پشتین اصل میں ہے کون ؟۔۔۔۔ہارون وزیر

پیارا ہوں، حسین ہوں پشتین ہوں
میٹھا ہوں نمکین ہوں پشتین ہوں

ناچتا ہوں گاتا ہوں مست رہتا ہوں
شوخ ہوں رنگین ہوں پشتین ہوں

پاش ہوتا ہے مجھ سے جوٹکراتا ہے
سخت ہوں سنگین ہوں پشتین ہوںں

پشتین اصل میں ہے کون؟

آپ نے لفظ پشتون سنا پڑھا ہوگا. آپ پشتون اور پٹھان سے بھی خوب واقف ہوں گے. لیکن یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ یہ لفظ پشتین کہاں سے آگیا. کیا مطلب ہے اس کا. بہت سے پشتون بھی اس لفظ سے نابلد ہیں جیسا کہ اکثر پشتونوں نے سوشل میڈیا پر اس لفظ سے لاعلمی کا اظہار کیا اور منظور پشتین کو افغانی خیال کیا. آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ لفظ پشتین اصل میں ہے کیا؟

پشتو زبان کے دو بڑے ڈایالیکٹس (dialects) ہیں نرم اور سخت. لفظ پشتو میں ش کا استعمال نرم پشتو کہلاتا ہے جبکہ (خین) کا استعمال سخت پشتو کہلاتا ہے جیسا کہ پختو ن یا پشتین تو  بنیادی طور پر اگرچہ پشتو زبان کے دو بڑے dialects ہیں لیکن لفظ پشتین کی ایٹمالوجی سمجھنے کے لیے میں اسے تین درجات میں تقسیم کروں گا تاکہ آسانی سے سمجھ میں آ سکے.
شمالی جنوبی اور مرکزی شمالی پشتو وہ ہے جو پاکستان کے پشاور، سوات مردان اور دیر جبکہ افغانستان کے کابل جلال آباد اور کنڑ میں بولی جاتی ہے.

جنوبی پشتو وہ ہے جو پاکستان کے کوئٹہ، ژوب، لورالائی قلعہ سیف اللہ جبکہ افغانستان کے ہلمند اور قندھار وغیرہ میں بولی جاتی ہے.
مرکزی یا درمیانی پشتو وہ ہے جو پاکستان کے وزیرستان، بنوں کرک ، لکی مروت جبکہ افغانستان کے خوست اور ملحقہ علاقوں میں بولی جاتی ہے.

مندرجہ بالا تین درجہ بندیوں کو اگر مزید زوم کیا جائے تو آپ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے. جس طرح پیاز کے ہر پردے کے پیچھے پردہ ہوتا ہے. پشتو کا بھی یہی حال ہے. مثال کے طور پر اگر درمیانی پختونخوا کے dialect کو زوم کرکے دیکھا جائے تو آپ وزیر وولہ، ماسید وولہ، داوڑ وولہ، بانیس وولہ، مروت والہ اور کرک کے خٹک ڈایالیکٹ ملیں گے.

اسی طرح شمالی اور جنوبی والوں کے اپنے کافی سارے ذیلی ڈایالیکٹس ہیں.
میں نے چونکہ پشتو بولی کو تین درجوں میں تقسیم کیا. اب اگر آپ ان تینوں علاقوں والوں سے کہیں گے کہ لفظ پشتون پڑھ کر سناؤ. تو شمالی والا اسے “پختون” کہے گا. جنوبی والا اسے “پشتون” کہے گا  جبکہ درمیانی والا اسے “پشتین” کہے گا.
چونکہ منظور پشتین کا تعلق درمیانی یعنی مرکزی پشتونخوا سے ہے اسی لئے منظور اپنے نام کے ساتھ منظور پختون یا منظور پشتون کی بجائے منظور پشتین لکھتا ہے. امید ہے آپ کو لفظ پشتین کی etymolgy سمجھ آگئی ہوگی.

میری اس غزل کا منظور سے کوئی تعلق نہیں. یہ سب پشتونوں پختونوں اور پشتانو (پشتینوں) کے لیے ہے۔جہاں تک منظور پشتین کی پی ٹی ایم کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں میرا موقف بڑا واضح ہے. اس پر مزید لکھنا میں وقت کا ضیاع سمجھتا ہوں ہاں البتہ اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ ہوسکتا ہے کہ سٹیج پر موجود لیڈران کو کوئی بیرونی ایجنڈا ہو یا کچھ خفیہ عزائم ہوں لیکن یہ بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ سٹیج سےنیچے گراؤنڈ پر موجود ورکرز کا کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں ہے وہ اتنے ہی محب وطن ہیں جتنا کوئی پاکستانی ہوسکتا ہے.

آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ پی ٹی ایم ورکرز کی غالب اکثریت کا تعلق نوجوان طبقے سے ہے جو ملک کے طول و عرض میں موجود مختلف کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں. یہ نوجوان جب اپنے آبائی گھروں کو جاتے ہیں تو ان کو چیک پوسٹوں پر لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر طویل انتظار کرنا پڑتا ہے. اور فوجیوں کی طرف سے نامناسب رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے. کبھی کبھار جب کوئی لائن توڑتا ہے تو اس کو موقع پر کان پکڑا دئیے جاتے ہیں. کیا حال ہوتا ہوگا اس باپ کی عزت نفس کا جس کو اس کے بیٹے کے سامنے کان پکڑا دئیے جاتے ہوں.

دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان جنگ سے متاثرہ علاقوں کے گاؤں کی  حدود میں جب کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوتا ہے تو اجتماعی ذمہ داری کے قانون کے تحت اس گاؤں کے مردوں کو پکڑا جاتا ہے اور ان کو ذلیل کیا جاتا ہے. یہ مسائل بہر حال موجود ہیں. جس کے باعث نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ اس ملک اور فوج سے بدظن ہورہا ہے. اگر پی ٹی ایم اپنا موجودہ ردھم برقرار نہیں رکھ پاتی اور اپنا اثر کھو دیتی ہے تب بھی ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا. اسی میں اس ملک اور ہم سب کی بھلائی ہے.
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *