میڈیائی بابے۔۔حسین ایم

موجودہ حالات کے بارے میں بات کی جائے تو ملکی سیاست میں جو دھول اڑائی جارہی ہے اور جس طرح سماعتیں چہار جانب سے آنے والی آوازوں کی زد میں ہیں اس سے مجھے ایک قصہ یاد آ گیا جو میرے والد صاحب اکثر سنایا کرتے ہیں۔ گاؤں میں شادی بیاہ کی تقریبات میں بڑے بوڑھوں کو نوجوانوں کو جھڑکنے کے بہت سے مواقع میسر آتے ہیں۔ ہمارے گاؤں کا یہ دستور تھا کہ شادی وغیرہ کی تقریبات پر کھانا جو زیادہ تر گوشت ہوتا تھا، مٹی کے برتنوں میں پکایا اور پیش  کیا جاتا تھا۔ پانی پلانے اور کھانے وغیرہ کے انتظامات نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتے تھے۔ گاؤں کے ا یک بابا جی ولیمے وغیرہ کے ہنگامے میں بہت گرجتے تھے اور اسی باعث نوجوان ان سے دور ہی رہتے تھے۔ ایک دن ایسی ہی کسی تقریب میں ایک شخص نے ان کو تقریباً  چیختے ہوئے یہ کہتے سنا کہ ادھر والی چارپائیاں ادھر لگا دو اور ادھر والی ادھر کر دو اور سوال کیا کہ حضرت اس کی کیا ضرورت ہے۔ اس دن کے بعد گاؤں کے نوجوانوں کیلئے بھی آسانی ہوگئی۔

ملک کا سیاسی منظر نامہ بھی ایسے ہی کسی ولیمے کا منظر پیش کر رہا ہے جس میں بے شمار  میڈیائی بابے بیک وقت چیخ رہے ہیں کہ ادھر والی چارپائیاں ادھر اور ادھر والی ادھر کر دو۔ البتہ کچھ لوگ نہ صرف سن چکے ہیں کہ بابے کیا کہہ رہے ہیں بلکہ یہ بھی سمجھ چکے ہیں  کہ کیوں کہہ رہے ہیں۔ ٹی وی چینل پر بیٹھے وہ بابے جو ریاست کی ترجمانی میں اپنی عمریں گزار چکے ہیں ان کی جگہ جہاں اب نئی پود لے رہی ہے جو ریاست کے گملوں میں قومی مفاد کی کھاد دے کر اگائی  گئی ہے البتہ وہیں ایک اور  نسل بھی  متوازی لیکن الگ سوچ کے ساتھ پروان چڑھی ہے. یہ حقیقی معنوں میں سننا جانتی ہے اور اسی لئے سوال اٹھاتی ہے۔ ایسے میں ان بابوں کی تشویش بجا ہے کہ نوجوان اب ان کی کم ہی سنتے ہیں۔

HussainM
HussainM
جامعہ قائداعظم اسلام آباد سے سیاسیات اور بین الاقوامی امور کا ایک طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *