الکاسب حبیب اللہ کا بائیکاٹ

حبیب اللہ کا بائیکاٹ۔۔ عامر ہزاروی
میڈیا کو طاقت کا مرکز کہا جاتا ہے_ میڈیا کے بارے میں مشہور ہے یہ جس کو چاہتا ہے ہیرو بنا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے زیرو بنا کے رکھ یتا ہے_ شریف لوگ میڈیا سے بچ کے ہی رہتے ہیں
آپ کو معلوم ہے کہ ایک طاقت ایسی بھی ہے جو میڈیا سے زیادہ طاقت ور ہے ?
یقینا آپ کا ذہن فوج کی طرف گیا ہوں مگر نہیں میں فوج کی بات نہیں کر رہا میں ایک ایسے طبقے کی بات کر رہا ہوں جن پر ہماری نظر نہیں ٹھہرتی اور وہ ہے اخبار فروشوں کا طبقہ_
اخبار فروش میڈیا مالکان اخباری ایجنسیوں کے مالکان سے زیادہ طاقت ور ہیں_ ٹکا خان نے اپنے اخبار فروش کارکنوں کو ایک جگہ جمع کر کے عزت دی ہے _ آج اخباری مالکان ان اخبار فروشوں کے سامنے بے بس ہیں_ یہ چالیس فیصد اپنا حصہ لیتے ہیں اگر کوئی گڑ بڑ کر دے تو پھر یہ انہیں ٹھیک بھی کرتے ہیں_
پورے ملک میں اخبار فروشوں کی تعداد چوراسی ہزار کے قریب ہے جب یہ کسی اخبار کے خلاف بائیکاٹ کی کال دیتے ہیں تو مالک کو لگ پتا جاتا ہے_ انکی قوت انکے اتحاد میں ہے_ میڈیا ٹکا خان کو جتنی عزت دیتا ہے اتنی نوازشریف کو بھی نہیں دیتا_ مزدور جب متحد ہو جائیں تو وہ حق چھین کر لیتے ہیں_جب منظم احتجاج ہوتا ہے تو پھر اصل مالکوں کو اثر پڑتا ہے_ آپ بے شک فروٹ بائیکاٹ مہم چلائیں مگر یہ ضرور سوچیں کہ ہم کسی مزدور کو بھوک تو نہیں دے رہے ? سچ تو یہ ہے کہ ابھی ریڑی بان متحد نہیں ہیں_ ابھی بائیکاٹ کا اثر مزدوروں پر پڑے گا_ مالکان کو فروٹ بچانے کا طریقہ آتا ہے _یہ ہزار گر جانتے ہیں_ ابھی غریبوں پر ظلم نہ کریں_
آپ سے اگر کچھ ہو سکتا ہے تو ریڑھی بانوں کی یونین بنائیں انہیں متحد کریں انہیں انکے حقوق سے آگاہ کریں _یہ خود احتجاج کریں_ جب یہ خود بائیکاٹ کریں گے تو پھر مالکان پر اثر پڑے گا ورنہ تین دن کا اثر صرف اور صرف مزدور پر پڑے گا ۔میں فروٹ بائیکاٹ مہم میں حصہ لیکر اللہ کے دوستوں کا دل نہیں دکھا سکتا
مجھے جب معلوم ہے کہ اس کا اثر صرف غریب ریڑھی بانوں پر پڑے گا تو میں کیوں انکے بچوں کو بھوک دوں ?
مزدوروں کے لیے کوئی ٹکا خان سامنے لائیں انہیں متحد کریں اور پھر مل کر منظم احتجاج کریں_ جب یہ کام ہو گا تو آپ ہمیں ساتھ پائیں گے ان شاء اللہ
آج کا احتجاج بھوکے کو مزید بھوکا کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں_

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *