نظام مصطفیٰ والوں کی خدمت میں!۔۔۔۔۔۔۔ رانا تنویر عالمگیر

میں الحمدللہ مسلمان ہوں اور نظام ِمصطفی کا حامی ہوں تو اپنے نظامِ ِ مصطفی والے دوستوں کی خدمت میں کچھ سوال عرض کرتا ہوں؟

نظام مصطفی کیا ہے؟ کہاں ہے؟ اس کی قابل عمل شکل کہاں ہے؟ کون نافذ کرے گا؟ کیسے نافذ کرے گا؟ وہ مولوی صاحبان جو آج کل نظام مصطفی کی تحریک چلا رہے ہیں، ان کی تو فی گھنٹہ تقریر کی ریٹ لسٹیں لگی ہوئی ہیں۔نظام مصطفی نافذ کریں گے؟ وہ لوگ جو ایک دوسرے کی مخالفت کی بنا پر مدارس و مساجد بناتے اور چلاتے ہیں، وہ نظام مصطفی نافذ کریں گے؟ ، وہ نظام مصطفی نافذ کریں گے؟ وہ مولوی جو ایک دوسرے کےپیچھے نماز پڑھنا  گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں، وہ نظام مصطفی نافذ کریں گے؟ وہ مولوی جو کافر، گستاخ یا مشرک سے کم تو فتویٰ بھی نہیں دیتے ایک دوسرے کے خلاف، وہ نظام مصطفی نافذ کریں گے؟ یا نظام مصطفی سے مراد فقط کوڑے اور رجم کی سزا ہے؟ اگر کوڑے اور رجم کا ہی معاملہ ہے تو یہ لوگ اس پر متفق نہیں ہوپائیں گے کیونکہ کوڑے اور رجم سےبھی سب سے زیادہ یہی متاثر ہونگے۔ کیا آپ 77 کی نظام مصطفی تحریک کو بھول گئے ہیں…؟ کیا آپ کو ضیاء کا نفاذ اسلام یاد نہیں؟ کہ جس کا خمیازہ آج تک پورا پاکستان بلکہ ایک دنیا بھگت رہی ہے اور جانے کب تک بھگتے گی۔

خدارا پہلے اپنے نظام کی وضاحت تو کیجیے… اسے دنیا کے سامنے قابل عمل شکل میں پیش تو کیجیے… اس پر پہلے خود تو متفق ہو جائیے… ویسے گورنمنٹ کو ایک کام کرنا چاہیے… مولوی صاحبان کو کہیں کہ جی ٹھیک ہے… ہم نظام مصطفی نافذ کرتے ہیں… آپ قابل عمل شکل میں متفق علیہ نظام دو… میرا دعویٰ ہے کہ تاقیامت پاکستان کے مولوی ایک متفق علیہ نظام تک نہیں دے پائیں گے اور آپس میں وزارت عظمیٰ کے لیے ہی لڑتے رہیں گے….وزارتوں کے علاوہ قانون کا بھی مسئلہ بنے گا کہ فقہ کونسی رائج ہو… جعفریہ پر باقی تین نہیں مانیں گے….  حنفی پر دو کو اعتراض ہوگا…حنبلی، شافعی اور مالکی کے تو چانس ہی نہیں ہیں… شافعی کو شاید ایک ووٹ مل جائے…. خدا کے بندو جو مولوی آج تک اپنی جماعت کا، اپنے ہی مسلک کا ایک متفقہ امیر نہیں چن سکے، وہ نظام مصطفی پر کیسے متفق ہونگے؟ ہر مسلک کے اس وقت کئی کئی سربراہ موجود ہیں۔۔

میری اسلام کے حامی دوستوں سے گذارش ہے کہ خدارا فضول بحث میں مت  الجھیے.. نظام مصطفی کی تو بات ہی کیا ہے مگر نظام مصطفی رائج کون کرے گا؟ لیکن یہاں تو نظام مصطفی کے نام پر نظام مولوی کے نفاذ کی تحریک چل رہی ہے کیونکہ نظام مصطفی تو آپ کے پاس ہے ہی نہیں… اگر آپ نظام مصطفی نافذ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے ایک نظام وضع تو کیجیے… کیا وہ نظام فرشتے پیش کریں گے اور وہی آسمانوں سے اترکر اسے نافذ کریں گے؟ ہم نے ہی کرنا ہے تو کیسے کرنا ہے؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کو مولوی سے بچائو…. تجارت سے بچائو…. مفاد پرستی سے بچائو…. پہلے اپنی زندگیوں میں اسلام لائو…. معاشرے میں اسلام لائو…. سوچوں میں اسلام لائو… حکومت خودبخود اسلامی بن جائے گی…

کیایہاں بننے والی حکومت وک عوام منتخب نہیں کرتے؟  عوام نظام مصطفی والوں کو ووٹ کیوںنہیں دیتے؟کبھی اس پر بھی سوچا ہے؟سوچنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

نوٹ:مضمون نگار کے خیالات سے ادارے کا کلی یا جزوی متفق ہونا ضروری نہیں۔البتہ ا س موضوع پہ شائستہ اور مدلل تحریروں کو ادارہ خوش آمدید کہے گا:مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *