پردیسی دہرے عذاب کا شکار!

ایک محتاط اندازے کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی تعداد 1کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے, جس میں ہر سال 10 لاکھ افراد کا اضافہ ہورہا ہے (یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں جبکہ تعداد اس سے زیادہ ہے)۔بیرون ملک مقیم جہاں ہر سال 15 ارب ڈالر کا کثیر زرمبادلہ پاکستان بھیج رہے ہیں وہیں وہ حکومتی اور عوامی سطح پر شدید مشکلات اور نفرت کا شکار ہیں۔ اپنا ملک چھوڑ کر دیار غیر جانے والے افراد کو عرفِ عام میں پردیسی کہا جاتاہے، پردیسیوں کے بھی اپنے ہی دکھ ہیں جن کو کبھی نہیں سنا گیا، ا ن کو دوسرے درجے کی مخلوق سمجھا جاتا ہے ،پردیس میں ہوں تو اُس ملک کے شہری کہتے ہیں اپنے ملک میں دفعہ ہوجاؤ، اپنے ملک میں آئیں تو یہاں ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ تم تو باہر ہوتے ہو تمہیں کیا پتا ، تمہیں اس سے کیا ۔۔۔جاؤ باہر اپنے ملک میں، یعنی کہ نا ادھر کے رہتے ہیں نا اُدھر کے۔یہاں تک کہ اپنے گھر والے ہی قبول نہیں کرتے۔۔۔ لوجی یہ باہر سے بیٹھ کر حکم چلا دیتا ہے ہمیں پتا ہے ہم یہاں کیسے رہ رہے ہیں پاکستان میں چھوٹے چھوٹے کام کروانے کے لیے لوگوں کی منتیں ترلے کرنا پڑتے ہیں ۔ کوئی پردیسی فون پر کوئی کام کہہ دے تو سب کی انا جاگ جاتی ہے، لوجی یہ باہر ہے تو کیا ہوا ہم کوئی نوکر ہیں اسکے،دوسرے ملک جانے والے افرا دکے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ عمومی رویہ ہے۔
کوئی پردیسی سوشل میڈیا پر کسی بحث میں اپنی رائے لکھ دے تو سب اسکی کلاس لینا شروع کردیتے ہیں ۔ اچھا اتنا ہی دکھ تھا تو ملک میں رہ کر حالات کا مقابلہ کرنا تھا پیسوں کے لالچ میں اپنے ملک ،اپنی ماں کو چھوڑ دیا اور اب دانشور بنا پھرتا ہے ،چل ہٹ! اور شادی شدہ پردیسی کی تو کچھ مت پوچھو، اس جیسا مظلوم بندہ میں نے اپنی زندگی میں آج تک نہیں دیکھا ۔ دو حصوں میں تقسیم وہ شخص کیسی کربناک زندگی گزارتا ہے اسکا اندازہ لگانا ناممکن ہے،ایسا شخص بیوی بچو ں کے لیے پردیس کی خاک چھانتا ہے جبکہ دل و دماغ اپنے ملک کی یاد میں مشغول ہوتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں ویسے بھی ناجانے کیوں پردیسی کی بیوی اور بیوہ عورت کو عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے، جیسے وہ کوئی غیر مرئی مخلوق ہو یا پھر “سب کی دلگی کا سامان”۔ انہیں آسان حدف سمجھتا جاتا ہے ۔ باکردار عورت جس کا شوہر ملک سے باہر ہو، اسکا ہمارے معاشرے میں گزارہ کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے ۔ بچوں کے سکول سے لیکر گیس سلنڈر بھروانے اور بجلی کا بل جمع کروانے تک ہر کام میں وہ دوسروں کی محتاج ہوجاتی ہے ۔
جوائنٹ فیملی سسٹم میں ایسے مسائل تو درپیش نہیں ہوتے مگر ایسے ماحول میں دیورانیاں جیٹھانیوں میں معمولی معمولی باتوں پر لڑائی جھگڑے معمول بن جاتے ہیں، ساس اور نندوں کے لڑائی جھگڑوں سے تنگ بیوی فون پر پردیسی شوہر سے واپس آنے کی التجا ہی کرتی رہتی ہے،مگر۔۔۔ بس یہ آخری سال ہے ،کہتے کہتے بیشتر لوگوں کا پردیس میں ہی آخری دن آجاتا ہے، 90فیصد لوگوں کی لاش بھی پاکستان نہیں آ پاتی کہ اسکے گھر والے افورڈ نہیں کرسکتے ۔ چند پاکستانی اکٹھے ہوکر اس کا جنازہ پڑھا دیتے ہیں ۔ میت کی تصویریں گھر والوں کو بھیج دی جاتی ہیں اور بس۔۔۔ !اور گر کوئی ہمت کرکے وطن واپس آ ہی جاتا ہے تو اس کو لوٹنے کھسوٹنے کا سلسلہ ائیرپورٹ سے ہی شروع ہوجاتا ہے، آخر کار ادھر اُدھر سے ادھار پکڑ کر واپسی کی ٹکٹ لیتا ہے اور حالات سے سمجھوتہ کرکے بقیہ زندگی پردیس میں ہی ذلیل وخوار ہوتا رہتا ہے، چند سال بعد ہی اپنے ملک واپس جا نا ہر پردیسی کیا ایسی آ رزو بن کر رہ جاتی ہے جو کبھی پوری نہیں ہو پاتی۔
لوگ چھٹی پر آئے پردیسی کی تو آؤ بھگت کرتے ہیں مگر مستقل طور واپس آنے والے شخص کو اٹھتے بیٹھتے واپس پردیس جانے کے مشورے اور گھر کے مسائل کی لمبی لسٹ دن رات سنائی جاتی ہے۔اس سب کے باوجود ہر سال 10 لاکھ پاکستانی اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے ممالک میں جارہے ہیں جوکہ لمحہ فکریہ ہے ۔ آج 80 فیصد پاکستانیوں کی خواہش یا کوشش ہے کہ وہ بیرون ملک جاکر بہتر روزگار اور پرآسائش زندگی حاصل کریں جس کا فائدہ نوسرباز اٹھا رہے ہیں اور ہر روز فراڈ کے نئے نئے کیسز اور سکینڈلز سامنے آتے رہتے ہیں۔ انسانی سمگلر پاکستان کے ہر شہر میں پائے جاتے ہیں ۔ ٹریول ایجنٹس لوگوں کو سبز باغ دکھا کر لوٹ رہے ہیں سادہ لوح افراد اپنی زمینیں گھر اور زیورات بیچ کر رقم ان کو دے دیتے ہیں مگر افسوس حکومتی سطح پر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے نا ہی اس مسئلے پر توجہ دی جارہی ہے ۔
اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا اپنا ملک چھوڑ جانا حکومتی پالیسیوں پہ سوالیہ نشان ہے اور لوگ بھی وہ جو اس ملک کی کریم ہیں۔ ڈاکٹر، انجینئر ، وکیل، سائنس دان، ہنرمند، اور غیرہنرمند محنتی افراد جو ملک سے دھڑا دھڑ نکل رہے ہیں اگر یہی سلسلہ مزید دس پندرہ سال جاری رہا تو یہ ملک کے بہت نقصاندہ ثابت ہوگا ۔
دوسری طرف جو لوگ ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں،ان کے ہمیں بحیثیت پاکستانی یہ ضرور کرنا چاہیے کہ جب وہ چند دن کی چھٹی پر واپس آئیں تو ان سے حسنِ سلوک سے پیش آیا جائے،انہیں تضحیق کا نشانہ بنانا مناسب نہیں ،پردیسی کی تکلیفوں کا اندازہ لگانا کارِ دشوار ہے،اس لیئے انہیں اپنائیت کا احساس دلائیے،ایسا کوئی نہیں جو اپنی خوشی سے پردیس کاٹ رہا ہو،یہ مجبوریاں ہیں جو انسان کو دیس دیس لیے پھرتی ہیں ،ورنہ اپنے ماں باپ ،بہن بھائی، دوست احباب، اپنی جنم بھومی اور وطن چھوڑ کر جانے کو کس کا دل کرتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *