پشتون تحریک پہ پنجابی نظر۔۔۔ انعام رانا

کچھ دوستو نے شکوہ اور کچھ نے تو باقاعدہ احتجاج کیا کہ میں نے منظور پشتین اور پشتون تحفظ موومنٹ پہ اب تک کچھ لکھا کیوں نہیں، آبلے پڑ گئے زبان پہ کیا؟۔ سچ کہیے تو جان کر نہیں لکھا۔ ایک تو جس تحریک کے ساتھ لسانی شناخت موجود ہو، اس پہ میری بات بہت آسانی سے غلط فہمی بن سکتی ہے۔ دوسرا میں کبھی قبائلی علاقہ جات میں نہیں گیا اور وہاں موجود مشکلات کا “فرسٹ ہینڈ نالج” نہیں رکھتا۔ ایسے میں احتیاط کا شکار رہا۔

چلئیے بات بڑھانے سے قبل اک واقعہ سنئیے۔ جاوید خان میرا دوست ہے، پٹھان ہے بلکہ پورا پٹھان ہے۔ پاکستان گیا تھا تین ہفتے قبل اور پرسوں ملا تو حال احوال ہوا۔ زرا سا چھیڑا تو بھرا ہوا جاوید پھٹ ہی پڑا۔ سنانے لگا کہ پشاور کینٹ میں کہیں جانا تھا، انٹری کے پاس روک لیا گیا۔ پہلے تو کئی سال بعد پاکستان جانے والے جاوید کیلئیے دھچکا تھا جب فوجی جوان نے اس سے آگے موجود دو عورتوں سے کہا برقع اٹھا کر شناخت کراو۔ اسکے بعد جاوید کو کہا کہ مطلوبہ جگہ سو گز گھوم کر جائے۔ جاوید کے بقول اس نے کہا یہ سامنے تو ہے میں ادھر سے ہی چلا جاتا ہوں اور اس پہ سپاہی غصہ کھا گیا اور جاوید سے بدتمیزی کی۔ اب اس پہ انگلینڈ سے گئے جاوید، جس کا اپنا آدھا خاندان فوج میں ہے، اس کا میٹر گھوما اور اس نے سپاہی سے اسی کی مانند اونچے لہجے میں بات کرتے ہوے کہا کہ تمھیں بات کرنے کی تمیز نہیں ہے؟ میں نے فقط اتنا کہا ہے کہ یہاں سے چلا جاتا ہوں۔ بقول جاوید فورا اس پہ جی تھری تان لی گئی اور داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ یہ پشاور جیسے شہر میں ایک سپاہی کا رویہ ہے، قبائلی اور دیگر ریموٹ ایریاز میں کیا ہو جاتا ہو گا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

دیکھیے صاحب میں ان لوگوں میں سے ہوں جنکو پاکستان بہت پیارا ہے اور اسکی فوج بھی۔ یہ فوجی ہیں کون؟ میرے اپ کے ہی کزن یا دوست۔ جو پشتون اس وقت نعرے مار رہے ہیں خود انکے خاندان کا بھی کوئی نا کوئی فرد اسی فوج کا حصہ ہے۔ فوج کو تو ہونا ہے، اگر ہماری نہیں ہونی تو کسی اور تو نہیں ہو سکتی نا۔ مگر شکوے روئیوں کے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ جنگ جاری ہے، دشمن اندر ہی موجود مگر عوام کا دل جیتنا بھی جنگ جیتنے جتنا ہی ضروری ہے۔ اس بات پہ سب متفق ہیں کہ روئیوں میں غلطی ہے، خواہ وہ وانا میں ہیں یا لاہور میں، درشتی اور بدتمیزی کی شکایات تو ہیں۔ منظور پشتون جسے کل تک کوئی جانتا نا تھا، آج اچانک ہیرو کیوں ہے؟ سب باتیں سازش تھیوری پہ مت ڈالئیے، زرا سوچیئے کہ اس کل کے بچے کا ایسا کون سا “کرزما” تھا کہ ہزاروں لوگ اس کے پیچھے کھڑے ہو گئے؟ پنجابی میں کہتے ہیں “روندی یاراں نو لے لے ناں بھراواں دے”۔ یعنی دکھ تو ذاتی ہوتا ہے،بہانہ کچھ بھی بنا لو۔ تو بھائی یہ جو اسکے پیچھے کھڑے ہو گئے انکے کچھ دکھ ہیں، اور یہی نکتہ اہم ہے کہ دکھ جمع ہونے کا موقع کیوں دیا گیا، اتنی بھاپ اکٹھی ہی کیوں ہونے دی گئی کہ اب کوکر کی سیٹی زور شور سے بج رہی ہے۔ عرض ہے کہ معاملہ بہت آسان ہے، مطالبات کو لوگوں کے اطمینان برابر حل کر دیجئیے، منظور پشتون کیا کوئی بھی کچھ نہیں کر پائے گا۔

مطالبات ہیں کیا؟

۱- تذلیل نا کرو؟ تو بھائی فورا روئیے بہتر کر لو، فوج باڈر پہ اور اندر سب معاملات سول انتظامیہ کے ہاتھ دو تاکہ عوام اور فوج کا ٹکراو ہی پیدا نا ہونے پائے۔

۲- چیکنگ کی آسانی؟ اس پہ بھی آپ پہلے ہی کام شروع کر چکے، مزید نفری لگا دیجئیے اور سہولیات دے دیجئیے۔

۳- قبائلی رواج کا احترام؟ اپنے پشتون فوجیوں سے پوچھ کر ہی پروٹوکول بنا دیجئیے۔ خواتین تعینات کیجئیے جو خواتین کی چیکنگ کر لیں

4- مِسنگ پرسن؟ ہاں یہ شاید اک بڑا ایشو ہے۔ یہ ماننا پڑے گا کہ فوج سب کو ہی بے گناہ نہیں اٹھاتی، کچھ دھواں بھی ہوتا ہے گو غلطی کے امکانات موجود اور ہوئی بھی ہیں۔ فوج کا نکتہ نظر ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں عام پروٹوکولز سے ہٹ کر کرنا پڑا اور عدالتوں سے یہ مجرم بچ نکلتے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ گمشدہ نا کرو، مجرم ہیں تو سزا دو، مار دیا تو بتا تو دو۔ یہ بھی ایک حقیقت کہ سب گمشدہ فوج کے پاس نہیں ہیں، کئی “دوسروں” کے پاس بھی تھے یا ہیں۔ ہم نے، پوری قوم اور اسکی فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اور تقریباً جیت کے قریب ہیں۔ سو اب اسکا بھی کوئی بہترین حل تو سوچنا ہو گا۔ شاید بہترین حل فوج، عدلیہ، سیاستدانوں اور عام لوگوں پہ مشتمل ایک “ترتھ کمشن” ہے۔ جہاں ہر گمشدہ کا وارث آئے اور اسے مکمل ایمانداری سے بتا دیا جائے کہ انکا بندہ گرفتار ہے یا مارا گیا یا فوج کے پاس نہیں ہے۔ جنکے جرم ہیں انکو سزائیں دیجئیے اور لواحقین کو بتا دیجئیے۔ یقین کیجئیے بظاہر مشکل نظر آتا مسلئہ بہت آرام سے حل ہو جائے گا۔

کچھ باتیں اپنے ان پشتون دوستوں سے بھی کہنے کی جسارت کروں گا جو اس ایشو کے ساتھ جڑے ہیں۔ اس تحریک کے مطالبات، اگرچہ یہ تحریک ایک لسانی شناخت کے ساتھ اٹھی، ہر پاکستانی قومیت نے کی۔ اسکے باوجود اس تحریک کے پلیٹ فارم سے نفرت کی بات ہوئی۔ کچھ دانشور اور ہمدرد جو یہ تاویل کرتے ہیں کہ “بچہ ہے یا اس پہ اور علی وزیر پہ جو گزری اسکا ردعمل ہے” وہ غلط کر رہے ہیں۔ یہ ہی تاویل طالبان سپورٹرز کی تھی کہ جی یہ تو اپنے ہی لوگ ہیں مگر ری ایکشن میں ایسا کر رہے ہیں۔ یہ تاویل طالبان کے حق میں بھی مسترد کی گئی اور اس تحریک کے حق میں بھی مسترد ہی ہو گی۔ آپ کچھ ہزار کے گروہ کے ساتھ اگر فوج، ریاست اور دیگر قومیتوں کو گالی دے کر اور للکار کر سمجھتے ہیں کہ فائدے میں رہیں گے تو غلطی پہ ہیں۔ خود اپنی ہی قومیت میں دیکھئیے اس روئیے نے کتنے لوگ برگشتہ کر رکھے ہیں۔ سو نفرت سے گریز کیجئیے۔ دوسرا اس تحریک کے لیڈران کا احتساب کرتے رہیے، انکے اردگرد جو “طفیلئیے” اپنے مقاصد کیلئیے اکٹھے ہو رہے ہیں، تحریک کو ان سے بچائیے۔ بہت عرصے بعد عوام ایسے اپنے حقوق کیلئیے کھڑے ہوے ہیں، ان پہ بھی رحم کیجئیے اور خود کو نفرت نہیں محبت کا نمائندہ بنائیے۔ اس تحریک کو عوامی حقوق کی تحریک ہی رہنے دیجئیے، بغاوت مت بننے دیجئیے گا۔ پشتونوں کے ساتھ ساتھ باقی قومیتوں کے مظلومین کی بھی آواز بنئیے ورنہ نقصان ہی ہاتھ آئے گا۔

کچھ عرض اپنے “محب وطن” دوستوں بالخصوص پنجابی دوستوں سے کرتا ہوں کہ حب وطن فقط ہمارا ذمہ نہیں ہے۔ پریشان نا ہوئیے، کوئی سازش اگر ہے بھی تو کامیاب نہیں ہو گی۔ اس نظام میں پنجابی کے بعد پشتون سب سے بڑے سٹیک ہولڈر ہیں، وہ اس ریاست کے خلاف جا ہی نہیں سکتے۔ کچھ باتیں یقیناً اشتعال انگیز ہیں مگر انکو نظر انداز کرتے ہوے اس تحریک کے جائز مطالبات کی حمایت ضرور کیجئیے تاکہ اپ کے پشتون بھائیوں کو یہ احساس رہے کہ اپ انکے ساتھ ہیں۔ اور دیگر قومیتوں کو بھی حوصلہ ہو کہ اپنے حقوق کیلئیے آواز اٹھانا اوّل تو غداری نہیں اور دوسرا دیگر قومیتیں بھی ساتھ دیں گی۔ یہ ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد بنے گا۔ پاکستان کے خلاف تو پشتونوں کو بڑے بڑے پشتون لیڈر نہیں اسکا سکے تو یہ بچے کیا اکسائیں گے۔ باقی رہی تحریک میں موجود غلطیاں تو آپ فکر نا کریں، انکی گو شمالی کیلئیے پشتون رعایت اللہ فاروقی اور عارف خٹک ہی کافی ہیں۔

انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *