قلعہ جنگی پر ایک نظر

"قلعہ جنگی" پر ایک نظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : ایم اکرام الحق

مستنصر حسین تارڑ کے ناول قلعہ جنگی پر تفصیلی تبصرے کے ساتھ حاضر ہوں ۔ امید کے اس تحریر کے مطالعہ کے بعد احباب اس ناول کی اہمیت کو مزید بہتر جان پائیں گے۔
خیر اندیش : ایم اکرام الحق
ناول "قلعہ جنگی" مستنصر حسین تارڑ کا لکھا ہوا ناول ہے ۔ یہ ناول افغانستان پر اتحادی افواج کی یلغار کے ردعمل میں ہونے والی قتل و غارت کے بعد منظر عام پر آیا کہ جہاں مسلمان ہی مسلمان کا گلا دبا رہے تھے ۔ یہی کچھ قلعہ جنگی کے ساتھ ہوا۔ شمالی افغانستان کے مشہور اور مقدس شہر مزار شریف سے کچھ فاصلے پر اٹھارویں صدی میں بنے ہوئے اس قلعے میں 25 نومبر سے یکم دسمبر 2001ء کے سات دنوں میں یہاں خون کے دریا بہہ گئے۔ دونوں طرف کلمہ گو، دونوں طرف شہیدوں کی قطار اور ان کی لاشوں کے انبار، ہوا یوں کہ قندوز میں شمالی اتحاد کے نام دار جنرل رشید دوستم کے سامنے حریف لڑاکوں نے ہتھیار ڈالے تو ان میں پاکستانی، افغان، عرب ، چیچن جنگجو سب ہی شامل تھے۔ پشت پر بندھے ہوئے ہاتھوں والے یہ قیدی قلعہ جنگی لائے گئے۔ ان سے تفتیش شروع ہوئی اور اسی دوران بعض قیدی جنھوں نے اپنی گھیردار شلواروں میں ابھی تک اسلحہ چھپا رکھا تھا انھوں نے پوچھ گچھ کی ذلت سے برافروختہ ہو کر کچھ ہینڈ گرینڈ اچھال دیے اور عین اسی وقت جوش ایمانی سے چھلکتے ہوئے کسی نوجوان نے قمیص میں چھپائی ہوئی کلاشنکوف کا برسٹ بھی مار دیا۔ لیجیے، آن کی آن میں بغاوت برپا ہو گئی۔ ایسی بغاوت کہ سات دنوں اور سات راتوں پر محیط تھی جس میں خون کے دریا بہہ گئے۔ چند سو سرپھروں کی یہ بغاوت جب کچلی نہ جا سکی تو جنرل رشید دوستم نے ’’مائی باپ‘‘ کو دہائی دی۔ وہ آئے اور انھوں نے بلندیوں سے چند ڈیزی کٹر گرائے اور چلے گئے۔ یہ مائی باپ بھی عجب سفاکانہ حسِ مزاح رکھتے ہیں۔ تجرباتی طور پر جاپان کے نہتے شہریوں پر ایٹم بم گرائیں تو اسے ’’لٹل بوائے‘‘ کا نام دیتے ہیں اور اگر ڈیزی کٹر، کا نام پڑھئے تو تباہی و بربادی کا ایک سفاک سلسلہ۔۔ حقیقت یہ ہے کہ جب یہ بم پھٹتا ہے تو ہر مربع انچ پر ایک ہزار پونڈ کا وزن ڈالتا ہے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب یہ گرایا جاتا ہو گا اور پھٹتا ہو گا تو آبادیوں اور انسانوں پر کیا گزرتی ہو گی۔ نیست و نابود ہو جانے کے ایسے مناظر جو انسانوں نے نہ پہلے دیکھے نہ سنے۔ اسی لیے اسے ’’منی ایٹم بم‘‘ کہتے ہیں۔
شمالی افغانستان کے مشہور اور مقدس شہر مزار شریف سے کچھ فاصلے پر اٹھارویں صدی میں بنے ہوئے "قلعہ جنگی" میں 25 نومبر سے یکم دسمبر 2001ء کے سات دنوں میں یہاں خون کے دریا بہہ گئے۔ دونوں طرف کلمہ گو، دونوں طرف شہیدوں کی قطار اور ان کی لاشوں کے انبار گرتے رہے ۔بعدازاں اتحادی افواج کے ڈیزی کٹر بموں نے قلعہ جنگی میں موت کی چادر پھیلادی اور ایک بہت بڑی تباہی پھیلانے کا باعث ہوئے۔ اس کی منفرد عکاسی کرتے ہوئے مستنصر حسین تارڑ کے اس ناول کا عنوان بھی قلعہ جنگی ہے ۔
اس ناول میں مردار گھوڑا کھانے کا بھی تفصیلی ذکر موجود ہے ۔ مردہ گھوڑا جو حلال نہیں تھا ، اس ناول کے موت کی طرف جاتے ہوئے کردار اس مردہ گھوڑے کو کھا کر اپنی سانسوں کی محلت کو تھوڑا بڑھانے کی طرف کوشاں نظر آتے ہیں ۔ گھوڑا جو حلال نہیں، بھوک اس سے ان کا رشتہ قائم کرتی ہے اور وہ نو مسلم امریکی جو ایک خواب کی ڈور سے بندھا ہوا قندوز اور قلعہ جنگی چلا آیا تھا، بھوک جس کی انتڑیاں چباتی تھی لیکن وہ مرتے مرتے بھی گھوڑے کے پارچے سے توانائی کشید کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ گھوڑا میری ماں ہے میں اسے کیسے کھا سکتا ہوں۔ اور جب لحظہ لحظہ جان سے گزرتے ہوئے اس کے دوست اسے گھوڑے کا گوشت کھلانے پر مصر رہتے ہیں تو وہ چیخ پڑتا ہے۔ یہ ان کا صحیفہ الم ہے جو اپنی اپنی پُر آسائش دنیائیں ترک کر کے ایک عظیم برادری کے تصور سے بندھے ہوئے درد، اذیت، بھوک پیاس اور اپنی ہی غلاظت کی دلدل میں اتر گئے تھے اور پھر بھی انھیں پچھتاوا نہ تھا۔
مستنصر حسین تارڑ کے ناول ’’قلعہ جنگی‘‘ میں یوں تو کافی زیادہ کردار ہیں مگر اس میں انھوں نے ان سات دوستوں کا قصۂ درد لکھا ہے جن میں کوئی پاکستانی تھا، کوئی نو مسلم امریکی، عرب، افغان، چیچن، برطانوی۔ انھوں نے شہرت یافتہ وار لارڈ رشید دوستم کے سپاہیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے، پھر وہ قلعہ جنگی لائے گئے اور یہاں وہ بغاوت ہوئی جس نے سیکڑوں کو خاک میں ملا دیا۔ قلعہ جنگی کی وسعت میں سربریدہ لاشیں رہ گئیں۔ کٹے ہوئے بازو اور ٹکڑے ہوجانے والی ٹانگیں رہ گئیں۔ بس وہ سات ساتھی بچے تھے جو قلعہ کے تہ خانے میں جا چھپے تھے۔ ڈیزی کٹر اور کلسٹر بموں کے فولادی ٹکڑوں کو اپنے بدن میں سمیٹے ہوئے، اذیت کے جھولوں میں جھولتے ہوئے، بھوک اور پیاس کو اپنے معدوں اور حلق میں سمیٹے ہوئے، ہر خستہ تن دوسرے ستم رسیدہ کو تسلی دیتا ہوا۔ یہ ان لوگوں کی داستان درد ہے جن سے اکثریت نفرت کرتی ہے۔ دہشت گرد کہتی ہے لیکن معاملے کو ان کی نگاہوں سے بھی دیکھنا چاہیے اور یہ کام مستنصر صاحب نے بہت درد مندی سے کیا ہے۔ ان میں سے کوئی دولت و ثروت چھوڑ کر آیا ہے، کسی نے اپنی اعلیٰ تعلیم کو تہہ کر کے طاقِ نسیاں پر رکھ دیا ہے، کوئی جہاد افغانستان کی کھیتی کاٹنے والے جرنیل کا بیٹا ہے اور کسی کی دادی کو چیچنا کے امام شامل نے بشارت دی تھی کہ وہ جائے اور راہ خدا میں اپنی جان دیدے۔
اس ناول کے ان معروف کرداروں کا کچھ تفصیلی ذکر ہوجائے تاکہ آپ ان کرداروں کے ذریعے بھی اس ناول کی اہمیت کو کچھ جان پائیں ۔
اللہ بخش ، گل شیر ولی ، جانی۔ جان واکر عبدالحمید سلمان الفارسی ، ہاشم میر ، عبدالوہاب آل غامدی ، ابو طالب چی چی ، گل شیر ولی ، مرتضی اس ناول کے مشہور کردار ہیں ۔
اللہ بخش پنجاب کا ایک دیہاتی کردار ہے جس کا تعلق نچلے طبقات سے ہے ۔ وہ گاوں کا ایک میراثی ہے جو کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ اس کردار کے ذریعے دیہات کے کمی کمین طبقات اور ان کی حیثیت کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے۔ دیہات میں کمی کمین طبقے میں جو احسان محرومی پایا جاتا ہے اس کی بھی بھرپور طور پر عکاسی نظر آتی ہے۔ اللہ بخش کی گاوں میں تو کوئی عزت نہ تھی لیکن جب وہ غربت کی مجبوری کے ہاتھوں درس تک جا پہنچا اور وہاں ناصرف اس کو خوراک اور وسائل دستیاب تھے بلکہ اس کو عزت سے پکارتے تھے۔
گل شیر ولی شمالی علاقہ جات کا ایک پٹھان کردار ہے۔ اس کا تعلق دیر سے ہے اور وہ ایک غریب باپ کا بیٹا ہے اس کا باپ نواب لوگوں کے گھوڑوں کی لید صاف کرتا تھا ۔ گل شیر ولی لوگ چھ بہن بھائی تھے اور غربت کی وجہ سے بہت برے حالات سے دوچار تھے ۔
عبدالحمید ایک امریکی کردار ہے جو ایک یہودی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا پہلا نام جانی واکر ہے ۔ ناول میں بھی اس کا نام جانی ہی زیادہ استعمال ہوا ہے۔ وہ جدید امریکی معاشرے کا ایک فرد ہے اور اس کے باپ اور اس کے درمیان مذہب کی تبدیلی کے وقت اور بعدازاں اس کے طالبان سے رابطے کے وقت بہت دلچسپ مکالمہ ہوتا ہے جو اس ناول کا حصہ ہے ۔ جانی واکر اور اس کے والد کی گفتگو کے دوران مشہور انقلابی کردار ارنسٹو چے گویرا کا بھی ذکر آتا ہے جو ایک کامیاب انقلاب کے بعد کیوبا کا نائب صدر بن گیا تھا لیکن اس نے بولیویا میں جو بے عزت اور بے وجہ لوگ پریشان کیے گئے تھے اس کے خلاف بغاوت کردی تھی۔ یورپ اور امریکہ کی اس عہد کی نوجوان نسل کا وہ ہیرو تھا ۔
عبدالوہاب ایک ایسا کردار ہے جس کا تعلق آل سعود سے ظاہر کیا گیا ہے۔ وہ کوئی عام آدمی نہیں ہے ۔ بہت زیادہ تعلیم یافتہ ہے۔ اس نے کیمبرج سے علم الانسان کی ڈگری نمایاں پوزیشن میں حاصل کی تھی ۔اگرچہ وہ ایک امیر کبیر سعودی خاندان کا چشم و چراغ ہے لیکن وہ اتنا ذہین اور منفرد ہے کہ اس کے کیمبرج کے پروفیسر اس کے سعودی نزاد ہونے پر شک کرتے تھے ۔وہ جس خاندان سے تھا اس خاندان کے کسی سپوت کا اس قدر تعلیم یافتہ ہونے کا یقین کرنا مشکل تھا۔
ابو طالب چی چی کا تعلق چیچنیا سے تھا اور اس کو اس کی دادی نفیسہ خاتون نے پالا تھا۔ ابوطالب کو بھی حالات و واقعات اس مقام تک لے آئے تھے کہ وہ بھی آج اس قلعے میں قید تھا ۔
ہاشم میر کا تعلق برطانیہ سے تھا وہ میر پور سے وہاں پہنچنے والے ایک مسلمان خاندان کی اولاد تھا جن کو برطانیہ میں تمام مراعات حاصل تھیں ۔
مرتضی بیگ ایک پاکستانی ریٹائرڈ جنرل کا بیٹا تھا اور اس کو زندگی کی سب مراعات حاصل تھیں ۔ وہ پاکستان کی ایلیٹ کلاس کا ایک فرد تھا اور سب کچھ شوق اور ذوق سے کرتا تھا ۔دنیا بھر کی سب عیاشیاں اور آسائشیں اس کو ورثے میں ملی تھیں اور وہ زندگی کو اس کے تمام تر جوبن اور اہتمام کے ساتھ گزارنے کا عادی ہو چکا تھا ۔
اس ناول "قلعہ جنگی" کا انتساب بھی اپنے اندر بہت کچھ سمیٹے ہوئے ہے اور تارڑ نے اس انتساب کے ذریعے سوئی ہوئی انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔ مستنصر لکھتے ہیں ، "ان افغان بچوں کے نام جو بارودی سرنگوں کا شکار ہو کر اپاہج ہو گئے اور جو کسی فٹ بال میچ میں کھلاڑی نہیں ہو سکتے صرف گول کیپر ہو سکتے ہیں ۔"
جانی واکر کا اپنے یہودی والد کے ساتھ بھی اس ناول کا بہت اہم حصہ ہے ۔ جانی کہتا ہے ،
"ہر عقیدہ ایک برین واشنگ ہی تو ہوتی ہے ڈیڈی۔۔۔ اگر ایسا نہ ہو تو مذہبی تاریخ میں کوئی نیا عقیدہ کبھی قبول نہ کیا جائے۔۔ موسی علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام نے بھی یہی کیا اور پھر ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی جو گزشتہ خیال اور بت تھے انہیں ذہنوں سے واش کرکے نئے خیال اور نئی سوچ کو داخل کیا ۔۔ تو ممی بالکل درست کہتی ہیں کہ میری برین واشنگ ہو چکی ہے ورنہ میں ایسا تو نہ تھا ۔۔ سوال یہ ہے کہ میں ویسا رہنا نہیں چاہتا تھا اس لیے ایسا ہو گیا ہوں۔"
جانی کا باپ طالبان کے بارے میں بات کرتے ہوئے بہت سے اہم اور درست حقائق کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ وہی حقائق ہیں کہ جن پر بہت سے سوالات اٹھتے رہے ہیں ۔
"تم ان جاہل اور وحشی ملاوں کا ساتھ دینے جارہے ہو جنہوں نے افغانستان کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا ہے جانی ۔۔۔۔ جہاں رباب بجانا جرم ہے ۔۔۔ فٹ بال کے نوجوان کھلاڑیوں کے سر مونڈھ دئیے جاتے ہیں کیونکہ وہ نیکریں پہن کر کھیل رہے ہوتے ہیں اور یوں ان کی ٹانگیں دیکھ کر ملاوں کے ایمان خراب ہوتے ہیں ۔۔۔ تمام عورتوں کو برقعوں میں دفن کردیا گیا ہے اور بچیاں سکول نہیں جا سکتیں ۔۔ ہسپتالوں میں لیڈی ڈاکٹروں کو جواب دے دیا گیا ہے اور وہ برقعہ اوڑھے کابل کی گلیوں میں بھیک مانگتی ہیں۔۔ مردوں کی داڑھیاں مٹھیوں میں بھینچ کر ناپی جاتی ہیں اور اگر ان کے بال مٹھی سے باہر نہ لٹکیں تو انہیں بید مارے جاتے ہیں۔۔۔ کسی عورت کے اگر ٹخنے نظر آجائیں تو اسے سر بازار رسوا کیا جاتا ہے ۔۔ گالیاں دی جاتی ہیں اور ٹخنوں پر بید رسید کیے جاتے ہیں ۔فوٹوگرافی کی بھی ممانعت ہے ۔ ٹیلی ویژن توڑ دیئے گئے ہیں۔۔۔ نہ صنعت ہے نہ تجارت ہے اور نہ تعلیم ہے ۔ "
اس ناول میں پنجاب کے دیہات میں کنویں کی کھدائی کی قدیم روایت کا بھی ذکر ہے جس میں پانی تک پہنچنے کے ساتھ ہی بونوں کے نکل آنے کا بھی ذکر موجود ہے۔ مستنصر نے کنویں کی کھدائی کے دوران بونوں کے نکل آنے کی اس روایت کا ذکر بعد میں اپنے ناول "خس و خاشاک زمانے" میں بھی بڑی تفصیل کے ساتھ کیا ہے ۔
2001ء تک افغانستان کے مشہور قلعہ جنگی میں پیش آنے والی صورتحال کا آنکھوں دیکھا حال تھا۔ ناول کی خاص بات وہ حقیقی مناظر ہیں جو طالبان قیدیوں کی مزاحمت اور شمالی اتحاد کے فوجیوں کی بربریت اور امریکی گولہ باری کے موقع پر موجود صحافیوں نے کیمرے میں قید کر لیے ۔ قلعہ جنگی کی اس "جنگ" میں شمالی اتحاد کے درجنوں فوجی اور طالبان کے 300 سے زائد جنگجو (سرکاری اعداد و شمار) مارے گئے جبکہ 10 امریکی و برطانوی فوجی زخمی بھی ہوئے جبکہ ایک امریکی سی آئی اے ایجنٹ بھی مارا گیا۔
حالانکہ وہاں موجود صحافیوں کا یہ کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی اور شاید صحیح تعداد کبھی بھی منظر عام پر نہ آسکے۔ ایک ہفتہ تک جاری رہنے والی اس مزاحمت کے بعد جو 80 طالبان گرفتار ہوئے ان میں امریکہ سے تعلق رکھنے والا جان واکر لِنڈھ بھی شامل تھا جس کا اسلامی نام حمزہ واکر جبکہ کوڈ نام سلیمان الفارس تھا۔ بہرحال اس واقع کا افسوسناک ترین پہلو یہ تھا کہ امریکی طالبان کے منظر عام پر آنے کے بعد وہ سینکڑوں ہلاکتیں پس منظر میں چلی گئیں اور اس قتل عام کی تحقیقات آج تک نہ ہو سکیں۔
جانی واکر قلعے میں قید ہے اور اس کے سامنے حقیقت کسی اور کردار کے ذریعے یوں بیان کی گئی ہے ،
"میں اس پر سوار ایک ہرے بھرے وسیع میدان کے بیچ سے گزر رہا ہوں۔ اس کی پیٹھ تھپک رہا ہوں اور وہ مجھ سے کہتا ہے۔ جانی اپنے آئیڈیل کے حصول کے لیے تمہاری نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا لیکن تم نے ابھی تک ٹھنڈے دل سے سوچا نہیں… جذبات میں بھڑکتے ادھر آ نکلے ہو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ تم ان کا ساتھ دے کر جہالت اور پس ماندگی کو فروغ دے رہے ہو۔ بے شک وہ نیت کے کھرے اور شفاف لوگ ہیں لیکن تم جانتے ہو کہ وہ پتھر کے زمانے کا ایک سماج قائم کر رہے ہیں جس میں تعلیم یافتہ عورتیں کابل میں بھیک مانگ رہی ہیں۔ بیوائیں گھر بیٹھی بھوکی مر رہی ہیں۔ کھلاڑی نیکریں نہ پہنیں کہ ان کی ٹانگوں کو دیکھ کر ان کا ایمان ڈگمگانے لگتا ہے۔ ریڈیو، ٹیلیویژن سب سے بڑے شیطان ہیں۔ ایک افراتفری اور بربادی ہے۔ کیا یہی تمہارا تصور کامل ہے؟ یہ کیسا جہاد ہے جس میں تمہارے مقابلے پر بھی تمہارے ہی عقیدے کے لوگ ہیں۔ یہ تم کیا کر رہے ہو؟‘‘
نزع کے عالم میں ایک کیفیت غربت کے مارے اس پاکستانی نوجوان پر گزرتی ہے جو کہتا ہے۔:
’’ جناب عالی میں کسی کو بتائے بغیر گھر سے نکلا اور مدرسے میں بھرتی ہو گیا۔ بڑی موج تھی۔ حیاتی میں پہلی بار تین وقت کی روٹی ملی۔ تین کپڑے اور چپل ملی۔ سونے کو چار پائی ملی اور ساتھ مفت میں دینی تعلیم بھی۔ میرے ساتھ جتنے تھے ان میں سے بیشتر مجھ ایسے ہی تھے۔ شہروں کے لڑکے بھی تھے جو اتنے غریب غربا تھے کہ اسکولوں کی فیسیں نہیں دے سکتے تھے۔ پر پڑھنے کا شوق تھا۔ یہاں تعلیم بھی ملتی تھی۔ کتابیں بھی ملتی تھیں اور سب سے بڑھ کر عزت ملتی تھی ورنہ شہر میں تو وہ بے عزت ہی رہتے تھے۔‘‘
اس اللہ بخش جیسے ہزاروں نہیں لاکھوں نوجوان ہماری حکومتوں نے اس طرف دھکیل دیے جہاں انھیں تین وقت پیٹ بھر کر کھانا ملتا تھا۔ پہننے کو دُھلے ہوئے کپڑے، پیر میں چپل اور آرام کے لیے چار پائی ملتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انھیں تعلیم اور کتابیں ملتی تھیں۔ آج مدرسوں کو دہشت گردوں کا ٹھکانہ کہنے والوں سے کوئی پوچھے کہ صاف کپڑے، پیٹ بھر کھانا، تعلیم اور کتابیں کیا صرف ہمارے بچوں کا حق ہے؟ ماشکی، مالشیے اور مزارعے کے بچوں کو اگر وہ اپنے ساتھ لے گئے تو ان بچوں سے اور ان کے ماں باپ سے شکایت کا ہمیں کیا حق ہے؟ ہم نے اس ملک کے وسائل کی شہ رگ میں خوں آشام قبیلے کی طرح اپنے دانت اتار دیے اور ان کے لیے لہو کی بوند نہیں چھوڑی، جن کی مشقت نے ہمیں دولت میں قارون اور بے مہار طاقت میں فرعون بنا دیا۔ آج جب وار تھیٹر میں آخری کھیل کھیلا جا رہا ہے، سب سے بلند آہنگ سوال اللہ بخش کا ہے، ہزاروں لاکھوں، اللہ بخش گلوگیر آواز میں یہ سوال ہم سب سے کر رہے ہیں جو مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں اور صبح و شام امن کی تسبیح گھماتے ہیں۔
وا علینا الا البلاغ ۔

Avatar
اکرام الحق
حال مقیم امریکا،آبائی تعلق ضلع گجرات،پاکستان۔ادب سے شغف۔وطن سے محبت ایمان۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”قلعہ جنگی پر ایک نظر

  1. تارڑ کا قلعہ جنگی
    زاہدہ حنا ہفتہ 8 مارچ 2014
    وہ 8 فروری 2014ء کا دن تھا جب کراچی کے ساحل پر کتابوں کا میلہ تھا، آنکھیں مشہور ادیبوں کی دید سے شاد ہو رہی تھیں۔ لبوں پر سمندری ہواؤں کے نمک کا ذائقہ تھا، میں گرم نان کے نوالے توڑتی تھی، جب مستنصر حسین تارڑ نے اپنا ناول ’’قلعہ جنگی‘‘ مجھے عنایت کیا اور میں نے کتابوں کے اپنے تھیلے میں اسے توشۂ خاص جان کر رکھ لیا۔ نام بہت جانا پہچانا تھا پھر اس کے ساتھ قندوز، مزار شریف اور شبرغان یاد آنے لگے۔ سالہا سال سے اخباروں، ٹیلی وژن چینلوں اور خبروں کی ترسیل کے دوسرے ذرائع سے واقعات کی یلغار کا وہ عالم ہے کہ بڑے سے بڑا سانحہ چند دنوں میں پرانا ہو جاتا ہے، بھلا دیا جاتا ہے۔ یہی کچھ قلعہ جنگی کے ساتھ ہوا۔ شمالی افغانستان کے مشہور اور مقدس شہر مزار شریف سے کچھ فاصلے پر اٹھارویں صدی میں بنے ہوئے اس قلعے میں 25 نومبر سے یکم دسمبر 2001ء کے سات دنوں میں یہاں خون کے دریا بہہ گئے۔ دونوں طرف کلمہ گو، دونوں طرف شہیدوں کی قطار اور ان کی لاشوں کے انبار، ہوا یوں کہ قندوز میں شمالی اتحاد کے نام دار جنرل رشید دوستم کے سامنے حریف لڑاکوں نے ہتھیار ڈالے تو ان میں پاکستانی، افغان، عرب ، چیچن جنگجو سب ہی شامل تھے۔

    پشت پر بندھے ہوئے ہاتھوں والے یہ قیدی قلعہ جنگی لائے گئے۔ ان سے تفتیش شروع ہوئی اور اسی دوران بعض قیدی جنھوں نے اپنی گھیردار شلواروں میں ابھی تک اسلحہ چھپا رکھا تھا انھوں نے پوچھ گچھ کی ذلت سے برافروختہ ہو کر کچھ ہینڈ گرینڈ اچھال دیے اور عین اسی وقت جوش ایمانی سے چھلکتے ہوئے کسی نوجوان نے قمیص میں چھپائی ہوئی کلاشنکوف کا برسٹ بھی مار دیا۔ لیجیے، آن کی آن میں بغاوت برپا ہو گئی۔ ایسی بغاوت کہ سات دنوں اور سات راتوں پر محیط تھی جس میں خون کے دریا بہہ گئے۔ چند سو سرپھروں کی یہ بغاوت جب کچلی نہ جا سکی تو جنرل رشید دوستم نے ’’مائی باپ‘‘ کو دہائی دی۔ وہ آئے اور انھوں نے بلندیوں سے چند ڈیزی کٹر گرائے اور چلے گئے۔ یہ مائی باپ بھی عجب سفاکانہ حسِ مزاح رکھتے ہیں۔ تجرباتی طور پر جاپان کے نہتے شہریوں پر ایٹم بم گرائیں تو اسے ’’لٹل بوائے‘‘ کا نام دیتے ہیں اور اگر ڈیزی کٹر، کا نام پڑھئے تو غالبؔ کا مصرعہ یاد آ جاتا ہے کہ ’’موجِ خرامِ یار بھی کیا گُل کتر گئی‘‘ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پھولوں کے انبار ہیں اور محبوب کی دلبرانہ چہل قدمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب یہ بم پھٹتا ہے تو ہر مربع انچ پر ایک ہزار پونڈ کا وزن ڈالتا ہے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب یہ گرایا جاتا ہو گا اور پھٹتا ہو گا تو آبادیوں اور انسانوں پر کیا گزرتی ہو گی۔ نیست و نابود ہو جانے کے ایسے مناظر جو انسانوں نے نہ پہلے دیکھے نہ سنے۔ اسی لیے اسے ’’منی ایٹم بم‘‘ کہتے ہیں۔

    بات مستنصر صاحب کے ناول ’’قلعہ جنگی‘‘ کی ہو رہی تھی۔ اس میں انھوں نے ان سات دوستوں کا قصۂ درد لکھا ہے جن میں کوئی پاکستانی تھا، کوئی نو مسلم امریکی، عرب، افغان، چیچن، برطانوی۔ انھوں نے شہرت یافتہ وار لارڈ رشید دوستم کے سپاہیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے، پھر وہ قلعہ جنگی لائے گئے اور یہاں وہ بغاوت ہوئی جس نے سیکڑوں کو خاک میں ملا دیا۔ قلعہ جنگی کی وسعت میں سربریدہ لاشیں رہ گئیں۔ کٹے ہوئے بازو اور ٹکڑے ہوجانے والی ٹانگیں رہ گئیں۔ بس وہ سات ساتھی بچے تھے جو قلعہ کے تہ خانے میں جا چھپے تھے۔ ڈیزی کٹر اور کلسٹر بموں کے فولادی ٹکڑوں کو اپنے بدن میں سمیٹے ہوئے، اذیت کے جھولوں میں جھولتے ہوئے، بھوک اور پیاس کو اپنے معدوں اور حلق میں سمیٹے ہوئے، ہر خستہ تن دوسرے ستم رسیدہ کو تسلی دیتا ہوا۔ یہ ان لوگوں کی داستان درد ہے جن سے اکثریت نفرت کرتی ہے۔ دہشت گرد کہتی ہے لیکن معاملے کو ان کی نگاہوں سے بھی دیکھنا چاہیے اور یہ کام مستنصر صاحب نے بہت درد مندی سے کیا ہے۔ ان میں سے کوئی دولت و ثروت چھوڑ کر آیا ہے، کسی نے اپنی اعلیٰ تعلیم کو تہہ کر کے طاقِ نسیاں پر رکھ دیا ہے، کوئی جہاد افغانستان کی کھیتی کاٹنے والے جرنیل کا بیٹا ہے اور کسی کی دادی کو چیچنا کے امام شامل نے بشارت دی تھی کہ وہ جائے اور راہ خدا میں اپنی جان دیدے۔ گھوڑا جو حلال نہیں، بھوک اس سے ان کا رشتہ قائم کرتی ہے اور وہ نو مسلم امریکی جو ایک خواب کی ڈور سے بندھا ہوا قندوز اور قلعہ جنگی چلا آیا تھا، بھوک جس کی انتڑیاں چباتی تھی لیکن وہ مرتے مرتے بھی گھوڑے کے پارچے سے توانائی کشید کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ گھوڑا میری ماں ہے میں اسے کیسے کھا سکتا ہوں۔ اور جب لحظہ لحظہ جان سے گزرتے ہوئے اس کے دوست اسے گھوڑے کا گوشت کھلانے پر مصر رہتے ہیں تو وہ چیخ پڑتا ہے۔ یہ ان کا صحیفہ الم ہے جو اپنی اپنی پُر آسائش دنیائیں ترک کر کے ایک عظیم برادری کے تصور سے بندھے ہوئے درد، اذیت، بھوک پیاس اور اپنی ہی غلاظت کی دلدل میں اتر گئے تھے اور پھر بھی انھیں پچھتاوا نہ تھا لیکن ان میں سے چند کے ذہنوں میں سوال اٹھتے تھے۔ آخر میں یہ سوال نو مسلم امریکی جانی کے ذہن میں اس کا ذاتی پونی اٹھاتا ہے۔

    ’’میں اس پر سوار ایک ہرے بھرے وسیع میدان کے بیچ سے گزر رہا ہوں۔ اس کی پیٹھ تھپک رہا ہوں اور وہ مجھ سے کہتا ہے۔ جانی اپنے آئیڈیل کے حصول کے لیے تمہاری نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا لیکن تم نے ابھی تک ٹھنڈے دل سے سوچا نہیں… جذبات میں بھڑکتے ادھر آ نکلے ہو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ تم ان کا ساتھ دے کر جہالت اور پس ماندگی کو فروغ دے رہے ہو۔ بے شک وہ نیت کے کھرے اور شفاف لوگ ہیں لیکن تم جانتے ہو کہ وہ پتھر کے زمانے کا ایک سماج قائم کر رہے ہیں جس میں تعلیم یافتہ عورتیں کابل میں بھیک مانگ رہی ہیں۔ بیوائیں گھر بیٹھی بھوکی مر رہی ہیں۔ کھلاڑی نیکریں نہ پہنیں کہ ان کی ٹانگوں کو دیکھ کر ان کا ایمان ڈگمگانے لگتا ہے۔ ریڈیو، ٹیلیویژن سب سے بڑے شیطان ہیں۔ ایک افراتفری اور بربادی ہے۔ کیا یہی تمہارا تصور کامل ہے؟ یہ کیسا جہاد ہے جس میں تمہارے مقابلے پر بھی تمہارے ہی عقیدے کے لوگ ہیں۔ یہ تم کیا کر رہے ہو؟‘‘

    نزع کے عالم میں ایک کیفیت غربت کے مارے اس پاکستانی نوجوان پر گزرتی ہے جو کہتا ہے۔:

    ’’ جناب عالی میں کسی کو بتائے بغیر گھر سے نکلا اور مدرسے میں بھرتی ہو گیا۔ بڑی موج تھی۔ حیاتی میں پہلی بار تین وقت کی روٹی ملی۔ تین کپڑے اور چپل ملی۔ سونے کو چار پائی ملی اور ساتھ مفت میں دینی تعلیم بھی۔ میرے ساتھ جتنے تھے ان میں سے بیشتر مجھ ایسے ہی تھے۔ شہروں کے لڑکے بھی تھے جو اتنے غریب غربا تھے کہ اسکولوں کی فیسیں نہیں دے سکتے تھے۔ پر پڑھنے کا شوق تھا۔ یہاں تعلیم بھی ملتی تھی۔ کتابیں بھی ملتی تھیں اور سب سے بڑھ کر عزت ملتی تھی ورنہ شہر میں تو وہ بے عزت ہی رہتے تھے۔‘‘

    اس اللہ بخش جیسے ہزاروں نہیں لاکھوں نوجوان ہماری حکومتوں نے اس طرف دھکیل دیے جہاں انھیں تین وقت پیٹ بھر کر کھانا ملتا تھا۔ پہننے کو دُھلے ہوئے کپڑے، پیر میں چپل اور آرام کے لیے چار پائی ملتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انھیں تعلیم اور کتابیں ملتی تھیں۔ آج مدرسوں کو دہشت گردوں کا ٹھکانہ کہنے والوں سے کوئی پوچھے کہ صاف کپڑے، پیٹ بھر کھانا، تعلیم اور کتابیں کیا صرف ہمارے بچوں کا حق ہے؟ ماشکی، مالشیے اور مزارعے کے بچوں کو اگر وہ اپنے ساتھ لے گئے تو ان بچوں سے اور ان کے ماں باپ سے شکایت کا ہمیں کیا حق ہے؟ ہم نے اس ملک کے وسائل کی شہ رگ میں خوں آشام قبیلے کی طرح اپنے دانت اتار دیے اور ان کے لیے لہو کی بوند نہیں چھوڑی، جن کی مشقت نے ہمیں دولت میں قارون اور بے مہار طاقت میں فرعون بنا دیا۔ آج جب وار تھیٹر میں آخری کھیل کھیلا جا رہا ہے، سب سے بلند آہنگ سوال اللہ بخش کا ہے، ہزاروں لاکھوں، اللہ بخش گلوگیر آواز میں یہ سوال ہم سب سے کر رہے ہیں جو مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں اور صبح و شام امن کی تسبیح گھماتے ہیں۔

    مستنصر حسین خوش رہیں کہ انھوں نے ان کے درد کو بھی مصور کیا ہے جنھیں رد کر دیا گیا اور تمام ذمے داری ان کے شانوں پر دھر دی گئی۔ لیکن مستنصر صاحب آپ نے عبدالحمید خان واکر کو بھی قلعہ جنگی کے تہہ خانہ میں موت کے پروں پر بٹھا کر رخصت کیا ہے۔ وہ تو بچ گیا تھا، اسے سی این این کے ایک کیمرہ مین نے پہچان لیا تھا۔ وہ میڈیکل یونٹ کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے اس نیم مردہ کو رفو کیا، اسے توانائی دی اور جب وہ پھر سے زندگی کی طرف آیا تو اس پر ’’غداری‘‘ کا مقدمہ چلا اور اسے 20 برس کی قید ہوئی۔ وہ گوانتاناموبے
    بھیج دیا گیا جہاں اس وقت بھی وہ یہ قید کاٹتا ہے۔ شاید رہائی کے دن گنتا ہو اور شاید اس سے پہلے موت اسے رہائی دلانے آ پہنچے… آپ نے اسے ناول میں شاید اسی لیے مار دیا کہ موت اس عذاب اور اذیت سے بہتر ہے جس سے وہ گزر رہا ہے
    یہ دونوں میں سے کس کی تحریر ہے ؟

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *