اجتماعی شعور کی زبوں حالی۔۔۔راؤوقاص ایڈووکیٹ

SHOPPING

پاکستانی بھی عجیب قوم ہیں ادھر کوئی  واقعہ سانحہ یا کسی سماجی شخصیت کی موت ہو جاے توہم بجائے اس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے اور سراہنے کے موازنے، مقابلے  اور جنت جہنم کے فیصلوں میں پڑ جاتے ہیں۔
ایدھی کی وفات پہ ان کی زندگی کے مثبت پہلو ڈسکس کرنے، ان کو خراج تحسین پیش کرنے کی بجائے اس بحث میں الجھے رہے  کے ایدھی کی مسلمانیت متنازعہ تھی وہ جنتی ہیں یا جہنمی۔
بھر رتھ فاو انتقال کر گئیں۔ اس غیرمسلم عورت انسانیت کی خاطر  اپنے وطن تک کو خیرآباد کہہ دیا اور ساری عمر آسائشوں کی زندگی ترک کرکے کراچی کی بدبودار کچی آبادیوں میں کوڑھ کے مریضوں کی خدمت میں گزار دی ،ہم نے بجائے ان کے اس قابل ستائش اور انسان دوست فعل کی تقلید کرنے کے اسے جہنم کے درواذے تک پہنچا کے دم لیا۔
ادھر نامور مصنف مظہر کلیم صاحب نے داغ مفارقت دی ادھر ہمارے اہل علم نے یہ بحث شروع کر دی کہ مظہرکلیم بڑے مصنف تھے یا ابن صفی۔۔
پرسوں ٹی وی پروگرام پر دو علما کے دوران حیات ممات جیسے مسئلہ کو بنیاد بنا کے فرقہ وارایت کو ہوا دینے کی مذموم کوشش کی گئی۔ ہم نے مذمت تو کی لیکن اسکے ساتھ ساتھ عادت سے مجبور ہوکے حیاتی اور مماتی کی بحث کا پنڈورا بکس کھول کے زبانی کلامی فتوی بازی سے باز  نہ آئے۔۔

کل ایک سکھ کمیونٹی کے سربراہ کو دن دیہاڈے پشاور کے بازار میں قتل کر دیا گیا۔
مقتول انتہائی  انسان دوست اور وطن پرست شخصیت کے مالک تھے ۔مذاہب میں ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کےلیے  ہروقت مصروف عمل رہتے تھے ہر قسم کے مذہبی تعصب سے بالاتر ہو کے انکی انسان اور وطن دوست خدمات ہمیشہ یاد رکھیں جائیں گی۔
قوموں کا  شعور فوت ہوجائے تو سوال، ردعمل اور مجموعی رویے جہالت کی آخری حد وں کو چھونے لگتے ہیں ۔ابھی ابھی ایک شریف آدمی کی وال پہ حسب روایت یہ بحث دیکھ کر انتہائی  دکھ ہوا کہ ایک سکھ کی موت پہ ماتم کرنے والے انڈیا میں اقلیتوں سے رکھا جانے والاسلوک اور رویہ بھی نظروں میں رکھیں اسی طرح ایک وال پہ اس بات پہ جھگڑا ہوتے بھی دیکھا کہ چونکہ مقتول افطار پارٹیوں کا اہتمام بڑے شوق و ذوق سے کرتے تھے لہذا ہوسکتا  ہے اللہ انکی بخشش کی کوئی  راہ نکال دے ۔۔بس پھر کچھ لوگ ان کے  جنتی اور کچھ جہنمی ہونے کے حق میں دلیلوں کے انبار لگائے  جا ر ہے تھے۔

SHOPPING

یہ  ہے  ہماری قوم کی بحیثیت مجموعی شعوری سطح جو پسماندگی کی آخری سطح پر پہنچ کے اب شاید لاعلاج ہو چکی  ہے۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *