(A POEM IN FOUR VERSIONS)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

A POEM IN FOUR VERSIONS, URDU, ENGLISH, FRENCH, AND SPANISH.

THE WOMAN WITH SHAVED HEAD
( یہ نظم پہلے انگریزی میں اسی عنوان سے لکھی گئی اور شاعر کی انگریزی کتاب
The Sunset Strands میں شامل ہے)

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

وہ بھی چپ رہتی تھی اکثر
میں بھی باتونی نہیں تھا
پر  ہمارا ایک ہی گاڑی میں روزانہ کا چکر،
کار کی پچھلی نشستوں پر اکٹھا بیٹھنا
ریڈی ایشن کے عمل کے بعد کینسر وارڈ سے دوبارہ گاڑی میں اکٹھے لوٹنا ۔۔۔۔
شاید رفاقت کے لیے کافی نہیں تھا
پھر بھی ہم، وقفوں میں ، کچھ کچھ سست رفتاری سے
رک کر باتیں کرنے لگ گئے تھے
ڈرائیور جو ہم کو لے جاتا تھا، بوڑھا، بے ضرر سا
شاذ ونادر ہی ہماری گفتگو میں حصہ لیتا

’’اِس حرامی سر کے اندر پک رہے سرطان سے کھلواڑ کرنا
اتنا معمولی نہیں ہے ۔۔۔۔‘‘
ایک دن اس نے کہا اور اتنا کہہ کر اس نے پھر چپ سادھ لی
میں بھی تھکن سے چُور سا خاموش ہی بیٹھا رہا
لیکن مجھے کچھ نا موافق سی لگی، نا گفتنی سی
نوجواں خاتون کے منہ سے یہ مردوں جیسی گالی۔۔۔۔’باسٹرد‘ یعنی ’حرامی‘

روز کا معمول تھا دونوں کا
کینسر وارڈ تک اک ایمبولینس میں اپنے اپنے گھر سے جانا،
وہ کرایو سرجری کے واسطے اور میں شعاعی ریڈیائی تھیرپی کے واسطے ۔۔۔
پراسٹیٹ کینسر تھا میرا روگ ۔۔ ۔
اس کا عارضہ تھا سر کے اندر کینسر کا ایک پھوڑا

ایک دن میں نے کہا اس سے ذرا کھل کر
چلو ہم اپنے اپنے دُکھ بدل لیں
ادلا بدلی کر کے دیکھیں ۔۔۔
وہ ہنسی۔ پھیکی سی اک ایسی ہنسی جیسے دہانہ زخم کا کھل جائے
بولی، ادلا بدلی آپ کر سکتے ہیں، میرے اس ’حرامی‘
’کینسرس ‘ سر سے (cancerous) .
یقیناً اپنے سر کی،
میرے باطن میں تو کوئی مرد کا پرزہ نہیں ہے ۔

ہاں، ہنسا میں بھی۔ کہا یہ صرف مردوں کا ہی پرزہ ہے یقینا ً! ۔۔
میں ’حرامی‘ کہہ نہیں پایا کہ یہ آرائشی تعدیل تو
اس کے ہی طرزِ گفتگو کا حسن تھا، میرا نہیں تھا۔

کوکھ تو ہے
میرے اندر بھی، مگر اس رحم مادر کی کبھی میں
ادلا بدلی کر نہیں سکتی،کہ میں تو ایک عورت ہوں
مرا سارا اثاثہ تو یہی ہے ۔۔۔
اس نے شاید سچ ہی سمجھا تھا
مرے اس ادلا بدلی والے نا معقول فقرے کو سرا سر۔۔۔
.
دونوں ، وہ خاتون اور میں
ایک موذی مرض کے مارے ہوئے تھے
آتے جاتے ایمبولینس میں ایسی ہی دلچسپ باتیں کرتے رہتے

ایک دن اس نے کہا،
یہ سر توخربوزہ ساہے، باہر سے برابر ٹھوس
اندر سے مگر کچھ پلپلا
ڈھلمل سا جیسے
پھڑپھڑاتا ، قید میں پنچھی ہو کوئی
پراسٹیٹ کیا چیز ہے آخر؟ بتائیں۔

سوچ کر میں نے کہا
یہ کارخانہ وہ ہے جوقدت نے مردوں کو دیا ہے
مادہ ِ تولید کی خاطر ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ مجھے یہ علم ہے ۔۔وہ ٹوک کر بولی ۔۔۔
کہ کینسر سر کے اندر ہو کہ نیچے پیٹ میں
موذی، حرامی ، مرد، عورت دونوں کا دشمن ہے، قاتل۔۔۔
پھر ۔۔۔۔’حرامی‘۔۔۔ اس کی اک مرغوب گالی

ایک دن اس نے کہا ۔۔۔
وہ چاہتا تھا
کاٹنے کے بعد اپنے بال اس کو پیش کر دوں ۔۔۔
میں نے اک رومال میں باندھے ہوئے
وہ بال اس کو دے دیے تھے ۔۔۔
بوڑھی کالی نرس مجھ سے پوچھتی تھی
کیوں دیے؟
میں نے تمہارے بال کاٹے تھے توان پر
میرا حق تھا
میں تمہارے نام کا لیبل لگا کر پاس رکھتی
اپنی الماری میں
میرے پاس کچھ ریکارڈ بھی رہتا تمہارا۔

اس حرامی کے لیے یہ بال میرے توضروری تھے ، مگر ۔۔۔
۔ وہ کہتے کہتے رک گئی تو میں نے پوچھا
اور کیا تھا جو ضروری تھا ؟ ۔۔تو وہ کچھ دیر تک روتی رہی
پھر ایک د م ہی چیخ اٹھی۔۔۔
حاملہ تھی میں۔۔۔، مگر کہنے لگا، اس کو گِرا دو۔۔۔تلف کر دو
تم کو تو کینسر ہے اور بچے کو بھی کینسر ہوا تو
میں کہاں بھٹکوں گا کینسر کے شفا خانوں میں اس کو ساتھ لے کر ۔۔۔
پورا ، پکا، چور تھا .وہ اک حرامی!
گالی دے کر جیسے ٹھنڈی ہو گئی، تو جھٹ سے بولی
اب یہ باتیں یاد کر نے سے بھلا کیا فائدہ ہے؟

تین دن پہلے بہت بے چین تھی، بولی ۔۔۔
جھمیلہ ہے کہ میری زندگی ہے!
پاس بھی رہتی نہیں اب ۔۔۔
اور جاتی بھی نہیں
بس ایک زندہ لا ش سی بیٹھی ہوئی ہے۔

میں نے عورت ذات کے کند ھوں پر رکھی
جنس کی ساری صلیبوں کی اذیت
خود بھی جب محسوس کی ، تو بات بدلی۔۔۔
مادہ ِ تولید والی بات کو آگے بڑھائیں ۔۔۔؟

ٹوک کر اس نے کہا ۔۔۔
میرا کمینہ دوست مجھ سے یہ کہا کرتا تھا اکثر ۔۔
مرد کے مادے میں یہ ننھے حرامی
لاکھوں کی تعداد میں ہوتے ہیں۔۔
۔ پھرسب کلبلاتے
پراسٹیٹ کو پار کر تے
تیرتے
آگے نکلتے ہیں
تواندر تک پہنچنے کی سعی میں بس ایک رہ جاتا ہے باقی ۔ ۔۔
سچ نہیں کیا ؟

وہ ہنسی
صید ِ زبوں جیسی ہنسی
جس میں شقاوت ، یاس،بیزاری
سمٹ آئے تھے مل کر۔

مرد تو فیاض ہے، اکثر کہا کرتا تھا وہ ۔۔۔
اس نے بتایا ۔۔۔
مرد دیتا ہے فقط ۔۔۔
لیتا نہیں کچھ ۔۔۔
اس حرامی کو یہ اندازہ نہیں تھا
ایک جرثومے کے بدلے ایک بچہ
خوبصورت ایک بالک، اک فرشتہ
قیمتی موتی ۔۔۔یہ عورت کا صلہ ہے

ٹھیک ہی کہتی ہو تم ۔۔۔
میں نے کہا اور اس کی جانب دیکھ کر چپ ہو گیا ۔۔۔
وہ رو رہی تھی۔

تین دن ناغہ تھا
جب میں کار کی آواز سن کر گھر سے نکلا، وہ نہیں تھی ۔۔۔
کار خالی تھی
ڈرائیور نے کہا:
’’ اب تو اکیلے ہی چلیں گے آپ، وہ لیڈی نہیں ہے۔۔۔
چل بسی کل رات، بے چاری ۔۔۔۔
اکیلی تھی، کوئی وارث نہیں ہے۔‘‘ ۔۔۔
پھروہ بولا ۔۔۔ ’’ہاں، یاد آیا ۔۔۔
نرس کہتی تھی کہ اس کے پاس اک پیغام ہے
جو آپ کو دینا ہے اس نے۔‘‘ .
میں نہیں رویا ، مگر بوڑھا ڈرائیور آب دیدہ ہو گیاتھا۔

ایک پرچی سی تھما کر
نرس نے مجھ کو بنظر ِ غور دیکھا
جیسے میں ہی وہ حرامی ہوں کہ جس کا
تذکرہ اس نے کیا ہو گا ہزاروں بار اس سے

آج تک میں پڑھ نہیں پایا فقط دولفظ
جو وہ مرتے مرتے لکھ گئی تھی
مجھ میں ہمت ہی نہیں ہے
ایسے ہی جیسے کہ اس کی زندگی میں
مجھ میں ہمت ہی نہیں تھی
نام اس کا پوچھ سکتا۔۔۔۔۔!

تہذیب اور اخلاق سے خارج ایک لفظ’حرامی‘ اس نظم میں بار بار آیا ہے۔ میں اپنی انگریزی نظم کا ترجمہ کرتے ہوئے اس سے بچ نہیں سکتا تھا، کہ اس کا انگریزی نعم البدل ’’ باسٹرڈ ‘‘ مغربی ممالک میں ایک زبان زد عام لفظ سمجھا جاتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

The woman with a shaved head (An abridged draft)

AN ABRIDGED ENGLISH VERSION…….See French and Spanish versions also.
“Schmoozing with a head is no-nonsense matter,”
She said, and I kept quiet for I didn’t know the word.
We went in the same car for our trip to the hospital;
she for her cryosurgery, I for my radiation.
Prostate cancer was my patrimony; the head tumor was hers.
Can we trade our cancers? Once I asked.
You can, she said, for you also have a head, but I can’t.
I said, I know, you don’t have a prostate.
I have a uterus though, she said, but I wouldn’t
trade it, no matter what.
We made small talk on our trips to and fro.
Head, she said, was a pumpkin—outside a shell
and inside the pulp, just pulp. What is the prostate?
she asked. It is Adam’s factory to produce sperms
I said, Sperms, you know, are little . . .
Another time she said, he wanted my tresses
So, I gave all my hair to him. The nurse was not happy.
She had shaved my head and wanted to keep the hair.
She kept all shaved hair in a drawer with a name tag.
He wanted my hair but not my uterus. I had become
pregnant, but he said, nothing doing, kill it.
The baby will inherit cancer. Damn it, she said
I don’t want to talk about it.
The sperms get out of the prostate, she said, and then enter the uterus. Isn’t it?
Man gives and the woman receives . . . but then she
gives back a thousand-fold, a live baby! Isn’t it?
Yes, I said, you are right.
We don’t have to pick anyone today but you,
the driver told me. It was the last day of my therapy.
He added a little sadly, she expired last night.
She left a note for you with the nurse.
You can take it from her, he added.
A scrawled note on a lab slip the nurse gave me
And then the elderly nurse looked quizzically at me.
I could read only two words. Prostate . . . Uterus.
——————
A TRUNCATED SPANISH VERSION

Advertisements
julia rana solicitors

“Teniendo charlas con la cabeza no es un asunto sin sentido”,
Ella dijo, y me quedé callado porque no conocía la palabra.
Nos fuimos en el mismo coche para nuestro viaje al hospital;
que por su criocirugía, que para mi la radiación.
El cáncer de próstata era mi patrimonio, tumor de cabeza era la suya.
¿Podemos negociar nuestros tipos de cáncer? Una vez le pregunté.
Usted puede, dijo, para que usted también tiene una cabeza, pero no puedo.
Yo dije, ya sé, usted no tiene una próstata.
Tengo un útero, sin embargo, dijo, pero yo no lo haría
cambiarlo, no importa qué.
Hicimos una pequeña charla en nuestros viajes de un lado a otro.
Jefe, dijo, era una calabaza-fuera una cáscara
y dentro de la pulpa, sólo la pulpa. ¿Qué es la próstata?
-preguntó ella. Se trata de la fábrica de Adán para producir espermatozoides
Me dijo, los espermatozoides, ya sabes, son pequeñas. . .
En otra ocasión dijo que quería que mis trenzas
Por lo tanto, le di todo mi pelo a él. La enfermera no era feliz.
Ella se había afeitado la cabeza y quería mantener el cabello.
Ella mantuvo todo el pelo afeitado en un cajón con una etiqueta con su nombre.
Quería que mi pelo, pero no es mi útero. Me había convertido en
embarazada, pero él dijo, no hacer nada, lo mata.
El bebé hereda el cáncer. Maldita sea, ella dijo
No quiero hablar de ello.
Los espermatozoides de salir de la próstata, dijo
y luego entrar en el útero. ¿No es?
El hombre da y recibe la mujer. . . pero luego se
devuelve una mil veces, un bebé vivo! ¿No es?
Sí, le dije, usted tiene razón.
No tienes que elegir a alguien hoy, pero que,
el conductor me dijo. Era el último día de mi terapia.
Agregó con cierta tristeza, que expiró anoche.
Ella dejó una nota para usted con la enfermera.
Se puede tomar de ella, agregó.
Una nota garabateada en un trozo de laboratorio a la enfermera me dio
Y luego la enfermera ancianos miró con curiosidad a mí.
Pude leer sólo dos palabras. De próstata. . . útero
———————————-
A TRUNCATED FRENCH VERSION
French translation of The Woman With the Shaved Head.
Schmoozing avec une tête n’est pas une question absurde,”
Elle a dit, et j’ai gardé le silence car je ne connais pas le mot.
Nous sommes allés dans la même voiture pour notre voyage à l’hôpital;
elle pour son opération cryo, pour ma rayonnement.
Cancer de la prostate était mon patrimoine; tumeur tête était la sienne.
Pouvons-nous échanger nos cancers? Une fois que j’ai demandé.
Vous pouvez, dit-elle, pour vous aussi avoir une tête, mais je ne peux pas.
Je l’ai dit, je sais, vous n’avez pas une prostate.
J’ai un utérus bien, dit-elle, mais je ne voudrais pas
l’échanger, quoi qu’il arrive.
Nous avons fait le petit entretien dans nos voyages avant et en arrière.
Chef, dit-elle, était une citrouille-dehors d’un shell
et à l’intérieur de pâte, la pâte vient. Qu’est-ce que la prostate?
elle a demandé. Il est l’usine d’Adam à produire des spermatozoïdes
Je l’ai dit, spermes, vous le savez, ne sont guère. . .
Une autre fois, dit-elle, il voulait mes tresses
Donc, j’ai donné tous mes cheveux pour lui. L’infirmière n’a pas été heureux.
Elle s’était rasé ma tête et je voulais garder les cheveux.
Elle a gardé tous les cheveux rasés dans un tiroir avec une étiquette de nom.
Il voulait mes cheveux, mais pas mon utérus. Je suis devenu
enceinte, mais il a dit, rien à faire, de le tuer.
Le bébé va hériter du cancer. Merde, dit-elle
Je ne veux pas en parler.
Les spermatozoïdes de sortir de la prostate, dit-elle
puis entrer dans l’utérus. N’est-il pas?
L’homme donne et la femme reçoit. . . mais ensuite elle
redonne un millier de fois, un bébé vivant! N’est-il pas?
Oui, je l’ai dit, vous avez raison.
Nous n’avons pas de choisir quelqu’un aujourd’hui, mais vous,
le chauffeur m’a dit. Il était le dernier jour de ma thérapie.
Il a ajouté un peu de tristesse, elle a expiré hier soir.
Elle a laissé une note pour vous avec l’infirmière.
Vous pouvez lui prendre, at-il ajouté.
Une note griffonnée sur un bout de laboratoire de l’infirmière m’a donné
Et puis l’infirmière âgée regardé bizarrement à moi.
Comme si elle se doutait que j’étais l’auteur de tout son malheur.
Le glissement du papier a eu seulement deux mots. De la prostate. . . Uterus.
…………………………………..
(This poem earned for me the honor of being included in THE CHOICEST ُُ POEMS OF 20TH CENTURY PUBLISHED IN 2001.

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply