نمازی ۔۔۔ قمر سبزواری

 

کیا گلی کی نکڑ پر بیٹھا رہتا ہے یار؟

کبھی مسجد چلنے کی توفیق تو  ہوئی نہیں تجھے۔

ہاں یار کہتا تو تَو سچ ہے۔  دل تو چاہتا ہے لیکن،  بس ۔۔۔۔

ابے چھوڑ یہ سب بہانے ہیں مجھے دیکھ دس سال سے پنجگانہ نمازی ہوں مجال ہے ایک نماز بھی قضاء کی ہو۔

ماشاء اللہ  ، ماشا اللہ۔۔۔

ویسے یار یہ نماز میں بندہ اللہ میاں سے سب کچھ کہہ سکتا ہے کیا ؟

کیا مطلب؟

مطلب  ، میں نے  سنا ہے،  نماز میں انسان اللہ میاں سے باتیں کر سکتا ہے۔

ابے نماز عربی میں ہوتی ہے  جاہل اب ہمیں کیا پتہ ترجمے کا۔

قمر سبزواری
قمر سبزواری
قمر سبزواری ۲۲ ستمبر ۱۹۷۲ عیسوی کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ملازت شروع کی جس کے ساتھ ثانوی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ صحافت میں گریجوئیشن کرنے کے بعد کالم نگاری اور افسانوی ااادب میں طبع آزمائی شروع کی۔ کچھ برس مختلف اخبارات میں کالم نویسی کے بعد صحافت کو خیر باد کہ کر افسانہ نگاری کا باقائدہ آغاز کیا۔ وہ گزشتہ دس برس سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “پھانے” کے نام سے شائع ہوا۔دو مزید مجموعے زیر ترتیب اور دو ناول زیر تصنیف ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *