استقامت ، ایک ضرورت۔اکرام الحق

استقامت دراصل ڈٹ جانے کا نام ہے اور یہی اس کا لغوی معنى ہے ۔ شرحی اصطلاح میں استقامت دین پر مضبوطی سے قائم رہنے کو کہتے ہیں ۔قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں کہ استقامت سے مراد میانہ روی اختیار کرنا اور حق سے منحرف  نہ ہوناہے ،خواہ اعتقادات میں یا اخلاق میں یا اعمال میں ۔ اسی وجہ سے حق کے راستہ کو صراطِ مستقیم کہتے ہیں کہ وہ ایسا راستہ ہے جو اپنے سالک کو مطلوب تک پہنچاتا ہے۔ پس اس لفظ مختصر میں جمیع شرائع شامل ہیں یعنی امتثالِ اوامر و اجتناب عن المعصیات علیٰ سبیل الدوام و الثبات، یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کا بجالانا اور معاصی سے پرہیز کرنا دائمی طور پر اور گناہ کے صادر ہونے کے بعد استغفار و توبہ کرنے کا التزام دوام کے خلاف نہیں ہے یعنی خطاؤں کی تلافی کا ذریعہ ہے۔(تفسیر مظہری)

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: استقامت دنیا میں ایسا مشکل امر ہےجیسے   پل صراط پر گزرنا اور یہ دونوں بال سے بھی باریک اور تلوار سے بھی تیز ہیں تو جو بھی اس دنیا میں اس پر چلے گا بدرجۂ اولیٰ وہ پل صراط پر چل سکے گا کیوں کہ مشق کرنے کے بعد کام کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اسی طرح صوفیا فرماتے ہیں :
” استقامت ہزار کرامت سے بہتر ہے۔”

بزرگان دین استقامت کو عمل صالح کی طرح درخت ایمان کا پھل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مضبوط ایمان انسان کو دین میں استقامت سے کام لینےاور شیطان کی پیروی نہ کرنے کی دعوت دیتا ہے ۔ قرآن کی نگاہ میں استقامت کی اعلی ترین قسم راہ خدامیں استقامت ، حفظ ایمان اور معنویات میں اضافہ کرنا ہے۔ انسان اگر گناہوں کو ترک کر کے، شیطانی وسوسوں کے مقابل استقامت سے کام لے کر انسانیت اور تقرب الہی کے اعلی مرتبہ پر فائزہو جائے تویہ قرآن کی نظر میں محترم ہے اور اس کے مقابل باطل اورناجائز اہداف تک پہنچنے  کے لئے کوشش کرنےوالا انسان کی گمراہی و ہلاکت کا سبب بنتا ہے۔

صبر و استقامت اور قربانی ایسی خصوصیات ہیں جن کی کوکھ میں رب نے فلاح و کامیابی رکھی ہے۔ فلاح اس مکمل کامیابی کو کہا جاتا ہے جس کے دامن میں دنیا و آخرت کی ساری سعادتیں اور برکتیں سمٹ آتی ہوں۔ بلاشبہ عربی لغت میں فلاح سے زیادہ جامع لفظ نہیں جو دنیا و آخرت کی خیرات و برکات سمیٹے ہوئے ہو۔ جب فلاح کے اس مفہوم کو سامنے رکھا جائے تو پھر ہمیں  سمجھ آتا ہے تاریخ اسلام کے کئی عظیم ستونوں نے اس فلاح اور رب کی رضا کی خاطر اپنی زندگیاں مسلسل جدوجہد میں گزار دیں اور اس جدوجہد کی کامیابی کے لیے اگر جان کی قربانی بھی دینی پڑی تو اپنے رب کو خوش کرنے کے لیے بلاجھجک اس کی راہ میں نچھاور کردیا۔ ویسے اسلام کے معانی اور مقصد کودیکھا جائے تو جو چیز سب سے واضح نظر آتی ہے وہ استقامت اور قربانی ہی ہے۔

اللہ تعالی کے حکم کے سامنے اپنی گردن رکھ دینا،یعنی کہ جب بندہ اپنی راحت و تکلیف،اپنا نفع و نقصان، اپنی رائے یا خواہش کو بغیر کسی حیل و حجت کے اپنے رب کے احکام کے آگے نظر انداز کر دیتا ہے تو وہ حقیقت میں اسلام کا پیروکار بنتا ہے۔ ہم کو الفاظ کی حد تک یہ چیزیں بہت آسان لگتی ہیں مگر جب ان کو عملی میدان میں اپنے اوپر لاگو کیا جاتا ہے تو پھر احساس ہوتا ہے کہ دنیا و آخرت کی فلاح کے لیے کیسی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب تک انسان خود ان صفات کا مشاہدہ نہیں کرتا یا اس کو ایسے حالات سے واسطہ نہیں پڑتا اس وقت تک وہ ان کی قیمت نہیں جان سکتا۔

ہر کام میں کامیابی کے لئے استقامت و پا ئیداری کی ضرورت ہوتی ہے اور بغیر استقامت وپائیداری کے کامیابی حاصل نہیں ہوتی ہے ۔اکثردانشورں نے علم ودانش کے حصول اور عالم فطرت کے رازوں کے انکشاف کے لئے استقامت وپائیداری سے کام لیا اور ٹھوس قدم بڑھائے جس کے نتیجہ میں انھوں نے اعلی علمی مقام حاصل کیے۔ اسی طرح مضبوط ارادوں کے حامل لوگ صبر وتحمل اور سعی وکوشش سے بری صفات وعادات کی جگہ نیک اور اچھی صفات کو جاگزیں کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔اس طرح کے افراد نےگمراہ کنندہ نفسانی خواہشات کے مقابل استقامت وپائیداری سے کام لیا اور قوی ارادوں اورمحترم انسانوں میں تبدیل ہوگئے ۔معاشرے کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے بھی استقامت و پائیداری کی ضرورت ہے۔ وہ افراد جو معاشرے کی اصلاح کے لئے مثبت اور مفید قدم اٹھا کر انھیں سعادت وبھلائی کی طرف ہدایت کرنا چاہتے ہیں

انھیں چاہيے کہ وہ مخالفین کی جانب سے ڈالی جانے والی رکاوٹوں ، ان کی اذیت وآذار اور نازیبا حرکتوں کے سامنے ڈٹ جائیں اور کامیابی ملنے تک مختلف مشکلات کو استقامت وپائیداری کے ساتھ برداشت کریں ۔خداوند عالم نے بہت سی آیات میں انسانوں کو راہ حق میں استقامت وپائیداری سے کام لینے کی دعوت دی ہے ۔دین میں استقامت سخت اور طاقت فرسا کام ہے جس کے لئے ایمان اور قوی حوصلے کی ضرورت ہے ۔لیکن استقامت کا نتیجہ نہایت ہی شیرین اور میٹھا ہے اور اس کی بہت سے دنیوی اور اخروی برکات ہیں ۔ قرآن کریم دین میں پائیدار افراد کو بشارت دیتا ہے کہ یہ لوگ اچھے بڑے پاداش سے بہرہ مند ہوں گے۔خدا سورہ احقاف کی تیرھویں اور چودھویں آیات میں پائیدار افراد اور استقامت وپائیداری کے آثار ونتائج کی یاد دہانی کراتے ہو ئے فرماتا ہے

“بیشک جن لوگو ں نے اللہ کو اپنا رب کہا اوراسی پر جمے رہے ان کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ ہونے والے ہیں ۔یہی لوگ درحقیقت اہل بہشت ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہنے والے ہیں کہ یہی ان کے اعمال کی حقیقی جزاہے”۔ایک اور آیت میں استقامت کرنے والوں کی پاداش کے بارے میں کہا گیا ہے کہ فرشتے ان لوگوں کے دلوں سے خوف ، اورغم واندوہ کو نکال دیتے ہیں ، توحید پرست نیک افراد کو اس سے بھی زیادہ اہم بشارت دی جارہی ہے کہ وہ اہل بہشت ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ استقامت وپائیدار کی پاداش یہ بھی ہے کہ خدا دنیا میں ان کی روزی میں اضافہ کردیتا ہے ۔ ان آیات اور صدراسلام میں پائیدار مسلمانوں کے واقعات سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ خدا کی پناہ لیتے ہوئے استقامت کرنے سے سختیاں آسان ہوجاتی ہیں اور اس استقامت کے نتیجہ میں مؤمنین کو کامیابی مل جاتی ہے ظالمین اور ستمگر ناکام اور نابود ہوجاتے ہیں ۔

قرآن مجید نے استقامت کے مضبوط اور مؤثر نسخے ارشاد فرما دئیے ہیں اور ساتھ ساتھ اہل استقامت کے عظیم واقعات بھی سنا دیے  ہیں ۔ آپ قرآن مجید میں صرف حضرت سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کا قصہ پڑھ لیں ۔ فرعون کی بیوی ۔ ناز و نعمت میں پلی بڑھی ایک عورت ۔ اس کے پاس نہ حسن و جمال کی کوئی کمی تھی ۔ اور نہ مال ودولت کی ۔ زمانے کے ایک بڑے بادشاہ اور حکمران کی لاڈلی بیوی ۔ اتنے زیادہ اختیارات کی مالک کہ آج کی کوئی عورت ان اختیارات کا خواب میں بھی تصور نہیں کر سکتی ۔ اس کے خاوند نے خدائی کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا تھا اور وہ اس جعلی خدائی کی ملکہ تھی ۔ مگر وہ اس ماحول میں بھی ایمان لے آئیں ۔ تب آزمائشوں کا دور شروع ہوا ۔

یہ آزمائشیں عام دنیاوی آزمائشوں سے بہت زیادہ سخت تھیں ۔ یہ آزمائشیں آج کل کی جیلوں اور عقوبت خانوں سے زیادہ بھیانک تھیں ۔ یہ آزمائشیں اُن بہانوں سے بہت زیادہ شدید تھیں جو آج کل شیطان ہمیں سُجھا کر صبر و استقامت سے بھگاتا ہے ۔ ہماری آج کل کی مسلمان خواتین تو صرف خاندان والوں کی باتوں سے بچنے کے لئے معلوم نہیں کتنے گناہ،کتنی رسومات او رکتنی بدعات کر گذرتی ہیں ۔ مگر وہ جنت کی ملکہ سیدہ آسیہ اس وقت بھی ڈٹی رہی ۔ جب خاندان والے اس کے جسم میں کیلیں گاڑ رہے تھے اور بڑے بڑے ہتھوڑوں کی ضربوں سے ۔ یہ کیلیں اس کے ہاتھوں اور قدموں میں اُتار رہے تھے ۔ ایک ظالم قصائی تیز چھری لے کر ۔ اس کے سامنے کھڑا تھا اور پھر وہ ان کے جسم کی کھال اُتارنے لگا ۔ یہ سب کچھ کہنا آسان ہے۔ مگر حقیقت میں بے حد مشکل ۔ مگر استقامت تو استقامت ہوتی ہے ۔ یہ نصیب ہو جائے تو انسان آسمان و زمین سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہو جاتا ہے ۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی صبر و استقامت سے لبریز ہے، کسی موقع پر بھی آپ نے نفسانی جذبات کا استعمال نہیں کیا، غیظ و غضب اور وقتی معاملات سے طیش میں آکر کوئی بھی اقدام بلاشبہ ہزار مفاسد پیدا کرتا ہے؛ اس لیے ضرورت ہے کہ تمام شعبہ ہائے حیات میں صبر و تحمل سے کام لیا جائے، باپ اپنے بیٹے کے ساتھ اور بیٹااپنے باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کرے، میاں بیوی میں خلش ایک فطری بات ہے؛ مگر اسے باہمی صبرو تحمل سے دور کرتے ہوئے زندگی کو خوش گوار بنانے کی کوشش کی جائے۔ غرض پرسکون اور کامیاب زندگی کے لیے صبر و تحمل اور قوتِ برداشت بنیادی عنصر ہے۔

ہماری پستی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم وقتی طورپر جذبات کی  رَو میں بہہ جاتے ہیں، جس سے دوررس نگاہ متأثر ہوجاتی ہے اور سوچ و تدبر کا مزاج نہیں رہتا۔ موجودہ حالات میں خاص طورپر سیرتِ نبوی کے اس پہلو کو اپنانے کی سخت ضرورت ہے۔
آخر میں حضرت خواجہ عزیزالحسن مجذوب علیہ الرحمہ کےان اشعارپر بات ختم کرتے ہیں جن میں ہرمسلمان کےلئے استقامت کی تعلیم اوراس کا طریقۂ کار مذکورہے :
سارا جہاں خلاف ہو پروا نہ چاہیے
پیش نظر تو مرضیٔ جانانہ چاہیے
پھر اس نظر سے سوچ کے تو کر یہ فیصلہ
کیا کیا تو کرنا چاہیے کیا کیا نہ چاہیے!

Avatar
اکرام الحق
حال مقیم امریکا،آبائی تعلق ضلع گجرات،پاکستان۔ادب سے شغف۔وطن سے محبت ایمان۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *