مرزا یاسین بیگ کا رانا تنویر عالمگیر کی کتاب پہ تجزیہ

(محترم مرزا یاسین بیگ نے رانا تنویر عالمگیر کی کتاب پر مقدمہ لکھا ہے۔ قارئین کیلیے ایک ادبی تحریر پیش خدمت ہے)

ایک ماہ قبل مجھے ای میل سے پی ڈی ایف پر ایک کتاب موصول ہوئ ” ملًاازم اور اسلام” . صاحبِ کتاب رانا تنویر عالمگیر نے پیغام میں لکھا “مرزا صاحب میں فیس بک پر آپ کی تحریروں سے بہت متاثر ہوں . میری خواہش ہے کہ آپ میری کتاب چھپنے سے پہلے کتاب پر اپنی رائے لکھ دیں.”

میں نے چند دنوں بعد کتاب پر نظر ڈالی تو چونک گیا. توقع کے برعکس کتاب پڑھنے کے لائق محسوس ہوئ . جیسے جیسے کتاب پڑھتا گیا مجھے یوں محسوس ہونے لگا کہ یہ تو کتاب نہیں آج کے پاکستان کا نوحہ ہے . زخم ، زخم پاکستان اور پاکستان کے اسلام کی آپ بیتی ہے . کتاب ختم ہونے تک مجھے کتاب کے مصنف پر رشک آنے لگا اور دل میں اس کے بارے میں کچھ جاننے کی خواہش بیدار ہوئ . رابطہ کرنے پر پتہ چلا کہ رانا تنویر عالمگیر ملتان سے چالیس کلومیٹر دور ایک گاؤں کے رہائشی ہیں. یہ ان کی پہلی تصنیف ہے . عمر صرف چوبیس سال . چوبیس سال کا سن کر میرا دماغ چکراگیا. اب جبکہ میں زندگی کے بےشمار تجربات اور مشاہدات سے گذرکر اپنی حیرانی کھوچکا ہوں . عرصے بعد ایک بار پھر پھٹی آنکھیں لئے سوچ رہا تھا کہ کیا واقعی اتنی اچھی زبان و بیان ، تحقیق اور منفرد سوچ کے ساتھ اس عمر کا پاکستانی آج کے گمراہ کن پاکستان میں ایسی کتاب لکھ سکتا ہے؟ یقیناً لکھ سکتا ہے جبھی تو کتاب کا ای-ایڈیشن میرے سامنے ہے .

میرا ذہن فوراً ماضی میں چلا گیا جب میں خود بائیس یا تئیس سال کا نوجوان تھا . وہ ضیائ مارشل لاء کا سخت ترین دور تھا . کراچی کے میدانوں میں بھی میں کئی بار لوگوں کو ٹکٹکی پر چڑھے مارشل لائی کوڑے کھاتے دیکھ چکا تھا، اہلِ قلم کی اکثریت دم بخود تھی، اخبارات پر سنسرشپ تھی، پورے ملک کو ایک سرکاری ریڈیو و ٹی وی کے “اسلام امجد اسلام” اور “شفا بانو” برانڈ کے ڈراموں کی انٹرٹینمنٹ میں باندھ دیا گیا تھا. ڈیکلریشن ملنا ثواب کمانے سے بھی زیادہ مشکل تھا، کراچی سے پشاور تک فکشن ڈائجسٹ یا صرف ایسے چند ماہناموں کا راج تھا جو دوپٹہ زدہ ٹی وی گلیمر یا کرکٹ کے موضوعات کو کور کرتے تھے . ضیائ ملازمین اور ان کی سیاست پر منہ کھولنا گویا خود کو ایجنسیز کے بےرحم جنجال میں پھنسانا تھا . کور کمانڈرز بادشاہ تھے اور عوام گونگی رعایا . جی ایچ کیو اسلام کے نام پر جو کچھ کہہ دیتا اس پر عمل کرنا پاکستانی مسلمانوں پر فرض تھا . میں کالج کا طالبعلم تھا اور روپ ، ٹی وی ٹائمز ، صبحِ نَو جیسے رسالوں کا رپورٹر اور سب ایڈیٹر بھی، جن کا پسندیدہ موضوع ٹی وی ڈرامے اور ان میں کام کرنے والے فنکار تھے . میری روح اندر سے تڑپتی تھی کہ کس طرح اپنے قلم سےضیاء کا اسی طرح تماشا بناؤں جیسے اس نے پورے ملک کا بنا رکھا تھا .

جب بھی کوئ سیاسی مضمون لکھ کر اخبارات یا رسائل کو دیا انھوں نے نہیں چھاپا . سب کی یہی فرمائش ہوتی تھی کہ مرینہ خان ، شہناز شیخ یا انیتا ایوب کا انٹرویو لاؤ . انھی دنوں میرے دوست شارق نقوی کی بچوں کی ایک سیریل پی ٹی وی کراچی سے چلنا شروع ہوئی . شارق نے اپنی سیریل کی ہیروئن سائرہ اسلم سے ملوایا جو کئی ٹی وی اشتہارات میں کام کرنے کے بعد پہلی بار ٹی وی ڈرامے میں کاسٹ ہوئی تھی . میں نے سائرہ اسلم سے کہا کہ اگر وہ میرے ایک سوال کا جواب میری فرمائش کے مطابق دے دے تو میں اسے روپ میگزین کے ٹائٹل پر چھپوا دونگا . وہ بہادر لڑکی تھی . اس نے سوال اور اس کا جواب سنا اور حامی بھرلی . روپ کی مدیرہ سلطانہ مہر بھی ایک مقبول سینئیر صحافی تھیں . انھیں تھوڑا سا منانا پڑا اور وہ راضی ہوگئیں . سائرہ اسلم کے انٹرویو کی سرخی تھی “ضیاء الحق میری آئیڈیل شخصیت ہیں اور وہ اکثر میرے خوابوں میں آتے ہیں” . تفصیلات میں کیا جانا پتہ نہیں انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے مخبروں کے ذریعے یہ سرخی جی ایچ کیو تک پہنچی یا نہیں مگر کراچی تا لاہور میگزین نکالنے والوں تک شور ضرور مچ گیا . انٹرویو بھی کاپی ہوا اور شوبز کی خبروں میں بھی اس کا چرچا رہا یہاں تک کہ “اخبارِ جہاں” میں بھی اس کی خبر بناکر لگائی گئ . میرا ضمیر فخر سے چوڑا ہوگیا کہ ایک نووارد صحافی ہونے کے باوجود میں نے مارشل لاء کی قومی ذلٌت پر اپنا حقِ صحافت ادا کردیا .

آج جب میں نے چوبیس سالہ رانا تنویر عالمگیر کی کتاب “اسلام کو مولوی سے بچاو” پڑھی تو اپنے اسی ذہن کو دو سو گنا زیادہ توانائی کے ساتھ روشنی کی سمت سفر کرتے دیکھا . میری جوانی میں صرف ایک مولوی ضیاء تھا . آج اسی کی کوکھ سے نکلے لاکھوں مولوی گلی گلی اپنی مذہبی دکان میں بیٹھے اسلام بیچ رہے ہیں . جبر کی سطح ہتھیاروں اور کارندوں کے سہارے انسانی خون کا سیلاب پیدا کررہی ہے .

مجھے رانا تنویر کی سوچ اس لئے مثبت لگی کہ وہ سچے اور اصلی اسلام کا حامی ہے مگر آج جن ہاتھوں میں اسلام کھیل رہا ہے اور جو لوگ اسلام سے اپنے کاروبار کو چمکارہے اور اسلام کو دہشت گردی کا سمبل بناکر پیش کررہے ہیں وہ ان کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے پیش کررہا ہے . اس نے صاف لکھا ہے کہ جینیوئن عالمِ دین اس کیلئے قابلِ احترام ہیں مگر جعلی نام نہاد مولوی جنھوں نے اسلام کا چہرہ مسخ کردیا ہے ان کے کاروبار کو ختم ہونا چاہیئے اور عام مسلمان کو ان کے شر سے بچنا چاہیئے . میں سمجھتا ہوں اس کتاب میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ آج پاکستان کا عام مسلمان کچھ کچھ ضرور سمجھ رہا ہے مگر مولوی کےآگے ان کے دماغ اور زبان کی بولتی بند ہے . رانا تنویر نے اسی احساس اور سوالات کو زبان دی ہے . چوبیس سال کا ایک نوجوان جس کے یہ کیرئیر بنانے ، عشق کرنے ، شادی کرنے اور بچے پیدا کرکے ہنسی خوشی مولوی اور سسٹم کے ساتھ زندگی گذارنے کے دن ہیں وہ اس نے ایک کتاب لکھنے پر صَرف کردئے اور کتاب بھی ایسی جو رہنمائ کرسکے ، سوچ اور تحریک پیدا کرسکے اور مولوی مافیا کی جانب انگلی اٹھاکر کہہ سکے کہ سدھرجاؤ بہت ہوچکا ہم تمھیں پہچان چکے ہیں .

کتاب میں اختصار کے ساتھ کاروبارِ مذہب کے تقریباً تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئ ہے . ملاازم کی بنیاد اور معاشرے میں مولوی کا کردار ، لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنے میں مولوی کا ہاتھ ، خدمتِ خلق اور خدمتِ مولوی کا فرق ، پاکستان میں جعلی مولویوں کے پنپنے کی وجوہات ، فتوے بازی کے معاشرتی اثرات ، فرنگیوں نے کس طرح مولویوں کو استعمال کیا اور مولوی نے ان سے کونسے فوائد کس بیش قیمت اصولوں کو بیچ کر حاصل کئے ، مدارس کا کردار ، جعلی مولویوں کے بارے میں خود اسلام کیا کہتا اور ان کی کونسی نشانیاں بتاتا ہے ، مولوی سائنس سے کیوں بدکتا ہے ، مولوی کی اپنی ایجادات کیا ہیں ، اصلی عالمِ دین کہاں روپوش ہیں اور کیوں؟ اور یہ بھی کہ ملاازم سے پاکستانیوں کو کیسے نجات مل سکتی ہے؟

کتاب کے دو دلچسپ باب وہ ہیں جہاں رانا تنویر نے کمالِ لطافت سے مولویوں کی جدید ایجادات کا تذکرہ کیا ہے وہیں نہایت سنجیدہ انداز میں ان سے کچھ اہم سوالات کئے ہیں . مجھے نہیں معلوم کہ اس طرز کی کوئ کتاب پچھلے چند سالوں میں پاکستان میں اردو زبان میں چھپی ہے یا نہیں مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جیسا کہ رانا تنویر عالمگیر نے مجھے تحریری طور پر بتایا ہے کہ وہ صرف چوبیس سال کے ہیں تو اس عمر کے آج کے پاکستانی نوجوانوں کے مشاغل کے حوالے سے ان کی یہ کتاب ایک بڑا کارنامہ ہے . آندھی اور طوفان کے مخالف سمت میں چلنا آسان کام نہیں . ضمیر فروشی اور ٹکے ٹکے میں قلم بیچنے والوں کے عہد میں ایک نوجوان کی یہ قلمی کاوش قابل قدر ہے . یہ کتاب پاکستان کی ایک حاضر طاقت ور مافیا کو چیلنج دیتی محسوس ہوتی ہے مگر یہی چیلنج ہماری قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے اور اسے دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں جگہ دلواسکتی ہے . ہم اپنے کرتوتوں کی وجہ سے آج دیوار سے لگے ہوئے ہیں . اگر رانا تنویر جیسے بیٹے پیدا ہوتے رہے تو ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں . اگرچہ یہ مکمل علاج نہیں مگر مرض کو پہچان کر اس عارضے سے چھٹکارے کی جانب پہلا قدم ہے . اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی ہوجائے تو یہ سونے پر سہاگہ والی بات ہوگی .
از
مرزا یاسین بیگ

Avatar
رانا تنویر عالمگیر
سوال ہونا چاہیے.... تب تک، جب تک لوگ خود کو سوال سے بالاتر سمجهنا نہیں چهوڑ دیتے....

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *