بغیر انتخابات حکومت عمران خان کو دے دینی چاہیے۔۔

سیاسی طور پر حالات ایسے دکھائے جا رہے ہیں کہ اب بس فارمیلٹی یعنی حکومت بنانے کے لیے رسمی کارروائی ہی   رہ گئی ہو ۔ ویسے بھی کوئی شک  کی گنجائش نہیں بچتی کہ اب حکومت نہ بنے اور کہیں سے حکومت بنانے کی تسلی نہ ملی ہو۔تبدیلی کے عالمی  مرکز بنی گالہ  کی طرف  ہر روز کوئی نہ کوئی وڈیرہ، جاگیردار، سردار، چوہدری، ملک،  رواں دواں ہے۔

چند روز پہلے  کی دو اہم  اور مصدقہ خبریں اس جماعت کے بارے میں سامنے آئیں ، پہلی خبربنی گالا میں عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی کور گروپ کا اجلاس جاری تھا کہ اس دوران شاہ محمود قریشی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد رائے حسن نواز کی پارٹی میں اہلیت کو چیلنج کیا اور کہا کہ رائے حسن نواز نااہلی کے بعد پارٹی کاعہدہ اور اجلاسوں میں شرکت کے مجاز نہیں۔

شاہ محمود قریشی کے اعتراض پر جہانگیر ترین نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب آپ کا اشارہ میری طرف ہے، جس کے بعد تلخی بڑھی اور دونوں جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جہانگیر ترین نے پارٹی پر  خرچ  کیےگئے پیسوں بارے بھی بیان فرمایا اور شاہ محمود کو تنبیہ بھی کی کہ وہ آپ کو وزیراعلیٰ نہیں بننے دیں گے۔ جہانگیر ترین  نے  یہ بھی  کہا کہ عمران خان  کو وزیراعظم  بنانے کے بعد وہ چلے جائیں گے، یہ نہیں بتایا کہ لودھراں جائیں گے یا  کہیں اور۔

دوسری خبر ایک ہی دن کی نجی ٹی وی کے ٹاک شو کی ریکارڈنگ کے دوران تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق نے مسلم لیگ ن کے وفاقی وزیر دانیال عزیز کو تھپڑ رسید کردیا۔ پھر اُس کے بعد کوئی معافی ، افسوس یا معذرت نہیں ملی بلکہ  سوشل میڈیا پر شادیانے بجائے گئے۔

تیسری خبر بھی سُن لیں اسی روز کیا ہر روز اس فقیر کو بھی  تحریک انصاف  کے کئی  سیاسی معاملات پر اختلافی اظہا ر رائے کرنے سے قوم یوتھ کی طرف سے بے شمار گالیاں پڑتی ہیں۔ یہ صرف مجھے  ہی نہیں بلکہ تمام چھوٹے بڑے ،   جونئیر سینئر، جوان اور بزرگ  تجزیہ کار ، لکھاری، کالم نگار یا بلاگر  روزانہ  کی بنیاد پر بغیر کسی  تفریق کے گالیاں حاصل کرتے ہیں، منافق کہلائے جاتے ہیں پتہ نہیں اور کیا کیا۔ بس الامان الحفیظ۔۔

ان جذباتی انقلابیوں کو کون سمجھائے ارے مورکھو،  ابھی تو تین چار ماہ کا عرصہ درکار ہے، اس عرصے میں کیا اونچ نیچ مزید ہوسکتی ہے کون جانے سوائے  رَب  کے۔

عالی جاہ! ابھی سے  آ پ نے ہوش کھو دیا ہوا ہے  تو ووٹ کیسے مانگیں گے ۔  چلیں آپ  اگر  حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں تو کیا  آپ دوسرے  سیاسی نظریات کے  لوگوں کو جینے کا حق بھی دیں گے یا  آمرانہ نظام نافذ کریں گے۔ لوگوں کو حقوق کیسے دلوائیں گے،  ریاست کے لیے تو سب برابر کے شہری ہوتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے جس طرح آپ لوگوں نے ان پانچ سالوں میں دھرنوں اور  دیگر طریقو ں سے مُلک بھر میں دھماچوکڑی مچائی کل کوئی اور سیاسی و مذہبی جماعت بھی احتجاج اور دھرنا   شروع کر دے۔

اتنی  جلدی جذباتی کیفیت طاری کرنے کی بجائے کسی دوسروں کی نہیں اپنے ملک  کی ہی تاریخ پڑھ لیں،  1970 ءکے انتخابات کی تیاریاں ہو رہی تھیں ، پیپلز پارٹی کا وجود قائم ہوچکا تھا۔ 70 ءکے انتخابات جنرل یحییٰ کی حکومت کے زیر سایہ ہو رہے تھے۔  بنگالیوں کی ترجمانی شیخ مجیب کر رہا تھا لیکن ہمارا اس وقت کا   اکلوتا پرنٹ میڈیا ، مشرقی و مغربی پاکستان سے شیخ مجیب کی عوامی پارٹی کو شکست دے چُکا تھا۔ بنگالیوں پر قوم پرستی کے الزامات لگائے گئے، شیخ مجیب کو غدار کہا گیا یا بنایا گیا الگ موضوع ہے ۔ خیر المختصر مشرقی پاکستان کی عوامی پارٹی الیکشن جیت جاتی ہے جسے خُفیہ و دیگر قوتیں عام طور پر ہرا چُکی تھیں ۔ پھر معاملات مزید خراب ہوتے  گئے جو مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کو جُدا کرنے کی وجہ بنے۔

دوسری تاریخ یہ ہے کہ ائیر مارشل اصغر خان عمران خان سے بڑے لیڈر بن کر اُبھرے تھے 1979ء کا دور ہے بھٹو مرحوم  پھانسی پر چڑھ چُکے ہوتے ہیں ۔ ان کے بنے اتحاد  ٹوٹ جاتے ہیں۔  جنرل ضیا ء کا دور دورہ ہوتا ہے۔ جنرل ضیاء جمہوری حکومت کے قیام کے لیے اعلان کر چُکے ہوتے ہیں اور  الیکشن کرانے کا وعدہ۔ سیاسی جاگیردار، وڈیرے، سردار، مخدوم، خان، ملک سب قافلے لیے تحریک استقلال کا حصہ بن رہے ہوتے ہیں ۔  میاں نواز شریف نے بھی تحریک استقلال سے اپنی سیاست کا آغاز کیا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بڑے بڑے شاطر قسم کے سیاستدان  اس تحریک سے وابستہ رہے۔    خیر اصغر خان کو بھی جنرل ضیاء نے یقین دلوادیا کہ بھائی اگلی حکومت آپ کی  ہوگی۔ اس صورتحال میں میٹنگز ہونے لگیں، کابینہ کے وزراء پر تجاویز  دی جانے لگیں۔  1979ء  کے اکتوبر میں ایران کے سرکاری دورے سے واپس لوٹے تو انہیں   گھر پر نظر بند کردیا گیا کیونکہ اب جنرل ضیاءالحق الیکشن نہیں اسلام نافذ کرنے   کا ارادہ کرچُکے تھے۔  فرق یہ تھا کہ اُس وقت آمرانہ نظام چل رہے تھے براہ راست تھے اب   بھی حالات تو مشکوک ہی ہیں۔

ٹھیک ہے اب فوج جمہوریت کا ساتھ دے رہی ہے ، چیف جسٹس اس وقت کے ججوں سے مختلف ہیں یوں کہیے کہ ہر بندہ اور ادارہ اب 5جنریشن میں پہنچ چُکا ہے  ۔

ہوسکتا ہے جو  ‘لوٹے’ کہلانے والے بڑے  مگرمچھ قسم کے سیاستدان   اِن تین مہینوں میں پلٹی کھا  جائیں جیسا کہ گزشتہ الیکشن 2013ء میں بھی ہوچکا ہے۔ اس کی ایک مثال ہمارے اپنے ضلع  ڈیرہ غازی خان کے لغاری سردار تھے جو  الیکشن سے  تین ماہ پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے تھے۔ پھر الیکشن کے نیڑے آزاد اُمیدوار بن گئے اور جب حکومت آئی تو حکومت کی بس پر بھی سوار ہوچُکے تھے۔ کل خدانخواستہ آپ کی حکومت نہ بن پائے تو کیا آپ  کو یقین ہے یہ تبدیلی کے نشان  آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوسکیں گے۔ ویسے حکومت آپ کی ہے بے فکر رہیں  دعائیں بھی  اورکوشش بھی پوری ایمانداری سے کی جا رہی ہیں۔ لیکن تب تک اپنی زبانوں اور اپنے ہاتھ دوسروں کے گریبانوں اور عزتوں  تک نہ لے جائیں۔  آپ حالات  غلط رُخ پر لیے جا رہے ہیں ورنہ لوگ اپنی شرافت کب تک  روکیں گے۔ ابھی کچا برتن ہے۔ ابھی کچی لکڑی ہے اس لیے احتیاط اچھی ہے ورنہ یہ ٹوٹ سکتے ہیں۔

شاہد یوسف خان
شاہد یوسف خان
علم کی تلاش میں سرگرداں شاہد یوسف خان ایم اے سیاسیات اور صحافت مکمل کر چُکے ہیں ۔ سیاسی و سماجی موضوعات پر سوالات کرتے رہتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *