انا للہ و انا الیہ راجعون۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

پاکستان کی سیاست بےپناہ میلی اور بدبودار ہے. گناہوں، جرائم، نااہلی اور غداریوں سے عبارت یہ سیاست ہمارے سماج کے مطلع کو ابرآلود کر چکی ہے. الیکشن کے لیے اربوں روپے کی ضرورت پڑتی ہے، اب صرف وہی لوگ امیدوار برائے رکن اسمبلی ہیں جو اتنی دولت کے حامل ہوتے ہیں. ایسے لوگ جو سیاسی کارکن ہیں، یا جن کا کوئی سیاسی کیریئر ہے وہ لوگ اُس وقت تک الیکشن جیتنا تو دور کی بات الیکشن لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تاوقتیکہ اُن کے پاس مخالف امیدوار جتنی یا اُس سے زیادہ دولت نہ ہو. دولت کس کے پاس ہوتی ہے؟ مجھے آج تلک ایسا امیر شخص نظر نہیں آیا جس کے دامن داغدار نہ ہو. فراڈ، دھوکہ دہی، چوری، بلیک میلنگ، رشوت ستانی، ملاوٹ، سود اور جوئے کے بغیر اربوں روپے کا اجتماع ممکن ہی نہیں ہے. جب یہی لوگ پیسے کی مدد سے امیدوار بنتے ہیں تو عوام (ووٹر) کسی ایک چور کو جتوا کر ممبر اسمبلی بنا دیتے ہیں. یہ لوگ اسمبلیوں میں جاکر کیسی قانون سازی کریں گے؟ یہ لوگ اقتدار و اختیار کا استعمال کیسے اور کہاں کریں گے؟ یہ سیاست دان بخوبی جانتے ہیں کہ انہوں نے الیکشن کیسے جیتا ہے؟ لہذا الیکشن کمپین میں پیسہ لگانا اِن حرام خور گِدھوں کے لیے محض ایک سرمایہ کاری ہے اور سیاست ایک کاروباری دھندے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے!!!

ایمانداری کی مثل وفاداری بھی سیاستدانوں کے لیے زہرِ قاتل ہو چکی ہے. کل تک جو لوگ نواز شریف کے ساتھ فوٹو کھینچوانے کو ایک سعادت سمجھتے تھے، وہی لوگ آج نوازشریف پہ لعنت بھیج کر مستقبل کی فیورٹ پارٹیوں کی طرف عازمِ سفر ہیں. یہ صرف ایک دو شہروں یا حلقوں میں نہیں ہو رہا بلکہ ہر شہر و حلقہ کی یہی کہانی ہے. گندگی و تعفن زدہ لوگ جن کے لیے انگریزی کی اصطلاح ELECTABLE استعمال ہوتی ہے جوق در جوق وفاداریاں بدل رہے ہیں. پاکستان تحریک انصاف کے ہمہ قسمی چوروں، ڈکیتوں، جواریوں، بدمعاشوں، زنا بالجبر کے مجرموں کے لیے دروازے کھُلے ہوئے ہیں. گَلے میں PTI کا دوپٹہ ڈالیے اور پھر آپ انقلابی و انصافی بن سکتے ہیں. نہ کوئی نصاب ہے، نہ کوئی لائحہ عمل اور نہ کوئی منصوبہ بندی!!! نہ کوئی گدھے گھوڑے کا فرق ہے نہ کوئی تربیت، بس حیاتِ بےمصرف کا رقصِ عصیاں ہے  سو جاری ہے. کیا عمران خان کو نہیں علم کہ یہ سب فصلی بٹیرے و خرِ آزمند ہیں؟ بالکل معلوم ہے مگر اُس کے دماغ میں فقط وزیراعظم بننے کا سودا ہے، وہ کسی بھی حالت میں وزیراعظم بننا چاہتا ہے اُس کے لیے عامر لیاقت کو راہ انقلاب میں ساتھ ملانا پڑے یا پھر فاروق بندیال کو انصافی بنانا پڑے وہ بنا لیتا ہے اور بناتا رہے گا.

میں جب بھی کسی سیاسی جماعت کے کارکنوں کو ملتا ہوں تو یہ لوگ سارا وقت مخالف جماعت کے بہی خواہوں کو گالیوں سے نوازتے رہتے ہیں. مریم نواز کی شادی، اُس کے بچوں کی پیدائش، نواز شریف کے گنجے پن، عمران خان کی شادیوں، زرداری کی ایان بازیوں، فضل الرحمن کے پیٹ، سراج الحق کی ٹوپی، بلاول کے صوتی زیروبم کے سوا کارکنان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے. یہ امر کس چیز کی علامت ہے؟ یہ ہمارے سیاسی پختگی کی علامت ہے. مثال کے طور پہ آپ سوشل میڈیا پہ عمران خان کے خلاف کوئی سنجیدہ سیاسی پوسٹ لکھ لیں، ایسی ایسی گالیاں میسر آئیں گی کہ الحفیظ الامان!!! یہ کیسی تبدیلی ہے؟ یہ کیسی سیاست ہے؟ یہ کیسا انقلاب ہے؟ نہیں نہیں، یہ سیاست نہیں ہے، یہ عفونت ہے. سیاسی کارکنوں کو جان بوجھ کر سیاسی عمل اور سیاسی تربیت سے دور رکھا جا رہا ہے. دنیا بھر کے انقلابات کے داعین کو ملاحظہ فرمائیں، مجھے کہیں ایک جگہ بھی انقلابیوں کے یہ رویے نظر نہیں آئے. جاں پرسوز اور سخن دلنواز کی بجائے سانڈ اور عَفَن ہی زادِ راہ ہے.

دنیا دن بہ دن بدل رہی ہے، حوادث کی شرانگیزی مسلسل جاری ہے. نئے نئے واقعات دنیا کو نئی جہتوں سے آشنا کر رہے ہیں. لیکن مجھے الیکشن کے بالکل قریب آ کر بھی کسی جماعت کی طرف سے خارجہ پالیسی کے حوالے سے کوئی سنجیدہ بات سننے کو نہیں ملی ہے!!! یہ کیا تماشا ہے؟ یہ کیسا مذاق ہے؟ کیا اِس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہمارے مستقبل کے حکمران ملک کو باقی دنیا کے سامنے پیش کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں. نتیجتاً ملک داعش کی لپیٹ میں آئے گا کیونکہ جب سیاست دان طبقہ خارجہ پالیسی کے لیے طبقہِ حرب کی طرف دیکھتا ہے تو ملک میں شر، قانون شکنی اور انتہا پسندی کو ہوا ملتی ہے. جب جب سیاست دانوں سے خارجہ پالیسی کا اختیار چھین لیا جاتا ہے پاکستان میں امن کو خطرات لاحق ہوتے ہیں. عمران خان کے نقاط اور صدایامی منشور میں کہیں بھی خارجہ پالیسی زیرِ بحث نہ ہے، کیوں؟ کیونکہ اُن کو ایمپائر کی طرف سے خارجہ پالیسی مثلِ شجرِ ممنوعہ بتائی و سجھائی گئی ہے.
مجھے آنے والی سیاست و سیادت و قیادت و حکومت کے لیے انا للہ و انا الیہ راجعون کہنا ہے.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *