عمران خان کو پھانسی سے بچنا ہو گا۔۔۔۔فاروق بلوچ

میں چونکہ شروع سے ہی نجی اداروں میں ‘خدمات’ سرانجام دے رہا ہوں اِس لیے جانتا ہوں کہ یہ کمپنیوں کے CEO، وڈے وڈے جنرل منیجر، کنٹری منیجر، گروپ مینجر وغیرہ وغیرہ کون ہوتے ہیں، اِن کی پالیسیاں، اِن کی بدمعاشیاں، اِن کی مکاریاں، جھوٹ اور خباثتیں کیسی ہوتی ہیں. اِن کے رویے اور دھیمے پن، اِن کی مدارت اور رکھ رکھاؤ، اِن کی چال ڈھال اور نشست برخاست…. ایک ایک چیز قابلِ تقلید اور ایسی ایسی پُرکشش ہوتی ہے کہ واہ واہ لاجواب…!

گزشتہ سوموار کو پاکستان کے وزیرِ روپے پیسے نے ریکارڈڈ ویڈیو پیغام میں بتایا کہ سرمایہ داروں کے سامنے اعتماد بحال کرنے کے لیے اور قرضوں میں ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے IMF کے پاس بیل آؤٹ پیکج مانگنے جائیں گے. وزیر نے بتایا کہ یہ فیصلہ بڑے سیانے سیانے سینئر ماہرین معیشت سے تفصیلی مشاورت  کے بعد کیا گیا ہے. اب رواں ہفتے کے آخر پہ انڈونیشیا میں منعقد ہونے والی ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی سالانہ میٹنگ پہ اسد عمر اُن کا در کھٹکھٹائیں گے. راقم نے الیکشن 2018 سے چھ ماہ قبل ہی گزارش کی تھی کہ آنے والی حکومت کے پاس نجکاری، مہنگائی، اور IMF و ورلڈ بینک کے پاس جانے کے علاوہ کوئی آپشن بچتا ہی نہیں ہے. میں حیران ہوں کہ عالمی مالیاتی فنڈ سے بیل آؤٹ پیکج مانگنے کے لیے اتنے بڑے بڑے معیشت دانوں سے مشاورت کی کیا ضرورت تھی. نئے پاکستان کے والیان نے اپنے تمام ‘دوست ممالک’ سے امداد کی ہمہ قسمی منت و زاریاں کیں، حتی کہ عمران خان صاحب کو نیند سے بیدار کرکے سعودی عرب بشمول کشکول روانہ کیا گیا مگر آلِ سعود ایسی ناہنجار نکلی کہ ایک چار آنے بھی امداد نہیں دی اُلٹا سی پیک میں حصہ مانگ لیا. حتی کہ رزاق داؤد (وزیراعظم کے کامرس کے مشیر) جو سعودی عرب دورے پہ وزیراعظم کے ساتھ تھے نے بتایا کہ “سعودیہ سے بھیک طلب کرنا بہت تکلیف دہ عمل تھا”.

وزیراعظم نے ماہرین سے تفصیلی مشاورت کی جس میں اُن کو بتایا گیا کہ پاکستان کو سرِدست پندرہ سو ارب روپے کی اشد ضرورت ہے جو کہ صرف اور صرف IMF سے لیے جا سکتے ہیں. لیکن یہ بات زیادہ دلچسپ ہے کہ یہی ماہرین اِسی مشاورتی نشست میں عمران خان کو IMF کی ممکنہ شرائط بھی بتا چکے ہیں جس کے بعد اُن کا ایک کروڑ ملازمتیں اور پچاس لاکھ گھروں والا وعدہ پورا کرنا ناممکن ہو جائے گا. اسد عمر نے مشاورتی اجلاس میں سادہ سا سوال پوچھا کہ کیا ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیے؟ جس کے جواب میں ماہرین کا کہنا تھا کہ فوراً جانا چاہیے ورنہ پاکستانی معیشت کو غیرحقیقی سے نکالنا مزید کٹھن ہو جائے گا.

یہ کیسے جھوٹے لوگ ہیں؟ یہ کیسے مداری ہیں جو اپنی اپنی باری پہ سابقہ روایتی افعال کو دہرا رہے ہیں؟ یہ کیسے جھوٹے لوگ ہیں جو نوازشریف کو عالمی مالیاتی فنڈ سے ادھار مانگنے پہ خجل و خوار کرتے ہیں مگر خود یہی کام کرتے ہوئے  ذرا سا بھی شرمندہ نہیں ہوتے. پاکستان کے صرف 6 افراد ناراض و نالاں ہونگے مگر پاکستان عدم تحفظ اور غیریقینی کے گرداب سے فوراً نکل آئے گا.

میاں منشاء، آصف زرداری، انور پرویز، نواز شریف، صدرالدین ہاشوانی اور ناصر شون کو بلا کر اُن سے اُن کی ساری ظاہری اعلان شدہ دولت ہی لے لی جائے تو نئے پاکستان کے خزانے میں اٹھارہ سو ارب روپے آ جانے ہیں. اب بظاہر تو عمران خان کی اِن چھ لوگوں سے نہ کوئی ہمدردی ہے اور نہ ہی کوئی یاری باشی، لہذا ایسا کام کرتے ہوئے خان صاحب کو قطعاً گھبرانے کی ضرورت نہیں، پورا ملک ساری عوام عمران خان کے ساتھ کھڑی ہو گی. بلکہ صرف پنجاب میں موجود شوگر انڈسٹری کوعارضی طور پر بھی قومیا لیا جائے تو پاکستان منجدھار سے نکل سکتا ہے.

اچھا اگر عمران خان سعودیہ سے بھیک مانگنے اور آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج مانگنے کی بجائے پشاور سے ممبر قومی اسمبلی نور عالم خان، بہاولنگر سے احسان الحق باجوہ، بہاولنگر کے نورالحسن تنویر، کراچی سے نجیب ہارون، بونیر سے شیراکبرخان، ڈیرہ اسماعیل خان کے شیخ یعقوب، اور امیر حیدر اعظم خان کو بُلا کر اُن کی منت کر لیں تو بھی پاکستان معاشی گرداب سے نکل سکتا ہے. مگر ایسا کرنا عمران خان کے لیے ممکن نہیں  ہے کیونکہ اِس کے بعد اُن کے لیے حکومت کرنا ناممکن ہو جائے گا بلکہ عین ممکن ہے کہ عمران خان کو کسی قتل کی سزا میں پھانسی دے دی جائے. لہذا پاکستان میں وزیراعظم کا پھانسی سے بچنے کا واحد راستہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج مانگنا ہے.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *