سلیکشن کمیشن بھوٹان کی مجوزہ شرائط

سیلیکشن کمیشن آف بھوٹان نے حال ہی میں دو ہزار اٹھارہ میں ہونے والی سلیکشن سے پہلے امیدواروں کی مہم کے لیے ضابطہ اخلاق اور شرائط تجویز کی ہیں۔ روزے کے بعد مجھے سر درد کی شکایت ہوتی ہے۔ کسی نے میری بیگم کو جانے کیا پٹی پڑھا دی کہ چائے بنانے کی بجائے پھکی لے آتی ہے کہ تمہارے سر پہ گیس چڑھ گئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تجاویز پڑھ کر میرے سر کی گیس آپ کے سر میں منتقل ہوجائے گی۔

تجاویز

۱۔ سیلیکشن میں امیدواروں کے امید سے ہونے پہ پابندی ہوگی۔ ویسے تو سیلیکشن کمیشن کسی تجویز کے پیچھے چھپی وجہ بتانے کا پابند نہیں لیکن پھر بھی، اس شرط کی وجہ وہ بچے ہیں جو ابا جی کو نااہل کروا کر “بارلے ممالک” جا کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر دریا کے اس پار کھڑے گالیاں دینے والے کی طرح اپنے تارک وطن ہونے کی آوازیں مارتے ہیں۔ ابا جی اندر نااہل ہوکر بعد ازاں سڑکیں ناپتے ذلیل و خوار ہوتے ہیں جو ہمیں بالکل اچھا نہیں لگتا۔ اس پابندی کی ایک اور وجہ وہ لاڈلے امیدوار بھی ہیں جنہیں کھیلنے کو چاند نہ ملے تو وہ دھرتی کو آگ لگانے اور سول نافرمانی پرتل جاتے ہیں۔

۲۔ سیلیکشن سے پہلے چلائی جانے والی مہم میں امیدوار اپنی پچھلی کارکردگی بیان کرنے سے قاصر ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق سلیکشن کمیشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پچھلی کارکردگی کی بجائے امیدوار اپنے ڈولے، مچھلی اور پیٹ کے مسل دکھا کر عوام الناس کو ووٹ دینے پر آمادہ کریں۔ الیکشن کمیشن آف بھوٹان نے اس ضمن میں چند سفارشات منظور کی ہیں جن کے تحت امیدوار جلسے میں پش اپس اور چن اپس کرنے کو آزاد ہوں گے۔ سلیکشن کمیشن کے مطابق کرپٹ عناصر کو نظام سے نکال باہر کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔

۳۔ سلیکشن کمیشن آف بھوٹان نے جانوروں کے انتخابی نشان کی حامل تمام جماعتوں (ایک جماعت پڑھا جائے) کو بین کرنے کا فیصلہ کیا کے۔ اس فیصلے کی وجہ انجمن شیرانِ پاکستان کی جانب سے شدید احتجاج تھا جن کے مطابق کرتا کوئی ہے اور بھرنا شیروں کو پڑتا ہے۔ انجمن شیرانِ پاکستان نے اپنے بیان میں یہ واضح کیا کہ ان کے قبیل کا جانور ایک آدھ بار پائپ میں پھنس سکتا ہے تاہم تین بار جنگل کا بادشاہ بننے کے باوجود اگر شیر پائپ میں اتنی آسانی سے پھنس جائے تو یہ تحقیقات لازمی ہیں کہ شیر کہیں پائپوں میں پھنسنے کا شوقین تو نہیں۔

۴۔ سلیکشن کمیشن نے سلیکشن کی رات دس بجے ہارنے والے فریق کی ہار کے اعلان پہ پابندی لگا دی ہے، تاہم جیتنے والے امیدوار کو اپنی جیت کا اعلان کرنے میں آزادی حاصل ہوگی۔

۵۔ سلیکشن کمیشن کے مطابق اگلے سیاسی ملاکھڑے کے نتیجے میں کسی بھی حلقے کی پولنگ پہ شک کرنے والے کو پہلے اپنی آنکھوں کے نیچے حلقوں کی تحقیقات کروانی ہوں گی۔ سلیکشن کمیشن کے مطابق بعض امیدوار سلیکشن سے پہلے غیر نصابی سرگرمیوں کے باعث ناک سے لکیریں کھینچنے میں لگے رہتے ہیں اور بعد میں ذلیل چیف سلیکشن کمیشنر کو ہونا پڑتا ہے۔

۶۔ سلیکشن کمیشن یہ تجویز بھی پیش کرتی ہے کہ کسی بھی نااہل سیاسی نمائیندے کے بھائی، بہن، بیوی، بچے، چچیرے بھائی، ماموں زاد بہن، خلیہ ساس، ممانی، نانا، دادا، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، دوستوں وغیرہ سب پہ انتخابات میں حصہ لینے پہ پابندی ہوگی۔

۷۔ سلیکشن کمیشن بھوٹان کی اعلی عدلیہ کو مکمل اختیار حاصل ہوگا کہ وہ جب چاہیں جس انتخابی امیدوار کو چاہیں کالعدم قرار دے کر کھڈے میں ڈال دیں۔

۸۔ سلیکشن کمیشن آف بھوٹان کی آخری اور اہم ترین تجویز اس سلیکشن کو غیر معینہ مدت تک کے لیے مؤخر کردینا ہے۔ سلیکشن کمیشن آف بھوٹان چیف جسٹس اور چیف آف آرمی سٹاف سے یہ درخواست کرتا ہے کہ سلیکشن بھی مؤخر کر دی جائے کیونکہ میں نی بولدی نی لوکاں میں نی بولدی میرے وچ میرا یار بول دا۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *