• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سانحہ پشاور، دہشتگردی ختم کیوں نہیں ہو رہی؟۔۔۔۔تصور حسین شہزاد

سانحہ پشاور، دہشتگردی ختم کیوں نہیں ہو رہی؟۔۔۔۔تصور حسین شہزاد

آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کی ’’کامیابی‘‘ کے باوجود دہشتگردی کا عفریت ہے کہ قابو میں ہی نہیں آرہا۔ پشاور میں اے این پی کے جلسے میں جو کچھ ہوا، یہ آپریشنز پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انتخابات سے 2 ہفتے قبل یہ سانحہ اس بات کا انتباہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی سرگرمیاں اب بھی انتہا پسند گروہوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہیں۔ 2013ء کے انتخابات میں پاکستان تحریک طالبان نے عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو انتخابی مہم نہیں چلانے دی تھی۔ ان انتخابات میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کی ناکامی کی وجہ عام طور پر حکومت کے دوران ان پارٹیوں کی خراب کارکردگی کو سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن طالبان کی دھمکیوں اور حملوں کو بھی اس سیاسی ناکامی کی اہم وجہ کہا جا سکتا ہے۔ جب نام نہاد آزادانہ اور شفاف انتخابات کے دوران ایک دہشتگرد گروہ چند ایسی سیاسی جماعتوں کو جو ان کے ایجنڈے کو مسترد کرتی ہوں اور انتہا پسندی کیخلاف مؤثر اور طاقتور آواز کی حیثیت رکھتی ہوں، عوامی رابطہ مہم چلانے، جلسے منعقد کرنے اور اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے حق سے محروم کرنے میں کامیاب ہوگا تو ان انتخابات کو آزادانہ کہنا درست نہیں ہوسکتا۔ یہ صورتحال افسوسناک ہے کہ پاکستان کا سیاسی ایجنڈا سیاسی جماعتوں کی بجائے ایک دہشت گرد گروہ طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ملک کے سکیورٹی ادارے ان عناصر کا سر کچلنے کے دعوے کرنے کے باوجود پرامن فضا پیدا کرنے اور دہشتگردوں کو غیر مؤثر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

تحریک کشمیر کو عالمی دہشت گردی سے جوڑنا کتنا صحیح ہے؟۔۔۔افتخار گیلانی

ہارون بلور اور ان کے 20 کارکنوں کی شہادت کا سانحہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی اس پریس کانفرنس کے ایک روز بعد رونما ہؤا ہے، جس میں انہوں نے ملک میں پُرامن انتخابات کے انعقاد کیلئے فوج کی منصوبہ بندی کی تفصیلات بتائی تھیں۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہیں ہونا چاہئے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے ایک سیاسی اجتماع پر تحریک طالبان پاکستان کا حملہ صرف ملک کی ایک سیاسی قوت کو خوفزدہ کرنے ہی کی کوشش نہیں بلکہ یہ ملک کے عسکری اداروں کیلئے بھی وارننگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تمام تر دعوؤں اور اعلانات کے باوجود ملک میں سکیورٹی کے حوالے سے اس وقت بھی وہی حالات ہیں جو 2013ء میں دیکھنے میں آئے تھے اور اب بھی دہشتگرد عناصر اپنی مرضی کی جگہ، وقت اور گروہ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انتخاب سے 2 ہفتے پہلے اس قسم کا سانحہ اس بات کا بھی انتباہ ہے کہ آنیوالے دنوں میں ایسے ہی مزید حملے بھی ممکن ہیں۔ پشاور سانحہ پر حکومت، سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی طرف سے افسوس اور مذمت کے پیغامات وصول ہوئے ہیں اور اے این پی کی قیادت نے پُرامن طور سے سوگ منانے اور انتخاب میں بھرپور حصہ لینے کا اعلان بھی کیا ہے، لیکن اس حوالے سے یہ دیکھنا ہوگا کہ دہشتگردوں نے ملک کی ایک ترقی پسند جماعت کو ہی کیوں نشانہ بنایا ہے۔ اس حملہ سے صرف انتشار پیدا کرنا مقصود ہے یا اس طرح دہشتگردی میں ملوث عناصر پاکستان جیسے اہم ملک کا سیاسی ایجنڈا طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اگر تحریک طالبان پاکستان اس حملہ یا ایسے ہی مزید بزدلانہ واقعات کی وجہ سے انتخابات کو ملتوی کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے یا ایک خاص سوچ اور مزاج کی سیاسی پارٹیوں کیلئے میدان ہموار کرنے کا سبب بنتی ہے تو نگران حکومت، الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ یا فوج کے ان اعلانات کی کیا حیثیت رہ جائے گی کہ انتخابات منصفانہ اور شفاف ہوں گے۔ کوئی انتخاب اس وقت تک نہ شفاف ہوسکتا ہے اور نہ ہی اسے منصفانہ کہا جا سکتا ہے، اگر ایک خاص گروہ مخصوص سیاسی قوتوں کو روکنے اور ان کا عوامی رابطہ منقطع کروانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ریاست کے اداروں کو پشاور میں ہونیوالے حملہ کو عام حملہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ یہ خودکش حملہ ایک چھوٹے سیاسی اجتماع پر ضرور ہؤا ہے، لیکن اس کا سیاسی پیغام واضح اور دو ٹوک ہے کہ ملک میں مذہبی انتہا پسندی کی بنیاد پر لوگوں کو ہلاک اور تباہ کرنیوالے عناصر اپنی مرضی کی حکومت یا نظام کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ منگل کی رات کو پشاور میں حملہ پر صرف مذمت یا سینہ کوبی کافی نہیں۔ نہ ہی معمول کے مطابق جے آئی ٹی بنانے، تحقیقات کرنے اور افغانستان میں بیٹھے عناصر کی طرف انگلی اٹھا دینے سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ یہ حملہ تقاضا کرتا ہے کہ پوری قوم جن میں عام لوگوں کے علاوہ سیاسی جماعتیں اور ریاست کے اہم ادارے شامل ہیں، ان عوامل پر غور کریں جو یہ صورتحال پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور زنانہ دہشت گردی کی روایت۔۔رشید یوسفزئی

پاک فوج کی مسلسل جنگ اور جانی و مالی قربانیوں کے باوجود دہشتگرد عناصر حملے کرنے اور خوف پھیلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ دلیل قابل قبول نہیں کہ ملک میں پہلے کے مقابلے میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جب تک ایک شہری بھی بلااشتعال حملہ میں ہلاک ہوتا ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ نہ ختم ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس میں کامیابی کے دعوؤں کو قبول کیا جا سکتا ہے۔ اگر ٹی ٹی پی کے عناصر اب بھی ملک میں حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو صرف یہ وضاحت کافی نہیں ہوسکتی کہ یہ لوگ افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور بھارت کی ایجنسیاں پاکستان میں تخریب کاری کیلئے ان کی مدد کرتی ہیں۔ یہ وہی مؤقف ہوگا جو امریکہ افغانستان میں دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کیخلاف اختیار کرتا ہے۔ اگر امریکی افواج افغان عسکری اداروں کیساتھ مل کر افغانستان کی سرزمین کو محفوظ بنانے کے مقصد میں کامیاب ہو جاتیں تو انہیں پاکستانی افواج پر شبہ کا اظہار کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔ لیکن وہ چونکہ افغانستان میں طالبان کی قوت کو کم کرنے اور ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے میں ناکام ہیں، اس لئے عذر کے طور پر پاکستان پر الزام لگا کر خفت مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح اگر تحریک طالبان پاکستان کے کچھ عناصر افغانستان میں موجود ہیں اور وہ وہاں سے پاکستان میں حملے کروانے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں تو پاکستان کیوں اپنے علاقوں میں ان عناصر کا خاتمہ کرنے میں ناکام ہے، جو دہشتگردوں کا آلہ کار بن کر اس منصوبہ بندی کا حصہ بن جاتے ہیں۔

اس کی سادہ اور قابل فہم وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اور ادارے ملک میں مذہبی انتہا پسندی کیخلاف فضا بنانے اور مذہب کی بنیاد پر تعصب، نفرت اور دہشت کا پرچار کرنیوالے عناصر سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرنے اور بلاتخصیص ہر قسم کے مذہبی انتہا پسند یا دہشتگرد گروہوں کیخلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں سے لے کر ریاستی اداروں تک اپنی حکمت عملی یا ضرورتوں کے تحت کسی نہ کسی طرح مذہب کے نام پر شدت پسندی کا پرچار اور مظاہرہ کرنیوالے گروہوں کے ساتھ راہ و رسم رکھتے ہیں۔ پاکستان میں 25 جولائی کو منعقد ہونیوالے انتخابات میں متعدد ایسے گروہ حصہ لے رہے ہیں، جو براہ راست یا بالواسطہ مذہبی تشدد میں ملوث رہے ہیں یا اس کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ کسی نہ کسی عذر پر انتخاب میں حصہ لینے اور اپنے انتہا پسندانہ ایجنڈے کیلئے تائید و حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ عوام نے اکثر و بیشتر ایسے عناصر کو انتخابات میں شکست سے دوچار کیا ہے۔ اس بار بھی کسی بھی انتخابی جائزے میں یہ نشاندہی نہیں کی گئی کہ جماعت الدعوۃ، لبیک تحریک یا اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ) جیسے انتہا پسند گروہ کوئی خاص کامیابی سمیٹ سکیں گے۔ اس کے باوجود حیرت کی بات ہے کہ عوام جن گروہوں کو مسترد کرتے ہیں، انہیں سیاسی اور ادارہ جاتی سطح پر سرپرستی اور حمایت میسر آتی ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *