قانون ، انصاف اور وکیل۔۔۔افراز اختر

ایک کافی پرانا واقعہ ہے جو آپ میں سے بہت قارئین نے پہلے بھی کئی بار پڑھا ہو گا

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ : ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻭ، ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﺮﻏﯽ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮬﺎ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﺑﻌﺪ ﺁ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ، ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﺟﺞ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ، ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﺟﺞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﮩﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻣﺎﻟﮏ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﺎ ﻭﮦ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ، ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺍﯾﺴﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯼ ﮨﮯ، ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮌﮮ ﮔﯽ؟ ﺟﺞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻨﻮ ﺑﺲ ﯾﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﻮ ﮐﮧ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﯿﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ، ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﻟﻠﻪ ﭘﺮﺩﮦ ﺭﮐﮭﮯ، ﺟﺞ ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﺎﻟﮏ ﺑﮭﯽ ﺁﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ : ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎﭦ ﺩﯼ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ،

ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍلے نے پوچھا: ﮐﯿﺴﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﮌ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺌﯽ، ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﭼﻠﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ، ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ، ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ ﺁﺩﻣﯽ ﻟﮍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮩﻮﺩﯼ، ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮫ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ : ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ، ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺩﻭ ﮐﯿﺲ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ، ﻟﻮﮒ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺐ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼﮍ ﮪ ﮔﯿﺎ، ﻟﻮﮒ   ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ  لیے  ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ، ﺍﺏ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺞ ﮐﮯ ﭘﺎس  ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ، ﺟﺞ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﺍ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﺮﻏﯽ ﯾﺎﺩ ﺁ ﮔﺌﯽ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺩﻭ ﮐﯿﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﺟﺞ ﮐﻮ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮐﯿﺴﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺳﺮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ : ﭼﻠﻭ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﺟﺞ : ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﺩﻋﻮﯼ ﮨﮯ؟
ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ : ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺮﻏﯽ ﭼﺮﺍﺋﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺮﺩﮦ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮌ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟؟
ﺟﺞ : ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮ؟
ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ : ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﺟﺞ : ﮐﯿﺎ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺩﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﮌﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔
ﺟﺞ : ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺪﻋﯽ ﮐﻮ ﻻﺅ، ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻣﺎﺭ ﺩﯼ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺟﺞ ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ : ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﯾﺖ ﻧﺼﻒ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﻮﮌﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﮑﮫ ﭘﮭﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ۔
ﯾﮩﻮﺩﯼ : ﺭﮨﻨﮯ ﺩﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﯿﺲ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮں۔
ﺟﺞ : ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮐﯿﺲ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ : ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﭘﺮ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﺮﮔﯿﺎ ۔
ﺟﺞ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﻮﻻ : ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭ ﺟﺎﺅ ﺳﺐ ﺍﺱ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﭘﺮ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺅ۔
ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮐﺮﻣﺮﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ۔
ﺟﺞ : ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ، ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﺎﭖ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ؟

یہ واقعہ  کو لکھنے کا مقصد قارئین کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اگر جج چاہے تو ہر مسئلے کا حل نکل سکتا ہے قانون کی باریک بینی  سے جتنی سمجھ جج کو ہوتی ہے اور کسی کو نہیں یہی وجہ ہے کہ انگلینڈ یا اور بہت ممالک میں بعض دفعہ جج جو لکھا ہوتا ہے اس سے ہٹ کر بھی فیصلے سناتے ہیں بشرطیکہ  وہ قانون کے تقاضے پورے کریں ۔پوری دنیا میں اگر کسی جگہ کوئی قانون انصاف کے تقاضے پورے نہ کرے تو جج خود سے اس کی تشریح کرتے ہیں
بعض دفعہ جج جو لکھا ہوتا ہے اس سے ہٹ کر بھی فیصلہ دیتا ہے
ہم یہ مان کر چلتے ہیں کہ ججز قانون نہیں بناتے ‘ ٹھیک۔۔۔قانون سیاست دان بناتے ہیں‘ ٹھیک۔ مگر ججز مثال تو سیٹ کر سکتے ہیں نا۔ ججز کے فیصلے قانون بن جاتے ہیں ایسی مثالیں موجود ہیں ۔

ہمارا ملک جہاں پر باقی محکمے اپنا کام نہیں کرتے اور پھر اس کا ساتھ دیتا ہے ہمارا قانون ، جو 1700, 1800صدی  پرانے   قانون پر زندہ ہے وہ قوانین جن میں  آج کے ماڈرن دور میں تبدیلی کرنا ضروری ہے  لیکن نہ تو کبھی ججز حضرات نے ضرورت سمجھی اور نہ ہی کبھی اسمبلی میں بیٹھنے والے لوگوں نے جو خود بھی ان سب چور دروازوں کو اپنی  ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔اور پھر پولیس ایف آئی آر بھی ایسے لکھتی ہے کہ بچنے کی گنجائش  باقی رہے ،کورٹ بھی لاء کے مطابق فیصلہ دیتی ہے چاہے وہ عام آدمی کو انصاف دے یا نہ دے ۔اور وکیل دوستوں کا تو اوڑھنا  بچھونا قانون ہے وہ بھی اپنے کیس کو اتنا لمبا کرتے ہیں کہ مدعی کی اگلی نسل کی باری آ جاتی ہے اور وکیل کا بیٹا وہ کیس تھام لیتا ہے ۔

اگر اس سسٹم کو بدلنا ہے تو جیسا یوکے میں  SRA ۔Solictor Regulations Authoruty

ہے ایسا کوئی ادارہ بنایا جائے جو پاکستان کے وکلاء حضرات  کو پرکھے اور ان کے لئے بھی کچھ قانون بنائے تا کہ بلاوجہ کی بلیک میلنگ بند ہو ۔ججز بھی کچھ اقدام اٹھائیں جیسے جو وکیل بلا وجہ دو یا تین پیشی  پر نہ آئے اس کا مقدمہ خارج کر دیا جائے اور اگر اس کی عادت ہے تو اس کا عدالت میں داخلہ ہی ممنوع قرار دیا جائے جب ایسا کچھ ہو گا تو دیکھیں کیسے بدلاؤ نہیں آتا ۔

بہت کچھ بدلنے کو ہے لیکن کس میں ہمت ہے ایسا کرے ؟؟
اب آتے ہیں معزز ججز حضرات کی طرف ، جج کا کام ہے آخر میں درست فیصلہ کرنا۔ انصاف نہیں کرنا ‘بلکہ عدل کرنا ۔ عدل اور انصاف میں فرق ہوتا ہے ۔
انصاف کہتا ہے کہ دو لوگ ہوں اور روٹیاں تین تو دونوں کو ڈیڑھ ڈیڑھ روٹی دو ‘ مگر عدل کہتا ہے کہ دونوں آدمیوں پہ غور کرو ۔ جو کئی دن سے بھوکا ہے ‘ اس کو دو روٹیاں دو ‘ اور جو پہلے ہی سیر ہے اس کو ایک دو۔ انصاف کہتا ہے چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹو مگرعدل کہتا ہے ‘ جو قانون روٹی نہیں دے سکتا وہ ہاتھ نہیں کاٹ سکتا
بہت مثالیں ہیں لیکن ہمارا عدالتی سسٹم اور پرانے بوسیدہ قانون ان کا سہارا ہیں تب ہی کوئی ان پر بات نہیں کرتا ۔اور پھر جو لوگ اسمبلی میں ہیں ان میں سے زیادہ تعداد خود کبھی تعلیم کے پاس نہیں پھٹکی ان کو قانون سے کیا ؟؟کس سے گلہ کریں کس سے منصفی چاہیں ؟؟کیا اس ملک میں اندھے قانون ‘ بہرے جج اور گونگے ملزموں کا ہی راج رہے گا؟Save

افراز اخترایڈوکیٹ
افراز اخترایڈوکیٹ
وکیل ، کالم نگار ، سوشل ایکٹویسٹ، گلوبل پیس ایمبیسڈر ،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *