پشتون تحریک کا ذمیہ کام۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

پشتون تحفظ موومنٹ کا لاہور میں کٹھن حالات کے باوجود حیران کن جلسہ تحریک کی عوامی کامیابی ہے کیونکہ ہمہ قسمی رکاوٹیں اور الزامات کو جھیلنا آسان معاملہ نہیں ہے. لیکن اِس کامیابی کے بعد تحریک کو نئے نام کی ضرورت ہے. نیا نام کیا ہونا چاہیے؟ یہ ایک حساس اور اہم سوال ہے. تحریک کا نیا نام پیپلز تحفظ موومنٹ ہونا چاہیے. کیوں؟ اِس سوال پہ بحث کرتے ہیں.

یقیناً یہ ایک سیاسی تحریک ہے جو قومی و لسانی بنیادوں پر  شروع ہوئی ہے اور ابھی تک انہی بنیادوں پر استوار ہے. یہاں یہ بات غور کرنے کی ہے کہ قومی و لسانی بنیادوں پر استوار تحریکیں بہرحال اُسی مخصوص انسانی آبادی تک محدود رہتی ہیں. عوام کی اکثریت ایک اقلیتی تحریک سے بیگانہ ہو جاتی ہیں. جہاں اِس تحریک کو پشتونوں کے ساتھ ساتھ پنجابیوں سمیت  ہزارہ، سرائیکی، بلوچ، سندھی کی حمایت حاصل ہوئی ہے وہاں وقت کا تقاضا ہے کہ تحریک کو پشتونوں کے حقوق سے آگے بڑھاتے ہوئے تمام عوام کے حقوق کی تحریک بنانا ہو گا.

کوئی بھی ایسی تحریک جو ریاستی اداروں کی پالیسیوں کے خلاف عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہی ہو اُس کا کسی ایک قوم تک محدود رہنا ایک بہت بڑی ناکامی بن سکتی ہے. قوم پرستی کبھی بھی عوام کی اکثریت کے مفاد سے بالا نہیں ہوتی. قوم پرست تحریک کی کامیابی دیگر اقوام کے لیے یقیناً مثال ہو سکتی ہے، لیکن اگر ایک ایسی تحریک جو تمام قوم پرستی سے بلند ہو کر استحصال زدہ انسانوں کے حقوق کی جدوجہد کرے تو اِس کی کامیابی کے امکانات میں اضافے کے ساتھ ساتھ تمام انسانوں کی فلاح پہ منتج ہو گی. بلاشک و شبہ پشتونوں تک محدود رہنے والی تحریک قوم پرستی کی روایتی تنگ نظری کا شکار ہو کر ہر طرف سے ملنے والی  پذیرائی کھو دے گی. اِس شاندار تحریک کو قوم پرستی کے گھاٹ پہ پھانسی دینے کی بجائے عوام کی جڑت مہیا کرنی ہو گی. یہ نئی عوامی پالیسی نہ صرف تحریک کی حمایت میں اضافے کا سبب بنے گی بلکہ تحریک کو نئی سمت اور نئے نعرے بھی مہیا کرے گی.

کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اُس کا منشور واضح، مربوط اور سائنسی طریق کا نتیجہ ہو. لہذا چند ایک نعروں کے علاوہ تحریک کو کامیابی کے بعد متبادل پروگرام بھی پیش کرنا ہو گا. عوام کی مکمل حمایت کے لیے منشور میں چند حقیقی و بنیادی نعرے بھی شامل کرنے ہوں گے. خصوصاً طلباء، خواتین، کسانوں اور دیگر مزدور طبقات کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھا کر عوام کی وسیع اکثریت کو ساتھ ملانا ہو گا.

یہاں ایک اہم بات قابل غور ہے کہ پشتونوں میں رائج خواتین کی روایتی حدود کو پامال کرتے ہوئے خواتین کے لیے مربوط و واضح منشور، ایجنڈا اور لائحہ عمل طے کرنا ہو گا. اس تحریک میں فعال خواتین کی تعداد نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ خواتین کو روایتی غلامی سے نجات کا ایک موقع بھی ثابت ہو گا. موقع پرستوں کی شناخت کرکے اُن سے پیچھا چھڑانا بھی انتہائی اہم ذمہ داری ہے.پارس جان کے مطابق:
” کسی بھی تحریک میں چاہے وہ طلبا کی تحریک ہو یا ٹریڈ یونین کی ہڑتال ہو یا پھر کوئی عوامی تحریک ہو ، اس کا فیصلہ کن مرحلہ وہ ہوتا ہے جب دشمن طبقات کی طرف سے بظاہر لچک اور خیر سگالی کے جذبات کا دکھاوا شروع کر دیا جاتا ہے. یہ بالکل ایسے ہی ہوتا ہے جیسے سانپ اپنی کینچلی تبدیل کرتا ہے. ایسے وقت میں دوستوں کی صفوں میں سے بھی بہت سے خیر خواہوں کی رالیں ٹپکنا شروع ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر انقلابی لبادے میں چھپے ’اصلاح پسند’ بڑھ چڑھ کر آسان ، معتدل اور ’سب کے لیے قابلِ قبول ‘ راستہ اختیار کرنے کی تلقین اور تائید کرتے ہوئے سامنے آتے ہیں. ”

تحریک کی باگ فردِ واحد یا چند افراد کے ہاتھوں میں دے دینے سے بھی مستقبل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے. افراد کے بک جانے، ڈر جانے یا جھک جانے سے تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ بہرحال موجود ہے. لہذا تحریک کو کوئی نہ کوئی شوری سنبھالے جس میں نئے اور تازہ لوگوں کو مسلسل شامل کیا جائے. قیادت کو درآمد کرنے کی بجائے اپنے اندر سے قابل لوگوں کو مشاورت میں شامل کیا جائے. علاوہ ازیں امور کی انجام دہی میں بھی زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شامل کیا جائے. مختلف امور کے لیے مختلف شعبہ جات تشکیل دے کر افراد سے کام لیا جائے. جب قائدین تمام کام اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں تو نئی قیادت کا فقدان تحریک کو ناکامی سے دوچار کر سکتا ہے. خاص طور پر پروپیگنڈہ اور مالیات کے لیے علیحدہ علیحدہ شعبے تشکیل دئیے جائیں. اس کے علاوہ تحریک کے مالیاتی امور کو سائنسی بنیادوں پر سنبھالنا ہو گا. جیسے جیسے تحریک آگے بڑھے گی تو مخالفین کے الزامات میں شدت اور اضافہ دیکھنے کو ملے گا. کچھ دنوں بعد تحریک کے لیے درکار پیسوں پہ سوال کھڑا ہو گا. لہذا تحریک کے پاس مالیات کے حصول اور خرچ کا مکمل شعبہ ہونا چاہیے  جو مالیات کے نظام کو احسن طریقے سے سنبھال سکے. کہاں سے پیسے آئے اور کہاں خرچ ہوئے جیسے سوالات کا فوری اور پراعتماد جواب ہونا چاہیے.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *