زمین کے نیچے سے وار – گلبدین حکمت یار

نمبر ون کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہ مخالف کو پیچھے ہٹنے اور امن سے رہنے کا بار بار موقع دیتی ہے لیکن اگر اسکی امن کی ان کوششوں کو کوئی کمزوری سمجھ لے تو پھر جواب تو بہت ہی بھرپور دیتی ہے۔
افغانستان کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے پیچھے اور آئندہ پاک افغان پالیسی میں یوٹرن کی بنیاد ڈالنے کے لیئے گلبدین حکمت یار خان ایک کارگر مہرہ ثابت ہوگا۔
اور دنیا خاص کر بھارت اور اسرائیل نواز عالمی میڈیا کا یوں گلے پھاڑ پھاڑ کر آئی ایس آئی کو اس کارستانی کا ماسٹر مائنڈ قرار دینا اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ افغانستان سے سبھی مصالحتی چینل ناکام ہو گئے ہیں اور پاکستان نے اس گھاٹے کے سودے میں صرف کھویا ہی ہے تو نمبر ون کا ایسا وار ناگزیر ہو چکا تھا جو افغانستان کی سیاست کا ڈھانچہ ہی بدل دے اور ایسا ہونے سے ہی پاکستان کے مقاصد کو تحفظ ملے گا۔
گلبدین حکمت یار خان کا جھکاؤ پاکستان کی طرف ہے اور افغان عوام کا گلبدین حکمت یار کی طرف۔
اس لیئے پاکستان کو افغانستان میں ایسے ہی لیڈر کی ضرورت ہے جو پاکستان کی مغربی سرحدوں پر شورش نا ہونے دے۔
حکمت یار کی کشمیر پر دو ٹوک پالیسی سے ساری دنیا ہی واقف ہے۔
ابھی تو نمبر ون نے حکمت یار کو واپس افغانستان کی راہ دکھائی ہے لیکن اس سے بھی بعید نہیں کے اسکی مستقبل کی ساری الیکشن کمپین اور الیکشن میں ایک شاندار جیت کا سہرا بھی نمبر ون کے ہی سر ہو۔
ایسا ہونا ازحد ضروری بھی ہے۔
کیونکہ اگر اس فتنے کو یہاں نا روکا گیا تو مستقبل میں دنیا ایک سہ فریقی جنگ کا تماشہ دیکھے گی جس کا آغاز بھارت کی شیطانی سے ہوگا مگر نقطہ آغاز پاک افغان بارڈر ہوگا اور نقطہ انجام پاک بھارت بارڈر۔
اب دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
بہرحال نمبر ون نے بہت ہی خاموشی سے افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت اور بھارت کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی زور کا جھٹکا دھیرے سے دے دیا ہے۔
دوسرا جھٹکا تو پھر شدید ہی ہوگا اور اس کے تاریخ پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
امریکہ کو بھی اس تبدیلی کا اندازہ نہیں ہوگا ورنہ وہ اتنا بڑا میدان کسی صورت پاکستان کے لیئے کھلا نا چھوڑتا۔اور اگر امریکہ واقف حال تھا تو پھر بھارت افغانستان اور ایران کو ضرور مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا کہ امریکہ خطے میں کیا بگ گیم پلان کر رہا ہے یا کس کی گیم کا حصہ بن رہا ہے۔
گزشتہ کچھ ماہ سے امریکہ کا ایک نادیدہ جھکاؤ پاکستان کی طرف ہونا خاص کر سی پیک کی وجہ سے اور اس پر مستزاد برطانیہ کا سی پیک میں شامل ہونے کی درخواست کرنا خطے میں طاقت کی سمت متعین کرنے کو کافی ہے۔
بھارت اب پنڈ کے مراثیوں کی اگوائی کرکے چوہدری بننے کے فراق میں ہے لیکن اندر کھاتے مراثی بھی اصل چوہدری کا خوف رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اصل چوہدری انہیں اس خود ساختہ چوہدری سے ہائی جیک کرلے۔
بس یہ اسی چودراہٹ کو مکمل کرنے کا پہلا قدم تھا جو نمبرون کی جانب سے اٹھا لیا گیا ہے۔اب مورخ کا کام بڑھ گیا ہے۔
اور امید و گمان اچھا رکھنا ہمارا حق ہے۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *