اوربے نظیر بھٹو کی موت کے بعد قیادت ان کے بیٹے کے حصہ میں آئی۔ ماضی کی طرح اب سندھ کی سیاست پر جاگیرداروں کا قبضہ ہے، جن کے خاندان صوبے کے طول و عرض پر چھائے ہوئے ہیں۔ صوبے بھر میں موروثی نظام حکومت کا رول مڈل دیکھنے کو ملتا ہے۔ لاڑکانہ میں مکمل کنڑول بھٹو و زردای خاندان کے پاس ہے، داود میں جتوئی اور پیر مظہر کے گھرانے سیاسی داغ بیل کے مالک سمجھے جاتے ہیں۔ جیکب آباد، کندھ کوٹ اور کشمور میں جاکھرانی، بجارانی اور مہر قبیلہ سیاہ و سفید کے مالک سمجھتے جاتے ہیں، گھوٹکی میں علی محمد مہر کے گھرانوں کو عوام سیاسی فیصلوں کے امین سمجھتے ہیں، ہالا میں مشہور مخدوم فیملی، سانگھڑ میں پیر پگارا روحانی و مذہبی اور سیاسی پیشوا تصور کیے جاتے ہیں۔ ٹھٹھہ اور بدین میں شیرازی اور ذوالفقار مرزا کے گھرانے سیاسی داو پیچ کے ماہر کھلاڑی تصور کئے جاتے ہیں، تھر میں ارباب اور سید گھرانے سیاسی شہرت کے حامل ہیں، خیر پورمیں سید اور وسان خاندان کی عوام میں مقبولیت سمجھی جاتی ہے، شکارپور میں مہر اور دارنی قبیلے سے تعلق رکھنے والے طاقتور گھرانے جبکہ نواب شاہ میں زرداری قبیلہ کے افراد سیاست کے علم بردار سمجھے جاتے ہیں۔

یہ وہ خاندان و برادریاں، اقوام ہیں جو نسل در نسل کسی نہ کسی طرح حکومت کا حصہ میں چلے آتے رہیں ہیں جنہوں نے اپنی اپنی سیاسی بادشاہتیں قائم کر رکھی ہیں۔ سندھ سے جاگیردار وں، وڈیروں اور نوابوں کی جیت کی بڑی وجہ وہاں کوئی مڈل کلاس کلچر کا سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

شفاف الیکشن کا خواب۔۔۔ٹی ایچ بلوچ

صوبہ بلوچستان: بلوچستان میں سیاست کا محور قبائلی یا خاندانی وفاداریاں ہیں، سیاسی پارٹیاں اور جماعتیں نام کی حد تک وجود رکھتی ہیں۔ مینگل، بگٹی، رئیسانی، مری، زہری، اچکزئی، بزنجو، غرض کسی کا نام بھی لیں تو ان سارے قبائل اور خاندانوں کی سیاسی نظام پر اجارہ داری اپنے اپنے قبائلی یا نسلی خطوں میں برقرار ہے۔

صوبہ خیبر پختون خواہ : کے پی کے میں بھی موروثی سیاست کا ایسا ہی کھیل عرصہ دراز سے جاری و ساری ہے۔ تاریخ میں دیگر برادریوں و خاندانوں میں سیف اللہ خان، ایوب خٹک، گنڈاپور برادری، ہوتی، ایوب خان کے ساتھ ساتھ مولانا مفتی محمود اور ان کے بیٹے مولانا فضل الرحمن کے نام موروثی سیاست کے ابواب میں درج ہے۔ سابقہ دور حکومت کے وزیر اعلی پرویز ختک کا خاندان صوبہ کی سیاست میں اہم رول تصور کیا جاتا ہے، جبکہ ماضی کے ”خان عبد الولی خان ” کا خاندان آج بھی سیاسی ہولڈ کا حامل ہے۔

2018 الیکشن :کیا سیاسی پارٹیوں میں موروثیت اب نظریہ ضرورت کی اہمیت اختیار کر چکی ہے:

2018 کے الیکشن میں بھی تمام سیاسی جماعت نے الیکشن میں کامیابی کے لئے پارٹی نظریات و منشور کو پش پشت ڈال دیا۔ تمام سیاسی جماعتوں کی یہی کوشش رہی ہے کہ وہ ایسے ” الیکٹ ایبلز” امیداروں کو انتخابات میں اتاریں جو معاشی، سیاسی اور معاشرتی طور پر مضبوط شخصیات کے حامل ہوں۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنے منشور اورنظریات کو بالا طاق رکھتے ہیں موروثی سیاست کے تمام بتوں کو گلوں میں ہار پہنا کر ”ویل کم” کرتے ہوئے اپنی پارٹی میں جگہ دی۔

ماضی میں پیپلز پارٹی موروثیت کے خلاف بڑی سیاسی آواز۔ ۔ ۔ آج خود اس کی مرض کا شکار ہے:

2018 کے حالیہ ہونے والے الیکشن میں زردای بھٹو خاندان کے پانچ افراد قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگے گئے۔ سابق صدر آصف علی زردای کے صاحبزادے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کی دو سیٹوں لاڑکانہ اور لیاری سے، آصف زرداری کے بہنوئی میر منور تالپور قومی اسمبلی میرپورخاص سے اور آصف زرداری کی بہن اور میر منور تالپور کی اہلیہ فریال تالپور صوبائی اسمبلی کی سیٹ لاڑکانہ سے، جبکہ آصف زرداری کی چھوٹی ہمشیرہ عذرا پیچوہو صوبائی اسمبلی نواب شاہ سے انتخاب میں شہریوں سے امیدوار ہیں۔

سیاست کے قدیم شہنشاہ سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور ان کی بیٹی نفیسہ شاہ بھی خاندانی سیاست کو پروان چڑھاتے ہوئے امیدوار کے طور پر الیکشن میں اترے گی۔ ٹھٹھہ سے شیرازی برادرن ایک قومی اور دو صوبائی اسمبلی کی نشتوں کیلئے عوام کی عدالت میں پیش ہونگے۔ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی خود قومی اسمبلی جبکہ ان کے تین بیٹے عبدالقادر گیلانی، موسٰی گیلانی اور مجتبی گیلانی کو صوبائی اسمبلی میں جانے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف قومی اسمبلی اور ان کے بھائی راجہ عمران اشرف صوبائی اسمبلی راولپنڈی سے انتخاب لڑے گئے۔ کے پی کے سے ارباب عالمگیر، ان کی اہلیہ عاصمہ عالمگیر اور ان کے بیٹے زک عالمگیر پی پی پی کے ٹکٹ پر پنجہ آزما ہونگے۔

آصف علی زردای کے سابق ناراض دوست ذوالفقارمرزا، ان کی اہلیہ فہمیدہ مرزااوربیٹے حسنین مرزابدین سے انتخابات میں اتریں گئے

مسلم لیگ کے ہر مشکل دور میں فصلی بیٹرے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں:

حالیہ پانا کیس کے فیصلے کے بعد سابقہ دُور کی طاقتور جماعت مسلم لیگ اندرونی انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی اوراس کی حالت جنرل مشرف کے دوُر سے مختلف دیکھائی نہیں دیتی۔ حکومت کے ختم ہونے کے ساتھ ان کے قومی و صوبائی کے ممبران چڑیوں کے غول کی طرح ایک مرتبہ پھر ساتھ چھوڑ گئے اور اُڑ کر دوسرے ڈاروں کے ساتھ جا بیٹھے ہیں۔ کئی ممبران نے پارٹی ٹکٹ کو واپس کر کے آزاد حیثیت سے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلم لیگ کے کئی پرانے اور درینہ نظریاتی ممبران بھی میاں نواز شریف کو چھوڑ کر پی ٹی آئی کی چھتری کے نیچے کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ چند نظریاتی کارکن کے سوائے باقی سب تھالی کے بینگ کی مانند پلٹ گئے ہیں۔

ن لیگ جانتی ہے الیکشن کیسے لڑنا ہے۔۔۔شہزاد سلیم عباسی

ہر ا لیکشن کی طرح اس مرتبہ بھی مسلم لیگ (ن) میں شریف فیملی کے ممبران کے ساتھ خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی، رانا تنویر، رانا افضل، خواجہ سلمان رفیق اور ان کی فیملی کے کئی افراد کو ٹکٹ جاری کر دئیے گئے ہیں۔ راولپنڈی سے مسلم لیگ کے پرانے سیاستدان موجودہ سینٹر چوہدری تنویر خان کے بڑے بیٹے چوہدری دانیال قومی اسمبلی، چھوٹے بیٹے اسامہ تنویر صوبائی اسمبلی اور دو بھتیجے ملک یاسر اور چوہدری سرافضل صوبائی اسمبلی سے الیکشن میں اپنی قسمت آزمائیں گئے۔ راولپنڈی سے ملک ابرار احمد قومی اسمبلی اور ان کے بھائی ملک افتخار صوبائی اسمبلی سے امیداوار ہیں۔ فیصل آباد سے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سابقہ وفاقی وزیر رانا افضل قومی اسمبلی اور ان کی اہلیہ متحرمہ نجمہ افضل صوبائی اسمبلی کی امیدوار ہیں۔

مسلم لیگ کو سب سے بڑا دھچکا چوہدری نثار علی خان کو ناراض کر کے ملا ہے۔ ماضی میں جب کبھی پارٹی پر مشکل دور آیا وہ ہرگٹھن اور تکلیف دے لمحات میں سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہے۔ چوہدری نثار علی خان کی وفاداری، ایمانداری اور دیانتداری کے باعث تمام پارٹیوں کی خواہش رہی کہ وہ ان کی پارٹی پر الیکشن لڑیں اور پی ٹی آئی نے متعدد بار کئی آفر بھی کیں لیکن انھوں نے اپنے آپ کو جدی پشتی مسلم لیگی ہونے کا علم اٹھاتے ہوئے آزاد حیثیت سے الیکشن میں اترنے کا فیصلہ کیا۔

پی ٹی آئی نے اپنے نظریات و اصولوں کو بالا طاق رکھتے ہوئے سیاسی ریس کا روایتی انتخاب کیا:

تبدیلی کی دعویدار پی آئی ٹی نے پورے ملک سے قومی اسمبلی کے لئے178 نمائندوں کو ٹکٹ جاری کیا جن میں بڑی تعداد میں پارٹی رہنماؤں کے قریبی رشتے دار کے ساتھ ساتھ دیگر بڑی جماعتوں سے آئے ہوئے افراد کی ہے۔ تحریکِ انصاف کی داغ بیل کا نعرہ، تبدیلی اور انقلاب کا ہے مگر ہوا وہی ہے، جن پرانے اور نظریاتی ورکرز نے پی ٹی آئی کو اپنا لہو دیا، انہیں سائیڈ لائن کر دیا گیا یا وہ مجبوراً پارٹی سے علیحدہ ہوگئے۔ سیاسی کلین اپ لانڈری میں ڈرائی کلین ہونے کے بعد یہ پرانی بدبودار پوستینیں (مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم سمیت دیگر جماعتوں سے آئے ہوئے افراد)کو پارٹی میں اہمیت دی گئی اور آج ان کی بڑی تعداد پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے بلے کے نشان لئے کر عوام کے سامنے کھڑی ہیں۔ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اُسی وقت یہ نظام کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں جب تک ان کی خود کی نیت اور طبیعت دونوں ٹھیک نہ ہوں۔

مسلم لیگ (ق) نے پی ٹی آئی سے سیٹ ایڈجسمٹ کر لی ہے جس کے بعد چورہدری فیملز کے تمام چشم وچراغ کو اپنی کامیابی یقینی نظرآرہی ہے۔ چوہدری پرویز الہی، مونس الہی، اور چوہدری فیملز کے افراد گجرات سے الیکشن میں اپنی قسمت آزمانے کے لئے عوام کے سامنے پیش ہو نگے۔ اس ساری صورت پر پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت سخت مایوس اور نا خوش ہے۔

جے یو آئی (ف):متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے مولانا فضل الرحمان نے اپنے خاندان کے 6 افراد کو الیکشن میں ٹکٹ دلوایا ہے جن میں مولانا فضل الرحمن تین بھائیوں اور بیٹے سمیت قریبی رشتے دار خواتین انتخابی میدان میں پنجہ آزما ہونگے۔ مولانا فضل الرحمان کے بھائی مولانا عطا الرحمن پہلے ہی سینیٹر ہیں۔ مولانا فضل الرحمن قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 38 ڈیرہ ون اور این این 39 ڈیرہ ٹو سے جبکہ ان کے بیٹے مولانا اسد محمود این اے 37 ٹا نک سے ایم ایم اے کے امیدوار ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے بھائیوں میں مولانا لطف الرحمن ڈیرہ اسماعیل خان کے صوبائی حلقہ پی کے 98 پرجبکہ دوسرے بھائی مولانا عبید الرحمن پی کے 99 کلاچی سے ایم ایم اے کے ٹکٹ پرانتخاب لڑ رہے ہیں۔

اے این پی:اے این پی جو امن کی علمبردار ہے اس کی سیاست کے اندربے پناہ قربانیاں ہیں حالیہ افسوس ناک واقعہ نے کے پی کے کی فضا کو سوگوار کر دیا ہے۔ موجودہ الیکشن میں اسفند یاولی قومی اسمبلی ان کے بیٹے ایمل خان صوبائی اسمبلی جبکہ ان کے حیدد ہوتی قومی اور صوبائی اسمبلی دونوں حلقے سے اے۔ این۔ پی کے نشان سے الیکشن میں حصے لے رہیں ہیں۔

الیکشن مہم میں عام طور یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ صرف وہ نمائندگان ہی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں جن کے پاس نوٹوں کی بوریوں موجود ہوں۔ کیوں کہ ہماری سیاسی پارٹیاں اور جماعتیں غریب، فھکرُے اور پھکّڑ افراد کو ٹکٹ نہیں دتیں کیوں کہ ان کو نہ کوئی تجویز کنندہ ملتا ہے اور نہ ہی کوئی تائید کنندہ۔ اگروہ اپنے ذاتی تعلقات کے زور پراس کا بندوبست کر بھی لیا تو ریٹرننگ افسر کے دفتر تک قافلے اور جلوس کی شکل میں جانے کے لیے افراد اور گاڑیوں کا انتظام کہا ں سے کرے۔ الیکشن مہم کے دوران ووٹز کو پرچیاں دینے، نعرے لگوانے، ہینڈبل، پوسٹرز، پینا فلیکس، ہورڈنگ، جھنڈے، ٹوپیاں، بیجز، کھانے کا انتظامات، ووٹرز کو پولنگ بوتھ میں لئے جانے کے لئے گاڑیوں کا بندوبست، پولنگ ڈے کے لیے شامیانے اور آخر میں دھاندلی کے ایکسپرٹ ایجنٹ کا بندوبست کیسے کرے۔ آج بھی الیکشن کا سیلوگن ” ایک لگاؤ اور دس بناؤ۔ ۔ ۔ خود بھی کھاؤ اور اوپر بھی پہنچاؤ ”۔ الیکشن جیتنے کے لیے امیدوار کتنے بڑے بڑے دعو ے وعید کرتے ہیں اور کامیابی کے بعد اگر کہیں مل بھی جائے تو رفو چکر ”توں کون اور میں کون”۔ ماضی کے اسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں بڑی سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت کی ایسی ہی درخشاں اصول کارفرما رہیں۔

ہر الیکشن کچھ کہتا ہے۔۔۔رعایت اللہ فاروقی

اس میں کوئی شک و شبے نہیں ملک کی بقاء صرف جمہوریت کے دم سے ہے اور جمہوریت کا واحد راستہ صرف صاف شفاف انتخابات ہیں اس کے لئے الیکشن کمیشن ایسے قانون و قواعدوضع کرے جن میں تمام امیدواروں کا انتخاب سیاسی بالا طاق سے ہٹ کر میرٹ کی بنیاد پر ہوا۔ الیکشن کی اولین ذمہ داری ہے کہ الیکشن کے تمام امیدواروں کو اچھی جانچے و پرکھنے کے بعد الیکشن کااجازت نامہ جاری کیا جائے کیونکہ ہماری سیاسی پارٹیوں کے اندر کوئی سکونٹی کا کوئی عمل سرے سے رائج ہی نہیں کیا جس کے ذریعے سے سزا یافتہ، قرضہ مافیا، چور اور کرپٹ افراد کو روکا جائے۔ ایسے میں صرف الیکشن کمیشن ایک واحد مجاز ادارے ہے جو اہر امیدوار کے کردار، گفتار اور روزگار کے تمام معلامات کو اچھی طرح چیک کرنے کے بعد اہلیت کا سرٹیفکیٹ جاری کرے تاکہ الیکشن میں منتخب ہونے کے بعد عوام، قوم اور عدالت کا وقت ا ور پیشہ ضائع نہ ہواور کرپٹ مافیا اور اشخاص کا راستہ روکا جا سکے۔

جو قومیں اور سیاسی پارٹیاں جمہوریت کے اصل مقاصد اور معانی جانتے ہیں اور اسے نافذ عمل کرنا چاہتے ہیں ان کی اولین ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو جمہوریت کی اصل روح کا صحیح اور واضح مطلب بتائیں۔ ماضی ادوار میں پاکستان کے اندر جمہوریت کے نام پر جو کھیلواڑ ہوتا رہا ہے اس کا جمہوری اقدار سے کوئی تعلق نہیں۔ تاریخ ادوا میں ایسی جمہوریت نتائج کے اعتبار سے آمریت اور بادشاہت کی برترین مثالیں تصور کی جاتی ہیں۔

الیکشن 2018 میں ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے ضمیر کی آواز کو جاگتے ہوئے تمام روایتی اور موروثی سیاست کے علمبرداروں کو ووٹ کی طاقت سے سسٹم سے آوٹ کر دیں۔ ۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ارض پاکستان کو نیک صالح و باکردار اور اصول پسند قیادت نصیب فرمائیں۔

بشکریہ سخن کدہ

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *