باچا خان کی سرزمین کا نوحہ

مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا
میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا
باچا خان کی عدم تشدد کی فکر کا آسرا تھا اور اُسی مرد بے ریا کی سرزمین کے باسیوں نے ہمارا یہ مان بھی توڑ دیا۔ جس باچا خان نے سو سال تک ملائیت سے بچ کر رہنے کا سبق دیا، عدم تشدد کی تبلیغ کی، اُسی کی جنم بھونی میں بسنے والوں نے مذہب کے نام پر تشدد کیا، قتل و غارت کی اور ہمارا سر جھکا دیا۔ باچا خان کی سو سال کی محنت ایک پل میں ضائع کر دی گئی۔ ہم غدار تو تھے ہی۔ اب مذہبی دھشتگرد بھی بن گئے۔ غدار کا تو چلو لقب اوروں نے دیا مگر ہمیں مذہبی دہشگرد تو اپنوں نے ہی بنا دیا۔
خطا تیری ہی نہیں میرا نصیب ہے یہ
شب تنہائی میں شمع نہ جلا سکے ہم
جس دہشتگردانہ فکر سے ہم پچھلے پندرہ سال سے لڑ رہے تھے، اپنے بچوں، عورتوں اور جوانوں کو قربان کیا، ایک دن آنکھ کھلی تو پتہ چلا کہ یہ زہرقاتل تو مذہبی انتہا پسندی کی صورت ہماری سرزمین کے جسم میں سرائیت کر چکا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ دہشت گردی کے اس بھانبڑ کا الزام بھی ہم غیروں کے سر ڈال رہے ہیں۔
ہاۓ افسوس وائے افسوس! اب ہم کس منہ سے باچا خان کی عدم تشدد کی مثالیں دیں گے؟ ہم تو آج تک اس فلسفے کا مطلب ہی نہ سمجھ پائے۔ ہم تو باچا خان کی فکر اور نظریہ کی تفہیم سے کوسوں دور رہے۔
کیسے تیرا تذکرہ کر دیں اوروں سے ہم
ہم خود بھی تو جانتے نہیں تجھ کو
باچا خان کا ایک صدی کا سفر ایک پل میں ضائع ہو گیا۔ اگر اس دھرتی پہ برپا ظلم کی داستانیں دوسری دنیا میں پہنچتی ہوں گی توشاید انہوں نے بھی اپنے خالق سے شکوہ کیا ہو گا کہ مجھے اس بانجھ سرزمین پر کس لئے پیدا کیا۔ کیوں میرے اندر یہ تحریک پیدا کی کہ میں اپنے لوگوں کی بہتری کے لئے کچھ کر جاؤں۔ انہوں نے تو فقط شکوہ کیا ہو گا اور بس آنسو بہائے ہوں گے۔
اپنے دیس کو پلٹنے کو جی نہیں چاہتا
میرا اجڑا ہوا گھر میری آنکھوں میں ہے
باچاخان کی سرزمین والو، تم لوگوں نے تو پختون خوا کو تا قیامت ایک ایسا بدنما داغ دیا جسے شاید ہی کوئی مٹا سکے۔
تجھ سے بچھڑ کے اپنی کہانی بدل گئی
دریائے زندگی کی روانی بدل گئی
صوابی کا علاقہ سو سال سے شعور کی منزلیں طے کر رہا ہے۔ یہ ہمیشہ سے سیاسی تحریکوں کا گڑھ رہا ہے۔ یہاں کے لوگوں نے گاندھی، نہرو، بزنجو، عطا اللہ مینگل کی مہمان نوازی کی۔ خان آف قلات کے بھائی شہزادہ کریم نے اپنی جلا وطنی کے دن یہاں گزارے۔
مگر آج جس طرح اِس علاقے کے لوگوں نے اپنی پختون ولی کا بلادکار کیا، وہ ایک شرمناک فعل ہے۔ جس طرح یہ لوگ انسانیت کے اعلیٰ مقام سے اتر کر درندے بنے اور رحمت للعالمینؐ کا لقب پانے والے کے نام ہر جس قسم کی بربریت کا مظاہرہ کیا، جس طرح ایک لہولہان لاش پر حیوانیت کا رقص ہوا، اس نے امن و شانتی کے مذہب پر یقین رکھنے والوں کے سر شرم سے جھکا دئیے ہیں۔
شکوہ کریں تو کسی سے شکایت کریں تو کیا
اک رائیگاں عمل کی ریاضت کریں تو کیا
مشال خان کے ایک واقعہ نے پوری پشتون قوم اور اس کی روایات کو دفن کر دیا۔ پختون خواہ میں تو اب زامبیز کا قبضہ ہو چکا، یہاں اب صرف چلتی پھرتی لاشیں ہی راج کرتی ہیں۔
لوگوں کے کس ہجوم میں ڈھونڈتے تجھے
اس شہر کی تو ساری نشانی بدل گئی
آج اس قصے کو دو ماہ ہونے کو ہیں، مگر روح پر ایسا داغ لگا ہے کہ اشکوں کی برسات میں بھی مٹ نہیں پائے گا۔ اس سانحہ کو آج بھی یاد کر کے دل خون کے آنسو روتا ہے اور کہتا ہے کہ
قصہ غم تو کب کا ختم ہوا
پھر بھی آنکھوں سے خون جاری ہے
پختون خوا کے اس نوحے کو ان شبدوں سے ختم کرنا چاہوں گا کہ

اب کیا لکھیں ہم کاغذ پر اب لکھنے کو کیا باقی ہے
اک دل تھا وہ بھی ٹوٹ گیا اب ٹوٹنے کو کیا باقی ہے

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *