صاحب سارا معاشرہ ہی بگڑا پڑا ہے

(مولانا محمد فیاض خان سواتی)
قوم اکائی سے مرکب ہوتی ہے ، کئی اکائیاں مل کر ایک قوم کی داغ بیل پڑتی ہے ، جب اکائی ہی خراب ہو جائے تو دہائیوں سے تشکیل پانے والی قوم اسی اکائی ہی کا حصہ ہوا کرتی ہے ، اس لئےاس کی خرابی میں کسی دوسرے کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا بلکہ یہ سراسر اپنی ہی خامی ہے ، اس خرابی کا آسان ترین حل یہ ہے کہ اکائی اپنے آپ کو صحیح کر لے تو دہائی خود بخود ہی صائب ہو جائے گی ، ویسے کام تو بڑا مشکل ہے لیکن ناممکن ہرگز نہیں ، صرف “ہمت مرداں مدد خدا” کا متقاضی ہے ، دوسری طرف مایوس ہونا یا مایوسی کو پھیلانا بھی گناہ ہے لیکن کیا کیا جائے کہ ہمارے اجتماعی حالات ہی کچھ ایسے ہیں کہ ہر بڑا چھوٹا انسان ہمہ وقت اپنی اپنی استطاعت کے بقدر داؤ پیچ کے موڈ میں رہتا ہے ، الاّ ماشاء اللہ ، ایسے میں قوم کا کیا بنے گا ؟ کوئی بھی آدمی اپنی اصلاح کے لئے تیار نہیں بلکہ ہر ایک دوسرے کی اصلاح کی فکر میں ہر گھڑی لٹھ لئے مستعد کھڑا نظر آتا ہے ، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ من حیث القوم ہمارا اجتماعی شعور ہی سلب ہو چکا ہے اور ہمیں کسی نفع و نقصان کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے ، علامہ اقبال رح نے کیا خوب کہا ہے ،
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا!
دوستو ! اس نقصان کا اندازہ ایک چھوٹے سے واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ہم میں سے ہر آدمی کہاں کہاں ہیر پھیر کا مورچہ لگائے بیٹھا ہے ، میں گوجرانوالہ شہر کی تقریباً سب سے بڑی جامع مسجد نور المعروف چھپڑ والی مسجد کا خطیب ہوں ، جو عالم اسلام کے نامور دینی ادارہ جامعہ نصرت العلوم کے متصل ہے ، احقر اس کا مہتمم بھی ہے ، حال یہ ہے کہ از خود بازار بہت ہی کم جانا ہوتا ہے ، گھر کا سودا سلف اکثر و بیشتر بچے اور شاگرد لا دیتے ہیں ، ایک روز حسب معمول میں جامعہ کے صحن میں چہل قدمی کر رہا تھا کہ گلی میں ایک سبزی فروش کی صدا بلند ہوئی ، وہ سبزیوں کے نام زور و شور سے پکار رہا تھا ، میں نے دل میں سوچا کہ آج خرید داری کی سنت بھی خود ہی ادا کر لی جائے ، اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے گلی میں گیا اور سبزی فروش سے آلو کا بھاؤ پوچھا ، اس نے چالیس روپے کلو بتایا ، مارکیٹ کے لحاظ سے ریٹ مناسب تھا ، میں ابھی جیب سے پیسے نکال ہی رہا تھا کہ اچانک ایک خاتون بھی وہاں آگئی اور اس نے بھی آلو کا ہی ریٹ دریافت کیا ، لیکن اس وقت میری حیرت کی انتہاء نہ رہی جب اس سبزی فروش نے میری موجودگی میں ہی بلا کسی خوف وخطر بڑی ڈھٹائی سے اس عورت کو آلو کا ریٹ ساٹھ روپے بتایا بلکہ وصول بھی کیا ، جب میں نے اس غبن کے معاملہ میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تو بجائے اس کے کہ وہ نادم و شرمندہ ہوتا الٹا میرے ساتھ الجھ پڑا اور لڑنے بھڑنے کے لئے آمادہ ہو گیا اور کہنے لگا” چل مولوی اپنی راہ لے ہماری روزی میں ٹانگ نہ اڑا” تو میں لاحول ولا قوۃ الّا باللہ پڑھتے ہوئے وہاں سے واپس لوٹا۔۔
لیکن یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ اس ریڑھی والے کا ہاتھ یہیں تک پہنچتا تھا سو اس نے اپنا کرتب دکھا دیا لیکن جن لوگوں کا ہاتھ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق بڑی بڑی جگہوں تک رسائی پاتا ہے وہ کیا کیا قیامتیں ڈھاتے ہوں گے ، بلکہ ڈھا رہے ہیں ، ایسے میں کس کس کا گلہ کیا جائے ، مجھے اس موقع پر اپنے جامعہ میں ایک طویل عرصہ تک مزدوری کرنے والے ایک ناخواندہ اور زبان میں لکنت رکھنے والے ایک نادار اور درویش منش مزدور بابا علی احمد ڈوگر مرحوم کا وہ جملہ بڑی شدت سے یاد آیا جسے میں نے اپنی اس تحریر کا عنوان دیا ہے وہ یہ جملہ زمانے کی زبوں حالی اور لوگوں کی چال بازی پر اکثر کہتے رہتے تھے لیکن اپنی زبانی لکنت کی وجہ سے اس کا تلفظ صحیح طور سے ادا نہ کر پاتے تھے ، اور بڑی حسرت و یاس سے یوں گویا ہوتے تھے”ساب سارا ماسڑہ ای بگڑا پیا اے” مولٰی کریم ان کی تربت پہ کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے کہ ایک جملہ ہی میں پوری قوم کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے ، اے کاش کہ ہمیں اپنی اپنی اصلاح کی فکر پیدا ہو جائے تاکہ ہم سب ایک اچھی اور قابل قدر قوم کا نمونہ اقوام عالم کے سامنے پیش کرنے کے لائق ہوسکیں ، جو فی الوقت سوائے رسوائی اور شرمندگی کے اور کچھ بھی نہیں ہے ، جسے بہر صورت ہمیں بدلنا ہوگا لیکن یہ ضرور یاد رہے کہ باری تعالٰی کا یہ اٹل اعلان بھی ہے کہ “وہ اس قوم کی حالت تب تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت نہ بدلے”۔تو آئیے پہلے فرد سے اس کا آغاز کریں ، جماعت خود بخود درست راستہ پر گامزن ہو جائے گی ، پھر کسی کو اچھا صدر ، نیک وزیر اعظم اور قابل رشک ارکان اسمبلی وغیرہ تلاش کرنے کی ضرورت نہ رہے گی کہ یہ سب لوگ ہمارے ہی معاشرہ کے رکن ہیں جو فی الحال سارا ہی بگڑا پڑا ہے ، میری ناقص رائے میں اس کے علاوہ معاشرہ کی درستی کی اور کوئی بہتر تدبیر نہیں ہے لہٰذا اس میں ہر ایک کو اپنا اپنا بھر پور حصہ ڈالنا چاہئیے ، وما علینا الاّ االبلاغ۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *