دانشورو ،مجھے تم سے شکایت ہے ۔۔۔ میثم اینگوتی

 پاکستان کے انتہائی شمال میں دنیاکے تین عظیم پہاڑی سلسلوں کے دامن میں واقع خطہ گلگت بلتستان کہلاتاہے۔ دس اضلاع پرمشتمل گلگت بلتستان لگ بھگ بائس لاکھ آبادی کا حامل ہے۔ یہ خطہ دنیا میں ایک منفرد اہمیت اور حیثیت رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ علاقائی طاقتوں کی اس پر گہری نظرہوتی ہے۔ پاکستان کے لئے اس کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ اس کا دیرینہ اوروفاداردوست چین کی سرحد اس علاقے ملتی ہے اور ہمالیہ سے بھی بلند ہوجاتی ہے۔ گلگت بلتستان خالق کائنات کی صنّاعی جمیلہ اور قدرت جلیلہ کاایک شاہکار ہے۔ یہاں کے فلک چھوتے پہاڑ، صاف وشفاف اور نیلگوں پانی سے جھلمل جھیلیں، آسمانوں سے گرتے آبشار، سرسبزوشاداب وادیاں، دیوسائی جیسا بلند ترین میدان ایک دیومالائی داستان کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یہ خطہ ملکی اور غیر ملکی سّیاحوں کے لئے جنت تصور کیا جاتاہے۔ ہرسال لاکھوں کی تعدادمیں لوگ یہاں آتے ہیں اور مناظر فطرت سے محظوظ ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی خوبصورتی کے گن گاتے ہیں۔ ان سّیاحوں میں ہرسال کئی ایک نامور دانشور بھی شامل ہوتے ہیں۔ان کی خوب آؤبھگت ہوتی ہے۔ تقریبات کاایک سلسلہ شروع ہوتاہے۔ غیرمقامی بیوروکریسی ان کو آسمانی مخلوق کی حیثیت سے متعارف کراتی ہے۔ احساس محرومی واحساس کمتری کا شکار معاشرہ انھیں سر پر بیٹھا لیتاہے۔ یہاں تک بات قابل قبول ہے۔ گلگت بلتستان آنے والاہرسیّاح ہمارامہمان ہے اور ان کے مقام ومرتبے کے مطابق حتی الامکان خدمت کرنی چاہیے۔

یہاں سے آگے مجھے شکوہ ہے اور خاص کر دانشوروں سے شکایت ہے۔ پیارے دانشورو! جب آپ سفر سے واپس تشریف لے جاتے ہیں تو تھکن دور ہونے کے بعد صرف اتنا لکھنے پر اکتفاکرتے ہوکہ گلت بلتستان دنیا میں جنت نظیر ہے اگر کوئی قدرتی مناظر کی دلکشی اور خوبصورتی دیکھنا چاہتاہے تو گلگت بلتستان جائے۔ ایک دانشور شنگریلاکے کنارے مرنے کی تمنا کرتاہے، کوئی سکردومیں انقلاب نسواں برپادیکھتاہے اور کوئی کنکورڈیا میں برف کی چادر اوڑھنا چاہتاہے۔ بس اتنا ہی اور حق اداہوگیا۔ کبھی آپ نے اس جنت کے باسیوں کی سیاسی، سماجی اور آئینی حیثیت کودیکھنے کی زحمت بھی کی ہے ؟

بڑے بڑے دانشور ، صحافی، اینکرز، سیاست دان اور انسانی حقوق کے راہنما یہاں آتے ہیں لیکن کبھی کسی کو یہاں کے عوام کے مسائل پر دولفظ لکھنے کی توفیق نہیں ملی۔ آپ کو معلوم ہے کہ آج کے اس جمہوری دورمیں بھی گلگت بلتستان میں سامراجی نوآبادیاتی طرزکانظام نافذہے۔ گذشتہ سترسالوں سے ریاست پاکستان یہاں کے لوگوں کے ساتھ منافقانہ طرزعمل اپنائی ہوئی ہے۔ اس نظام کی منافقت کاپردہ چاک یوں ہوتاہے کہ کےٹو پاکستانی ہے ،سوست بارڈر پاکستانی ہے ، شیردریاسندھ پاکستانی ہے، سیاچن پاکستانی ہے، شنگریلاپاکستانی ہے لیکن یہان کے بائیس لاکھ عوام متنازعہ ہیں۔ گلگت بلتستان دنیاکاواحدبدقسمت خطہ ہے جو متنازعہ تو ہے لیکن عملا متنازعہ بھی نہیں ہے۔

آپ پریشان ہوں گے کہ یہ کیا تماشہ ہے ؟ ایسا کیسے ہوسکتاہے ؟ لیکن حقیقت یہی ہے اور ایسا ہی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام جب مطالبہ کرتےہیں کہ ہمیں آئینی حقوق دو تووفاق کا موقف ہوتاہے کہ گلگت بلتستان تنازعہ کشمیر کاحصہ اورمتنازعہ ہے لہذا اسے آئینی دائرہ کارمیں داخل نہیں کیاجاسکتا۔ مان لیاہم متنازعہ ہی سہی پھرہماری متنازعہ حیثیت کو بحال کرو اور ہماری دھرتی کوغیرمقامی لوگوں کے لئے چراگاہ نہ بناؤ تو فوراً  لولی پاپ دیاجاتاہے اور ڈرابہلاکر کہاجاتاہے کہ تم پاکستانی ہو۔ دیکھو نا تمھارا نادرا کاکمپوٹرائزپاکستانی شناختی کارڈ کیسا جگمگارہاہے۔ دانشورو، صحافیو اور اینکر پرسنو ! خدارا اس ظلم کے خلاف بھی کچھ بولو، کچھ لکھو۔ اس جنت نظیر خطے کے لوگوں کی دل کی آواز سنو، انھیں حوصلہ دو ورنہ احساس محرومی وکمتری کا شکار یہ معاشرہ کہیں دوزخ نہ بن جائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *