• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خودی کا دفاعی نظام کیا ہے؟تحلیلِ نفسی۔۔۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ/قسط 2

خودی کا دفاعی نظام کیا ہے؟تحلیلِ نفسی۔۔۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ/قسط 2

گزشتہ مضمون تحلیلِ نفسی کیا ہے؟۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ/قسط1 میں تحلیل نفسی(Psychoanalysis) کی ابتدائی معلومات، سگمنڈ فرائیڈ کا جغرافیائی نظریہ (Topographical Theory) اور ترکیبی نظریہ (Structural Theory) مختصراً بیان کیا تھا. موجودہ قسط میں سگمنڈ فرائیڈ کے نظریہ خودی کو زیرِ بحث لائیں گے اور ساتھ ہی ساتھ اِس پہ فرائیڈ کے علاوہ اُس کی بیٹی آنا فرائیڈ کے نظریات پہ بھی نظر دوڑائیں گے.

خودی کی نفسیات: (Ego Psychology)

ایک فرد کا بیک وقت اندرونی و بیرونی محرکات سے تعلق ہوتا ہے. اُس تعلق کی نوعیت کا تعین براہ راست انسان کی “خودی” پہ منحصر ہوتا ہے. بہت سے نفسیات دان خودی کے عمومی و تشخیصی ارتقاء، اِس کے جنسی و دیگر شدید جبلتوں سے تعلق اور روز مرہ کی زندگی میں اس کی موافقت پہ کافی علمی کام کر چکے ہیں.

سگمنڈ فرائیڈ نے ابتدائی طور پر خودی کو ایک عضوِ احساس (Sense Organ) کے طور پہ بیان کیا جس کا کام فرد کے اندرونی و بیرونی محرکات کو سمجھنا ہے. فرائیڈ نے خودی کو دراصل شعور کے مترادف جبکہ “مغلوب لاشعور” کے متضاد کے طور پر استعمال کیا ہے لیکن اُس نے صرف ذات (id) کو نفسیاتی مرض (لاشعوری) کا قصور وار نہیں ٹھہرایا بلکہ اُس کی نظر میں خودی بھی نفسیاتی عوارض کا سبب بن سکتی ہے. درحقیقت فرائیڈ کے ترکیبی نظریہ میں خودی کی نسبت ذات زیادہ اہمیت کی حامل تھی مگر بعد ازاں فرائیڈ نے خودی کو ذات کے برابر کر دیا جو نہ صرف ذات اور ماوراء خودی کے بیچ توازن قائم کرتی ہے بلکہ فرد کی مجموعی نفسیاتی افعال کو مجتمع کرتے ہوئے اُس کے رویے کا تعین کرتی ہے. یوں “نظریہ خودی” کے تحت فرائیڈ نے تحلیلِ نفسی کو ذات کی نفسیات تک محدود کرنے سے نہ صرف بچا لیا بلکہ خودی کی عمومی و تشخیصی تشریح کو جنسی و دیگر شدید جبلتوں کے نشیب و فراز کے تحت پرکھنے پہ زور دیا. اُس نے ذات اور ماوراء خودی کے مقابل جزوِ خودی کو انسانی رویہ میں تبدیلی اور اُس کے تعین کا اہم ترین مہرہ قرار دیا. نظریہِ خودی پہ سگمنڈ فرائیڈ کے بعد اُس کی بیٹی آنا فرائیڈ نے کافی کام کیا. اپنی مشہور تصنیف “خودی اور دفاعی نظام” میں آنا فرائیڈ نے نہ صرف خودی کے مختلف دفاعی نظاموں کے ذریعہ ذات (id) کی نگرانی، اُس پہ قابو پانے اور اُس کا مقابلہ کرنے پہ تفصیلی بحث کی بلکہ اُس نے خودی کے دفاعی نظام کا “نفسیات شہوانی” (psycho sexual) سے جوڑ کر پیش کیا.

آنا فرائیڈ نے دس دفاعی نظاموں کو بیان کیا جس کے  ذریعے خودی ذات پہ قابو پاتی ہے:

1. عوضی (Displacement)
فرد اپنی زندگی میں غصہ، ناامیدی، یاسیت کا شکار ہوتا ہے. اگر ایسے جذبات کو ذہن سے اخراج کا موقع نہ ملے تو فرد ذہنی عوارض کا شکار ہو جاتا ہے. مثلاً ایک فرد کی اُس کے باس نے خوب بےعزتی کی جس کی وجہ سے وہ غصہ اور یاسیت کا شکار ہو جاتا ہے. اگر وہ باس کو جواب دیتا ہے تو بھی نقصان اور غصہ کو کہیں نہیں نکالتا بھی تو نقصان، لہذا اُس کی خودی متبادل ہدف پہ غصہ نکال لیتی جیسے عائلی ساتھی، بچے، ملازمین، پالتو جانور وغیرہ.

2. انکار (Denial)
فرد کی خودی اپنی ذات یا ماوراء خودی کو تسلی دینے کے لیے حقیقت سے ہی اجتناب و اعراض کرتا ہے. یہ خودی کا قلیل مدتی مگر فوری دفاعی نظام ہے جس میں فرد مسئلہ کو مسئلہ ماننے سے ہی انکار کر دیتا ہے. صحتِ معاملہ پہ اعتراض کی بجائے وجودِ معاملہ کا انکار خود کو مگن رکھنے کا ایک طریقہ ہے. شدید تمباکو نوشی کو مسئلہ سمجھنے کی بجائے خود کو یہ تسلی دینا کہ میں تو معمولی تمباکو نوشی کرتا ہوں، یہ حقیقت سے نظریں چرانا بھی کہلاتا ہے. لیکن اِس جھوٹ کا مترادف سمجھنا بھی غلط ہے. یہ بس ایک دھندلا آئینہ ہے جس میں اپنا حقیقی عکس دیکھنا تقریباً ناممکن ہے. ہاں یہ خودی ک ایک انتہائی غیرمحفوظ دفاعی نظام ہو سکتا ہے.

3. ابھار (Projection)
خودی یہ دفاعی نظام کسی کے لیے منفی سوچ کو ابھارنے کا عمل ہے، یعنی ایک فرد کسی کسی دوسرے کے لیے غیرحقیقی منفیت کو ابھارتا ہے. مثلاً باس کے بارے میں یہ سوچنا کہ یہ تو مجھے بس ملازمت سے نکالنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے یا بہت غصیلا بندہ ہے مگر جب وہ فرد اپنے باس کے پاس جاتا ہے تو وہ نکالنے یا غصہ کرنے کی بجائے اُس نئے خیالات اور آئندہ کے لائحہ عمل کو زیرِ بحث لے آتا ہے. اِس دفاعی نظام کے تحت فرد معاملے کی سنگینی کا خود کو قصوروار سمجھنے کی بجائے کسی دوسرے کو موردالزام ٹھہراتا ہے.

4. امتناع (Repression)
فرائیڈ کے نزدیک امتناع کا دفاعی نظام پوری تحلیلِ نفسی کی بنیاد کھڑی ہے. اسی نظام کے تحت انسان کا شعور اَن چاہی سوچوں اور خیالات کو دماغ کے لاشعوری حصے میں دھکیلتا جاتا ہے. یہ سوچیں اور خیالات دراصل “ماوراء خودی” کے پیدا کردہ احساسِ گناہ یا احساسِ ندامت و ملامت کی بنیاد ہیں. ایک فرد اپنی مرضی سے ایسی خیالات کو چُن کر اُن کو لاشعور کی طرف بھیج دیتا ہے اور یاد کرنے پہ یاد بھی کرتا ہے.

5. بازگشت (Regression)
فرد جیسے جیسے شعوری نشوونما پاتا ہے تو سماج کی لعن طعن اور تنقید کے بوجھ تلے دب کر خودی فرد کو بچپن میں لے جاتی ہے جب اُس کی غلطیوں پہ لوگ تنقید نہیں کرتے تھے بلکہ اُس سے محظوظ ہوا کرتے تھے. خودی فرد کو نشوونما کے اُس مرحلے کے مخصوص خیالات، جذبات اور طرز عمل کی جانب واپس لے جاتی ہے. ہر فرد کی خودی اپنی زندگی میں لازماً کبھی نہ کبھی اپنے آپ کو بچپن میں ضرور لے جاتی ہے. مثلاً دوستوں کی گپ شپ کے دوران جب ہم مسلسل ہدف تنقید بنتے ہیں تو جانتے بوجھتے ہوئے بچوں کی طرح روٹھنے کی وقتی کوشش کرتے ہیں، یہی خودی کے نظام دفاع کی “بازگشت” ہے.

6. تاثر کی ساخت (Reaction Formation)
جبلت اپنی جزویات سمیت متضاد کی حامل ہے؛ جیسے حیات و ممات، تعمیر و تخریب، حرکت و جمود، غلبہ و اطاعت وغیرہ. جیسے ہی کوئی جبلت ماوراء خودی کے ذریعے یا براہ راست خودی پہ غالب آنے لگتی ہے تو خودی اُس کے متضاد پہ توجہ کرتے ہوئے اپنا دفاع کرتی ہے. مثلاً فیس بُک پہ ایک مرد کسی عورت کو پسند کرتا ہے لیکن حالات اظہارِ پسندیدگی کی اجازت نہیں دیتے تو مرد پریشانی کا سامنا کرتا ہے، خودی فوراً ردعمل میں پسندیدگی کے متضاد یعنی ناپسندیدگی کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے. لڑکی کی پوسٹ پہ لڑکوں کی جانب سے بلاوجہ و بےمحل تنقیدی تبصروں کے پیچھے بھی خودی کا یہی دفاعی نظام کارفرما ہوتا ہے.

7. قبولیتِ عام (Sublimation)
ماوراء خودی یا ذات کے جتنے امور ہیں اُن کی مقبولیت و غیرمقبولیت کی حدود سماج ہی متعین کرتا ہے. خودی پہ جب دباؤ پڑتا ہے تو یہ دفاع میں اُس عمل کا سماجی جواز ڈھونڈتی ہے. فرائیڈ کی نظر میں یہ دفاعی نظام خودی کی بلوغت کی پختگی ہے جو فرد کو سماج میں اپنا مخصوص کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہے. فرائیڈ اپنے تحلیلِ نفسی کے نظریات کو بیان کرتے ہوئے جنسیات کی سماجی قبولیت پہ زور دیتا ہے تاکہ افراد اپنے جبلتی موقف کو آزادانہ ترتیب نہ دے سکنے کی وجہ سے نفسیاتی عوارض کا شکار نہ ہو. فرائیڈ کے لیے یہ دفاعی نظام سماجی فوائد (مثلاً فنون، ثقافت اور دانش کے ارتقاء) کے حصول کے لیے جنسیات کی سماجی قبولیت کا عمل ہے.
نوٹ: اِس سلسلے کی اگلی قسط مکمل طور پہ اسی دفاعی نظام پہ بحث کا احاطہ کرے گی.

8. نفسیاتی دراندازی (Interjection)
نفسیاتی دراندازی خودی کے دفاعی نظاموں میں سب سے زیادہ مزیدار ہے. یہ دوسرے کی امیدوں اور توقعات کی پرکھ رکھنے کا نام ہے. دوسروں کی توقعات کی سمجھ میں غلطی نفسیاتی عوارض میں مبتلا کر سکتی ہے. اِس کا مطلب یہ نہیں کہ فرد کو دوسروں کی ہر توقع پہ پورا اترنا چاہیے، بلکہ اِس مطلب یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ تعلق استوار کرنے سے پہلے اُس کی توقعات جاننے میں غلطی نہیں کرنی چاہیے. لہذا نفسیاتی عوارض سے بچنے کے لیے خودی دوسروں کے شعور میں دراندازی کے دفاعی نظام کو استعمال کرتی ہے.

9. علیحدگی (Isolation)
فرد کا شعور بےشمار عوامل اور اُن کی جزئیات کی بےشمار سوچوں کا حامل ہے. کسی ایک سوچ کا مسئلہ یا پریشانی دوسرے عمل کی سوچ کو متاثر کرتی ہے. خودی اِس دفاعی نظام کے ذریعے ہر سوچ کو دوسری سوچ سے علیحدہ رکھتی ہے تاکہ ایک پریشانی زندگی کے دوسرے پہلوؤں کو متاثر نہ کر سکے.

10. مراجعت (Undoing)
خودی کا یہ دفاعی نظام کسی منفی سرگرمیوں کی خفت مٹانے کے لیے اُس کے الٹ مثبت سرگرمیوں کی طرف آ جانے کا نام ہے. مثلاً فرد کسی سے قطع تعلقی کے بعد احساسِ شرمندگی میں اسی سے مضبوط تعلق استوار کرنے کی کوشش کرتا ہے

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *