بد قسمت “خوش نصیب” — بلال شوکت آزاد

آج صبح  حسب معمول کام پر جانے کے لیے اٹھا تو یاد آیا آج فیلڈ ٹرپ ہے مریدکے کا۔سو تیار ہوا اور بائیک کو کک لگائی اور خراماں خراماں مریدکے کی طرف روانہ ہوا۔میری عادت ہے اکثر لانگ ڈرائیو پر میرا ذہن خبروں اور اہم باتوں میں الجھا رہتا ہے۔آج بھی کچھ ذہنی کشمکش جاری رہی دوران سفر۔میں کل کی ایک خبر سے ذرا کچھ سمجھنے اور سیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔

جی ہاں, یہی کہ جو بنگالی پاکستان سے پیار جتاتے ہیں ان کو عبرت کا نشان بنادیا جائے گا بقول حسینہ واجد۔۔۔ یہی  سوچتے سوچتے امت مسلمہ کے دیگر ممالک تک پہنچ گیا کہ وہاں محبت کا کیا عالم ہے۔

آپ سوچیں بلکہ تحقیق کریں تو آپ کو قطعی حیرت نہیں ہوگی کہ سعودیہ میں اگر کوئی ملکی یا غیر ملکی سعودی مملکت اور بادشاہت کے خلاف کچھ بولے یا تنقید کرے تو کم سے کم سزا کوڑے ہیں اور اگر نفرت کا عالم زیادہ غالب ہو تو سر قلم کرنا آخری حد ہے تو کسی اور ملک سے محبت اور پسندیدگی کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔پھر ذرا گردن گھما کر آپ ایران تشریف لائیں وہاں اگر آپ حکومت مخالف یا ایران مخالف کسی ملک سے محبت جتائیں تو پابند سلاسل ہونا یا پھر سرعام پھانسی بطور غدار وطن آپ کا مقدر ٹھہرتی ہے۔

دبئی کے حالات میرے وہ پاکستانی دوست بہتر بتاسکتے ہیں جو تلاش معاش کی خاطر دبئی جاتے ہیں تب وہاں ایئر پورٹ پر ہی ان کے موبائل میں وہاں کی لوکل سم لگاتے جو پہلا میسج آتا ہے وہ خبردار ہوشیار سے شروع ہوکر سنگین دھمکیوں پر ختم ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ نہیں کہنا وہ نہیں لکھنا وغیرہ ورنہ جیل جرمانہ اور ملک بدر کرنے میں وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی طرح مشرق وسطی کی دیگر شاہانہ ریاستوں کے حالات ہیں کہ وہاں سوائے متعلقہ ملک اور ریاست کے آپ کسی دوسرے ملک سے محبت نہیں جتا سکتے۔

اب  جنوبی ایشیاء میں آجائیں۔بھارت جو سب سے بڑا سیکولر اور جمہوریہ ہونے کا دعویدار ہے ذرا اس کی حالت ملاحظہ ہو کہ وہاں دل میں یا دماغ میں بھی کسی ملک کا نام پیار سے آیا بھارت کے علاوہ  تو قانون الگ سزا دے گا جب کہ وہاں کے پرامن انتہا پسند مہاسبائی غنڈے الگ۔ مثال کے طور پر صرف پاکستان زندہ آباد کہہ کر کوئی بھارت سے صحیح سلامت اور زندہ واپس نکل آئے تو وہ اس صدی کا معجزہ شمار ہوگا باقی آگے آپ خود سوچ لیں کہ تنقید اور مخالفت کا کیا انجام ہوسکتا ہے۔

اب اول الذکر بنگلہ دیش کا حال ملاحظہ ہو کہ وہاں جو جیوے  پاکستان کہنے والوں کو پھانسیاں دی گئیں  اور اب ان کی نوجوان نسل میں نظریہ اور توحید کی بنیاد پر جو نئی لہر پاکستان سے محبت کی چلی ہے کرکٹ کے ذریعے وہ بھی حسینہ واجد  کو شدید دکھ دے گئی ہے اور وہ ایک دہشت  زدہ ماحول بنانے کی طرف گامزن ہے جہاں کوئی بنگلہ دیشی مسلمان کلمے کی بنیاد پر بھی پاکستان سے محبت نہیں جتا سکتا کہ محترمہ اس کو عبرت کا نشان بنانے پر بضد ہیں, خالدہ ضیاع یقیناً اب مر کرہی نکلیں گی اس غنڈی رن کی جیل سے۔

پھر ذرا افغانستان کو دیکھیں کہ وہاں نہ کوئی مستحکم حکومت ہے نہ نظام, ایک کٹھ پتلی حکومت اور غریب عوام پر مشتمل ملک ہے جس کی زیادہ تر کفالت کا ذمہ پاکستان نے لیا ہوا ہے لیکن آپ ذرا وہاں جاکر پاکستان زندہ آباد کہہ کر زندہ واپس آجائیں تو بہادری ہوگی۔ سوائے طالبان کے انتظامی افغان علاقے کے آپ کہیں بھی سرعام پاکستان کا نام نہیں لے سکتے نہ پاکستان کی حمایت اور محبت میں کچھ کہہ یا کر سکتے ہیں۔

تھائی لینڈ کا حال تو میرا آنکھوں دیکھا ہے کہ وہاں بادشاہ اور ملک سے محبت مذہبی فریضے سے زیادہ سختی سے نافذ ہے۔اور برما میں پاکستان کا کیسا حال ہے وہ آپ سید اقرارالحسن بھائی کے پروگرام سرے عام سے دیکھ کر سمجھ لیں ان کے برما سپیشل شو سے کہ وہاں مسلمان ہونا تو جرم ہے ہی لیکن پاکستانی مسلمان ہونا تو  گناہِ کبیرہ کے مترادف ہے ۔

میں کس کس ملک کی مثال دوں دنیا سے بس یہ نزدیکی اور بظاہر قریبی ممالک کا حال دیکھیں اور سمجھیں۔اب آجائیں پاکستان کی طرف۔۔یہ ملک ایک اسلامی جمہوریہ اور سکہ بند نظریاتی ملک ہے جو دنیا میں امت مسلمہ کا بیس کیمپ اور قلعہ کے طور پر مشہور ہے۔

اب آپ اندازہ کریں کہ آپ کتنے بدقسمت “خوش نصیب” ہیں۔آپ اس ملک میں بیٹھ کر ایران سے محبت صرف پال ہی نہیں سکتے بلکہ اس کی خاطر لڑ مر اور بول سکتے ہیں۔سعودیہ سے محبت ہے تو دل میں کیوں رکھنی, کھل کر اظہار بھی کریں اور اگر لڑنے مرنے کا موقع ملے سعودیہ اور شاہ سعودیہ کی خاطر تو ہرگز گریز مت کریں۔اور افغانستان سے محبت والے تو آج کل “تحفظ پشتون موومنٹ” چلا کر اس ملک میں پیدا ہونے والی خوش نصیبی کا بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں ہماری بدقسمتی سے, اور کیا کہوں؟اور بھارت سے محبت کرنے والوں کو باہر مت ڈھونڈنا وہ ہمارے سیاستدان اور حکمران ہی کافی ہیں۔ سب بظاہر پاکستانی ہیں لیکن اندر کھاتے ان کی نہایت پسندیدہ قوم بھارتی قوم اور من پسند ملک بھارت ہے۔

افسوس صد افسوس کہ ہم ایک بدقسمت “خوش نصیب” قوم اور ملک ہیں جس کے رہنے والے سب اور تو سب کچھ ہیں لیکن پاکستانی   نہیں ہیں۔ہمارے لوگ میموگیٹ سکینڈل کے بعد بھی حکمران ہیں اور غداری کا ان سے تعلق دور کا بھی نہیں۔ہمارے حکمران ڈان لیکس کا سکینڈل بناکر افواج پاکستان کو بدنام کریں اور دشمنوں سے سازباز کریں تب بھی ان کی نیت پر شک, نہ نہ سوچنا وی نا۔

ہمارے حکمران اور سیاستدان خود کو افغانی کہنا تو پسند کریں اور بھارتی و اسرائیلی وزرائے اعظم سے ملنا حج سے افضل سمجھتے ہوں لیکن ہم ان کو غدار وطن اور دشمن کہیں یہ ممکن نہیں, پھانسی اور سرقلم وغیرہ تو بہت دور کی باتیں ہیں۔

غرض ہر دن ہر انچ پر اس وطن میں پاکستان کے اندرونی اور جانے مانے دشمن پاکستانی کا ٹیگ ہونے کے باوجود اسی وطن کے خلاف برسرپیکار ہیں لیکن مجال ہے جو ان کو اس جرم پر تھپڑ بھی پڑا ہو یا اس کا امکان  ہی ہو ۔اسٹیبلشمنٹ کو گالیاں تو بکیں جاتی ہیں منوں ٹنوں کے حساب سے لیکن اس اسٹیبلشمنٹ کی وسیع القلبی کا نمونہ دیکھیں کہ آخری حد تک ڈھیل دیتے ہیں اب پلٹے کہ تب پلٹے۔

اور جب کوئی صبح کا بھولا شام کو پلٹتا ہے, لوٹتا ہے تو ہنستے اور مسکراتے ہوئے ان کو واپس گلے لگا کر خوش آمدید کہا جاتا ہے اور واپس قومی دھارے میں شامل کیا جاتا ہے۔ہے کوئی ایسا ملک, ایسی ریاست؟۔۔لاؤ کوئی ایک مثال جو میرے عظیم پاکستان کے مقابلے پر یہ ثابت کرے کہ وہ پاکستان سے زیادہ وسیع القلب ہے۔

یہ ملک ہماری “خوش نصیبی” ہے جبکہ ہماری “بدقسمتی” یہ ہے کہ ہم اس کی قدر نہیں کرتے اور اس سے وفادار نہیں جیسے اس سے وفادار ہونے کا حق ہے۔ہم بدقسمت “خوش نصیب” ہیں۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *