آسیہ بی بی کی رہائی اور ملک گیر  احتجاج۔۔۔ثقلین مشتاق کونٹا

31 اکتوبر  بروز بدھ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں آسیہ بی بی کو باعزت بری کردیا جن کے اوپر  توہین رسالت کا مبینہ الزام تھا ۔کیا یہ فیصلہ درست تھا یا غلط   ؟ یہ تو اللہ تبارک وتعالٰی کی ذات ہی بہتر جانتی ہے ۔ اور یہ بھی اللہ ہی علم رکھتے ہیں  کہ معزز جج صاحبان نے آسیہ بی بی کو باعزت بری کرکے اپنی آخرت برباد کی  یا دو بچوں کے سر پر ممتا کا سایہ فراہم  کرکے اللہ کے ہاں برتر ٹھہرے ۔  لیکن اس فیصلے کی وجہ سے پورا ملک ہیجان کی کیفیت میں مبتلا ہوگیا ۔ جس کی وجہ عوام کا عدالتی نظام اور قانون پر عدم اعتماد ہونا ہے ۔ عوامی عدم اعتماد کے سب سے بڑے مجرم اور قصوروار ہمارے ارکان پارلیمنٹ ہیں  جو توہین رسالت کا اتنا موثر قانون تشکیل نہیں دے پائے جتنا  موثر قانون کسی اسلامی ریاست  میں ہونا چاہیے ۔  اس غیر موثر اور بے جان قانون کی وجہ  سےکئی بے قصور  لوگوں کو ذاتی رانجشوں کی  بنا پر توہین رسالت کی آڑ میں موت کے گھاٹ اُتار  دیا گیا اور کچھ  انسان اس گھناونے جرم کے ارتکاب کے بعد بھی ملک میں دندناتے پھر  رہے ہیں ۔

کسی عدالتی اور حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج کا حق عوام  کو ریاست دیتی ہے ۔ مگر یہ احتجاج پرامن ہونا چاہیے نہ کہ پرتشدد ہو جس سے ملکی سلامتی داؤ پر لگ جائے ۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی رہنماؤں سے لےکر مذہبی علما تک جس کسی نے بھی  احتجاج کیا ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ 2007 میں بے نظیر بھٹو کی شہادت پر مشتعل مظاہرین کی وجہ ملکی معیشت کو 2 بلین ڈالر جبکہ 2014 میں تحریک انصاف کے دھرنے کی وجہ 457 ارب روپے کا نقصان ہوا ۔

حالیہ عدالتی فیصلے کے فورا ً بعد ملک کی تمام مذہبی جماعتوں نے اپنے کارکنان کو احتجاج کی کال دی اور  چند لمحات میں ملک کے مختلف شہروں  میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین جمع ہوگئے ۔ افسوس!  ایک مخصوص مذہبی سیاسی جماعت جس نے عام انتخابات 2018 میں 23 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے ، اُس کے سربراہ نے آسیہ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج صاحبان کو قتل ، آرمی چیف اور وزیراعظم  کے خلاف بغاوت کرنے  پر عوام کو اُکسایا۔ میں یقین کے ساتھ  یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ مولانا  صاحب نے عدالتی فیصلے کا مطالعہ بھی نہیں کیا ہوگا، اُن وجوہات سے بھی لاعلم ہونگے جن کو بنیاد بنا کر آسیہ بی بی کو رہا کیاگیا اور مولانا کے کارکنان نے بھی فیصلے پڑھنے کی زحمت کیے بغیر مولانا کے احکامات پر آنکھیں بند کرکے عمل کرتے ہوئے ریاست کو مٖفلوج بنادیا ۔ان عناصر کے متعلق اللہ تبارک وتعالی   قرآن پاک میں واضح فرماتے ہیں کہ

ترجمہ : اور جب ان سے کہاجاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں ۔

 اس مخصوص مذہبی جماعت کے کارکنان قیادت کے احکامات کی تکمیل کرتے ہوئے ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے دین اسلام کی  کیا خدمت کررہے ہیں ؟سرکاری املاک اور لوگوں کی جان اور مال کو نقصان پہنچا کر  ، ملک کے مستقبل کے معماروں کے تعلیمی حرج کا باعث بن کر ، سڑکوں پر ٹائروں کو آگ لگا کرکے اور عام شہریوں   کیلئے مشکلات  کا  موجب بن  کر کونسے دینی  احکامات  کی تکمیل اور نبی کریم ﷺ کی شان میں اضافہ کررہے ہیں ؟  اطلاعات کے مطابق ان نام نہاد عاشقان رسول نے دھرنے  کی آڑ میں  30 بسیں ، 20 لینڈ کروزر ، 50 رکشے ، 200 موٹر سائیکل اور 30 سے زائد دکانیں نذر آتش کردیں ہیں۔ شیخوپورہ کے بتی چوک میں ایک معصوم بچے کی پھلوں کی  ریڑھی جو اس کی تمام جمع پونچی تھی اس پر مذہبی جماعت کے کارکنان نے حملہ  کرکے لوٹ لیا۔ یہ پھلوں کا ٹھیلہ ہی اس کےبیمار باپ کی ادویات  اورچھوٹے  بہن بھائیوں کی دو وقت کی روٹی  کا  ذریعہ تھا ۔ کیا یہ اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں ہے ؟

کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی

جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی

اسلام تو امن و سلامتی کا دین ہے ۔ ہم تو اُس پیغمبر اسلام کی امت میں سے  ہیں جہنوں نے اپنے اوپر کوڑا کرکٹ پھینکنے والی بڑھیا کی تیمارداری کی  ،  طائف کی وادی میں پتھروں سے لہولہان کرنے والے  لوگوں کیلئے ہدایت کی دعا فرمائی اور راستے میں سے پتھر ہٹانے پر جنت کی نوید سنائی ۔لیکن یہ کیسے امتی ہیں جو پتھر ہٹانے کی بجائے کئی پتھر راستے میں ڈال کرکے دوسرے کیلئے مشکلات کاموجب بن رہے ہیں ۔ اسلام کو کچھ مذہبی جماعتوں کے گھناونے  عزائم نے بے انتہا نقصان پہنچایا  ، وہ اسلام جو امن ، برداشت ، تحمل ، بردباری اور صبر کا سبق دیتا ہے   وہ کچھ علما اور انتہا پسند لوگوں کی وجہ    سے پر تشد د مذہب کے طور پرجانا جاتا ہے ۔  میری ان تلخ مگر حقائق پر مبنی باتیں کئی لوگوں کو چبھیں گی اور شاید کل  میرے اوپر بھی کسی مفتی نے کفر کا فتویٰ  صادر کیا ہو ۔

بقول شاعر

مجھ سے جلایا نہ گیا اثاثہ کسی ٖغریب کا

مُلا کو میرے عشق پہ  شک ہوگیا!

ہمیں بحیثت  قوم اپنے رویوں پر غور کرنا چاہیے ۔ مسجد کے مولوی اور سیاسی جماعت کے رہنما کی باتوں کی اندھا دھند تقلید کرنے کی بجائے  کچھ اپنی عقل کا استعمال کرکے تحقیق بھی کرنی چاہیے آیاکہ ان کی باتوں میں کچھ صداقت  ہے بھی یا نہیں ۔  سپریم کورٹ آف پاکستان کو چاہیے ملک کو اس ہیجانی کیفیت سے نکالنے کیلئے نظرثانی اپیل منظور کرتے ہوئے  اس حساس ترین معاملہ کادوبارہ  بغور جائز لیا جائے ۔ قوم کے سامنے وہ تمام وجوہات لے کر آئیں جس کی بنیاد پر سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے آسیہ بی بی کو سزائے موت دی اور عدالت عظٰمی نے باعزت بری کیا  تاکہ عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو۔  ہمیں بھی یہ جان لینا چاہیے کہ عدالت  حقائق اور ثبوتوں کی روشنی میں فیصلہ کرتی ہے نہ کہ عوامی خواہشات کے مطابق ۔اگر عوامی خواہشات کے مطابق کسی بے گناہ کو سزا دی جائے تو اللہ  کے ہاں اس پر شدید عذاب نازل کیا جائے گا۔ اللہ تبارک وتعالی قرآن مجبد میں فرماتے ہیں

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوۡمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِیۡنَ

ترجمہ : اے ایمان والو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پیشمانی اٹھاؤ ۔

(سورت الحجرات آیت نمبر 6 )

ثقلین مشتاق کونٹا
ثقلین مشتاق کونٹا
آپ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اسلام آباد میں کیمیکل انجنیئرنگ کے طالبعلم ہیں۔صحافت سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں ۔ پاکستان کو ایسی ریاست بنانے کے خوہاں ہیں جہاں اللہ کے بعد عوام کی حکمرانی ہو نہ کہ جمہوری آمروں کی آمریت قائم ہو ۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر صحافی برداری عوام میں شعور بیدار کرنا کا بیڑہ اُٹھا لیں تو یہ مشکل کام جلد ممکن ہوسکے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *