لبرلبازیاں اور مسئلہ فلسطین۔۔۔فاروق بلوچ

لبرلازم کے جھوٹے لبادے کو جتنا مسئلہ فلسطین نے تار تار کیا ہے شاید ہی کہیں کیا ہو. آج دل کر رہا ہے کہ ہاتھ میں قلم نہ ہو بلکہ تلوار ہو تو سیاسی کھوپڑیوں کی فصل کاٹ ڈالوں جوکہ عرب کے شہنشاہی محلات سے لیکر یورپ کے رُولنگ ہاؤسز میں پک کر تیار ہو چکی ہے. جبر، محرومی اور تضحیک کے ستائے فلسطینیوں نے کبھی عرب شہنشاہوں کی بیوفائی سہی ہے، کبھی اقوامِ متحدہ کی ضلالتوں کو دیکھا ہے اور کبھی مہذب مغربی حکمرانوں کی چالبازیاں (لبرلبازیاں) برداشت کی ہیں. صیہونی فسطائیت کے تحت فلسطین دنیا کا سب سے بڑا اُوپن ایئر عقوبت خانہ بن چکا ہے. مذہبی جنون اور وحشت کے زیر اثر “اسرائیل کی بقاء” کے نام کے اوپر معصوم و غریب عوام کے قتلِ عام پہ ایسی خاموشی! فاعتبرو یااولی الابصار

مسئلہ فلسطین پہ تین عرب اسرائیل جنگیں ہو چکی ہیں، فلسطینیوں کی غربت میں کوئی کمی ہوئی ہے نہ ہی غلامی میں کمی ہوئی، بلکہ اضافہ ہوا ہے. عرب دنیا کے شہنشاہ مسئلہ فلسطین کو اپنے وحشی اقتدار کی طوالت کیلئے استعمال کرتے آئے ہیں اور کر رہے ہیں. آج یہی عرب حکمران اسرائیلی حکمرانوں سے خفیہ اور سر عام خوب یارانے بڑھا رہے ہیں۔ اِنہی عرب حکمرانوں میں سے کس شہنشاہ کے مغرب سے مفادات جڑے ہوئے نہیں ہیں؟ اِن عرب آمروں کی عیاشیوں اور دولت کا فلسطین کے عوام کی سماجی اور معاشی حالت سے موازنہ کرتے ہی “اُمتِ مُسلمہ” کا چہرہ عیاں ہو جاتا ہے. اُمتِ مُسلمہ کی مسلمان قوم پرستی کی جعل سازی مسلمان ملکوں کی آپسی برسرپیکاریت میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے. خلیج سے لیکر شام تک یہ فوجی فرعون اور شہنشاہ بےرحمی و بےحسی سے خطے کو چیڑپھاڑ رہے ہیں. فلسطین کے کٹھ پتلی حکمران ہمیشہ ہی اسرائیل کیساتھ مذاکرات کا منجن بیچتے رہتے ہیں. دوسری جانب حماس اور اسلامک جہاد جیسے اسلامی بنیاد پرست اِس مسئلے کی حقیقی وجوہات پہ پردہ ڈالتے رہتے ہیں، ساتھ ساتھ ہر ترقی پسند سوچ اور انقلابی نظرئیے کو بے دردی سے کچلنے میں مصروف ہیں۔

اِس مسئلہ کو ختم کرنے کی خاطر لبرل امریکہ کی روایاتی منافقانہ اور بے ہودہ سفارتکاری کی ناکامی بھی سب پہ عیاں ہے. دنیا کا مضبوط ترین امریکی سامراج بھی اسرائیل کی فسطائیت کے سامنے بے بس ہے. امریکہ اسرائیل کو اپنا بہترین اتحادی کہتا ہے اور وہ اسرائیلی ریاست کی فلسطینی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے خلاف جرائم میں حمایت جاری رکھے ہوئے ہے. امریکی سامراج اور نام نہاد عالمی برادری کے منافقانہ اعلانات کے باوجود اسرائیلی حکومتیں مجوزہ فلسطینی ریاست کے مرکز مغربی کنارے میں اتنی اندر جا کر یہودی بستیاں تعمیر کرتی رہی ہیں کہ جن کو ہٹایا نہیں جا سکتا۔ اِس خطے کے ساٹھ لاکھ فلسطینیوں کو راستوں میں رکاوٹوں ، ناکہ بندیوں پر تذلیل، ٹیلی وژن چینلوں کی بندش، فلسطینی علاقوں کو چیرتی ہوئی کنکریٹ کی دیوار، پُر تشدد گرفتاریوں اور نسلی امتیاز کا سامنا ہے. لبرل دنیا کے کسی بھی عنصر نے اِس مسئلے کیلئے سنجیدہ کاوش کی ہے تو سامنے کیوں نہیں آرہی؟

22 نومبر1967ء کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر 242 منظور کی جس میں ’’اسرائیلی مسلح افواج کے حالیہ جھڑپوں کے دوران قبضہ کیے گئے علاقوں سے انخلا‘‘ کا مطالبہ کیا گیا تھا، کہاں ہے اقوام متحدہ؟ لبرل سامراج کی داشتہ یہ “اقوام متحدہ” بھی صیہونی مظالم کی پشت پناہ ہے. اقوامِ متحدہ متعدد قرار دادیں منظورکر چکی ہے لیکن بدمعاش اسرائیلی ریاست ان پر عمل تو درکنار ان پر کان تک نہیں دھرتی۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ 1977، میڈرڈ کانفرنس، اوسلو معاہدہ، کیمپ ڈیوڈ معاہدہ 2000، کوآرٹیٹ امن منصوبہ، سعودی امن منصوبہ، جنیوا معاہدہ، اناپلیس سربراہ اجلاس سمیت اقوامِ متحدہ جیسے خصی ادارے کی کئی سفارتی کوششیں فلسطینی معاملے کو ذرا سا بھی آگے بڑھانے میں مکمل طور پر اور بری طرح سے ناکام ہیں. لبرل طبقے کی پلاننگ کے مطابق اگر فلسطینیوں کو ایک “آزاد” ریاست دے بھی دی جائے تو یہ دنیا سے جغرافیائی طور پر کٹی ہوئی اور ٹوٹی پھوٹی ریاست ہو گی اور اسرائیلی ریاست کی معاشی اور عسکری قوت کے سائے تلے اس کا اقتدار اور حاکمیت کسی میونسپل ادارے سے زیادہ نہ ہو گی۔

اسرائیلی فسطائیت، امریکی سامراج، اقوام متحدہ، عرب شیوخ اور اسلامی بنیاد پرست اِس مسئلے کو کبھی حل نہیں کر سکتے، کبھی بھی نہیں. قاہرہ، تیونس، عمان، بحرین، یروشلم اور حیفہ کی سڑکوں پر نظر آنے والی عوامی طاقت نے اِس مسئلے کا حل واضح کر دیا ہے. اسرائیلی محنت کشوں اور نوجوانوں کی عرب بہار میں بڑے پیمانے کی شرکت نے ثابت کر دیا ہے کہ فلسطین کی قومی آزادی کا راستہ اسرائیل میں طبقاتی جدوجہد سے ہو کر گزرتا ہے۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *