تنظیمِ اسلامی کا زوال اور اُس کے اسباب ۔۔۔۔۔عمران بخاری/قسط1

تنظیمیں بنیادی طور پر دو طرح کی ہوتی ہیں۔ باضابطہ یا رسمی تنظیمیں (Formal Organizations) اور غیر رسمی (Informal Organizations) تنظیمیں۔ فارمل آرگنائزیشنز کسی باضابطہ مقصد کے حصول کے لیے بنائی جاتی ہیں اور مقصد کا حصول اپنے ارکان کی مشترکہ کوششوں سے ممکن بناتی ہیں۔ یہ ادارے اپنے مقصد کے حصول کے لیے طاقت اور اختیارات پرمشتمل واضح تنظیمی ڈھانچے اور تقسیمِ محنت (Division of Labour) کے واضح اداراتی نظام پر انحصار کرتی ہیں۔ فارمل آرگنائزیشنز تین طرح کی ہوتی ہیں۔ مفاداتی تنظیم (Utilitarian Organization)، جبری تنظیم (Coercive Organization) اور رضاکارانہ تنظیم (Voluntary Organization)۔ مفاداتی تنظیم ایسے ادارے کو کہتے ہیں جس میں ادارے کے ارکان یا ملازمین کسی مادی مفاد کے پیشِ نظر خود کو ادارے سے منسلک کرتے ہیں۔ ایسے اداروں میں کچھ لو اور کچھ دو کا اصول کارفرما ہوتا ہے۔ ایسے اداروں سے چونکہ ملازمین کے مادی مفادات منسلک ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں ملازمین کو اپنے مادی مفادات کی خاطر کسی حد تک اداراتی جبر یا استحصال بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مادی مفادات اچھی تنخواہ، گھر، میڈیکل کی سہولت، بچوں کی تعلیمی اخراجات کے لیے اسکالرشپ اور کنوینس (Conveyance) وغیرہ جیسی سہولیات کی صورت میں ہو سکتے ہیں۔ ان اداروں میں عہدہ اور اختیار بھی ایک پراثر ترغیب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جہاں ادارہ اپنے مفادات کے تحفظ میں خود غرض ہوتا ہے وہاں ملازم بھی اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنی ترقی کے معاملے میں خود غرض ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے اداروں میں خودغرضی، دوسروں کی ٹانگ کھینچنا، خوشامد، دوسروں کی چغل خوری اور ایک دوسرے کی جاسوسیوں جیسی قبیح اخلاقی برائیاں عام ملتی ہیں۔ مقصد صرف اپنی ذات اور مفادات کی ترقی اور ترفع ہوتا ہے۔ ایسے ہی اداروں کے لیے یہ اصول ایک مسلمہ حقیقت اور نصیحت کی حیثیت رکھتا ہے کہ اپنے باس کو کبھی غلط مت کہو اور اسے درست سمجھو۔ تلقین یہ کی جاتی ہے کہ اس اصول سے جہاں اداراتی نظم منسلک ہے وہاں آپ کی ترقی کا دارومدار بھی اسی اصول کے گرد گھومتا ہے۔ خوشامد کرنے والے ترقی پاتے ہیں اور تنقید یا سوال کرنے والے یا تو ترقی سے محروم کر کے سائیڈ لائن کر دیے جاتے ہیں یا نوکری سے فارغ کر دیے جاتے ہیں۔ ان اداروں کا حصہ بننے والوں کی حیثیت چونکہ ملازم کی ہوتی ہے اس لیے ادارے کا مفاد اور تحفظ ہمیشہ مقدم رہتا ہے۔ ان اداروں میں پرفارمنس کی جانچ پڑتال کا باقاعدہ ایک نظام ہوتا ہے جس میں دیکھا جاتا ہے کہ ملازمین کو جو ٹاسک دیا گیا تھا کیا وہ ٹاسک مکمل ہوا یا نہیں۔ اسی جانچ پڑتال پر ہی فرد کی ترقی اور ملازمت کے استحکام کا دارومدار ہوتا ہے۔ چونکہ ترقی کی سیڑھیاں چڑھنے کے لیے باس (Boss) کی خوشنودی بنیادی حیثیت رکھتی ہے تو اداراتی سیاست (Organizational Politics ) اور امپریشن مینیجمنٹ (Impression Management) کی صلاحیتیں بہت اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہیں۔

جبری تنظیم ایسے ادارے کو کہتے ہیں جس میں شمولیت آپ کی مرضی پر منحصر نہیں ہوتی، مثلاً جیل۔ بعض ادارے ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں شمولیت تو کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے اختیار کرتا ہے لیکن ادارے میں شامل ہو جانے کے بعد کسی بھی قسم کے اختیار سے محروم ہو جاتا ہے، مثلاً فوج۔

رضاکارانہ تنظیم ایسے ادارے کو کہتے ہیں جس میں لوگ کسی غیر مادی مفاد کی خاطر شامل ہوتے ہیں۔ ان اداروں کی تشکیل کے پیچھے کارفرما عنصر کوئی نظریہ یا فلاحی مقصد ہوا کرتا ہے۔ لوگ ان اداروں میں نظریاتی ہم آہنگی کی بنیاد پر شامل ہوتے ہیں یا انسانی خدمت کے اخلاقی، سماجی اور فطری جذبے کی بنیاد پر شامل ہوتے ہیں۔ ان اداروں میں شامل ہونے والے افراد میں قوتِ محرکہ کوئی مادی مفاد نہیں ہوتا بلکہ اخروی نجات یا ذات کی تسکین اور اطمینانِ قلب ہوا کرتا ہے۔ سیاسی، مذہبی اور فلاحی تنظیمیں اس تیسری قسم کی فارمل آرگنائزیشن میں شمار ہوتے ہیں۔

چونکہ رضارکارانہ تنظیم میں شامل افراد کسی بھی قسم کے مادی مفاد سے بے غرض اور لاتعلق ہوتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ ان لوگوں کی جماعت سے وابستگی قائم رکھنے یا اس میں اضافہ کے لیے اُس اصول یا نظریے کو ہر چیز پر مقدم رکھا جائے جو اس جماعت یا تنظیم کی وجہِ جواز ہو۔ اگر جماعت کی بنیادی فکر یا اصول مقدم نہ رہیں تو بیدار ذہن اس فضا میں گھٹن محسوس کرتے ہیں اور نتیجتاً جماعتی نظم میں خلل کا باعث بنتے ہیں یا پھر جماعت چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے نظریہ یا فکر جماعت سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

رضاکارانہ جماعتوں کو ہمیشہ سے دو المیوں کا سامنا رہا ہے۔ پہلا المیہ انسان کی اِس فطری کمزوری سے جنم لیتا ہے کہ وہ جلد باز ہے۔ اپنے کسی بھی عمل کا جلد نتیجہ چاہتا ہے۔ یہ المیہ فرد سے جنم لیتا ہے اور پھر پوری اجتماعیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اپنے مقصد کے حصول کی جدوجہد کرنے والوں میں چاہے یہ احساس شعوری طور پر واضح اور مستحضر ہو کہ یہ لازم نہیں کہ جو جدوجہد وہ کر رہے ہیں اُس کا نتیجہ بھی وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں، لیکن اس نتیجہ کی خواہش کا ہر کارکن میں پایا جانا عین فطری ہے۔ اس خواہش کے پیچھے کارفرما قوتِ محرکہ وہی جلد بازی کی فطری کمزوری ہے۔ نتیجہ خیزی کی یہ فطری خواہش فرد اور جماعتوں کو صراطِ مستقیم سے اتار کر شارٹ کٹ کی ترچھی اور ٹیڑھی پگڈنڈیوں پر چڑھانے کا سبب بنتی رہی ہے۔ ابتدا راستہ بدلنے سے ہوتی ہے اور آخر میں کارکن اور جماعت اس مقصد سے ہی منحرف ہو جاتے ہیں کہ جس کے حصول کے لیے جماعت بنائی گئی تھی یا لوگ اس جماعت میں شامل ہوئے تھے۔

جب شارٹ کٹ کے چکر میں جماعتیں اپنے اصل منہج یا راستے سے ہٹتی ہیں اور غلط راستے کا انتخاب کرتی ہیں تو لازم ہے کہ یہ ٹیڑھا راستہ فرد یا جماعت کو اصل ہدف یا منزل کے قریب لے جانے کی بجائے اُس سے دور لے جانے کا سبب بنے گا۔ جب انسان غلط راستے پر بہت آگے نکل جائے تو ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ یہی ٹیڑھا راستہ ہی صراطِ مستقیم محسوس ہونے لگتا ہے۔ وجہ احساسِ زیاں کا وہ بار ہے جس کا بوجھ اٹھانا انسانی شعور کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ نفسیات میں اس ذہنی کیفیت کے لیے ڈینائل (Denial) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ خود فریبی کی اس کیفیت کے سب سے زیادہ شکار عمر رسیدہ افراد ہوں گے۔ اُن کے لیے اس حقیقت کو تسلیم کرنا کہ اُن کی ساری عمر کی پیش رفت لاحاصل منزل کی طرف رہی ہے اور اب انہیں دوبارہ زیرو سے اپنا صفر شروع کرنا ہے تکلیفِ مالایطاق (ناقبلِ برداشت تکلیف) کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس نے اس تکلیف کا بوجھ اٹھا لیا وہ یقیناً غیر معمولی شخص ہو گا۔

کوئی بھی عقلِ سلیم اور فطرتِ سلیم رکھنے والا شخص جماعتی مقصد اور اُس کے حصول کی خاطر اختیار کیے گئے غلط راستے کے تضاد کو محسوس کر سکتا ہے۔ اسے ہم فکر اور عمل کا تضاد بھی کہہ سکتے ہیں۔ فرد ہو یا جماعت، جب اس میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ اس کی سوچ و فکر اور عمل میں تضاد پایا جاتا ہے تو یہ احساس ایک اندرونی تصادم (Conflict) کو جنم دیتا ہے۔ انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ اس اندرونی تصادم کو رفع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس تصادم کو رفع کرنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو عمل کو فکر کے تابع کر کے ہم آہنگ کر دیا جائے یا اگر عمل کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا تو پھر فکر میں تبدیلی لا کر اسے عمل سے ہم آہنگ کیا جائے۔ جب جماعتیں اپنے چنے گئے غلط راستے کو فکر کے مطابق تبدیل نہیں کریں گی تو لازم ہے کہ وہ اس اندرونی تصادم کو رفع کرنے کے لیے فکر میں تبدیلی لائیں گی جو اس چنے گئے راستے سے ہم آہنگ ہو۔ یہ بات مستحضر رہے کہ فکر و عمل کی کج روی یا انحراف کا آغاز ہمیشہ اوپر لیڈرشپ سے ہوتا ہے اور ہوتا ہوتا نیچے عام کارکنوں میں منتقل ہوتا ہے۔

دوسرا المیہ یہ عمومی انسانی رجحان ہے کہ انسان جس ہستی سے متاثر ہوتا ہے اُس سے محبت بھی کرتا ہے۔ شخصیت کا رعب یا اثر جتنا گہرا ہو گا اتنی ہی محبت بھی زیادہ ہو گی۔ محبت چونکہ ایک جذباتی یا ہیجانی کیفیت کا نام ہے تو اس جذبے میں افراط انسانی عقل اور شعور کو مفلوج کر دیتا ہے۔ نتیجہ شخصیت پرستی اور اندھی تقلید کی صورت نکلتا ہے۔ دراصل یہ دوسرا المیہ ہی ہے جو پہلے بیان کیے گئے المیے کو جگہ فراہم کرتا ہے۔ اگر ذہن بیدار ہوں اور فکر پر شخصیت پرستی اور اندھی تقلید کے غلاف نہ چڑھے ہوں تو لیڈرشپ کوئی بھی غلط فیصلہ کرتے وقت دس دفعہ سوچے گی کہ بیدار ذہن رکھنے والے اراکینِ جماعت اس کا کسی بھی غلط فیصلے پر محاسبہ کر سکتے ہیں۔

Avatar
عمران بخاری!
لیکچرار، قومی ادارہءِ نفسیات، قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *