سائنسی ترقی یا لبرلز کا مغالطہ۔۔زاہد سرفراز

کیا ہم سائنسی ترقی میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں ؟کیا واقعی ہمارے ہاں اب تک کوئی سائنسدان پیدا ہی نہیں ہوا؟
تو پھر ایٹم بم کیسے بن گیا اور دیگر انڈسٹریز کیسے کھڑی ہو گئی ہیں؟
پھر لبرلز ہر جگہ سائنسی ایجادات کا رونا رو کر ہماری اخلاقی روایات اور ہمارے سوشل آرڈر پر حملہ آور کیوں ہوتے ہیں؟
موجودہ خاندانی نظام کا سائنسی ترقی سے کیا منطقی تعلق ہے؟
اس سوشل آرڈر کو بدلنے کی بات کیوں کی جاتی ہے؟ ہمارے فیملی باؤنڈز کو توڑنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ اگر ہمارے پاس محبتوں کا  امین کچھ باقی بچا ہے  تو وہ یہی ہمارا خاندانی نظام ہی تو ہے۔ باقی سب کچھ تو آپ کے اس لبرل ازم کی نظر ہو چکا ہے۔

اچھا اگر ان سوشل باؤنڈز کو توڑ دیا جائے تو اس سے سائنسی ترقی کیسے ہو گی؟
اگر یہ کہا جائے کہ معاشرے میں موجود مردوں اور عورتوں کو مجموعی طور پر کام پہ لگایا جائے گا اور اتنی بہت سی عورتیں جو گھروں میں فارغ بیٹھی رہتی ہیں (جوکہ فارغ نہیں بیٹھی ہوتیں) معاشی اور سائنسی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں گی اور معیشت ترقی کرے گی اور سائنسی ترقی بھی ہو گی تو سب سے پہلے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا آپ کے ہاں مکمل روزگار موجود ہے؟
ظاہر ہے  وہ موجود نہیں، بلکہ  لاکھوں  نوجوان نوکریوں کے لیے در بدر پھرتے ہیں مگر ان کو نوکریاں نہیں ملتیں ۔جب بھائی کو نوکری نہیں دے رہے تو بہن کو کیوں بلا رہے ہیں ؟ اسے جو معاشی اور سماجی تحفظ حاصل ہے آخر اس سے کیوں نکالنا چاہتے ہیں  اسے؟

اسی لیے نا کہ وہ کم اجرت پر راضی ہو جائے گی اور ہر طرح سے اس کا معاشی، سیاسی و سماجی استحصال کرنا بھی آسان ہو گا۔۔۔
اچھا چلو فرض کرتے ہیں کہ آپ کی  یہی  نیت ہے تو اس سے سائنسی ترقی کیونکر ہو گی؟ اس کا مطلب ہے جس سائنسی ترقی کی آپ بات کرتے ہیں  وہ اصل میں کمزور کے معاشی استحصال کا نام ہے؟

اور جس نظام کے آپ پیروکار ہیں  وہ آزاد منڈی کا ایسا بے لگام گھوڑا ہے  جو انسانیت کو روند ڈالتا ہے۔سماج یا ریاست ایک ایسا Organic Whole  ہے جو بالکل ہمارے جسم کی مانند ہوتاہے، جیسے ہم سانس لیتے ہیں ایسے ہی یہ مجموعی طور پر سانس لیتا ہے۔ جیسے ہماری رگوں میں خون دوڑتا ہے بالکل ٹھیک اسی طرح اس کی رگوں میں بھی خون دوڑتا ہے۔ جیسے ہم سوچتے ہیں ایسے ہی یہ بھی سوچتا ہے۔ جس قدر ہماری ضرورتیں ہیں اسی قدر سارے سماج کی ہیں جس طرح ہم بیمار ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی یہ سماج بھی بیمار ہوتا ہے، کیونکہ یہ سماج انہی اجسام کے مجموعے کا نام ہے  جو اس سماج میں رہتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ جب ہم سانس لیتے ہیں تو ہمیں آکسیجن ملتی ہے  جو ہمارے خون میں شامل ہو کر ہمارے جسم کو متحرک رکھتی ہے۔ جبکہ اس عمل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے اور خون صاف ہوتا رہتا ہے لیکن اگر سانس لینے میں دشواری ہو یا ہوا آلودہ ہو تو ہم بیمار پڑ  جاتے ہیں آپ کی آزاد معاشی منڈی نے ہماری فضاء آلودہ کر دی ہے اور اس فضائی آلودگی نے اوزون کی تہہ تک ختم کر دی ہے جو پہلے ہمیں سورج سے آنے والی خطرناک تابکاری  شعاعوں سے محفوظ رکھتی تھی۔

اسی طرح ہم خوراک لیتے ہیں جس سے ہمیں توانائی ملتی ہے جو خون کے ذریعے تمام جسم تک پہنچتی ہے اور توانائی حاصل کرنے کے اس عمل میں جو زہریلے مادے پیدا ہوتے ہیں گردے انھیں صاف کرتے رہتے ہیں آپ کی آزاد منڈی اور اس سائنسی ترقی نے ہمیں ایسی خوراک فراہم کی ہے جسے کھا کر ہماری صحت دن بدن گرتی جاتی ہے ہماری اوسط عمریں تک کم ہو گئی ہیں اور ہمیں اس خوراک کے نتیجے میں طرح طرح کی بیماریوں نے آ ن گھیرا ہے، علاج کروانے جائیں تو جعلی ادویات اور  فیسیں ہماری کمر توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔

ہمارے گردے آپ کے عطا کیے گئے زہر کو خون سے صاف کر کر کے  عاجز آ چکے ہیں ان میں اس قدر زہر جمع ہو جاتا ہے  کہ یہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں آپ کی سائنس نے ہمیں ڈئیلاسز کرنے کے لیے مشین بخشی جس کے لیے آپ کا شکریہ ،مگر ہم اس کی ہفتہ وار فیس ادا نہیں کر سکتے اور راہی ملک عدم ہو جاتے ہیں۔

ان سب سے اوپر ہمارا دماغ ہوتا ہے جو ہمارے فکری اور بیرونی افعال میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن اس کو اگر جسم اور اس کی ضرورتوں کا مکمل ادراک نہ ہو اور نہ ہی جان سکے کہ ہمارے جسم کو کن چیزوں کی ضرورت ہے کیا چیز ہمارے لیے خطرناک اور مضر صحت ہے، تو ہمارا ہی دماغ ہمارا رہنما بننے کے بجائے ہمارے لیے جینا مشکل کر دیتا ہے، تو کیا آپ نے ہمیں سچائی پر مبنی علم دے دیا یا اس کی عمارت جھوٹ اور فریب پر کھڑی ہے؟

ہمارا جسم اور اس کے افعال سماج اور سماجی عمل پر تمثیل بھی ہیں جس طرح جسم کے تمام افعال کے لیے تین چیزیں اشیاء ضرورت، ہر ایک اعضاء اور ان اعضاء کی efficient deliverance ضروری ہے اسی طرح سماج میں اشیاء ضرورت ، اداروں اور ان کی efficient deliverance بھی ضروری ہوتی ہے ۔ جس سے معاشرہ پھلتا پھولتا اور ترقی کرتا ہے، جیسے جسم کے لیے اشیاء ضرورت کا درست تعین ضروری ہے  تاکہ جسم صحت مند اور توانا  رہ سکے اسی طرح معاشرے میں موجود معاشی یونٹس ان کے اینڈ پروڈکٹس اور ان کی مقصدیت کا طے کیا جانا بھی ضروری ہے، پھر ایسی سائنسی ترقی کیوں ضروری ہے  جس میں ہر طرح کی مضر صحت اشیاء بھی پیدا کرنے کی آزادی ہو اور ا س کے لیے بھی استحصال ہی خاص طور پر کیوں لازمی ہے ؟

سانس لینا ہمارے تعلیمی عمل پر تمثیل ہے اگر درست آئیڈیاز  ملتے رہیں اور غلط خارج ہوتے رہیں تو معاشرہ جسم کی طرح متحرک  و فعال رہے گا مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں اول تو کوئی بات دماغ میں گھستی ہی نہیں اور اگر گھس جائے تو واپس جلدی نکلنا محال ہے، جس وجہ سے غلط صحیح آئیڈیاز جمع ہو جاتے ہیں جن سے ہماری نفسانی طبعیت خراب رہتی ہے اور نظریاتی الٹیاں شروع ہو جاتی ہیں جو عام طور پر آپ کو نظر آئے گا، اس لیے ہمیشہ تجزیہ کرتے رہنا چاہیے کہ کون سا آئیڈیا درست ہے اور کون سا غلط، کس علمیت کے مطابق ہے  اور کس کے مطابق نہیں، آپ کا پیراڈئم کیا ہے  اور آپ کون سے پیراڈئم میں کھڑے ہیں آپ کے لیے مفید کیا ہے اور کیا نہیں، جیسے پھیپھڑے نہ ہوں تو سانس لینا ممکن نہیں ،ایسے ہی تعلیمی اداروں کا ہونا بھی لازم ہے،پھر ان تعلیمی ادراوں میں پڑھایا جانے والا نصاب معیاری ہونا چاہیے اور اس نصاب کو پڑھانے کے لیے اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ کا موجود ہونا بھی لازمی ہے اگر ہمارے ہاں موجود نہ ہوں تو دوسرے ممالک سے بلانے ہوں گے اور اس سب کے لیے سرمایہ چاہیے جو معاشی ترقی کے بغیر حاصل کرنا ممکن نہیں۔

اسی طرح خوراک کھانے کا عمل ہے جو ہمیں توانائی فراہم کرتا ہے اگر خوراک ٹھیک نہ ہو یا کھانے کو کچھ نہ ملے تو آپ جانتے ہی ہیں پھر ہمارا کیا حشر ہوتا ہے  معاشرے میں یہ توانائی ہمیں کہاں سے ملتی ہے یہ ہمیں ہمارے معاشی عمل سے ملتی ہے  جس کے لیے ہمارے معاشی عمل کا ٹھیک رہنا پھر توانائی کا دیانت داری سے پورے جسم کو ملنا ضروری ہے  ورنہ جسم کے بعض لازمی حصے فالج زدہ ہو جاتے ہیں جس سے مجموعی انسانی زندگی کو خطرہ لاحق رہتا ہے ، اس لیے جیسے خون اور رگوں کا موجود ہونا لازمی ہے  ایسے ہی معیشت میں سرمایہ خون کی مانند ہے اور رگیں وہ راستے جن سے معاشرے کے ہر فرد تک ضرورت کے مطابق سرمایہ پہنچتا رہتا ہے اگر یہ راستے کچھ اطراف سے بند ہو جائیں جیسے آج کل بند ہیں تو اس کے نتائج کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں دولت سمٹ کر چند ہاتھوں میں آ جاتی ہے۔

چنانچہ معاشی عمل کا ہی درست ہونا ضروری نہیں بلکہ کرپشن کا خاتمہ دیانت داری اور معاشرے کے ہر فرد تک دولت کی مناسب مقدار میں ترسیل بھی ضروری ہے  جو سائنسی ترقی کی ابتدا ہے!
چونکہ انسان کا تمام معاشرتی عمل اسی ایک توانائی سے جڑا ہے  چنانچہ معاشی عدل اور معاشی ترقی اولین حیثیت رکھتے ہیں  جس کے لیے درست معاشی نظام ہمارے دل کی ماند ہے جو اس سارے عمل کو باہم مربوط کرتا ہے اسی سے آپ کے تعلیمی ادارے بھی بنتے ہیں اور سائنسی ترقی بھی ممکن ہے جبکہ سائنسی ترقی سائنسی علمیت سے جڑی  ہے اور سائنسی علمیت ان اداروں سے جہاں یہ تعلیم دی جاتی ہے اور ان اداروں کا قیام سرمائے سے جڑا ہے اور سرمائے کی پیدائش انسانی معاشی عمل میں ہے  جن کو ایک نظام مربوط کر کے  چلاتا ہے، یہ سب اس نظام کے دائرے میں گردش کرتے ہیں گردش کا یہ عمل جس قدر تیز ہو گا معاشرہ اتنا ہی تیزی سے ترقی کرے گا۔

ایسے ہی گردے آپ کے عدالتی نظام کی عکاسی کرتے ہیں جس کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے، یہ آپ کے معاشرتی جسم میں جمع ہو جانے والے زہریلے مادوں کو باہر نکالنے سے قاصر ہے  کیونکہ یہی تو لبرل ازم کی شان ہے، جرائم کا پلتے رہنا اور برائی کو دوام ملنا یہی وجہ ہے  کہ ہر لبرل مجرمانہ ذہنیت کا حامل ہوتا ہے، اسی لیے لبرلز سخت سزائیں دینے کے خلاف ہوتے ہیں اور مجرم سے مصنوعی ہمدردی کا اظہاربھی کرتے ہیں چنانچہ لبرل معاشروں میں اول تو عدالتی نظام درست نہیں ہوتا اور اگر عدالتی نظام درست ہو جائے تو سزائیں نرم کر دی جاتی ہیں۔

اس کے بعد آتا ہے دماغ ،معاشرے کا دماغ کیا ہے یا وہ کون لوگ ہیں جو دماغ کا درجہ رکھتے ہیں؟ وہ ہمارے نام نہاد intellectuals ہیں جن کی حالت آپ کے سامنے ہے، یہی وجہ ہے  کہ ہم آج تک خیر و شر میں ہی تمیز نہیں کر سکے کیونکہ ہمارا اعلی دماغی حصہ یا تو سرے سے موجود ہی نہیں ہے  یا پھر شدید بیمار ہے  یا درست  اپروچ نہ ہو نے کے باعث الٹے سیدھے آئیڈیاز دماغ میں بھرنے سے فضاء میں معلق ہو چکا ہے، جو ان گنت مغالطوں کا شکار ہے  ۔

یہی وجہ ہے  کہ اقبال اور ان کے دیگر ہم عصر اہل علم حضرات کے بعد ہمارے ہاں اب تک کوئی مفکر پیدا ہی نہیں ہو سکا حالانکہ آج کا معاشرہ کل کی بانسبت زیادہ لبرل ہے  بلکہ اگر سچ کہا جائے تو لبرل ازم میں مفکر کا پیدا ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ہو گا کیونکہ معاشی جبر اور فراڈ پر مبنی تعلیمی نصاب اتنی کہاں کسی کو سہولت فراہم کرتا ہے  کہ کوئی مفکر بن جائے اس لیے یہ راستہ تو بند ہی سمجھیں معاشرے کو ان کے بغیر ہی اوسط درجے کے دماغوں سے کام چلانا پڑے گا ویسے بھی آپ کو بہترین غلام درکار ہیں اور غلامی کے لیے یہ ضروری ہے کہ مفکر پیدا ہی نہ ہوں۔

جبکہ ہمارے ہاں نام نہاد لبرل مفکرین سماج میں کنفیوژن پھیلانے کے سوائے کچھ نہیں کرسکتے ۔یہ ہر ایک چیز کا غلط منطقی استدلال پیش کرتے ہیں جو ٹی وی پہ آنے والے جھوٹے اشتہارات کی طرح ہوتا ہے  جن میں بچوں کو بتایا جاتا ہے کہ ببل کھانے سے انسان شیر بن جاتا ہے  اور جوانوں کو بتا یا جاتا ہے کہ ٹھٹھرتی سردی میں بھی کولڈ ڈرنک پینے سے آپ کو انرجی اور راحت ملتی ہے ۔ یہ اس شیطانی نظام میں عورت کو کموڈٹی بنائے جانے کے عمل کو ترقی بنا کر پیش کرتے ہیں تاکہ یہ دھندہ کر سکیں، محبت پر قائم رشتوں کو جبر ثابت کرتے ہیں مگر کبھی کوئی لبرل انسانی معاشی عمل بیان نہیں کرے گا اور اگر بیان کرے بھی تو اسے توڑ مروڑ کر پیش کرے گا کیونکہ ان کو پتہ ہے  لبرل ازم کے استحصال اور جبر کو لوگ پہچان لیں گے ۔اس لیے یہ آزادی کے نام پر انسان کو انسان سے دور کرتے ہیں وہ رشتے جو ہم نے اپنی خوشی اور آزادی سے قائم کیے ہوتے ہیں ان کو بھی یہ جبر کا  رشتہ  بنا کر پیش   کرتے ہیں۔

عورت اور مرد کے درمیان مصنوعی اختلاف کھڑا کیا جاتا ہے  جبکہ یہ ایک ہی جسم کے دو حصے ہوتے ہیں۔بہن بھائی ناطے رشتے ہر تعلق پر وار کیا جاتا ہے تاکہ آزادی اور محبت پر قائم ہر بندھن کو توڑ کر انسان کے خونی رشتوں کی حرمت کو پامال کیا جاسکے انسان کو مکمل طور پر تنہا اور بے حس بنا کر غلام بنا لیا جائے جب کوئی معاشرتی باؤنڈ باقی ہی نہیں رہے گا تو استحصال کرنا آسان ہو جائے گا کہیں سے کوئی بغاوت نہیں ہو گی۔ علم کے نام پر بھی جہالت عام ہو گی، ایسا یک رخا تعلیمی نظام جو انسان کو اندھا بنائے گا۔ غرض ہر طرف لبرل ازم کی بیماریاں ہیں معاشرے میں اور حکمران نظام بھی انہی کا ہے ۔ لیکن نواز شریف کی طرح لبرلز اپوزیشن کا کردار بھی ادا کرتے ہیں اور حکومت کے بھی مزے لے رہے ہوتے ہیں ۔اور  الزام محبتوں کے امین خوبصورت معاشرتی اصولوں کو دیتے ہیں جو ایثار محبت اور بھائی چارے پر قائم ہیں۔

ا س طرح معاشرے میں لبرلز کی اپوزیشن دراصل فریب اور منافقت کے سوا کچھ نہیں کیونکہ سماج میں موجود ہر خرابی کے یہ خود ذمہ دار ہیں مگر الزام دوسروں کو دیتے ہیں جن کے ہاتھ میں کچھ ہے ہی نہیں سرے سے۔ یہی لبرلز کا اصل چہرہ ہے!!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *