چلے تھے دیوسائی۔۔۔جاوید خان/قسط23

آشیانے کی تلاش:
پہلا مسئلہ رِہائش کاتھا۔دو تین جگہوں پر بات کی،عاصم میر سفر کو کوئی بارعایت آشیانہ چاہیے تھا۔جہاں کھانا اَچھا مِلے اَور رات بھی آرام سے بَسر ہوسکے۔آخر میدان کے نُکڑ پر جہاں نانگا کا بِچھڑا پانی شور کرتا ہوا بہتا ہے۔نالے سے 10 گز کے فاصلے پر ایک خیمہ ہمارے اَمیر کو رَاس آگیا۔کرایہ مناسب تھا۔خیمہ کامالک محمد حُسین ریٹائرڈ فوجی تھا، اَچھا باورچی تھا اَور سب سے بڑھ کر بااَخلاق تھا۔عاصم صاحب نے کھاناپکانے کے لیے کہا۔پورے سفرمیں سبزی نام کی شے ناپید رہی تھی اَور یہاں بھی ناپید تھی۔دَستیاب تھا تو دُنبہ،بکرا،بازاری مُرغ اور دال ماش۔

جنگل میں بَسے خیموں میں سے اَکثر خیمے ہمارے دیکھے بھالے تھے۔2008  کے زلزلے میں بیرونی لوگ جو خیمے لائے تھے۔اُن میں سے َاکثر یہاں پر تھے۔”خیمے خیمے پہ لکھا ہے رہنے والے کانام۔“گیس اور سٹوپ کے چولہوں کی سُوں سُوں،گھنا جنگل اَور ایک سیاہ گھنی رَات۔آ بشا روں کا ترنم،نانگا کا بِچھٹرا پانی اِس کا زور اِس کاشور یہ سب ایک فِطری دُنیا تھی۔بُرا تھا تو اِن جنریٹر وں کی گروں گروں اور اِن سے بھی بُرا ہمارے پڑوسی خیموں میں بجتا ڈھول اَور ساتھ بے ہنگم آوازیں۔سڑک پار اِن خیموں میں ناچتے اِنسانی ہیولے۔جیسے بھُوت ناچ رہے ہوں۔خُوبصورَت وادی کا یہ حصہ بھُوتستان لگ رہا تھا۔

خیمہ کے اَندر سات آدمیوں کے لیے گدے بِچھا دئیے گئے۔آٹھواں اِن ساتوں کے قدموں میں سُکڑ کر سو جائے گا۔خیمہ کے پیچھے بیاڑ کے نیچے پتھروں سے ایک مسجد کی حد بندی کی گئی تھی۔چٹائی پہ نماز عشااَور قضاء مغرب اَدا کی اَور خیمے میں آگئے۔اِتنی دیر میں کھانا چُن دِیا گیا تھا۔پیاز و ٹماٹر کاسلاد،مُرغ کڑاہی،دال ماش،گرم توے پہ پکی پتلی چباتیاں اور دیسی ککڑی کاٹ کر دسترخوان پر رکھ دی گئیں۔پانی اِتنا ٹھنڈا تھا کہ  پیا نہ جاتا تھا۔میرے اَورلاغر گُڈو کے علاوہ سب نے کھایا اَورڈٹ کر کھایا۔کھانے کے بعد قہوہ پِیا۔

عشق بے چارہ نہ مُلا نہ حکیم:
دَسترخوان اُٹھا لِیا گیا۔تو کُچھ دیر کے لیے ایک محفل سی جم گئی۔مُختلف موضوع زیر بحث آئے۔گُڈو یا عمران نے ایک سوال اُٹھایا عشق کیا ہوتاہے؟۔ اِس پہ سب اَپنا اَپنا نُقطہ نظر پیش کریں۔
راحیل: عشق مجازی اَور حقیقی اَلگ اَلگ ہیں۔ہر ایک اَپنی اِستعداد کے مطابق اِن سے لذت پاتا ہے۔
عاصم صاحب: خاموش۔
گُڈو: عشق زندگی ہے۔
طاہریو سف:عشق ِمجازی اَورحقیقی،دُونوں کی اَپنی اَپنی منزل ہے۔
اَصغر اَکرم:خاموش۔
شفقت:خاموش۔
عمران رزاق:جب ایک مقصد کے لیے کوئی اَپنی ذات کوفراموش کر دیتا ہے تو وہ جذبہ عشق کہلاتاہے۔چاہے وہ مقصد فرد ہو یا کوئی اَور منزل۔
میں:عشق اِنسان کی منزل کا تعین کرتا ہے۔اَور اُس کی طلب کے لیے جدوجہد پہ اُکساتاہے۔

ہماری باتیں،ہماری تھیں۔عشق پہ بڑے لوگوں نے خامہ فرسائی کی۔
ؔشاد باش اَے عشق خُوش سودائے ما۔اَے طبیب جُملہ علت ہائے ما
اَے دواے نخوت و ناموس ما۔ اَے تو ِ افلاطون وجالینوس ما
”اے عشق خُوش اَورآباد رہو۔اے ہماری سب بیماریوں کے معالج،اے ہمارے تکبر اور شہرت کی طلب رکھنے پہ دوا کاکام کرنے والے۔اے! (عشق) تُو ہمارے لیے حکیم افلاطون اَور جالینوس ہے“
ؔ عاشقا ں راشُد مدرس حُسن دوست۔دفتر ودرس و سبق شاں رُؤ ے اوست
”محبوب کا حُسن ہی عاشقوں کا مدرس بن گیا ہے۔اِن کی کتاب اَور درس اَور سبق اِس کا چہرہ ہوتاہے“
ؔعِشق آں شعلہ است کہ جوں برفروخت۔ہر جُز معشوق باشد جملہ سوخت
”عِشق ایسا شعلہ ہے کہ جب بھڑک اُٹھتا ہے تو معشوق (حقیقی) کے سوا تمام چیزوں کو جلادیتا ہے“
(رومی رحمتہ اللہ علیہ)
ؔعقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے۔یہ عشق بے چارہ نہ مُلا،نہ زاہد،نہ حکیم
(اِقبال)

شیخ فریدالدین عطارنے پہلی دفعہ اپنی صوفیانہ شاعر ی میں عقل کے ناتواں وجود کے سامنے عِشق کاچراغ روشن کیا۔اِقبال نے رومی کو مُرشد کہا ہے تو رومی نے حضرت عطار کی دُنیا سلُوک کے سامنے خُود کو بے بَس محسوس کیا۔
ؔہفت شہر عشق را عطار گشت۔ماہماں اَندرخم یک کوچہ ایم
”عطاررحمتہ اللہ علیہ نے عِشق کے سات شہروں کی سیر کی ہے اَورمیں اَبھی تک گلی کے ایک نُکڑ پہ کھڑا ہوں“ (رومی)
فلسفہ عشق کی مشکل کتاب بند ہوئی اَورطاہر یوسف،عمران رزاق اَور اَصغراَکرم باہر گھومنے نکل گئے۔عاصم صاحب اَور راحیل رَامہ میدان کی طرف چلے گئے۔میں اَور گُڈو خیمے میں ہی بیٹھے رہے گُڈو بِستر پہ دراز ہو گئے تو میں باہر باوَرچی محمد حسین کے پاس آکر بیٹھ گیا۔دامن نانگا میں آباد جنگل میں خُنکی تھی۔اَور بدن کی چادر اُسے مُشکل سے سہار رہی تھی۔محمد حسین کا ایک رِشتہ دار پہاڑ سے گِر کرفوت ہو گیا۔وہ صبح سویرے آنے کا کہہ کر چلاگیا۔متوفی بالن کی تلاش میں گیا تھا۔پہاڑ سے پھسلا اَور جانبرنہ ہوسکا۔

میں واپس خیمے میں آیا اَور سب کے پاؤں میں بِچھے بِستر میں گھُس گیا۔کُچھ دیر بعد باقی لوگ بھی واپس آئے اَور بِستروں میں گھُس گئے۔نیند کب آئی ہمیں کُچھ اَندازہ نہ ہوا۔

جاری ہے۔۔

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *