• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • تیزی سے بڑھتی انسانی آبادی پر قابو پانے کے جواز۔ قیصر عباس فاطمی

تیزی سے بڑھتی انسانی آبادی پر قابو پانے کے جواز۔ قیصر عباس فاطمی

پاپولیشن بم، ہم آئے روز اخبارات، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر یہ اصطلاح سنتے، پڑھتے اور دیکھتے ہیں۔ تیزی سے بڑھتی انسانی آبادی کے نقصانات، اس سے جڑے خدشات اور تحفظآت سے ہر کوئی کسی نا کسی حد تک آگاہ ہے۔ کچھ لوگ اسے سرے سے مسئلہ ہیں نہیں سمجھتے اور کچھ کے نزدیک آئندہ سالوں میں یہ چند بڑے مسائل میں سرِ فہرست ہو گا۔ آخر ہم انسانی آبادی کے بڑھنے سے خائف کیوں ہیں؟ آبادی کے بڑھنے سے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں اور کم آبادی کے کیا فوائد ہوں گے؟ اس موضوع کو تین جہتوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ نوع انسان کا داخلی پہلو، قدرتی عوامل و زرائع حیات کی رو سے، اور دونوں میں لازمی تعلق کو سامنے رکھتے ہوئے بقاء حیات انسانی، انسانی خواہش بھی ہے اور(جبلت کے لحاظ سے) ضرورت بھی۔ انسانوں نے ضرور وہ دور بھی دیکھا جب نسل میں اضافہ یا کمی کوئی معنی نا رکھتا ہوا ہو گا، مگر زرعی دور کی ابتداء سے ہی فصلیں اگانے اور پیداوار بڑھانے کے لیے انسانوں کی مزید انسانوں کی ضرورت پڑی۔ آج بھی زرعی معاشروں میں زیادہ اولاد پیدا کرنے کا رحجان پایا جاتا ہے۔ مگر ارسطو کے زہن میں نا جانے ایسا کیا آیا کہ اس نے مقدارآبادی کی بجائے معیارآبادی بلند کرنے کی بات کر ڈالی۔ تب تو سائنس اور ٹیکنالوجی بھی نہیں تھی۔ مگر ایک فکر سامنے آئی جس کی اہمیت اب سمجھ میں آ رہی ہے۔ ہم ارسطو، چارلس ڈارون، ہربرٹ سپنسر اور لے مارک وغیرہ کے نظریات سے ایک ایسا چورن تیار کر سکتے ہیں جس سے بہتر معیار کے انسان پیدا ہوں۔ اور وہ بہتر زندگی گزاریں۔ جن کی تخلیقی و پیداواری صلاحیتیں بہتر ہوں۔ کیا یہ قابل قبول ہو گا؟

انسانی آبادی کے اعدادوشمار پر نظر دوڑائی جائے توایک خوفناک تصویر آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔ پچھلی ایک صدی میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، مگر دوسری طرف معیار زندگی پر نظر ڈالیں تو بہت بڑی تفریق نظر آئے گی۔ پسماندہ ممالک میں آج بھی ایک ڈالر سے کم پر روزانہ زندگی بسر کرنے والے لوگ ہیں، جو ترقی یافتہ ممالک کی مشینوں کو خوراک (خام مال) مہیا کر رہے ہیں۔ کیا وہ اسی لیے پیدا کیے گئے؟ جیسے قدیم رزعی معاشروں میں زیادہ اولاد یا غلاموں کے ہونے کی ضرورت ہوتی تھی؟ خیر، مقدار انسانی سے زیادہ معیار انسانی اہم ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی، اور بالخصوص طبِ جدید میں ترقی کے بعد جہاں اس کے امکانات واضح ہو چکے ہیں وہاں ہی انسانوں کی ایک کثیر آبادی کی زبوں حالی اس بات کا اخلاقی جواز بھی پیدا کرتی ہے کہ نسل انسانی کے مستقبل کا فیصلہ اجتماعی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے۔ اولاد پیدا کرنے یا نا کرنا اور اس کے تعدد کے “انفرادی” حقوق پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

انسانی آبادی کی بے ہنگم بڑھوتری کا دوسرا پہلو دیکھتے ہیں جیسے گیریٹ ہارڈن نے ویلیم لائیڈ کے نظریات کی بنیاد پربیان کیا ہے۔ “ٹریجیڈی اف کامنز” یا عام لوگوں کے لیے المیہ ایک مثال سے واضح کیا جاتا ہے۔ جیسے ایک چراگاہ ہو جس میں تمام لوگ اپنی مویشی چرائیں، اگر ان لوگوں میں سے کچھ لوگ زیادہ مویشی پال لیں اور وہ بھی اسی چراگاہ میں سے چارہ چرے تو عام لوگوں کے لیے اس میں نقصان ہو گا۔ اور اگر یہ دوڑ ایسے ہی شروع ہو جائے تو بالآخر وہ چارہ گاہ ہی بنجر ہو جائے گی۔ دراصل یہ قدرتی وسائل اورآبادی (بشمول حیوانات) کے تناسب کی ایک تصویر ہے۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ قدرتی وسائل معین حد سے زیادہ نہیں ہوسکتے۔ زمین، پانی، ہوا اور سب سے اہم، آبادی کے فضلات کا ماحول پر اثرانداز ہونا کسی بھی طرح نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

تیسرا پہلو، جسے مالتھس کے نظریے کی رو سے دیکھا جاسکتا ہے۔ انسانی آبادی اور ان کی ضروریات کے مابین فرق ہمشہ سے رہا ہے۔ یہاں مارکس اور اس کے ہم فکر لوگوں کی تنقید کو بھی مان لیتے ہیں۔ وسائل اور پیداوار (بالفرض ابھی مطابقت رکھتے بھی ہیں) تو بھی مسقتبل میں انسانی آبادی میں اضافہ یقینی طور پر وسائل کی قلت کا شکار ہو گا۔ اب چونکہ خوفناک وبائیں اور ہولناک جنگیں قابو میں ہیں، قحط  سے لوگ نہیں مرتے، یہاں تک کہ دیگر قدرتی آفات کی صورت میں بھی انسانی جانوں کو خاطر خواہ نقصان نہیں پہنچنے دیا جاتا۔ دوسری طرف اوسط عمر میں اضافہ ہوا ہے، شیرخوار بچوں کی اموات کم ہوتی ہیں، صحت اور تحفظ پہلے سے کئی گنا زیادہ بہتر ہے۔ تو آبادی میں اضافے کی شرح پہلے سے زیادہ ہی ہوتی جائے گی۔

انسان یقیناً ایک عالمی معاشرہ کے قیام کی طرف گامزن ہیں، اور شاید منزل اب زیادہ دور نہیں۔ لہٰذا ضروت اس امر کی ہے کہ انسانی آبادی کے حوالے سے قانون سازی بھی اسی تناظر میں کی جائے۔ سیلیکٹوبریڈنگ، ابارشن، یوجینیکس اور یوتھینیزیا سمیت تمام اقدامات، جن پر فقط اخلاقی قدغنیں لگائی گئی ہیں، کو عوامی حلقوں میں بھرپور طریقے سے زیرِبحث لایا جانا چاہیے تا کہ معقول صورت میں ان کو رائج/نافذ کیا گیا جا سکے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *