طلبہ پر یلغار

فوج اور پولیس نے گذشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ ڈگری کالج میں طلبہ اور طالبات پر ٹوٹ کر وحشیانہ پن کا سلوک کیا ۔وردی پوشوں نے ان پر پیلٹ، گولیوں کے علاوہ آنسوگیس کا استعمال کر کے لگ بھگ ۶۰ کے قریب طالب علموں کو زخمی کردیا جن میں طالبات کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ درجنوں طالبات شیلنگ کی وجہ سے بے ہوش ہوگئیں۔طالب علموں کے خلاف اس ظلم و جبر پر وادی کشمیر کے جنوب وشمال کے ہائر اسکینڈریوں،ڈگری کالجوں اور کشمیر یونیورسٹی وسنٹرل یونیورسٹی کے طلبہ میں اُبال آگیا، اُنہوں نے ۱۸اپریل کو اپنے اپنے اداروں میں پلوامہ واقعے پر شدید احتجاج کیا۔ پولیس نے اس بار بھی پرامن احتجاجی طالب علموں پر طاقت کا استعمال کرکے 100کے قریب طلباءکو زخمی کردیا اور کئی بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ طلبہ نے بھارتی فوج اور پولیس کی حالیہ کارروائی کے خلاف پرامن احتجاج کے طور پر ریلیاں نکالنے کی کوششیں کیں لیکن بجائے اس کے کہ ان پُرامن احتجاجوں پر غور کیا جاتا، انہیں ایک بار پھر ریاست میں تعینات پولیس نے اپنے ظلم و جبر کا شکار بنالیاجس کی وجہ سے احتجاج پرامن ہونے کے بجائے پرتناﺅ صورت اختیار کر گیا۔
چنانچہ یہ سلسلہ برابر لگ بھگ شام دیر گئے تک جاری رہا۔ حالانکہ ایسی صورت حال میں دنیا میں کہیں بھی طاقت کا استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ یا تو پرامن طور انہیں احتجاج کا موقع فراہم کیا جاتا ہے یا ان کی روک پر ایسے طریقے آزمائے جاتے ہیں جن سے اُنہیں کسی طرح کا کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں رہتا۔ لیکن اس بات کا خیال ان لوگوں کو رہتا ہے جو اپنے ہوں، جن کی زبان ہی نہیں دل بھی انسانیت اور اصل جمہوریت کا درس دیتے ہوں۔ لیکن یہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ یہاں کے لوگوں کو خوف زدہ کرانے کے لیے اور اپنی اناقائم رکھنے کے لیے ہمیشہ طاقت کا استعمال کیا جاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اب بہت حد تک تنگ آچکے ہیں، اگرچہ یہ سلسلہ وادی کشمیر میں پچھلے ۲۸ برسوں سے جاری ہے تاہم حالیہ چند برسوں سے اس میں کئی تبدیلیاں آچکی ہیں، شاید یہاں کی نوجوان نسل اپنے مستقبل کے حوالے سے مایوس ہے۔ انہیں اس بات کا اندازہ ہو چکا ہے کہ ان کا مستقبل دن بہ دن مخدوش ہوتا چلاجا رہا ہے، کیوں کہ حالیہ چند برسوں سے انہیں غیر محسوس طریقوں سے چن چن کر شہید کر کے سلایا جا رہا ہے ۔ نوجوان نسل کو اس طرح مشتعل کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر ہی بار بارسڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو رہے ہیں، حالیہ چند ماہ اس کی ایک زندہ مثال ہے۔
اگرچہ یہ سلسلہ برابر ۱۹۸۹ءسے جاری ہے تاہم اگر ۲۰۰۸ءسے لے کر اپریل ۲۰۱۷تک کے حالات پر غور کریں تو صاف لگ رہا ہے کہ نوجوان طبقہ میں بہت حد تک اپنے حق کے تئیں جذبہ آزادی میں شدت محسوس کی جا رہی ہے۔ اس جذبہ کو اب ایسا محسوس کیا جا رہا ہے کہ کشمیر کے باشعور لوگ برملا اظہار کرتے ہیں کہ اگر اسی طرح نوجوان طبقے کے جذبات میں شدت آتی گئی تو ایک ایسا لاوا تیار ہو جائے گا جس کی لپیٹ میں پورا برصغیر آسکتا ہے۔ کیوںکہ جب ظلم کی انتہا ہو جاتی ہے تو یہ مظلوم کسی وقت تک خاموش احتجاج ہی سے مظالم سے نجات حاصل کرنے کا متمنی رہتا ہے لیکن جب ظلم حد سے گزر جاتا ہے تو یہی کمزور اور امن پسند انسان انتہائی اقدام پر مجبور ہوجاتا ہے۔ وادی میں اسی صورت حال کا منظر آج دیکھا جا رہا ہے۔ کب کیا ہو گا، کسی کو کوئی اندازہ ہی نہیں ہو پارہا ہے، وادی میں چند ماہ کی خاموشی دیکھ کر بھارت کی مرکزی حکومت یا نام نہاد جموں وکشمیر کی مخلوط سرکار یہ سمجھ بیٹھتی ہے کہ”ہم جیت گئے“ لیکن چند ماہ کے گزرنے کے بعد ہی انہیں اپنے اندازوں پر فخر کے بجائے مایوسی اور خوف طاری ہو جاتی ہے جس کا ایک خاکہ حال ہی میں ۲۰۱۶ کی گرمائی ایجی ٹیشن بھی ہے جس میں فورسز کے ہاتھوں ۱۰۰کے قریب لوگوں کا خون بہایا گیا ۔ ہزاروں کی تعداد میں زخمی کر دئے گئے، جن میں سینکڑوں ایسے نوجوان بھائی اور بہنیں ہیں جو اپنی آنکھوں کی بصارت سے ہی محروم ہو چکے ہیں۔ جو ہتھیار جانوروں پر استعمال کئے جاتے ہیں انہیں مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر استعمال کیا گیا، جو قانون (پی ایس اے) مجرموں، ڈکیٹوں وغیرہ پر لگایا جا رہا تھا وہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں پر نافذ کر دیاجاتا ہے۔ بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کو جیلوں میں پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے ۔
صورت حال کو قابو کرنے کے لیے پکڑ دھکڑ، خوف وہراس، قتل وغارت گری، ظلم واستحصال کرنے کے بعد بھی حالات میں کوئی سدھار دیکھنے کونہیں مل رہا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہاں دو سو سے زائد عسکریت پسند موجودہیں لیکن اُن کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی ریاست جموں وکشمیر میں 10لاکھ کے قریب فوجی و نیم فوجی دستے خصوصی اختیارات کے ساتھ تعینات ہیں۔پھر بھلا اتنی فوج کو یہاں تعینات کرنے کا مقصد کیا ہے اور یہ کن کے لیے ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ فوج کی اتنی بڑی تعداد عوام کے سروں پر تعینات کردی گئی ہے۔ ان حالات میں بھی حال ہی میں حکومت ہند کا یہاں وادی کشمیر میں دو پارلیمانی سیٹوں کا انتخابی دنگل کیا معنی رکھتاہے۔ ایک طرف انتخابات کا تماشا ہو رہا ہے اور دوسری جانب خون خرابہ بھی برابر جاری ہے۔ پُرامن احتجاجی مظاہروں کے دوران لوگوں پر سیدھی گولیاں چلانا ووٹ نہ ڈالنے کے بدلے جان لینے والا معاملہ ہے۔ جس قوم کا وطیرہ ایسا ہو وہ قوم کبھی نہ ہی ترقی کر سکتی ہے اور نہ ہی ان کی کسی ترقی کی دہلیز پر پہنچنے کی اُمید رکھی جا سکتی ہے۔ بلکہ اس قوم کا حاصل یہی ہوتا ہے کہ اس کے ہر فرد میں خوف اور دہشت طاری رہتی ہے، یہی حال آج پورے بھارت کاہے۔ جہاں نہ ہی لوگ امن وچین کی زندگی گزار رہے ہیں اور نہ ہی گزار سکتے ہیں، کیوں کہ ان کا وطیرہ ایسا بن چکا ہے کہ وہ دوسروں کے خون سے ہولی کھیلنے کے عادی ہو گئے ہیں اور جو قوم ایسی سوچ کی قائل اور اس پر عمل پیرا بھی ہو وہ قوم امن وچین پائے تو کیسے پائے؟
چنانچہ شاید ایسے حالات کو ہی محسوس کر کے بھارتی کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق بھارتی مرکزی وزیر داخلہ وخزانہ پی چدمبرم نے حالات کو انتہائی گھمبیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کی بیگانگی تقریباً مکمل ہو چکی ہے، ہم کشمیر کو کھودینے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ اس طرح کے بیانات مقامی وغیر مقامی میڈیا رپورٹوں کی وساطت سے آئے روز آرہے ہیں ۔ تاہم بھارت کی مرکزی حکومت کبھی یہ کہتی ہے کہ کشمیر کے حالات میں بہتری آرہی ہے اور چند گنے چنے لوگ جن کی تعداد پانچ فیصد ہے کشمیر میں حالات بگاڑ رہے تو کبھی ایک سال کے اندر کشمیر کے حالات بدل جائیں گے کا بگل بجا دیتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہاں کے لوگوں کے لیے دو ہی راستے ہیں ایک سیاحت اور دوسرا عسکریت۔اور اب سوشل میڈیا پر بھارت اپنی نظریں جمائے ہوئے ہے، انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ کشمیریوں کے لیے سوشل میڈیا کارآمد اور معاون ثابت ہو رہا ہے اس لیے اس پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔ چنانچہ اس بار بھی ۹ اپریل سے لے کر آج تک دو مرتبہ سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ اور اب بھارت کی مرکزی سرکار اس بارے میں سوچ رہی ہے کہ فی الحال کشمیر وادی میں سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
دراصل بھارت کی مرکزی سرکار جان چکی ہے کہ کشمیر ایک ایسا لاوا بن چکا ہے جو کبھی بھی پورے بھارت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ حالیہ چند ماہ کے دوران مقبوضہ کشمیر میں جو نوجوان نسل جن میں پڑھے لکھے لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے فوجی کارروائیوں کا شکار ہو کر اپنی جان کی قربانی دے چکے ہیں۔اب ایک طرف نوجوان نسل جانوں کی پرواہ کئے بغیر تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق سڑکوں پر نکل رہی ہے، اور دوسری جانب یہی نوجوان اپنے آپ کو دائروں میں بند پارہے ہیں ۔ یہ ایک ایسا لاوا ہے جو خطرناک صورت حال کا اشارہ کرتا ہے۔ جس کا اشارہ بھارت سے وابستہ ذی حس طبقہ کرتا آرہا ہے تاہم کرسیوں پر براجمان حکمران خاص کر نسل پرست آر ایس ایس کی حامی جماعتیں جن میں بی جے پی سرفہرست ہے اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر کے مقبوضہ کشمیر میں نوجوان نسل کے قتل عام کی متمنی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر حقیقی انسانیت اور جمہوریت کا طریقہ اختیار کرکے مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو اپنے مستقبل کو سنوارنے کا موقع فراہم کر کے اس بات کا ثبوت دے کہ وہ حقیقت میں اصل جمہوریت اور انسانیت کا قائل ہے،جس کے لیے بھارت کو جموں وکشمیر کے لوگوں کو ان کا بنیادی حق دینا ضروری ہے۔ تاکہ امن عام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

ابراہیم جمال بٹ
ابراہیم جمال بٹ
مقبوضہ جموں وکشمیر سے ایک درد بھری پکار۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *