پشاور میں جانوروں کا قبرستان۔۔ محمد اشفاق

ہوا یوں کہ بلین ٹری سونامی کے تحت صوبے بھر میں ایک ارب درخت اگا دیے گئے- جنگلات کی اتنی فراوانی سے جانوروں کا دم گھٹنے لگا- جنگلی جانوروں کو بھلا درختوں سے کیا لینا دینا- یہاں نااہل تجربہ کاروں کی حکومت ہوتی تو شاید ان جانوروں کو بھی پرائیویٹائز کر دیا جاتا- مگر بھلا ہو خیبر پختونخوا کی انقلابی حکومت کا، انہوں نے 129 ایکڑ اراضی پر 27 کروڑ کی خطیر لاگت سے پشاور شہر میں پہلی بار جانوروں کیلئے قبرستان بنانے کے منصوبے کا آغاز کیا، جہاں جنگلی جانور سکون سے اس دارِ فانی سے کوچ کر سکیں-

آپ اس تاریخی اقدام کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ فروری میں اس قبرستان، جسے بعض جہلاء چڑیا گھر کے گمراہ کن نام سے پکارتے ہیں، کا افتتاح ہوا اور اب تک تین قیمتی اور نایاب جانور یہاں جان جانِ آفریں کے سپرد کر چکے- نون لیگ نے سوشل میڈیا پر جابجا پٹواری چھوڑ رکھے جو یہ غلط پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ یہ جانور انتظامیہ کی غفلت سے ہلاک ہوئے- ان ظالموں کو بہتان لگاتے خوف آتا ہے نہ ہی شرم- اب یہی دیکھیے کہ لنگور کے مرنے پہ کہا جا رہا ہے کہ اسے بھیڑیے کے پنجرے میں بند کر دیا گیا تھا، بھیڑیے نے اسے مار ڈالا- ایک معصوم جانور پہ قتل کا الزام لگاتے ان کا ذرا بھی دل نہیں کانپا-

سچ یہ ہے کہ دونوں جانوروں میں مثالی یگانگت پائی جاتی تھی- لنگور بیچارے کا جیسا کہ قبرستان کے ڈائریکٹر جناب محمد علی شاہ نے فرمایا، وقت پورا ہو چکا تھا- کلُ نفس ذائقۃ الموت- موت سے کس کو رستگاری ہے آج تم، کل ہماری باری ہے چند دن بعد جب دیارِ غیر سے موت کی تلاش میں یہاں آیا ہرن بھی چل بسا تو بدخواہوں نے اسے خوراک کی کمی کا شاخسانہ قرار دے ڈالا- بھئی ہرن کو کیا چاہیے  گھاس اور وہ قدرتی دستیاب تھی- اور کیا اسے بادام، پستے کھلائے جاتے- اس کی وفات پر جناب محمد علی شاہ صاحب نے کیا خوب تبصرہ کیا کہ اس کا وقت پورا ہو چکا تھا-

بالکل یہی معاملہ برفانی تیندوے کا بھی تھا، یعنی وقت اس کا بھی پورا ہو چکا تھا- انتہائی نامعقول قسم کے لوگ یہ کہہ رہے کہ اس کیلئے ائیرکنڈیشنر نصب نہیں کیا گیا تھا- ذرا عقل کو ہاتھ ماریں، جنگلی جانوروں کو اے سی سے کیا لینا دینا- ڈھائی ٹن کا اے سی جناب محمد علی شاہ صاحب کے دفتر میں ہونا وقت کی ضرورت تھی تاکہ جناب پرسکون ماحول میں جانوروں کی آخری رسوم ادا کر سکیں- تیندوے کی موت پر آپ نے کمال بات کہی، کہ زندگی اور موت تو ایک قدرتی عمل ہے-

مذکورہ بالا تمام جانور ویسے بھی طبعی عمر گزار چکے تھے، داد دیجئے صوبائی انتظامیہ کو جس نے چن چن کر قریب المرگ جانور یہاں اکٹھے کر دیے- مارخور کا گھٹنا اتر گیا ہے، ہرنوں نے کھانا پینا نہایت کم کر دیا ہے، شیر اپنی دم زخمی کر بیٹھا ہے، شترمرغ کے پر جھڑنا شروع ہو گئے- مئی میں اپنے آخری سفر پہ روانہ ہتھنی پشاور پہنچے گی، اس وقت تک اس کے انکلوژر میں دو اونٹ رکھ دیے گئے ہیں- پٹھان بھائی سادہ دل قوم ہیں وہ اونٹوں کو ہی ہاتھی سمجھ کر دل بہلا لیں گے- آخر اخبار والوں کو کس بات کی پریشانی ہے؟ لاہور چڑیا گھر میں بھی تو دو شیرنیاں مری ہیں، کیا ہوا جو ایک دس سال، دوسری تین سال گزار کر مری-

شوباز حکومت کا میڈیا پر کنٹرول اتنا ہے کہ وہ ان خبروں کو کسی اور رنگ میں پیش کر دیتا ہے- یہ دجالی میڈیا آپ کو کبھی نہیں بتائے گا کہ عینی شاہدین کے مطابق پشاور میں بھلے باقی جانور خاموشی سے ذکر اذکار کرتے اپنے آخری وقت کے منتظر کیوں نہ ہوں، بندر تمام کے تمام خوش و خرم اور ہشاش بشاش پائے جاتے ہیں- کیوں بھلا؟ کیونکہ وہ جانتے ہیں اس صوبے میں ان کی اپنی حکومت ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *