جمنا کنارے، دل کی بستی۔۔۔شکور پٹھان

پگڑی اپنی یہاں سنبھال چلو
اور بستی نہ ہو یہ دِلّی ہے

دلّی ، دلّی، دلّی، ہائے دلّی وائے دّلی، بھاڑ میں جائے دلّی۔۔
کیوں جائے بچاری دلّی بھاڑ میں۔۔۔وہ تو غریب سو بار لٹی اور سوبار بسی ، لٹی تو ایسی کہ سامان عبرت بن گئی لیکن پھر بسی تو ایسی شان سے کہ آس پاس بڑی سے بڑی رونق لگی ہو لیکن دلی والے یہی کہتے رہیں گے
” کون جائے ذوق پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر۔”

دلّی جس کا تذکرہ حالی کے سینے پر چھریاں چلا دیتا ہے

تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ
نہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز

اور خدائے سخن میر تقی میر سواد اودھ میں دلی کو یاد کرتے ہیں

دلی کے نہ تھے کوچے، اوراق مصور تھے
جو شکل نظر آئی، تصویر نظر آئی

میر کے نزدیک وہ دیار جو عالم میں انتخاب تھا، وقت کے قدموں میں ٹھوکریں کھاتا، کبھی سنبھلتا، کبھی گرتا، پھر کھڑا ہوتا۔ پھر گرتا، پھر کھڑا ہوتا۔ نجانے اور کونسا شہر ہوگا جس نے اتنے انقلابات دیکھے ہوں۔
کبھی جو مغلوں کی شان کا نشان تھا ، کیسے ان کے ہاتھ سے نکلا، ذرا آخری مغل تاجدار سے سنئیے

اے وائے انقلاب زمانے کے جور سے
دلّی ظفر کے ہاتھ سے پل میں نکل گئی۔

اور یہ دلّی نجانے کیوں میرے دل میں بسی رہتی ہے حالانکہ میرے ساتھ تو ایسا کچھ نہیں ہوا کہ میں کہوں

” دل کی بستی، پرانی دلی ہے
جو بھی گذرا ہے اس نے لوٹا ہے ( بشیر بدر)

وہ دلی جسے میں نہ صرف دو دن اور دورات دیکھا ہے، میرے خوابوں میں تو تب سے بسی تھی جب غالب کے خطوط میں اردو بازار، گلی قاسم جان، بلی ماراں، کوچہ چیلاں، چاؤڑی، بازار خاص اور چاندنی چوک کے قصے سنے اور یوں لگا کہ میں تو وہیں رہتا چلا آیا ہوں۔ اور یہ اپنائیت دو چند ہوتی چلی گئی جب فرحت اللہ بیگ سے پھول والوں کی سیر کا حال سنا۔
برصغیر کے کسی شہر کے بارے میں اتنے باکمال قلمکاروں نے شاید ہی اتنا کچھ لکھا ہو جتنا دلی کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ اشرف صبوحی، شاہد احمد دہلوی، ملا واحدی، انتظار حسین، سید قاسم محمود نے کبھی دلی سے اجنبیت محسوس ہی نہ ہونے دی۔

لیکن دلی کا تذکرہ شروع کروں تو کہاں سے اور ختم کروں تو کہاں پر۔ دلی کی تاریخ کی بات کروں، جو کہیں کہیں سے بالکل ہی نامعلوم ہے تو کہیں یوں لگتا ہے کہ بچہ بچہ اس سے واقف ہے۔
اور تاریخ کی بات کروں تو کونسی تاریخ، چندر گپت موریہ، بکرما د تا، اشوکا، اننگ پال، پرتھوی راج چوہان کی داستان سناؤں ، یا مملوکوں کی، خلجیوں کی، تغلق اور سید وں کی یا لودھیوں کی۔ یا انکی جن کا نشان دلی کے چپے چپے پر ہے، یعنی مغلوں کی،
یا پھر ان کی بات کروں جنہوں نے دلی کی اینٹ سے اینٹ بجائی، لاکھوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا، اور شہر میں جھاڑو پھیر کر چلے گئے، دلی پر کبھی تیمور کی صورت میں آفت نازل ہوئی تو کبھی اس کی شامت اعمال نادر شاہ درانی کی صورت میں وارد ہوئی یا پھردلی کے بزرگوں کی دعوت پر نجات دہندہ بن کر آنے والے احمد شاہ ابدالی کی بات کروں۔۔اور ان مرہٹوں، جاٹوں اور روہیلوں کی بات کروں جو اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں کسی سے پیچھے نہ رہے۔
دلی غریب کی جورو، سب کی بھابی کی صورت جیتی رہی، جس کے کوچہ وبا زار کی ہر اینٹ ایک داستان لئے ہے تو ہر روڑے کی نیچے تاریخ دبی پڑی ہے۔

دلی جسے اننگ پال نے بسایا، تو پرتھوی راج عرف رائے پتھورا نے سنوارا۔ جسے جلال الدین خلجی نے ” سیری” کے نام سے بسایا تو، غیاث الدین تغلق نے تغلق آباد قائم کیا، انہی تغلقوں نے اسے جہاں پناہ کا نام بھی دیا اور یہیں فیروز شاہ کا کوٹلہ بھی بنایا۔ ہمایوں نے اسے ” دین پناہ” کا نام دیا تو شیرشاہ سوری نے ” شیر گڑھ کی بناء رکھی۔ اور آخر آخر میں شاہجہاں نے اسے ” شاہجہاں آباد” بنایا جو عین اسی جگہ ہے جہاں کبھی اندرپرستھ ہوا کرتا تھا۔

یا پھر میں اس دلی کی بات کروں جسے ایسی ایسی برگزیدہ اور بابرکت ہستیوں نے اپنا مسکن بنایا کہ برصغیر میں ایسی پاک روحوں کا اجتماع شاید ہی کسی شہر میں ہو۔
قطب الاقطاب، خواجہ قطب الدین بختیار کا کی، ان کے مرید،محبوب الہی، حضرت نظام الدین اولیاء، ان کے مرید باصفا، طوطئ شکر مقال، طوطئی ہند، امیر خسرو کاتذکرہ کریں یا ان تمام بزرگوں کی بات کریں جن کے قدموں کی بدولت دلی، بائیس خواجہ کی چوکھٹ کہلائی، شیخ نورالدین، حضرت شاہ ترکمان بیابانی، بی بی فاطمہ سام، بابا ابوبکر طوسی، دین علی شاہ، میر قطبی، شاہ عبدالنبی، سید عسکری، اور ان جیسے بزرگوں کی دلی یا سرمد جیسے مجذوبوں اور ہرے بھرے شاہ جیسے ملنگوں کی بات کریں۔
سرمد جو کسی کے نزدیک سرمد شہید ہیں تو کو ئی انہیں زندیق و ملحد قرار دیتا ہے، جنہیں، اورنگزیب نے داراشکوہ سے تعلق رکھنے کی پاداش میں یا انکے ملحدانہ خیالات کے باعث قتل کروایا اور کہنے والے کہتے ہیں کہ اس کے بعد اورنگزیب کبھی چین سے ایک جگہ نہ بیٹھ سکا اور موت بھی آئی تو دلی سے دور، دکن میں۔

یا پھر میر وغالب، سودا، ذوق، بیدل، مومن، بیخود، داغ، سائل اور نسیم دہلوی کی دلی کی بات کروں، وہ دلی جہاں جکیم نسخہ کے ساتھ شعر کی اصلاح بھی کردیتے تھے۔ وہ دلی جہاں ایک سے بڑھ کر ایک شاعر، ادیب، افسانہ نگار، ناول نگار نے جنم لیا۔

یا پھر ان کی بات کریں جو انگریزی راج کے سامنے سینہ سپر ہوئے۔ دلی جو تحریک آزادی کا مرکز تھی، گاندھی، جناح، نہرو، آزاد سب نے اسے ہی اپنا مستقر بنایا اور یہیں سے انگریز کو نکال باہر کیا۔
ایک دلی تو وہ ہےجو دلوں میں بستی ہے اور ایک دلی وہ ہے جو ہمارے شکموں میں آباد ہے۔ دہلی کی مشہور نہاری، دہلی کی شاہی حلیم، دہلی کا قورمہ، دہلی کا حلوہ، دہلی کے گولا کباب، دہلی کے سیخ کباب، دہلی کے یہ کباب، دہلی کے وہ کباب، آپ چاہے کراچی میں ہوں، لاہور میں ہوں، یا لنڈن، نیویارک ، ٹورونٹو میں ہوں یا دوبئی میں ہوں ہر جگہ لذت کام ودہن کا سامان کررہے ہوتے ہیں۔

مجھے اور شہروں کی تو خبر نہیں لیکن کراچی میں نہ صرف طباخ بلکہ ہر ہنر کے کاریگر اور فنکار دہلی کے ہی نظر آئے، چاہے وہ خطاط ہوں یا خیاط، جفت ساز ہوں یا جلد ساز، حکیم ہوں یا حجام، ظروف ساز، میناکار، عطار، نانبائی اور نہ جانے کتنے پیشوں سے تعلق رکھنے والوں کا اصل تعلق دہلی کا ہی ملے گا۔

دلّی کی ہستی کبھی پانچ ہنگاموں پر موقوف تھی ۔ وہ تھے لال قلعہ، چاندنی چوک اور جامع مسجد کا مجمع، جمنا کے پل کی سیر اور سالانہ پھول والوں کی سیر۔ اب نجانے یہ سب کچھ کس طرح سے ہے کہ اب ہر شہر ہی اپنا رنگ بدلتا جارہا ہے۔ جامع مسجد کی سیڑھیاں جہاں کبھی مذہب اور ثقافت گلے ملتے تھے، ان کا حال تو میں نے سنجے گاندھی کے زمانے دیکھ لیا تھا۔ ان سیڑھیوں پر انسان اور کتے قریب قریب سوتے تھے، جن پر کبھی ایک دنیا آباد رہتی تھی، جہاں دلی کے بانکے کبھی حلیم کے چٹخارے لیتے تو کہیں فالودہ اور شربت سے تسکین حاصل کرتے، جامع مسجد کی سیڑھیاں جہاں داستان گو، امیر حمزہ، عمروعیار، گل بکاؤلی اور گل صنوبر کے قصے سناتے تو کہیں، کوئی پیر طریقت اپنے مریدوں کو سلوک کی منزلیں طے کرواتے، تو کہیں استاد شاعر ، مبتدیوں کی اصلاح کرتے تو کہیں کوئی شاعر سامعین سے اپنے ہنر کی داد لیتے، کہیں عطائی ، نسخے تجویز کرتے نظر آتے تھے تو کہیں بساطی اور منیاری اپنی دکانیں سجائے ہوتے، جہاں پرندوں سے لے کر گھوڑوں تک کے سودے ہوتے تو کہیں مداری کا تماشہ ہورہا ہوتا۔ یہیں کہیں مرغ لڑائے جاتے تو کہیں بٹیروں پر شرطیں لگتیں۔ کسی گوشے میں کوئی شطرنج کی بساط بچھائے ہوتا تو کہیں چوسر اور گنجفے کی بازی جمتی۔
یہیں بیبیاں بزاز سے کپڑے کی خریداری کرتیں تو یہیں ان کے آس پاس دلی کے بانکے اور شہدے منڈلاتے نظر آتے۔
دلی کا قصہ شروع تو کیا جا سکتا ہے لیکن اسے ختم کرنادشوار ہے۔ ابھی تو وہاں کے ریت رواج، دلی کی کھڑی اور کرخنداری بولی کا قصہ بیان نہیں ہوا۔ نہ اشوک کی لاٹ کی بات ہوئی نہ قطب مینار کی نہ ہی گاندھی سمادھی کی۔

دلی سے نکلنے والی دلی سے نکل گئے لیکن دلی ان کے دل سے نہیں نکلی اور دنیا کے ہر شہر میں کہیں نہ کہیں اپنی دلی بسائے ہوئے ہیں۔ وہ دلی جس کے بارے میں آغا شاعر قزلباش کہہ گئے ہیں

“زمانہ سیکھتا ہے ہم سے، ہم وہ دلی والے ہیں۔ ”

وہ دلی ہمارے اندر بھی ہیے اور ہنوز دور بھی ہے۔

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *