• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • تم “منی لانڈرنگ” کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔۔۔محمد احسن سمیع

تم “منی لانڈرنگ” کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔۔۔محمد احسن سمیع

نیب کی پھرتیوں کے بعد اب صورتحال یہ ہے کہ ورلڈ بینک خود کہہ رہا ہے کہ بھائی ہماری رپورٹ کے اعداد و شمار حقیقی نہیں بلکہ ایک ریسرچ ماڈل کے ذریعے جنریٹ کئے گئے تخمینوں پر مبنی تھے، مگر ہمارے معاشی مفکر اعظم اسد عمر صاحب اس وضاحت کے سامنے آنے کے بعد بھی پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہو کر بے دھڑک یہ کہتے پائے گئے کہ “یہ ورلڈ بینک کی رپورٹ ہے، کسی لوکل زرد صحافت کرنے والے اخبار کی نہیں، اس میں کچھ تو حقیقت ہوگی”۔ مطلب کہ ڈھٹائی کی حد ہی ہو گئی۔ بھائی آپ نے بغیر سوچے سمجھے ایک جعلی دانشور کے جعلی تجزیہ سے متاثر ہو کر ٹوئیٹر پر  بونگی مار ہی دی تھی تو اب مزید خفت سے بچنے کا بہترین طریقہ تو یہ تھا کہ اپنی غلطی پر معذرت کر لیتے یا اظہار افسوس ہی کر دیتے، مگر تحریک انصاف کے دیگر لیڈران کے مثل شاید آپ میں بھی اتنا ظرف موجود نہیں۔
دوسری بہترین صورت یہ ہوسکتی تھی کہ مزید لغویات سے گریز کرتے ہوئے خاموش رہتے مگر وہ انصافی ہی کیا جو عذر گناہ، بدتر از گناہ کا مظاہرہ نہ دکھائے۔ موصوف نے 9 ارب میں پشاور میڑو بنانے کے دعوے سے جس قسم کی  لغویات شروع کی ہیں، اب ان کی اینگرو سے تقریباً جبری بے دخلی پر قطعاً حیرت نہیں ہوتی۔
 دوسری جانب ہمارے عظیم دانشور ڈاکٹر(مبینہ) فرخ سلیم ہیں جو مسلسل ٹوئیٹر پر اپنی اصل حماقت کو جسٹفائی کرنے کے لئے نئی  لغویات ارشاد فرما رہے ہیں اور ورلڈ بینک کی وضاحتوں کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے۔ یہ وہی فرخ سلیم ہیں جنہوں نے اورنج لائن میٹرو پر اپنے شہرہ آفاق ناقدانہ تجزیے میں یہ گوہر نایاب عطا فرمایا تھا کہ لاہور میٹرو کے بجٹ میں تو ڈھائی لاکھ لوگوں  میں مہران کاریں خرید کر بانٹی جا سکتی تھیں! حیرت ہوتی ہے کہ اس ذہنی سطح کے لوگ کیسے اعلیٰ اور سنجیدہ عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اپنے چیئرمین نیب کا تو خیر کیا ہی تذکرہ کریں، جو شخص ایک غیر معروف “کالم نگار” کے اس کالم کی بنیاد پر نوٹس لیتا اور جاری کرتا پھرے جسے ایک اوسط درجے سے بھی کم کے اخبار کے مرکزی ادارتی صفحے پر بھی جگہ میسر نہ ہوتی ہو، اس سے کسی سنجیدگی کی توقع رکھنا ہی عبث ہے۔
 معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات ترسیلات زر اور منی لانڈرنگ کی مبادیات تک سے ناواقف ہیں۔ اقتصادیات کا مبتدی طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ منی لانڈرنگ کے لئے رقم کبھی بھی بینکنگ چینلز سے باہر نہیں بھجوائی جاتی۔ سب سے پہلے تو آپ اپنے یہ کیش ڈالر جب کسی بینک میں لے کر جائیں گے یا کہیں اور سے تبادلہ کروانے کوشش کریں گے تو وہیں آپ سے آپ کی سورس آف انکم کے بارے سوال کیا جائے گا اور قابل اطمینان جواب نہ آنے کی صورت میں آپ کی گرفتاری کا بھی امکان موجود ہوتا ہے۔ 49 ارب ڈالر کی رقم کوئی ایسی معمولی رقم نہیں کہ جسے ایک یا چند افراد مل کر بینکوں میں جمع کروا کر سفید کرلیں اور ریگیولیٹرز کے ریڈار میں بھی نہ آئیں۔ کوئی ان بقراطوں سے یہ پوچھے کہ بھائی یہ اربوں ڈالر کی رقم اگر تو کیش کی صورت میں موجود تھی تو بینکنگ سسٹم میں کس طرح اپنے نقش پا چھوڑ گئی جو ورلڈ بینک کے کنٹری مینجر اور انٹرنل آڈیٹرز نے اسے اسٹیٹ بنک کے کھاتوں کے آڈٹ کے دوران پکڑ لیا؟ کیا ورلڈ بینک اس طرح کسی ملک کے مرکزی بینک کا آڈٹ کرنے کا مجاز ہے بھی یا نہیں، یہ ایک الگ موضوع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ ہزار ڈالر بھی ملک سے باہر پرائیویٹ ریمیٹنس کے ذریعےبھیجنا چاہیں تو دانتوں پر پسینہ آجاتا ہے، جبکہ ہمارے ان معاشی آئن سٹائنز کے مطابق یہ 4٫9 ارب ڈالر نجی ترسیلات زر کے چینل کے ذریعے ہی باہر بھیجے گئے ہیں۔ اب اندازہ لگائیں کہ اگر ایک آدمی کے ذریعے صرف ایک لاکھ ڈالر بھی باہر بھجوانے کے کی کوشش کی گئی ہو تو کوئی 49 ہزار لوگ اس کار خیر میں شریک رہے ہوں گے! کیا عملاً ایسا ممکن ہے؟ کیونکہ الزام نجی ترسیلات کے ذریعے رقم باہر بھجوانے کا ہے تو اس کام میں کسی کمپنی کا ملوث ہونا اصولاً خارج از بحث ہے تاہم صرف احباب کی تسلی کے عرض ہے کہ وہ ان پاکستانی کمپنیز کی نشاندہی کردیں جو شریف خاندان یا ان کے بے نامیوں کی ملکیت ہوں اور ان کے پاس کیش تو چھوڑیں، کل خالص اثاثہ جات بھی محض ایک ارب ڈالر کے ہی ہوں۔ کوئی کمپنی صرف اسی صورت میں اتنی بڑی رقم باہر بھیج سکتی ہیں جب اس کے لیکوڈ اثاثے اس قدر ہوں۔
 منی لانڈرنگ کرنے والے کبھی بھی اپنا کالا دھن بینکنگ سسٹم میں بلاواسطہ نہیں لاتے۔ منی لانڈرنگ کا بنیادی طریقہ کار ہی یہی ہے کہ پہلے کالا دھن کیش کی صورت ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک پہنچایا جاتا ہے اور بعد میں بیرون ملک سے اسے کاروباری آمدن یا انویسٹمنٹ ریٹرنز ظاہر کرکے بطور ریمٹنس واپس بھجوایا جاتا ہے اور اس طرح یہ رقم نہ صرف دھل کر سفید ہوجاتی ہے بلکہ اس پر ٹیکس استثناء بھی حاصل ہوجاتا ہے۔ اب بقول اس میڈیا رپورٹ کے جس کی بنیاد پر نیب نے پریس ریلیز جاری کی، ملکی تاریخ کا یہ عظیم ترین فراڈ عالمی بینک کے “انٹرنل آڈیٹرز” نے اسٹیٹ بینک کے سالانہ آڈٹ کے دوران پکڑا! اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ رقم تو بینکنگ سسٹم میں موجود تھی، اور ظاہر شدہ دولت تھی، جب ہی اسٹیٹ بینک کے پاس اس کی منتقلی کا ریکارڈ تھا۔ دوسرے یہ کہ اسی “میڈیا رپورٹ” کے مطابق یہ رقم بذریعہ دبئی بھارت منتقل کردی گئی اور واپس نہیں منگوائی گئی۔ تو حضور صرف اتنا سمجھا دیں کہ یہ رقم اگر بیرون ملک بینکنگ سسٹم کے ذریعے بھیج کر واپس بھی نہیں منگوائی گئی تو یہ منی لانڈرنگ کس طرح ہوگئی؟ اگر کسی بھی جیورزڈکشن میں اسے منی لانڈرنگ قرار دیا جاسکتا ہے تو وہ بھارت ہے اور بھارت میں بینکنگ اور سرمائے کی منتقلی کے قوانین نہایت سخت ہیں۔ وہاں تو کوئی شور نہیں اٹھا کہ پاکستان سے اتنا سرمایہ آخر کیوں منتقل کیا جارہا ہے، کہیں یہ آتنک واد میں تو استعمال نہیں ہوگا۔
چلیں مان لیتے ہیں کہ بھارت کو 2016 میں اپنے تقریباً 330 ارب ڈالر کے زر مبادلہ کے ذخائر میں 49 ارب ڈالر کا “خطیر” اضافہ ہوتے دیکھ کر لالچ آگیا ہوگا اس لئے اس نے اپنی “دم توڑتی” معیشت کو سہارا دینے کے لئے خاموشی سے یہ رقم رکھ لی، مگر ہم اس میڈیا رپورٹ کے خالق دانشور کے اس دعوے کا کیا کریں کہ اس اقدام کی وجہ سے پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر کم ہوئے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 2015 سے 2016 کے دوران پاکستانی زر مبادلہ کے ذخائر کم کیا ہوتے، اس دوران ان میں تقریباً 5 ارب ڈالر کا ریکارڈ اضافہ ہوا!
 حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسا ملک اس بات کا متحمل ہی نہیں ہو سکتا کہ اس کی معیشت سے خاموشی سے اربوں ڈالر نکال دیئے جائیں۔ کسی قسم کی تحقیقات تو دور کی بات، جنازہ نکلتی معیشت چیخ چیخ کر خود ہی اعلان کردے گی کہ اس کے ساتھ کیا ہاتھ ہوا ہے۔ ہماری زر مبادلہ کی ضروریات بمشکل ملک میں آنے والی ترسیلات زر کے ذریعے پوری ہوتی ہیں، ایسے میں اگر اربوں ڈالر ملک سے باہر بھجوا دیئے گئے ہوتے تو ملک کا دیوالیہ نکلنے میں کتنی دیر لگتی؟ یہ الزام اس قدر بے سروپا ہے کہ ٹھیک دنیا بھر میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے اور ہمارا ٹھٹھا اڑیا جا رہا ہے۔ جب اعلیٰ ترین عہدوں پر بیٹھے لوگ اپنی آراء اور کاروائیوں کے لئے ایک اوسط درجے کے اخبار کے اوسط درجے سے بھی کم کے کالم نگار کی تخیلاتی رپورٹس کو بنیاد بنائیں گے تو دنیا کا ہمارا تمسخر اڑانا تو بنتا ہے!

محمد احسن سمیع
محمد احسن سمیع
جانتے تو ہو تم احسنؔ کو، مگر۔۔۔۔یارو راحلؔ کی کہانی اور ہے! https://facebook.com/dayaarerahil

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *