پٹھان بھائیوں کا گِلہ۔۔عثمان گُُل

پی ٹی ایم کے تحت احتجاج، مسنگ پرسن، دہشتگردی، طالبان کے تناظر میں کے پی کے رہائشی اور ایک غیر جانبدار ناظر اور قبائلی پٹھانوں کے بیچ رہ کر ان کی نفسیات کے مطابق میرے کچھ الفاظ پڑھنے سے پہلے آپ ایک سچا واقعہ پڑھیں۔

ہمارے ایک جاننے والے اچھے پڑھے  لکھے خاندان کے ایک  اعلی تعلیم یافتہ  برسر روزگار لڑکے کو آئی ایس آئی کمپنی کی میٹنگ سے بیسیوں لوگوں کے سامنے اٹھا کر لے گئی۔ باپ ،بھائی، بہن ،ماں، رشتہ دار ،دوست یار اپنا ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر بھی صرف اتنا معلوم کر پائے کہ بندہ اے پی ایس اٹیک میں سہولت کار ملزم ہے۔ میں نے آئی ایس آئی کے ایک دوست کے توسط سے معلومات لینے کی کوشش کی تو اس نے پتا کرکے اس معاملے سے دور رہنے کا سختی سے کہہ دیا۔ دوسرے کسی کرنل کو بھیجا تو وہ خود انکوائری بھگت کر آ گیا کہ تم کیوں آئے اس کا پوچھنے۔

اٹھانے کے ایک ہفتے بعد اللہ نے بیٹی دے دی۔ جب کچھ نہ بنا تو گھر والے رو پیٹ کر صبر کر کے بیٹھ گئے۔ کوئی ڈیڑھ دو سال بعد آئی ایس آئی نے بندہ چھوڑ دیا۔ صحیح سلامت گھر لوٹ آیا۔ صرف صحیح کھانا نہ  ملنے پر کمزور تھا۔

ہوا یوں تھا کہ لڑکا چونکہ مارکیٹ میں کام کرتا تھا تو ہر ایک سے تعلق بنانا نوکری کی ضرورت تھی۔ ایسے میں ایک افغانی سے دوستی ہوئی۔ اس نے اعتماد بنا کر ساتھ میں کھانا پینا کیا۔ پیسوں کا لین دین ہوا۔ ساتھ میں دبئی کا ٹور لگا۔ آرمی پبلک  سکول کے واقعہ میں وہ افغانی سہولت کار تھا اور اس پاکستانی لڑکے کے موبائل اور لیپ ٹاپ سے را کو میسج و ای میل کی گئی تھیں۔

آئی ایس آئی نے تحقیق پوری کی، افغانی سہولت کار پکڑا، پاکستانی لڑکا بے  گناہ نکلنے پر رہا بھی کر دیا۔ لڑکا زندہ سلامت بنا کسی کیس و سفارش و احتجاج و دھرنے کے واپس لوٹ آیا۔

واقعہ بیان کرنے کا مقصد بعد میں بتاتا ہوں، پہلے آپ سب یہ سمجھ لیں کہ آج کل کے دور میں انجان چھوڑیں کسی جاننے والے پر بھی اعتماد نہ  کریں۔ کوئی بہت میٹھا بن رہا ہے وہ بہت ہی خطرناک بات ہے۔ آنکھیں کان کھلے رکھیں اور اپنا ذاتی موبائل و لیپ ٹاپ صرف اپنے استعمال میں رکھیں۔

اب یہ سمجھ لیں کہ خفیہ ایجنسی ایسے تو بندہ اٹھاتی نہیں ہے۔ نہ وہ اتنی فارغ بیٹھی ہے کہ کسی کو بھی اٹھا کر لے جائے اور سنبھالے۔ ان کے  ذمے  اور بہت کام ہیں۔ وہ بندہ صرف اور صرف تب ہی اٹھاتی ہیں جب ان کو کوئی کلیو ملتا ہے۔ اس پر بھی ثبوت دیکھے جاتے ہیں۔ تب ہی بندے پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے۔

دوسری بات، جس مقدمے اور کیس کی بات کی جا رہی ہے، وہ اگر عدالت چلا جائے تو ہمارا عدالتی نظام اتنا کمزور ہے کہ دہائیوں میں بھی ایک کیس حل نہیں ہوتا۔ ویسے بھی غداری کے مقدمے عام عدالتوں میں نہیں چلتے۔

اب آخری بات پی ٹی ایم کے مطالبات کی۔ یہ جو مظلومیت کا رونا رو رہے ہیں نا، معذرت کے ساتھ یہ کہنا چاہوں گا کہ کسی پنجاب یا سندھ کے بندے کو بیوقوف بنا لیں، وہ شاید  بن بھی جائے گا۔ لیکن اگر حق سچ لکھنا ہے تو پھر سننے کی ہمت رکھیں۔

پٹھانوں کو کسی دشمن کی ضرورت ہی نہیں کوئی۔ پٹھان اپنی ضد کے ہاتھوں خود ہی اپنے دشمن ہیں۔ فوج کو گالی دینے کا ٹرینڈ جو چلا ہوا ہے اسکی طرف چیف نے اشارہ ایویں نہیں دیا۔ جب دہشتگردی کنٹرول کر لی گئی، فاٹا کا علاقہ ہاتھ میں آگیا، پہلی دفعہ بارڈر ڈیفائن ہوا تو اب یہ کھیل کھیلنے آگئے پختونوں کے نام نہاد حمایتی؟؟

یہ وہی قبائلی علاقہ ہے نا جہاں پشاور کے تاجروں کو اغوا کر کے لیجا کر حبس بے جا میں رکھا جاتا تھا۔ گھر والوں سے لاکھوں کروڑوں کا مطالبہ کیا جاتا تھا، نہ  ملنے پر بندہ مار دیا جاتا تھا۔ سارے کے سارے گاؤں کو معلوم ہوتا تھا کہ یہ بندہ کون اغوا کر کے لایا ہے۔ امام مسجد تک کو پتا ہوتا تھا کہ جماعت میں شریک بندہ مجبور ہے لیکن مجال ہے جو کوئی غیرت مند پختون روکتا ۔اور یہ اس زمانے کی بات ہے جب طالبان کا نام و نشان تک نہ  تھا۔ طالبان کے  فساد کے بعد وہی لوگ طالبان کے ساتھ مل کر بھی یہی کرتے رہے۔جب فوج نے فاٹا کا کنڑول سنبھالا تو پشاور کے تاجروں کو طالبان کی جانب سے بھتے کے خط آتے رہے۔ نام چھپانے کی گارنٹی دیکر پشاور کے بڑے تاجروں سے پوچھ لیجئے کوئی ایسا نہ  ہو گا جسے خط نہ  ملا ہو۔

اسلحہ و منشیات کی اسمگلنگ ہو یا اغوا کا کاروبار، جرائم یافتہ لوگوں کو پناہ دینا ہو یا نان کسٹم پیڈ سامان، قبائلی علاقہ انہی چیزوں سے آباد نہ  تھا کیا؟؟؟ آج بھی غریب آدمی 7 لاکھ کی سوزوکی مہران نہیں خرید سکتا اور پشاور سے سوات کی طرف صرف مالاکنڈ چلے  جائیں، سوات سے بھی بہت پہلے، پانچ پانچ لاکھ کی کرولا اور  آٹھ دس کی لینڈ کروزر میں پٹھان پھرتے ملیں گے۔ کیوں وہ پاکستانی نہیں کہ ٹیکس دیں؟؟؟

قسم کھا کر کہہ دیں یہ سارے کہ کیا حقارت سے کسی کو گالی دینی ہو تو آج بھی پنجابی کہہ کر نہیں بلاتے ؟؟۔ اور پھر نام اسلام کا کہ اسلام تو پاکستان میں انہوں نے آباد کیا ہوا ہے؟۔۔
گاؤں سے، پہاڑوں سے آکر شہر میں بس کر، شہر میں کاروبار کر کے، کما کر، سہولتیں لیکر پھر پشاور کے ہی اصلی شہریوں (پشوریوں ) کو خارے (شہری ) جس حقارت سے کہتے ہیں، وہ دوسرے علاقے کے لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گا۔

جانِ من،  دو دو کشتیوں میں پیر رکھنے پر یہی ہوتا ہے جو ہو رہا ہے۔ افغانستان نے تو قسم کھائی ہے کہ جس دن سے پاکستان بنا ہے لر اور بر کا فساد کر کے لڑنا ہی لڑنا ہے۔ یہ فساد وہ تب سے کر رہا ہے جب نہ  افغان جنگ تھی، نہ  ضیاء تھا نہ  روس آرہا تھا۔ لیکن افغانستان کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہا تھا۔

ہمیں مسنگ پرسن ہوں یا شہید ہوئے عوام یا فوجی، سب ہی عزیز ہیں۔ لیکن فوج کو گالی دینے سے اپنے گناہ دھلتے نہیں ہیں۔ سوات میں فضل اللہ کے ساتھ بندے پٹھان ہی تھے۔ مریخ سے آئی خلائی مخلوق نہیں تھی۔ وزیرستان میں بیٹھ کر خود کش تیار کرنے والے پٹھان ہی تھے، کسی اور دنیا کے لوگ نہیں تھے۔

مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ فوج دودھ سے دھلی نہیں ہے۔ فوج نے ہزار غلطیاں کی ہیں۔ لیکن ساتھ میں نام لو نا ان تمام مولویوں کا، مدرسوں کا، جماعتوں کا جہاں سے جہاد کے نام پر لڑکے مرنے کے لیے بھرتی ہوتے تھے۔ تقاریر ہوتی تھیں۔ جنت کی نویدیں سنائی جاتی تھیں۔ بقول آپ کے فوج تو ہے ہی بری۔ تو یہ بڑے بڑے مولوی جو اب صاف کپڑے پہنے پھرتے ہیں یہ گدھے نہیں سمجھتے تھے؟ سمجھتے تھے، بہت خوب سمجھتے تھے، لیکن نوٹوں کے بیگ ملتے تھے۔ چلو لو نام انکا؟؟ کیوں پر جلتے ہیں یا اپنے پٹھانوں کا نام آنے پر پھنستے ہو؟

صاف سیدھی بات ہے۔ جب تک پختون اپنی انا و ضد پر اٹکے دوسروں پر الزام دھرتے رہیں گے، انکے بچے یوں ہی مریں گے۔ یوں ہی چیک پوسٹوں پر ذلالت ہو گی۔ یوں ہی شک ہو گا ان پر۔اگر تو دعوی اسلام سچا ہے، تو سب سے پہلے پٹھان ہونے کا غرور مارو، پھر دوسری قوموں کو جو مسلم ہوں مسلم سمجھو، بچوں کو گولی کی بجائے قلم دو ہاتھ میں، یقین کرو پاکستان کی سب سے ذہین و خوبصورت قوم صرف اور صرف اپنی جھوٹی انا کے ہاتھوں تباہ ہو رہی ہے۔

آخری بات۔ جس طرح جہاد اور اسلام کے نام پر پہلے استعمال ہو کر خوار ہوئے ہیں پٹھان۔ اس بار حقوق کے نام پر دوبارہ بیوقوف بننے جا رہے ہیں۔ یہی آپکے حقوق کی بات کرتے کرتے، بیچ کھائیں گے۔

آگے مرضی اپنی ہے۔

عثمان گل
پیشے کے لحاظ سے اِنجینیئر۔ معاشرے میں رنگ، نسل، زبان اور مذہب کے لحاظ سے مثبت تبدیلی کا خواہاں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *